Skip to main content

Posts

Showing posts with the label کاسملوجی/ فلکیات

|US Army and UFO's|

ناقابلِ شناخت اڑتی ہوئی چیزیں جنہیں  (Unidentified Flying Objects UFO's) بھی کہا جاتا ہے ایک ایسا مظہر ہے جس میں کچھ عجیب ہیئت کی چیزیں اڑتی ہوئی نظر آتی ہیں۔ ان کی شکل گول روشنی کے دائروں سے لے کر دھات کے بنے کیوب جیسی ہو سکتیں ہیں۔ ان سب میں ایک خاصیت ضرور موجود ہوتی ہے۔ ان کے اڑنے کا انداز، تیز رفتاری اور دائیں بائیں مڑنے کا طریقہ کسی بھی انسانی ٹیکنالوجی سے مماثلت نہیں رکھتا۔ لہذا ان کو ناقابلِ شناخت اڑتی چیزوں کا نام دیا گیا ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ ufo موجود ہیں سوال یہ ہے کہ ufo کیا ہیں؟ ان کو دیکھنے کی شہادتیں اور ویڈیوز نہ صرف عام لوگوں سے موصول ہوتی ہیں بلکہ امریکی فوج کے ٹرینڈ پائلٹس تک ان کو دیکھنے اور ان سے آمنا سامنا ہونے کے متعدد واقعات کو رپورٹ کر چکے ہیں۔ مثال کے طور پہ 2014 سے 2015 کے دوران امریکی بحری بیڑے Theodore Roosevelt کو ان ufo  سے سامنا کرنا پڑا۔ اس بحری بیڑے سے جب امریکی پائلٹس پرواز کے لئے نکلتے تو ان کے ریڈار، انفراریڈ کیمرہ اور دیگر آلات ان عجیب غریب اڑتی ہوئی چیزوں کی موجودگی کو کنفرم کرتے۔ ایسے واقعات کئ مہینے تک چلتے رہے۔ 6 امریکی پائلٹس...

|Earth is NOT Flat|

یہ دو منٹ کی وڈیو ایک خلا باز نے سپیس سٹیشن کی مرمت کے دوران بنائی ہے۔  زمین کو بغور دیکھیں اور عقل کا استعمال کریں تو معلوم پڑتا ہے کہ زمین گول ہے نہ کہ فلیٹ ہے۔ زمین کا گول ہونا آنکھوں دیکھا مشاہدہ ہے اور اس کا مشاہدہ ہزاروں لاکھوں انسان کر چکے ہیں اور یہ مشاہدہ روزانہ کی بنیادوں پہ آج بھی جاری ہے۔ یہ ماضی کی قیاس آرائیوں پہ مبنی کوئی مفروضہ نہیں۔ https://youtu.be/mMZtpMSmqoE یہ ایک اور ویڈیو ہے اس میں سیٹلائٹ گول زمین کے گرد چکر لگا رہی ہے۔ یہ ایک ویڈیو ریکارڈر سے ڈائریکٹ زمین کی ویڈیو بنائی گئی ہے بلکل ویسے ہی جیسے آپ موبائل سے اپنی وڈیو بناتے ہیں۔ https://youtu.be/n4IhCSMkADc  ایک اور ویڈیو ہے یہ وڈیو ریکارڈر سے ڈائریکٹ گول زمین کی بنی ہوئی وڈیو ہے نہ کہ مصنوعی گرافِکس۔ https://youtu.be/Xjs6fnpPWy4 زمین گول ہے اور یہی حقیقت اور مشاہدہ ہے۔ فلیٹ ارتھ ایک لغو اور فضول سوچ کا نام ہے۔ -------------------------------------------- Sohaib Zobair

جب سورج مغرب سے طلوع ہو گا !

|Sunrise From West A Scientific Reply to Pseudo-Intellectuals| ہمیشہ کی طرح سائنس کے نام پہ اسلام کی تحقیر اور تضحیک کا سلسلہ جاری ہے۔ سائنس کے نام پہ بنائے گئے گروپس میں اسلام سے متعلقہ پوسٹس اپرو کی جاتیں ہیں لیکن ان پوسٹس پہ اسلام کا زکر کرنے پہ بلاک یا میوٹ کر دیا جاتا ہے۔ یہ ایک عجیب منافقانہ اور جاہلانہ پالیسی سامنے آئی ہے۔ ایک تو اسلام اور سائنس کو علیحدہ قرار دینے کی غلط پالیسی رائج ہے پھر یہ کہ اسلام اور سائنس سے متعلقہ پوسٹس بھی بار بار اپرو کی جاتیں ہیں  اور اسلامی پہلو سے بات کرنا بھی گروپ پالیسی کے خلاف ہے۔ آخر اس کا مقصد کیا ہے؟ مقصد صرف ایک ہی معلوم ہوتا ہے، فساد پھیلانا۔ پھر سائنس کے نام پہ انتظامیہ کی جانب سے ایسے بے ہنگم دعوی جات کیے جاتے ہیں کہ سائنس کا سر شرم سے جھک جائے۔ حال ہی میں سورج کے مغرب سے طلوع ہونے کا سوال ایک گروپ میں اپرو کیا گیا۔ ظاہری بات ہے یہ متعدد صحیح احادیث میں بیان کردہ حقیقت ہے جس سے ہر مسلمان واقف ہے۔ اس پوسٹ کا تسلی بخش جواب تبھی ممکن تھا جب کسی گروپ میں اسلام اور سائنس کو متعدل اور متوازن انداز میں گفتگو کا حصہ بنایا جائے پوسٹ کرنے و...

آسمان کا وجود

#کیا_اسمان_کا_وجود_نہیں_ہے ؟ |The existence of sky| تحریر وتحقیق : سید اکبر حسن شاہ جیلانی آجکل اکثر لوگوں سے سننے کو ملتا ہے کہ ساینس میں آسمان نام کی کوئ چیز نہیں ہے ساینس کو ایسی کوی چیز نہیں ملی جس کو آسمان کہا جائے  ۔ ساینس آسمان کا انکار کرتی ہے وغیرہ وغیرہ دعوے سننے کو مل رہے ہے لیکن کیا واقعی ساینس نے آسمان کا انکار کیا ہے آئیے دیکھتے ہے ۔ سب سے پہلے تو یہ جاننا چاہیے کہ ساینس ڈائرکٹ کسی چیز کا انکار نہیں کرتی بلکہ ساینس جس چیز کے بارے میں عدم علم رکھتا ہو اس کے بارے میں انکار کا دعوی ساینس نے کبھی نہیں کیا بجز الحادی فلسفے کے یہ الحادی بیانیہ ہے کہ ساینس آسمان کو نہیں مانتی بلکہ آسمان کے بارے میں موجودہ ساینس یہ دعوی کر سکتی ہے کہ ہمیں نہیں معلوم کہ ایسی کؤی چیز موجود ہے یا نہیں مطلب ممکن ہے کوئ ٹھوس آسمان ہو ممکن ہے نہ ہو ۔ ساینس کا یہ دعوی مبنی بر انصاف بھی ہے اور اس دعوے سے آسمان کا انکار بھی نہیں ہوسکتا بلکہ امکان کا وجوب آجاتا ہے کہ وجود بھی ممکن ہے اور عدم وجود بھی ۔ مثال کے طور پر کاینات میں ہماری نظام شمسی سے ایک کروڑ نوری سال کے فاصلے پہ کونسے اجرام فلکی ہ...

سورج کی گردش

#سورج_کی_گردش | Dose Sun Rotate and Revolve ? | تحریر و تحقیق : حسن جیلانی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اللہ تعالی کی تخلیقات پہ غور کیا جایے تو آپ کو کوئ بھی جسم سکون میں نظر نہیں آئے گی کاینات کا ذرہ ذرہ ہر آن متغیر اور رو بہ سفر ہے ۔ بقول علامہ اقبالؒ "ثُبات اک تغیُر کو ہے زمانے میں" قدیم زمانے (یعنی یونانی دور  سے لیکر گلیلو اور کوپرنیکس تک)  میں سورج کے بارے میں مُختلف نظریات موجود تھے ۔ کوئ زمین کو سنٹر جبکہ سورج کو اس کے گرد محو گردش مانتا تھا ، کوئ سورج کو ساکن اور زمین کو اس کے گرد محو سفر مانتا تھا ۔ جبکہ کوئ تمام نظر آنے والے اجرام سماوی کو فلیٹ مانتے تھے ۔ لیکن ساینس چُونکہ آگے بڑھنے اور ترقی کرنے کا نام ہے اس لیے آج ہم موجودہ دور کے کایناتی نظریے پہ غور کرتے ہیں ۔ نظام شمسی میں سب سے بڑی جسامت رکھنے والا "جلتا ہوا ستارہ " ہر وقت حرکت رہتا ہے ۔ لیکن اس کی رفتار زمین کی رفتار سے قدرے کم ہے ۔ زمین اپنی ایک محوری چکر چوبیس ۲۴ گھنٹوں میں مکمل کر لیتا ہے لیکن سُورج چونکہ زمین کی طرح ٹھوس جسامت ...