Skip to main content

آسمان کا وجود

#کیا_اسمان_کا_وجود_نہیں_ہے ؟

|The existence of sky|

تحریر وتحقیق : سید اکبر حسن شاہ جیلانی

آجکل اکثر لوگوں سے سننے کو ملتا ہے کہ ساینس میں آسمان نام کی کوئ چیز نہیں ہے ساینس کو ایسی کوی چیز نہیں ملی جس کو آسمان کہا جائے  ۔ ساینس آسمان کا انکار کرتی ہے وغیرہ وغیرہ دعوے سننے کو مل رہے ہے لیکن کیا واقعی ساینس نے آسمان کا انکار کیا ہے آئیے دیکھتے ہے ۔

سب سے پہلے تو یہ جاننا چاہیے کہ ساینس ڈائرکٹ کسی چیز کا انکار نہیں کرتی بلکہ ساینس جس چیز کے بارے میں عدم علم رکھتا ہو اس کے بارے میں انکار کا دعوی ساینس نے کبھی نہیں کیا بجز الحادی فلسفے کے یہ الحادی بیانیہ ہے کہ ساینس آسمان کو نہیں مانتی بلکہ آسمان کے بارے میں موجودہ ساینس یہ دعوی کر سکتی ہے کہ ہمیں نہیں معلوم کہ ایسی کؤی چیز موجود ہے یا نہیں مطلب ممکن ہے کوئ ٹھوس آسمان ہو ممکن ہے نہ ہو ۔ ساینس کا یہ دعوی مبنی بر انصاف بھی ہے اور اس دعوے سے آسمان کا انکار بھی نہیں ہوسکتا بلکہ امکان کا وجوب آجاتا ہے کہ وجود بھی ممکن ہے اور عدم وجود بھی ۔ مثال کے طور پر کاینات میں ہماری نظام شمسی سے ایک کروڑ نوری سال کے فاصلے پہ کونسے اجرام فلکی ہے ؟ کون سے نظام ہے ؟ کون سی کہکشاں ہے ؟ ساینس کے پاس فلحال ان سوالوں کا جواب موجود نہیں اب ساینس اس بارے میں کیا دعوے کرے گا کہ ایک کروڑ نوری سال کے فاصلے پہ کچھ بھی نہیں ہے ؟ نہیں ہر گز نہیں بلکہ ساینس یہ کہے گی کہ ہمیں فلحال اس کے بارے میں علم نہیں اس لیے ہم نہ تو اس چیز کا انکار کرسکتے ہے اور نہ اقرار کہ ایک کروڑ نوری سال کے فاصلے پہ کیا کیا ہوگا ۔ دوسری مثال جراثیم کی لیتے ہے آج سے تین چار سو سال پہلے جراثیم کا وجود معلوم نہیں تھا تو کیا ساینس نے یہ دعوی کیا تھا کہ جراثیم نہیں ہے ؟ نہیں بلکل بھی نہیں بلکہ ساینس اس وقت صرف یہ کہ سکتا تھا کہ ہمیں معلوم نہیں کہ مایکروسکوپک جانداروں کا وجود  ہے کہ نہیں ممکن ہے موجود ہو ممکن ہے نہ ہو ہم اس بارے میں خاموش ہے ۔ یہ مبنی برانصاف رویہ ہے کیونکہ ساینس جستجو اور تحقیق کا نام ہے ساینس کو کوئ چیز نہیں ملتی تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ وہ موجود نہ ہو بلکہ ساینس اپنی لاعلمی کا اظہار کرے گی ۔ اور فقط یہ بات کرے گی کہ ممکن ہو ہمیں ایسی کوئ چیز مل جائے اور یہ بھی ممکن ہے کہ ایسی کوئ چیز نہ ہو ۔

#آسمان_ہے_کیا ؟

آسمان اصل میں ہر اس چیز کو کہاں جاتا ہے جو ہمارے حساب سے ہمارے سروں کے اوپر ہو اگر ہم زمین پہ کھڑے ہونگے تو زمین سے اوپر ارد گرد جتنی بھی باڈزیز ہونگے وہ آسمان یا آسمان میں تصور کئے جائے گے ۔ اگر ہم اپنی کہکشاں سے باہر کسی ستارے پہ کھڑے ہو جائے تو ہمارے حساب سے وہ ستارہ ہمارے لیے زمین اور اس سے اوپر آسمان تصور کیا جائے گا اگر ہم مریخ پہ کھڑے ہو جایے تو ہماری زمین بھی اس حساب سے آسمان مین تصور کی جائے گی ۔ قران ہمیں وہ بات کہے گی جس کو ہمیں روزمرہ کے طور پر اور عمومی حالات میں مشاہدہ ہو اس لیے زمین کے حساب سے سورج چاند ستارے آسمان میں ہے ۔
دوسری توجیح ہم یہ کر سکتے ہے کہ چلو مان لیا کہ آسمان ایک ٹھوس وجود ہے لیکن ساینس کو ایسی کوئ ٹھوس وجود نہیں ملی لیکن یہ بلکل ممکن ہے کہ کاینات کے احتتام یعنی کناروں پہ ایسا وجود موجود ہو جس کو ہم ٹھوس آسمان تصور کر لے لیکن اس کے بارے میں فلحال نہیں جانتے اور ساینس بھی خاموش ہے ۔ جدید ساینس تو اب کاینات کی شکل کے بارے میں بھی باتیں کرتی ہے اورمنطقی اعتبار سے جس چیز کی شکل ہوتی ہے اس کے اطراف ضرور موجود ہوتے ہے جس کو مکان یا سپیس کہا جاتا ہے جب اطراف موجود ہے تو لازمی طور پر کنارے بھی ہونگے اور جب کنارے ثابت ہوے تو اس کا مطلب کہ کاینات کا آخری کنارہ ہی آسمان تصور کیا جائے گا ۔
کاینات کی تین ممکنہ شکلیں ہو سکتی ہے
1. فلیٹ flate
2.مثبت کروو positively curve
3. منفی کروو negatively cirve
باقی تفصیل آپ دیے گئے پیپر میں ملاحظہ کر سکتے ہے ۔
There are three main flavors that scientists consider: positively-curved, negatively-curved, and flat. We know it exists in at least four dimensions۔
A negatively-curved Universe would look like a four-dimensional saddle
A positively-curved Universe would look somewhat like a four-dimensional sphere.

https://www.universetoday.com/120157/what-shape-is-the-universe/

اس  طرح ساینسدان کاینات کی جیومیٹری کی بات کرتا ہے جس میں لوکل جیومیٹری اور گلوبل جیومیٹری شامل ہے ۔ یہ جیومیٹری دو حصوں میں تقسیم ہے ۔ اس مین لوکل جیومیٹری قابل مشاہدہ کاینات کے متعلق ہے جبکہ گلوبل جیومیٹری تمام کاینات پہ مشتمل ہے ۔ جس میں وہ حصہ بھی شامل ہے جو قابل پیمائش نہیں ہے
اگر ہم کاینات کی شکل کو معلوم کرنا چاہتے ہے تو پہلے اس کاینات میں موجود مادے کی اوسط کثافت کو معلوم کرنا ہے ۔ ہم یہ دیکھے گے کہ تمام مادہ بانٹا اور تقسیم کیا گیا ہے ۔

Considerations of the geometry of the universe can be split into two parts; the local geometry relates to the observable universe, while the global geometry relates to the universe as a whole - including that which we can't measure

https://www.sciencedaily.com/terms/shape_of_the_universe.htm

خلاصہ یہ کہ اگر آسمان کو کاینات کے کناروں پہ فرض کیا جائے جو کاینات کی شکل کی صورت میں بن سکتی ہے تو ساینس فلحال اس کے بارے میں خاموشی اختیار کرے گی کہ وہ کیسی ہے۔ اور اگر ہر اونچی چیز کو آسمان میں تصور کیا جائے مطلب اوپری خلا جس میں تمام اجرام سماوی موجود ہے تو ساینس نے تو اس خلا اور اجرام سماوی کے مکانات کو دریافت کر لیا ہے جس کو ہم آسمان کہ سکتے ہے ۔ مطلب سورج چاند تارے وغیرہ جس خلا میں ہے وہی آسمان ہے اس لیے یہ کہنا کہ ساینس میں اسی کوئ چیز نہیں صرف نادانی ہے اور آسمان کے کنسپٹ سے لاعلمی کے بنیاد پہ ہے ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔  ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔
Researched by : Akbar hassan shah

Comments

Popular posts from this blog

کیا سائنسدانوں نے مصنوعی خلیہ بنا لیا ؟

کیا سائنس دانوں نے مصنوعی خلیہ بنا لیا؟ تحریر: ڈاکٹر نثار احمد پچھلے کچھ دنوں سے کچھ فورمز پر یہ بحث چھڑی ہوئی ہے کہ کچھ حیاتیات دانوں نے تجربہ گاہ میں مصنوعی خلیے تیار کر لئے ہیں۔ تفصیلات اس لنک میں۔ https://www.sciencemag.org/news/2018/11/biologists-create-most-lifelike-artificial-cells-yet اس تمام بحث سے پہلے آپ کو یہ جاننا ہوگا کہ خلیہ دراصل ہوتا کیا ہے۔ خلیے کی تعریف ہم یوں کرسکتے ہیں کہ یہ زندگی کی ساختی اور فعلیاتی اکائی ہے۔ ایک خلیے کے اندر سینکڑوں مختلف عضویے ہوتے ہیں جو مل جل کر فیکٹری کی طرح کام کرتے ہیں۔ اس کے علاوہ متعدد اینزائمز بھی موجود ہوتے ہیں جو کیمیائی تعاملات میں عمل انگیز کے طور پر کام کرتے ہیں۔ اس کے علاوہ یہ خلیہ تقسیم در تقسیم ہو کر اپنے جیسے مزید خلیے بنا سکتا ہے۔ کچھ جاندار ایسے بھی پائے جاتے ہیں جو صرف ایک خلیے پر مشتمل ہوتے ہیں۔ انہیں ہم یک خلوی جاندار بھی کہتے ہیں۔ اوپر دئیے گئے آرٹیکل میں جو کہ سائنس جریدے میں پبلش ہوا کوئی بہت زیادہ نیا کارنامہ نہیں کیا گیا۔ اس پیپر میں بتایا گیا کہ کہ تجربہ گاہ میں کچھ خلیوں سے ملتی جلتی ساختیں بنائی گئیں جن م...

سانڈے کا تیل میڈیکل سائنس کی نظر میں !

سانڈے کا تیل میڈیکل سائنس کی نظر میں ! جنسی و نفسیاتی بیماریاں اور جانوروں کا قتل عام ۔۔۔! (18+ تحریر) __________________ تحقیق و تحریر : حسن خلیل چیمہ ______________________________________________ نوٹ : ( یہ تحریر عوامی آگاہی اور معصوم جانوروں کے بے جا قتل عام کو روکنے کے لئے اور عوام تک جدید میڈیکل سائنس کی رخ سے درست معلومات پہنچانے کی ایک کوشش ہے سانڈے کے تیل کے بارے میں اپنی رائے اور تجربے کو ایک طرف رکھ کہ اس تحریر کا مکمل مطالعہ کرنے کے بعد ہی اختلاف کریں شکریہ ) (خواتین اس تحریر کو پڑھنے سے اجتناب کریں ) ہمیشہ سے یہ دیکھ کر دکھ ہوتا ہے کہ جہاں دنیا سائنس و ٹیکنالوجی میں ترقی کرتی جا رہی ہے وہی ہم پاکستانی آج بھی اسی زمانہ قدیم میں جی رہیں ہیں جس میں انسانی سائنسی انقلاب سے پہلے ہمارے اجداد نے زندگی  گزاری  آج بھی ہم اسی طریقہ کار پر چل رہیں ہیں جہاں بیمار ہونے پر  اندازے سے دوا دینے والا کوئی حکیم ہوتا تھا جو مختلف جڑی بوٹیوں کو ملا کر کوئی ایسی دوا دے دیتا تھا جو وقتی طور ریلیف فراہم کرتی تھی کیونکہ ان وقتوں میں لوگوں کی خوارک میں زیادہ ملاوٹ نہ تھ...

قرآن اور سرن لیبارٹری

سورة انبیاء کی آیت نمبر 30 اور سرن لیبارٹری ۔۔۔!!! ____________________ سورۃ الانبیاء آیت نمبر 30 میں ربِ کائنات فرماتا ہے کہ اَوَلَمۡ يَرَ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡۤا اَنَّ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضَ كَانَتَا رَتۡقًا فَفَتَقۡنٰهُمَا‌ؕ وَجَعَلۡنَا مِنَ الۡمَآءِ كُلَّ شَىۡءٍ حَىٍّ‌ؕ اَفَلَا يُؤۡمِنُوۡنَ‏ ﴿۳۰﴾ کیا کافروں نے نہیں دیکھا کہ آسمان اور زمین دونوں ملے ہوئے تھے تو ہم نے جدا جدا کردیا۔ اور تمام جاندار چیزیں ہم نے پانی سے بنائیں۔ پھر یہ لوگ ایمان کیوں نہیں لاتے؟  ﴿۳۰﴾ معزز قارئین علماء کے نزدیک یہ آیت بگ بینگ سے متعلق ہے کہ ایک عظیم الشان دھماکہ ہوا جس سے اربوں میل دور تک دھواں پھیل گیا پھر اس دھوئیں میں سے  ٹھوس اجسام ستارے ،سیارے اور کومینٹس وغیرہ بننے کا عمل شروع ہوا ایک اور جگہ  ارشاد ہے کہ ثُمَّ اسۡتَوٰىۤ اِلَى السَّمَآءِ وَهِىَ دُخَانٌ فَقَالَ لَهَا وَلِلۡاَرۡضِ ائۡتِيَا طَوۡعًا اَوۡ كَرۡهًاؕ قَالَتَاۤ اَتَيۡنَا طَآٮِٕعِيۡنَ‏ ﴿۱۱﴾ پھر آسمان کی طرف متوجہ ہوا اور وہ دھواں تھا تو اس نے اس سے اور زمین سے فرمایا کہ دونوں آؤ (خواہ) خوشی سے خواہ ناخوشی سے۔ انہوں...