Skip to main content

Posts

Showing posts with the label نظریہ ارتقاء

Gradual Transitions are Non-Existent (Conflicting Reality in Fossil Record)

نیو ڈارونزم یا ماڈرن سینتھسز کے مطابق ارتقاء ایک ایسا پروسیس ہے جو نہایت آہستہ آہستہ (Gradualism) سیلیکشن پریشر کی سمت میں مجموعی طور پہ صرف فطری چناؤ کے ذریعے لمبے عرصے میں اکٹھی ہونے والی اڈاپٹیشنز سے ہوتا ہے۔ یہ ڈارونین تھیوری کا بنیادی اور اہم ترین دعویٰ (Tenet) ہے۔ ارتقاء کا نام لیتے ہی عوام کے ذہن میں یہ نقشہ آتا ہے۔ سائنس میڈیا بھی ایسی ہی وضاحتوں سے بھرا ہوا ہے کہ ارتقاء مسلسل اڈپٹیشنز کا سلسلہ ہے جو ماحولیاتی سیلیکشن پریشر کی سمت میں سروائو کرنے کا نام ہے اور اسی کے نتیجے میں میکرو ارتقاء ہوتا ہے اور نئی اقسام کے جاندار وجود میں آتے ہیں۔ جو جاندار ماحول سے مطابقت پیدا کر گئے وہ بچ گئے جو نہیں کر سکے وہ ناپید ہوگئے۔ ایسے ارتقائی ماڈل کو Paleontology کی فیلڈ Directional Evolution اور عام فہم انداز میں ڈارونین ارتقاء کہتے ہیں۔ مثال کے طور پہ اگر ایک خشکی کا جاندار Indohyus پانی کے قریب رہنا شروع کر دے تو اس پہ اس ماحول میں بقا کا پریشر ہوتا ہے۔ اس وجہ سے اس جاندار میں پانی میں رہنے والی اڈپٹیشنز اکھٹی ہونا شروع کر دیتی ہیں جو فطری چناؤ کرتا ہے جبکہ اڈاپٹیشنز رینڈم میوٹیشن سے آ...

|Epigenetics and Failure of Neo Darwinism|

اس پوسٹ میں ایپی جینٹک کے پہلو سے ہونے والے نئے تجرباتی اور مشاہداتی شواہد سے نیو ڈارونزم کی ناکامی اور اس کے متبادل وضاحتی فریم ورک کے امکان کو دو سائنس پبلیکیشنز سے واضح کیا گیا ہے۔ نیو ڈارونزم کے Central tenet کے مطابق کسی بھی جاندار کا جینوم ماحول سے مکمل طور پہ لا تعلق ہوتا ہے۔ ماحول میں کیا چل رہا ہے کیسے چل رہا ہے اس کا کسی جاندار کے جینوم پہ کوئی اثر نہیں ہوتا۔ ہر جاندار کی phenotype کی تبدیلی random mutation سے آتی ہے۔ بغیر کسی مقصد، پلان اور ڈائریکشن کے ہونے والی جینیاتی میوٹیشن بعض اوقات مفید ثابت ہو جاتی ہیں اس کے بعد اگر وہ جاندار کے سروائیول میں مدد کرے تو یہ جینیاتی تبدیلی Mendelian transmission کے اصول پہ آنے والی نسلوں میں منتقل ہوتی ہے اسی اصول پہ نیو ڈارونزم میں ارتقاء ہوتا ہے۔ لیکن ایک ابھرتی فیلڈ ایپی جینیٹک سے انے والے سائنسی شواہد کے مطابق ماحول کا ڈائریکٹلی جاندار کے جینوم پہ اثر ہوتا ہے ماحول کے مطابق جینوم اپنی کارکردگی کو تبدیل کرتا ہے جس سے نئی phenotype وجود میں آتی ہے جیسے کہ ڈارون فنچز کی چونچ کی مختلف ساخت کسی میوٹیشن کا نہیں بلکہ ایپی جینٹک ریگولیشن ...

Urgency to Rethink Evolution

Urgency to Rethink Evolution (Growing Disagreement to Narrow Evolutionary Mindset) --------------------------------------------------- سائنس ایک ایسا پروسیس جس سے مسلسل نئی تحقیات، نئے مشاہدات اور نئے ڈیٹا سے نئی سائنسی تھیوریز کی بنیاد رکھی جاتی ہے ہر سائنسی تھیوری کی حدود اور ایک عمر ہوتی ہے جس کے باہر نہ تو یہ تھیوری کچھ بتا سکتی ہے اور نہ ہی ایک وقت سے زیادہ چل سکتی ہے۔ ایک وقت آتا ہے جب نئی تحقیقات کی روشنی میں ہر سائنسی تھیوری اپنی عمر پوری کر کے فیل ہو جاتی ہے اور اس کی جگہ ایک نیا سائنٹفک فریم ورک لیتا ہے۔ اگر آپ سائنس کی تاریخ پہ نظر ڈالیں تو اس کے بہت سے مثالیں موجود ہیں مثال کے طور پہ نیوٹونین گریوٹی اور ایک گیلیکسی پہ مشتمل ساکت کائنات کو آج جنرل ریلیٹیویٹی اور سیکڑوں بلین گیلیکسیز پہ مشتمل پھیلتی کائنات سے تبدیل کر دیا گیا ہے۔ اس کی بہت عمدہ وضاحت اس آرٹیکل میں کی گئی ہے، Every scientific theory will someday fail, and when it does, that will herald a new era of scientific inquiry and discovery. And of all the scientific theories we’ve ever come up with, the best ones...

Unsupported Dogma of Gradual Evolution (Sudden Appearance of Species)

موجودہ دور میں ایک بات دیکھنے میں آتی ہے کہ پاپولر سائنس لٹریچر میں ارتقاء پہ نیو ڈارونزم کی تھیوری کی ناکامیاں چھپا کر اسے ناجائز طور پہ ناقابل تردید حقیقت کے طور پہ پیش کیا جاتا ہے یعنی تصویر کا صرف ایک رخ دیکھایا جاتا ہے۔ اس طرح کی یک طرفہ انفارمیشن تک عام لوگوں کی رسائی ہے جس سے عوام گمراہ ہوتی ہے۔ جبکہ ارتقاء پہ اورجنل سورسز اور سائنس پبلیکشنز میں نیو ڈارونزم موجودہ دور میں متضاد وضاحتوں میں الجھی ہوئی ایک سوچ ہے جس کے بنیادی تصورات یا تو غلط ثابت ہو رہے ہیں یا ڈیڑھ سو سال سے زیادہ عرصہ گزرنے کے بعد بھی آجتک سائنسی سند کا درجہ نہیں پا سکے۔ حقیقت تو یہ ہے کہ ماڈرن سائنس کے اس دور میں نیو ڈارونزم کا وضاحتی فریم ورک ناکامی کا شکار ہے۔ نیو ڈارونزم کا ایک ایسا ہی بنیادی اور اہم ترین تصور جانداروں کا تدریجی ارتقاء (Gradual Evolution) ہے۔ اگر یہ کہا جائے کہ نیو ڈارونزم کا مطلب ہی یہ ہے کہ جاندار آہستہ آہستہ بڑے لمبے عرصے میں مختلف شکلوں، جانداروں اور سپیشیز میں ارتقاء کرتے ہیں تو غلط نہ ہوگا۔ یعنی ایک جاندار میں لاکھوں کروڑوں سالوں میں چھوٹی چھوٹی مفید جنیاتی تبدیلیاں ہوتی ہیں جن کو ف...

|Say Hello to Uncle Saccorhytus|

کیا آپ جانتے ہیں "انکل ساکوریٹس" کون ہیں؟ اگر نہیں تو نیچے دی گئی تصویر انکل ساکوریٹس کی ہے۔ ارتقائی سائنسدانوں بہت خوش ہیں کہ اخر کار انکل ساکوریٹس کے باقیات ڈھونڈ لئے گئے جن سے ان کا شجرہ نسب جا ملتا ہے۔ ارتقائی سائنسدانوں کے مطابق انکل ساکوریٹس آج سے 540 ملین سال پہلے افریقہ کے چھپڑ میں رہا کرتے تھے اور بڑے ننھے منھے اور چھوٹے سے ہوا کرتے تھے۔ ان کا سائز صرف ایک ملی میٹر تھا لیکن ان کا منہ بہت بڑا ہوا کرتا تھا۔ چونکہ ان کا منہ بہت بڑا تھا لہذا کھایا بہت کرتے تھے لیکن ان کی مقعد (Anus) پھر بھی موجود نہیں تھی۔ بس کیا بتائیں! فطری چناؤ نے ضد لگا لی تھی کہ جو مرضی ہو جائے انکل ساکوریٹس کی مقعد نہیں بننے دوں گا۔ ظاہری بات ہے مقعد نہ ہونے کا کوئی نہ کوئی فائدہ ضرور ہوگا اسی لئے فطری چناؤ نے اتنی ضد کی۔ ارتقائی سائنسدانوں نے اس پہ یہ تھیوری پیش کی ہے کہ اتنا عرصہ پہلے ٹوائلٹ نہیں ہوا کرتے تھے۔ جب ٹوائلٹ نہیں تھے تو پھر مقعد کا کیا فائدہ؟ لہذا فطری چناؤ نے ٹھیک کیا۔ ارتقائی سائنسدان اس وقت اپنے انکل کے باقیات کا معائنہ کر رہے کہ شاید انکل ساکوریٹس کے بڑے منہ سے کوئی وصیت نامہ...

|Genes For Squid Eyes and Human Legs|

نئی سائنسی تحقیقات آئے دن نیو ڈارونین ارتقاء کے خلاف شواہد مہیا کر کے اس بات کو واضح کر رہیں ہیں کہ نیو ڈارونین ارتقاء ایک ناکام ہوتی تھیوری ہے لہذا اس کے متبادل کسی بہتر فریم ورک کی تلاش شروع کی جائے۔ ایسی ہی ایک نئی تحقیق حال ہی میں سامنے آئی جب ارتقائی سائنسدان سکوئڈ (Squid) کی آنکھوں کی ڈیولپمنٹ کے زمہ دار جین نیٹورک کا پتہ لگانے کی کوشش کر رہے تھے۔ اس کے لئے سکوئد کی ایک سپیشیز Doryteuthis pealeii کے ایمبریو (Embryo) کو بطور تحقیق استعمال کیا جا رہا تھا۔ اس ایمبریو کی ڈیولپمنٹ کے دوران سائنسدان جینز کے آن اور آف ہونے کا بغور مشاہدہ کر رہے تھے اور حیران کن طور پہ معلومات سامنے آئیں کہ جونسا جین ریگولیٹری نیٹ ورک انسانی ایمبریو کی ڈیولپمنٹ کے دوران ٹانگیں بنانے کے لئے آن ہوتا ہے وہی جین ریگولیٹری نیٹ ورک سکوئڈ کی آنکھیں اور لینز بنانے کے لئے کام کرتا ہے۔ یعنی ایک ہی طرح کے جینز دو مکمل طور پہ مختلف سپیشیز میں دو مکمل طور پہ مختلف کام انجام دے رہے ہیں۔ اب یہاں پہ کچھ نکات نوٹ کرنے والے ہیں: 1) سکوئد Cephalopod کہلاتے ہیں اور انسان Vertebrate کہلاتے ہیں۔ ارتقائی تھیوری کے مطابق ...

Longest evolutionary staSis in Bacteria (prokaryotes never evolved )

ارتقاء کی تاریخ اور فاسل ریکارڈ کا مطالعہ کریں تو آپ کو ہر جگہ ارتقائی ٹھہراؤ (Evolutionary Stasis) نظر آتا ہے۔ جاندار اپنی ارتقائی تاریخ میں کبھی بھی کسی دوسرے جاندار میں تبدیل نہیں ہوتا چاہے کئی سو ملین سال گزر جائیں یا کئی بلین سال گزر جائیں۔ درجنوں مختلف جانداروں کی مثالیں فاسل ریکارڈ میں محفوظ ہیں جو ظاہر کرتیں ہیں کہ جاندار اپنی بنیادی ساخت میں اچانک ظاہر ہوتے ہیں اور پھر اسی بنیادی ساخت میں موجود رہتے ہیں۔ ایک مچھلی کی سینکڑوں مختلف اقسام ہو سکتیں ہیں لیکن ایک مچھلی کبھی بھی ڈائنوسار نہیں بنتی۔ ایسا ہی ارتقائی ٹھہراؤ کا پیٹرن آپ کو یک خلوی جانداروں میں دیکھنے کو ملتا ہے۔ ان یک خلوی جانداروں یا پروکیریوٹس (Prokaryotes) کے بارے نیو ڈارونین تھیوری کا دعویٰ یہ ہے کہ یہ لمبے عرصے میں ارتقاء کر کے مچھلیوں اور دیگر جانداروں میں تبدیل ہو گئے۔ جبکہ حقائق یہ ثابت کرتے ہیں کہ یک خلوی جاندار اربوں سال گزر جانے کے بعد بھی اپنی خصوصیات اور ساخت میں یک خلوی جاندار ہی رہتے ہیں۔ اکثر ارتقائی حضرات کا معذرت خواہانہ اعتراض ہوتا ہے کہ جی میکرو ارتقاء (Macroevolution) ہونے پہ وقت لگتا ہے۔ یہ ہزا...

|300 Million Years Old Dragonfly Fossils|

ڈریگن مکھی عام پائے جانے والا کیڑا ہے۔ یہ آپ کو باغوں اور کھیتوں میں اڑتی ہوئی ملتیں ہیں۔ بچے بڑے شوق سے ان کو ڈھونڈتے ہیں اور ان کو پکڑنے کی کوشش کرتے ہیں۔ یہ بہت سے خوبصورت رنگوں میں پائی جاتیں ہیں اور اڑنے میں بہت تیز ہوتیں ہیں۔ یہ دنیا کی ہر علاقے میں موجود ہیں۔ ڈریگن مکھی آج سے کئی سو ملین سال پہلے بھی موجود تھیں اور آج کے دور میں بھی بغیر کسی نیو ڈارونین ارتقائی تبدیلی کے موجود ہیں اس نکتہ پہ میں کچھ سائنسی حقائق شئیر کرنا چاہوں گا۔ ایک مشہور سائنس پبلیکشن ڈیٹا بیس Science Direct میں 2016 کی ایک سائنس پبلیکشنز کے مطابق ڈریگن مکھی کا ایک فاسل ملا جو Mid Cretaceous دور کا ہے۔ Cretaceous Period 145 ملین سال سے لے کر 66 ملین سال تک کا دور کہلاتا ہے. اس لحاظ سے Mid Cretaceous کا مطلب ہے ڈریگن مکھی کا یہ فاسل کم از کم 105 ملین سال پرانا ہے۔ یہ ڈریگن مکھی کا دوسرا فاسل ہے جو اس دور کا ہے۔ سو ملین سال پہلے بھی ڈریگن مکھی موجود تھی اور آج بھی موجود ہے! "A new dragonfly Cretagomphaeschnaoides jarzembowskae gen. et sp. nov., is described from mid-Cretaceous Burmese amber.....This ...

|Human To Apes Theory|

ایک بات تو واضح ہے بندر نما جانداروں کے فاسلز واقعی موجود ہیں۔ یہ حقیقت اور سچ ہے! آپ یہ سوچ رہے ہونگے کہ یہ میں کیا کہ رہا ہوں!! میں اپنی بات مکمل کرتا ہوں۔ بندر نما جانداروں کے فاسلز واقعی موجود ہیں لیکن مسئلہ ان فاسلز کی وضاحت (Interpretation) کا ہے۔ مغرب کا ملحد معاشرہ اور ملحد ارتقائی سائنسدان اس کی وضاحت یہ کرتے ہیں کہ بندر نما جانداروں سے انسان کا ارتقاء ہوا۔ جبکہ ایک مسلمان قرآنی حقائق کو سامنے رکھ کر ان فاسلز کی وضاحت یہ کرتا ہے کہ اصل میں انسانوں کی ایک ابادی کو بندر نما جانداروں میں تبدیل کیا گیا۔ جو آج فاسلز کی صورت میں برآمد ہو رہے ہیں! ارتقائی مسلمان اگر قرآن پاک کی آیات پہ واقعی غور فکر کرلیں تو شاید ان کو سمجھ اجائے کہ ایک مسلمان کے نزدیک بندر نما جانداروں کا ارتقاء انسانوں میں نہیں ہوا۔ بلکہ ایک نافرمان قوم کو اللہ پاک کے عذاب نے بندر نما حیوانوں میں تبدیل کر دیا تھا۔ ---------------------------------------------- وَلَقَدْ عَلِمْتُمُ الَّذِيْنَ اعْتَدَوْا مِنْكُمْ فِيْ السَّبْتِ فَقُلْنَا لَهُمْ كُوْنُوْا قِرَدَةً خَاسِئِـيْنَ  ۚ "پھر تمہیں اپنی قوم کے ...

|Fossil lice 100 Million Years Old|

چند دن پہلے نیچر جریدے میں 100 ملین سال پرانے امبر (Amber) میں ectoparasite کے فاسلز کو رپورٹ کیا گیا جن کی ساخت (Morphology) موجودہ دور کی جوؤں (lice) سے ہوبہو مشابہت رکھتی ہے۔ امبر (Amber) کچھ درختوں سے نکلنی والی رال کو کہتے ہیں۔ جب ان درختوں کو کٹ لگتا ہے تو وہاں سے پیلے رنگ کی چپکو رال نکلتی ہے جس میں بعض اوقات مختلف کیڑے وغیرہ پھنس جاتے ہیں اگر رال کا سائز بڑا ہوتو چھوٹے پرندے، مینڈک اور مچھلیاں وغیرہ بھی اس میں پھنس کر مر جاتی ہیں۔ بعض اوقات یہ رال مناسب ماحول میں دب کر فاسل بن جاتی ہے جو اپنے ساتھ مختلف جانداروں کے اجسام کو محفوظ کیے ہوتی ہے۔ ectoparasites ایسے پیراسائٹ ہوتے ہیں جو جانداروں کے باہری جسم، جلد اور بالوں وغیرہ میں پائے جاتے ہیں۔ نیچر جریدے میں 100 ملین سال پرانے فاسل امبر میں پھنسی دس جوؤں کے اجسام کو رپورٹ کیا گیا جن کی ساخت کروڑوں سال پہلے بھی موجودہ دور کی جوؤں سے مشابہت رکھتی تھی۔ اس امبر میں ڈائنوسار کے پروں کے فاسل بھی موجود تھے اور سائنسدانوں کا خیال ہے کہ یہ جوئیں (lice) ڈائنوسار کے پروں میں ہی پائی جاتیں تھیں۔ یہ بھی کافی حیرانی کی بات ہے کہ سو ملین سا...

Pulverizing Edifice of Neo Darwinism (Failure of Darwinian Dogmas)

نیو ڈارونین تھیوری کی حیثیت سائنسی اعتبار سے کم اور مغربی نظام کو سہارا دینے سے متعلق زیادہ اہم ہے یہی وجہ ہے کہ باوجود تمام تر سائنسی شواہد اور ڈیٹا کے جو نیو ڈارونین تھیوری کے بنیادی دعویٰ جات کی ناکامی کو بے نقاب کرتے ہیں اس تھیوری کو مغربی نظام سے نکالنا اور سائنسی طور پہ رد کرنا آسان کام نہیں۔ کچھ سائنسدان ہمت کر کے اور اپنا سائنسی کیرئیر خطرے میں ڈال کر نیو ڈارونین تھیوری پہ تنقیدی مواد ضرور لکھتے ہیں لیکن یہ ایک عمومی طرزِ عمل نہیں کیونکہ ایسا رویہ فنڈنگ میں روکاوٹ، ریسرچ پروجیکٹس کی دستیابی، یونیورسٹی میں بطور پروفیسر رکھے جانے یا ریسرچ لیبز میں بطور ریسرچر کام کر کے اپنا کیریئر بنانے جیسے مواقعوں میں روکاوٹ بنتا ہے۔ موجودہ دور کے سسٹم میں آج کا سائنسدان نوکری کرتا ہے چاہے وہ گورنمنٹ کی ریسرچ لیبز میں گورنمنٹ کی فنڈنگ سے ہو یا پرائیویٹ لیبز میں کسی ارب پتی کی فنڈنگ سے ہو۔ تلخ حقیقت یہ ہے کہ اس سائنسدان ملازم کو گورنمنٹ کی طرف سے یا کسی ارب پتی کے طرف سے ایک "جاب" دی جاتی ہے جسے آپ عام طور پہ "سائنسی ریسرچ" کہتے ہیں۔ تنخواہ لینے والا یہ سائنسدان اپنے باس کے...

|Religion, God and Evolution|

ڈارونزم کے مطابق مذہب اور خدا کی کوئی بھی حقیقی حثیت نہیں یہ صرف سروائول کے لئے ہوئی دماغی اڈپٹیشنز ہیں جو فطری چناؤ اور میوٹیشنز کا نتیجہ ہیں۔ ڈارون پرست سائنسدانوں کے مطابق جب ہم لاکھوں سال پہلے باندر نما مخلوق سے ارتقاء کر رہے تھے اور ہمارے دماغ کا سائز بڑھ رہا تھا، پیچیدہ سوچ جنم لے رہی تھی اسی دوران مزہب اور خدا کا تخیلاتی خاکہ حادثاتی (Accidental by Product) طور پہ ہمارے سوچنے کی انداز اور پیٹرن میں شامل ہوگیا۔ چونکہ یہ سروائول کے لئے اچھا تھا، گروہ کو اکٹھا رکھتا تھا، مشکلات اور جیلنجز کا مقابلہ کرنا آسان بناتا تھا ساتھ ہی فطری مظاہر کی ایک آسان وضاحت بھی پیش کرتا تھا لہذا اسی وجہ سے خدا اور مذہب کا تصور ہماری انسانی سوچ کا اہم حصہ بن کر آجتک ہمارے اندر موجود ہے۔ میرے نزدیک ارتقائی تھیوری مفروضے اور قیاس ایجاد کرنے کی ایسی مشین ہے کہ سائنس کی تاریخ میں اس کی مثال نہیں ملتی۔ لیکن یہاں ایک سوال ان مسلمانوں سے بھی بنتا ہے جو ڈارونزم کے قصیدے پڑھتے ہلکان ہو رہے ہوتے ہیں۔ باندر سے انسان کا ارتقاء بھی مان چکے ہیں۔ ارتقائی تھیوری کے ہر قیاس اور ہر مفروضے پہ پختہ ایمان بھی رکھتے ہیں...

Homo Floresiensis, A Pathological Human (Reality of Darwinian Monkey Business)

ارتقائی سائنسدان متعدد انسانی سپیشیز کے وجود کو مانتے ہیں۔ ان میں سے فلحال ایک سپیشیز کے بارے سائنسی حقائق واضح کروں گا اور باقی سپیشیز کی حقیقت آپ کو پوسٹ کے آخر تک خود سمجھ ا جائے گی۔ اس پوسٹ کا موضوع جس انسانی سپیشیز سے متعلق ہے اس کو Homo Floresiensis کا نام دیا گیا۔ اس کو ڈارون پرست سائنسدانوں نے متعلقہ شعبہ میں 100 سال کی سب سے اہم دریافت قرار دیا۔ ایک فاسل 2003 میں دریافت ہوا جس پہ ڈارون پرست سائنسدانوں نے فطری چناؤ سے ہوئی ارتقائی اڈاپٹیشنز کی ایک لمبی فہرست مرتب کی اور اگلے ہی سال 2004 میں اس دریافت شدہ فاسل کو انسانوں کی ایک نئی سپیشیز قرار دے دیا۔ یہ فاسل انڈونیشیا کے ایک جزیرہ پہ Liang Bua غار سے دریافت ہوا اس کوLB1 نام دیا گیا اس کی کھوپڑی تقریباً مکمل تھی اور سائز 400 کیوبک سینٹی میٹر تھا جو کہ کافی چھوٹا تھا۔ موازناتی طور پہ بتا دوں انسانی کھوپڑی کا اورج سائز تقریباً 1300 کیوبک سینٹی میٹر ہوتا ہے۔ اس کا قد ساڑھے تین فٹ اور وزن 25 کلوگرام تھا۔ یہ تقریباً 18,000 سال پہلے تک زمین پہ زندہ موجود تھی۔ اس سپیشیز کے مزید نامکمل فاسل بھی دریافت ہوئے جن سے واضح ہوگیا کہ اس سپیشیز...

|Convergent Evolution of Eyes|

نیو ڈارونزم (Neo-Darwinism) جانداروں کے اعضاء، ساخت اور اڈاپٹییشنز میں پائی جانے والی مماثلت کو فوراً مشترکہ اجداد کا نتیجہ قرار دے دیتا ہے اور کسی بھی متبادل وضاحت کو زیر بحث نہیں لانا۔ مشترکہ اجداد کا مفروضہ ارتقائی سائنسدانوں میں ڈارون پرستی کی وجہ سے ایک عمومی سوچ کے طور پہ رائج ہے جبکہ اس کے ثبوت ناکافی ہیں حقیقت اس سے بہت مختلف ہے! جانداروں میں اکثریتی اعضاء، ساخت اور اڈاپٹیشنز کنورجنٹ ارتقاء (Convergent Evolution) کا نتیجہ ہیں۔ مثال کے طور پہ تمام تر ڈارون پرستی کے باوجود ارتقائی سائنسدان یہ ماننے پہ مجبور ہیں کہ مختلف جانداروں کی نسلوں میں مختلف اقسام کی آنکھوں کا ارتقاء تقریباً 40 مختلف بار ہوا۔۔۔! آنکھ کسی ایک مشترکہ جد میں حادثاتی میوٹیشنز کی وجہ سے ظہور پزیر ہو کر پھر وقت کے ساتھ اگلی نسلوں میں منتقل "نہیں" ہوئی۔ یہ کیسے ممکن ہے کہ نیو ڈارونزم جیسے غیر سمتی، بے مقصد، بے معنی ارتقائی پروسیس کے ذریعے ایک ہی قسم کا اعضاء تقریباً 40 بار مختلف اقسام کے جانداروں میں ارتقاء پذیر ہو۔۔۔! یہ سائنسی شواہد ڈارون پرست سائنسدانوں کو  ہضم نہیں ہوتے لہذا ہر طرح کے قیاس و ...

|Convergent Evolution of Bioluminescence|

کیا ایک جیسی جسمانی ساخت، اڈاپٹیشنز، اعضاء اور جنیاتی حصوں کا مطلب صرف اور صرف یہ ہے کہ یہ مشترکہ اجداد کا نتیجہ ہیں؟ یعنی موجودہ جانداروں میں نظر آنے والی مماثلت کا مطلب صرف یہ ہے کہ یہ تمام جاندار ماضی میں ایک ہی مشترکہ جد سے ارتقاء پذیر ہوئے ہیں۔ بالکل بھی نہیں! کیا مشترکہ اجداد مفروضے کے علاوہ جانداروں کی مماثلت بیان کرنے کا کوئی اور ذریعہ بھی ہے؟ جی بلکل ہے! مثال کے طور پہ Bioluminescence ہے۔ جس میں جاندار اپنے جسم میں ہونے والے کیمیکل ری ایکشن کے ذریعے روشنی خارج کر سکتے ہیں۔ یہ کیمیکل ری ایکشن ایک مالیکول luciferin، آکسیجن اور انزائم Luciferase کی موجودگی میں وقوع پزیر ہوتا ہے۔ روشنی پیدا کر سکنے کے حامل جاندار اس ری ایکشن کے زریعے روشنی کی شدت اور اس کا رنگ منتخب کر سکنے کے قابل ہوتے ہیں۔ روشنی پیدا کر سکنے کی خاصیت بیکٹریا، جیلی فش، الجی، مچھلیوں اور کیڑوں وغیرہ میں پائی جاتی ہے۔ ان تمام جانداروں میں یہ اڈپٹیشن موجود ہے تو کیا یہ کہا جائے گا کہ ثابت ہوا کہ ان تمام جانداروں کے اجداد مشترک ہیں اور ان میں یہ خاصیت ایک مشترکہ جد کی وجہ سے آئی ہے؟! ایسا کہنا غلط ہوگا۔۔۔! ...

|Doctrine of Common Descent is False|

ڈارونین ارتقاء میں یک خلوی مشترکہ جد کے وجود کو ایک عقیدے (Doctrine) کے طور پہ مانا جاتا ہے۔ ڈارون پرست سائنسدان اس کو ناقابلِ تردید سچائی اور مسلمہ حقیقت کے طور پہ تسلیم کرتے ہیں۔ اس پہ تنقید کرنے یا سوال کرنے کا تصور بھی نہیں کیا جا سکتا۔ باوجود اس کے کہ شواہد نہ ہونے کے برابر ہیں اور یک خلوی مشترکہ جد عقیدے (Doctrine) کے متبادل ماڈلز بھی موجود ہیں۔ ایسا ڈارون پرست رویہ سائنس کی ترقی میں روکاوٹ بنا ہوا ہے۔ یک خلوی مشترکہ جد کا کوئی ٹھوس ثبوت موجود نہیں، ڈارون پرست سائنسدانوں کا گروہ اس عقیدے (Doctrine) کو چھوڑنے کے لئے بھی تیار نہیں اور یہ عقیدہ بہت سے اہم سوالات کی وضاحت بھی نہیں کرتا۔ آپ سوچ رہے ہونگے میں لفظ "عقیدے (Doctrine)" کا استعمال بار بار کیوں کر رہا ہوں؟ ایسا میں نہیں کر رہا ہے بلکہ بائیولوجی کی فیلڈ کے مشہور و معروف سائنسدان Carl Woese کر رہے ہیں۔ ماڈرن سائنس نے ہمیشہ کی طرح ڈارونین ارتقاء کا ایک اور بنیادی اور اہم ترین یک خلوی مشترکہ جد کا عقیدہ بھی غلط ثابت کر دیا۔ کارل ووز نے ایک تھیوری پیش کی جو PNAS جریدے میں پبلش ہوئی جس کے مطابق جانداروں کا ارتقاء ک...

|437 Million years Old Scorpion Fossils|

|437 Million years Old Scorpion Fossils| ڈارونین ارتقاء یہ دعوی کرتا ہے کہ اگر آپ موجودہ دور سے ماضی کی طرف جانا شروع کریں تو آپ کو جانداروں کی ساخت، اجسام اور مارفالوجی مختلف نظر آئے گی۔ اگر ماضی میں کافی دور تک چلے جائیں دو یا تین سو ملین سال پہلے تو آپ کو موجودہ جانداروں جیسا کوئی جاندار نظر نہیں آئے گا کیونکہ جاندار وقت اور ماحول کے ساتھ اپنی ساخت، اجسام اور مارفالوجی بدلتے ا رہے ہیں۔ لیکن مسئلہ یہ ہے کہ سائنسی شواہد اس کے برعکس ہیں۔ جنوری 2020 میں نیچر جریدے میں پبلش ہوا سائنسی پیپر ایسے فاسل شواہد کو رپورٹ کرتا ہے جس کے مطابق 437 ملین سال پہلے ٹیکسامک آرڈر Scorpiones کے رکن بِچھو Parioscorpio venator اپنی ہوبہو اندرونی ساخت اور قدرے مماثل بیرونی ساخت کے ساتھ موجود تھا۔ ویسی ہی ساخت جیسی آج کے دور کے بِچھوؤں کی ہے۔ اگر ڈارونین تھیوری کے مفروضہ جات اور قیاسات درست ہوں تو ایسے فاسل بچھو دریافت ہونا ممکن نہیں۔ کیوں؟ اس کی وضاحت کے لئے یہاں کچھ اہم نکات کا زکر کرنا چاہوں گا۔ سائنسی شواہد کے مطابق کثیر خلوی پیچیدہ جاندار تقریباً 540 ملین سال پہلے اپنی فائلم (Phylum) سطح کی جسمانی...