ارتقائی سائنسدان متعدد انسانی سپیشیز کے وجود کو مانتے ہیں۔ ان میں سے فلحال ایک سپیشیز کے بارے سائنسی حقائق واضح کروں گا اور باقی سپیشیز کی حقیقت آپ کو پوسٹ کے آخر تک خود سمجھ ا جائے گی۔ اس پوسٹ کا موضوع جس انسانی سپیشیز سے متعلق ہے اس کو Homo Floresiensis کا نام دیا گیا۔ اس کو ڈارون پرست سائنسدانوں نے متعلقہ شعبہ میں 100 سال کی سب سے اہم دریافت قرار دیا۔ ایک فاسل 2003 میں دریافت ہوا جس پہ ڈارون پرست سائنسدانوں نے فطری چناؤ سے ہوئی ارتقائی اڈاپٹیشنز کی ایک لمبی فہرست مرتب کی اور اگلے ہی سال 2004 میں اس دریافت شدہ فاسل کو انسانوں کی ایک نئی سپیشیز قرار دے دیا۔ یہ فاسل انڈونیشیا کے ایک جزیرہ پہ Liang Bua غار سے دریافت ہوا اس کوLB1 نام دیا گیا اس کی کھوپڑی تقریباً مکمل تھی اور سائز 400 کیوبک سینٹی میٹر تھا جو کہ کافی چھوٹا تھا۔ موازناتی طور پہ بتا دوں انسانی کھوپڑی کا اورج سائز تقریباً 1300 کیوبک سینٹی میٹر ہوتا ہے۔ اس کا قد ساڑھے تین فٹ اور وزن 25 کلوگرام تھا۔ یہ تقریباً 18,000 سال پہلے تک زمین پہ زندہ موجود تھی۔ اس سپیشیز کے مزید نامکمل فاسل بھی دریافت ہوئے جن سے واضح ہوگیا کہ اس سپیشیز کا ایک پورا گروہ یہاں موجود تھا بلکل ایسے ہی جیسے افریقہ کے ایک محدود علاقے سے اسٹرالوپتھکس کے مختلف فاسل ملتے ہیں۔
ارتقائی سائنسدانوں کے مطابق یہ فاسل (LB1) منفرد خصوصیات کا حامل تھا۔ یہ نئی سپیشیز بہت قریبی دور میں یعنی 18,000 سال پہلے تک موجود تھی لیکن اس کے باوجود اس کے جسمانی سٹرکچر میں پرانے دور کی اڈاپٹیشنز اور ساخت باقی تھیں جو عمومی طور پہ تین سے چار ملین سال پرانی اسٹرالوپتھکس (Australopithecus) سپیشیز میں دیکھنے کو ملتیں ہیں۔ اسٹرالوپتھکس کے دماغ کا سائز 450 کیوبک سینٹر میٹر اور قد 3 سے 4 فٹ ہوا کرتا تھا جو کہ نئی سپیشیز سے مماثلت رکھتا ہے۔ ہومو فلورایسیئنسیس کے جبڑے کی ہڈیاں اور دانت بھی اسٹرالوپتھکس سے مماثلت رکھتے ہیں۔۔ اس کے علاوہ ہومو فلورایسیئنسیس کی ٹانگوں کی لمبائی کم تھی ایسی جسمانی ساخت عمومی طور پہ اسٹرالوپتھکس کے فاسلز سے منسوب کی جاتی ہے اور موجود دور کے apes میں دیکھنے کو ملتی ہے۔ اوپر بیان کی گئی ساخت اور اڈاپٹیشنز کے علاوہ ہومو فلورایسیئنسیس کے دریافت شدہ باقی فاسلز میں قد اور وزن کی ratio بھی مشہور زمانہ اسٹرالوپتھکس Lucy سے مماثلت رکھتی ہے۔
https://www.nature.com/scitable/knowledge/library/homo-floresiensis-making-sense-of-the-small-91387735/
ارتقائی سائنسدانوں کے لئے یہ بہت انوکھی دریافت تھی۔ ان کے مطابق ایک ایسی نئی سپیشیز دریافت ہوچکی تھی جو لاکھوں سال پرانے اسٹرالوپتھکس سے مماثلت رکھتی تھی لیکن انتہائی قریبی دور اور ایک مختلف علاقے یعنی انڈونیشیا میں موجود تھی۔ ڈارون پرست سائنسدانوں نے اس کی وضاحت کے لئے کچھ مفروضے پیش کیے ساتھ کچھ قیاس کیے کہ ایسے ہوا ہوگا ویسے ہوا ہوگا اور لیجئے انسانوں کی ایک نئی سپیشیز حاضر ہے!
لیکن کیا واقعی ہومو فلورایسیئنسیس کہلایا جانے والا فاسل (LB1) انسانوں کی ایک نئی شپیشیز ہے یا یہ ارتقائی سائنسدانوں کا ڈارون پرست، جانبدار، مبالغہ آرائی اور غلط بیانی پہ مبنی رویہ ہے؟!
ڈارون پرست سائنسدانوں کا یہ وطیرہ بن چکا ہے کہ کسی بھی تھوڑے مختلف انسانی فاسل کو جلد بازی اور مبالغہ آرائی سے ایک نئی سپیشیز بنا دیا جاتا ہے جبکہ حقائق اور شواہد ایسے نہیں ہوتے کہ ایسا نتیجہ اخذ کیا جائے۔
https://science.sciencemag.org/content/349/6251/931
بائیولوجی میں ڈارون پرست سائنسدان اپنی خاص ذہنیت کے ساتھ اس طرح قابض ہو چکے ہیں کہ اگر ان کو کسی جسمانی معذور انسان کا کوئی بیس پچیس ہزار سال پرانا فاسل مل جائے تو بھی ڈارونین منطق سے یہ لوگ اس کو انسان کی کوئی نئی سپیشیز یا درمیانی کڑی بنا کے ارتقائی کہانی میں فٹ کر دیں گے۔ ظاہری بات ہے ایسا فاسل ہڈیوں کی ساخت میں عام انسانوں سے مختلف ہوگا بس اس پہ ڈارونین قیاسات اور مفروضات کی تہ چڑھانا باقی ہوگی۔
یہ میری رائے نہیں بلکہ سائنسی جریدوں میں پبلش ہو چکی سائنسی تحقیق کا حصہ ہے۔ اس پہ میں آپ کو متعدد حوالہ جات اہم ترین جریدوں سے مہیا کروں گا اور ساتھ ہمیشہ کی طرح وضاحت بھی کروں گا۔
1) یہ سائنسی پیپر مشہور جریدے PNAS میں پبلش ہوا اور اس میں عمدہ انداز میں سائنسی تنقید کی گئی اور واضح طور پہ کہا گیا لیانگ بوا غار سے دریافت ہونے والے فاسل (LB1) جس کو ایک نئی شپیشیز ہومو فلورایسئنسیس قرار دیا گیا ہے یہ غلط ہے!
اس فاسل کا بغور جائزہ لیا جائے تو معلوم پڑتا ہے اس کے چہرے، کھوپڑی اور نچلے جسمانی حصے میں پیدائشی معذوری کے شواہد موجود ہیں۔ لہذا یہ فاسل ایک چھوٹے قد کی موجودہ انسانی آبادی (Homo sapiens) کا رکن تھا جو جسمانی طور پہ پیدائشی معزور تھا اور مائیکرو سیفلی کی بیماری کی وجہ سے اس کے دماغ کا سائز بھی غیر معمولی طور پہ چھوٹا تھا۔ مزید اس پیپر میں کہا گیا کہ اس کے دریافت ہوتے ہے ارتقائی قیاسات ("speculative evolutionary scenarios") نے سب کی توجہ گھیر لی جبکہ اس نکتہ پہ کسی نے سوچنے گوارا نہیں کیا کہ لیانگ بوا غار سے صرف ایک کھوپڑی ملی تھی جس کی بنیاد پہ ایک نئی سپیشیز ایجاد کر لی گئی پھر یہ بھی کہا گیا کہ ایسی منفرد ساخت والی مزید کھوپڑیاں بھی ملیں ہیں جو کہ سراسر غلط بیانی ہے کیونکہ صرف ایک کھوپڑی ہی اس غار سے حاصل ہوئی تھی۔
"Liang Bua 1 (LB1) exhibits marked craniofacial and postcranial asymmetries and other indicators of abnormal growth and development...........We propose that LB1 is drawn from an earlier pygmy H. sapiens population but individually shows signs of a developmental abnormality, including microcephaly."
https://www.pnas.org/content/103/36/13421
2) یہ دوسرا سائنسی پیپر ہے جو PNAS جریدے میں 2014 کو پبلش ہوا۔ اس میں بھی نئی سپیشیز کہلائے جانے والے ہومو فلورایسئنسیس فاسل (LB1) کی ساخت کا مکمل تجزیہ کرنے کے بعد نتیجہ اخذ کیا گیا کہ اس کی کھوپڑی کے اندرونی حصے کا سائز، کھوپڑی کے پچھلے حصے کا ہموار ہونا، چہرہ کی ہڈیوں کا غیر متوازن ہونا، ٹانگوں کی ہڈی کا چھوٹا ہونا، پاؤں کی نچلی سطح کا ہموار ہونا اور مزید غیر معمولی جسمانی ساخت یہ ظاہر کرتی ہے کہ یہ فاسل Down Syndrome سے متاثرہ موجودہ انسانی آبادی (Homo Sapiens) کا ایک فرد تھا نہ کہ ایک نئی انسانی سپیشیز!
مزید اس سائنس پیپر میں بھی طنزیہ انداز میں تنقید کی گئی کہ LB1 فاسل کو نئی سپیشیز قرار دینے والوں نے بہت سے تنقیدی نکات کو مخاطب ہی نہیں کیا۔ بجائے کوئی ٹیسٹ کی جا سکنے والی سائنسی وضاحت دی جاتی الٹا LB1 فاسل پہ ارتقائی کہانیاں تخلیق ("mythologizing") کر دی گئیں۔ پھر سونے پہ سہاگا یہ کہ سائنس نیوز میڈیا نے ان غیر حقیقی کہانیوں پہ آرٹیکل چھاپ چھاپ کر ایسی فضا قائم کر دی جیسے یہ فاسل واقعی ایک نئی انسانی سپیشیز ہے۔
نوٹ: یہ میرے الفاظ نہیں بلکہ سائنسی پیپر میں استعمال کیے گئے الفاظ ہیں۔
"Here we demonstrate that the facial asymmetry, small endocranial volume, brachycephaly, disproportionately short femora, flat feet, and numerous other characteristics of LB1 are highly diagnostic of Down syndrome, one of the most commonly occurring developmental disorders in humans..."
https://www.pnas.org/content/111/33/11967
3) یہ تیسرا سائنسی پیپر جو اسی مشہور جریدے PNAS میں 2011 کو پبلش ہوا۔ اس سائنسی تحقیق میں غیر جانبدار سائنسدانوں نے موجودہ دور کے مائیکرو سیفلی سے متاثرہ بچوں کے دماغ کا MRI سکیننگ ڈیٹا حاصل کیا۔ پھر اس ڈیٹا کا نئی سپیشیز کہلائے جانے والے فاسل LB1 سے تفصیلی انداز میں موازنہ کیا اور یہ بیان دیا کہ انفارمیشن یہ ظاہر کرتی ہے کہ LB1 فاسل ایک مائیکرو سیفلی سے متاثرہ, دماغی طور پہ معزور اور جسمانی طور (cerebral palsy) پہ معذور موجودہ انسانی آبادی (Homo Sapiens) کا رکن تھا۔
مزید یہ کہا گیا کہ صرف ایک کھوپڑی اور چند جبڑے کی ٹوٹی پھوٹی ہڈیوں سے ایک نئی سپیشیز اخذ کرنا غیر سنجیدہ اور جلدباز رویہ ہے۔ موجودہ فاسل ڈیٹا کسی بھی طرح اس نتیجہ کو سپورٹ نہیں کرتا۔
"The designation of Homo floresiensis as a new species derived from an ancient population is controversial, because the type specimen, LB1, might represent a pathological microcephalic modern Homo sapiens.....There is information to suggest that LB1 was a brain-damaged individual, who suffered secondary microcephaly with associated severe motor disability (cerebral palsy) and likely mental deficiency."
https://www.pnas.org/content/108/34/14043
4) یہ چوتھا سائنسی پیپر ہے جس کا حوالہ دیا جا رہا ہے یہ PNAS جریدے میں 2014 کو پبلش ہوا۔
اس میں بہت عمدہ سائنسی انداز میں اور بعض اوقات طنزیہ انداز میں تنقید کر کے ڈارون پرست سائنسدانوں کی حرکات سے پردہ اٹھایا گیا جو کسی بھی فاسل کو اٹھا کر نئی سپیشیز یا درمیانی کڑی بنا دیتے ہیں۔
ڈارون پرست سائنسدانوں کی طرف سے ہومو فلورایسئنسیس کی دریافت کو 100 سال کی سب سے اہم دریافت قرار دیا گیا۔ جن خصوصیات کی بنا پہ نئی سپیشیز ہومو فلورایسئنسیس ایجاد کی گئی وہ صرف اور صرف ایک فاسل LB1 میں نظر آئیں جبکہ باقی تمام فاسلز جو اسی غار سے دریافت ہوئے ان میں ایسی خصوصیات نہیں تھیں۔ابتدا میں ڈارون پرست سائنسدانوں نے فاسل LB1 کی کھوپڑی کا سائز اور قد غلط بیانی کرتے ہوئے کم رپورٹ کیا۔ اس کھوپڑی کے چہرے کی غیر متوازن ہڈیوں کو بھی رپورٹ نہیں کیا گیا پھر یہ ماننے سے ہی انکار کر دیا گیا کہ چہرے کی ہڈیاں غیر متوازن ہیں۔
اس کے جواب میں غیر جانبدار سائنسدانوں نے سائنسی پیپر پبلش کر کے یہ ثابت کیا کہ LB1 فاسل کے چہرے کی ہڈیاں غیر متوازن ہیں جو اس کے پیدائشی طور پہ جسمانی معذور ہونے کی طرف اشارہ کرتی ہیں۔
جب ڈارون پرست سائنسدانوں سے اختلاف کرنے والے سائنسدانوں نے فاسل LB1 تک رسائی کی درخواست دی تاکہ آزادانہ طور پہ خود اس کا تجزیہ کیا جا سکے تو ان سائنسدانوں کو فاسل تک رسائی نہیں دی گئی۔ حسابی ماڈل سے اس فاسل LB1 کا موازنہ کیا جائے تو ہومو فلورایسئنسیس کا وجود ایک خالصتاً مفروضاتی سوچ قرار پاتا ہے اس کو کسی بھی شواہد یا سنجیدہ طریقہ تحقیق سے اخذ نہیں کیا جا سکتا۔
منطقی طور پہ سوچا جائے تو یہ کیسے ممکن ہے کہ ایک نئی شپیشیز ایک ایسے جزیرے پہ ارتقاء پزیر ہو گئ جو جیولوجیکل تاریخ کے مطابق ایک لاکھ سال پہلے وجود میں آیا ہے اور ایسے وقت میں جب چاروں طرف صرف اور صرف ہومو سیپیئن موجود تھے؟!
ڈارون پرست سائنسدانوں نے ایک نئی سپیشیز ایجاد کرنے کے دروان متعدد منطقی مغالطے بھی کیے۔ مثال کے طور پہ خود ساختہ مفروضوں پہ ایک نئی سپیشیز ہومو فورایسئنسیس اخذ کر کے ڈارون پرست سائنسدانوں نے الٹا اختلاف کرنے والے سائنسدانوں سے اس بات کا ثبوت مانگنا شروع کر دیا کہ ثابت کریں ہومو فلورایسئنسیس ایک نئی سپیشیز نہیں ہے۔ جبکہ ابھی تک یہ بات زیر بحث ہے کہ فاسل LB1 نئی سپیشیز ہے بھی یا نہیں!
اس طرح کے منطقی مغالطے سے Burden of proof ناجائز طور پہ اختلاف کرنے والے پہ جا پڑتا ہے۔ حقیقت میں نئی سپیشیز کا دعویٰ کرنے والوں کو تسلی بخش ثبوت فراہم کرنا چاہئیے۔ ایسی صورتحال میں مزید ایک منطقی مغالطہ جنم لیتا ہے کہ ہمارا دعویٰ تب تک درست ہے جب تک اس کو غلط ثابت نہیں کیا جاتا۔ جناب! آپ کا دعویٰ تو تب درست مانا جائے جب پہلے سائنسی طور پہ ثابت ہوچکا ہو!
نوٹ: یہ تمام نکات نیچے لنک میں موجود پبلش سائنسی پیپر سے لیئے گئے ہیں۔ ان کا مطالعہ کرنے کے لئے سائنسی پیپر میں ہیڈنگ "significance" کے نیچے پہلے پیراگراف۔ ہیڈنگ "abstract" کے نیچے دو پیرگراف۔ ہیڈنگ "conclusion" کے تمام پیرگراف کا مطالعہ کریں۔
https://www.pnas.org/content/111/33/11961
5) یہ پانچواں سائنسی پیپر ہے جو تمام تر حقائق کو مد نظر رکھ کر فاسل LB1 کو ایک مائیکرو سیلفی سے متاثرہ موجود انسانی آبادی (Homo Sapiens) کا ایک رکن قرار دے رہا ہے۔
"We conclude that the features of LB1 best support the interpretation that it is a pathological, microcephalic dwarf specimen of Homo sapiens...."
https://anatomypubs.onlinelibrary.wiley.com/doi/full/10.1002/ar.a.20389
تمام سائنسی حقائق آپ کے سامنے ہیں۔ جس فاسل LB1 کو ڈارون پرست سائنسدانوں نے اسٹرالوپتھکس سے مماثل قرار دیا اور انسانوں کی ایک نئی سپیشیز بنا دیا وہ اصل میں موجودہ انسانی آبادی کا ایک جسمانی اور ذہنی طور پہ معزور رکن تھا۔ یہاں ایک اور سوال اٹھتا ہے کیا اسٹرالوپتھکس کے ساتھ بھی کم و بیش ایسا ہی معاملہ ہے؟
ڈارون پرست ارتقائی سائنسدانوں کی وضاحتیں کتنی قابلِ بھروسہ ہیں اس پہ آپ خود غوروفکر کر لیں۔
ڈارون پرست گروہ نے غلط بیانی کی، اختلاف کرنے والوں کو فاسل تک رسائی دینے سے انکار کیا، منطقی مغالطے کیے، بغیر کسی تسلی بخش ثبوت کے مکمل طور پہ مفروضاتی کہانی سے ایک نئی سپیشیز ایجاد کر لی اور اخر نکلا کیا!
یہ تو بھلا ہو غیر جانبدار سائنسدانوں کا جنہوں نے ہمت کی اور حقائق سامنے لائے وگرنہ میں اور آپ یہی سمجھتے رہتے کہ ہوموفلورایسئنسیس اسٹرالوپتھکس سے مماثلت رکھنے والی ایک نئی انسانی سپیشیز ہے۔
خوش قسمتی سے اس فاسل کی حقیقت تو سامنے آ گئ لیکن ایسے بہت سے ارتقائی فاسلز، مفروضہ اور قیاسات بلا شبہ موجود ہیں جن کی حقیقت آج تک سامنے نہیں آ سکی۔۔۔!
---------------------------------------------
Written and Researched by
Sohaib Zobair

Comments
Post a Comment