سانڈے کا تیل میڈیکل سائنس کی نظر میں !
جنسی و نفسیاتی بیماریاں اور جانوروں کا قتل عام ۔۔۔!
(18+ تحریر)
__________________
تحقیق و تحریر : حسن خلیل چیمہ
______________________________________________
نوٹ : ( یہ تحریر عوامی آگاہی اور معصوم جانوروں کے بے جا قتل عام کو روکنے کے لئے اور عوام تک جدید میڈیکل سائنس کی رخ سے درست معلومات پہنچانے کی ایک کوشش ہے سانڈے کے تیل کے بارے میں اپنی رائے اور تجربے کو ایک طرف رکھ کہ اس تحریر کا مکمل مطالعہ کرنے کے بعد ہی اختلاف کریں
شکریہ )
(خواتین اس تحریر کو پڑھنے سے اجتناب کریں )
ہمیشہ سے یہ دیکھ کر دکھ ہوتا ہے کہ جہاں دنیا سائنس و ٹیکنالوجی میں ترقی کرتی جا رہی ہے وہی ہم پاکستانی آج بھی اسی زمانہ قدیم میں جی رہیں ہیں جس میں انسانی سائنسی انقلاب سے پہلے ہمارے اجداد نے زندگی گزاری آج بھی ہم اسی طریقہ کار پر چل رہیں ہیں جہاں بیمار ہونے پر اندازے سے دوا دینے والا کوئی حکیم ہوتا تھا جو مختلف جڑی بوٹیوں کو ملا کر کوئی ایسی دوا دے دیتا تھا جو وقتی طور ریلیف فراہم کرتی تھی کیونکہ ان وقتوں میں لوگوں کی خوارک میں زیادہ ملاوٹ نہ تھی تو ان کا امیون سسٹم انتا طاقتور ہوتا تھا کہ وہ چھوٹی موٹی دوا سے بھی بیماری کو کنٹرول کر لیتا تھا پھر تعویز دھاگے کا زمانہ گزرا اور اس کے بعد زمانہ آیا ایلو پیتھی کا جہاں لوگوں نے سر درد کی ایک دوا گھر پر رکھی ہوتی تھی اور خود ہی ڈاکٹر بنے پھرتے تھے اور جب کبھی کوئی بیمار ہوتا تو بنا اس کی بیماری کی وجہ جانے اس کو اسپرین یا پونسٹان کی گولیاں کھلاتے رہتے بے شک مریض کو کینسر کا مرض لاحق ہو ۔
یہ سب لوگوں کے کم تعلیم یافتہ ہونے اور کسی بیماری کو سائنسی طور پر نہ سمجھنے کی وجہ سے تھا اور تب ڈاکٹر بھی وہ شحض مانا جاتا تھا جو کسی علاقے کے مشہور ڈاکٹر کے پاس کمپوٹر رہا ہو (عطائی ڈاکٹر ) اور یا کسی سرکاری ہسپتال کا ملازم ہو اور ڈیوٹی کرنے کے بعد وہی سارے پنڈ یا گاؤں کے مریضوں کا معائنہ کرتا تھا۔
پھر دور آیا ایم بی بی ایس ڈاکٹرز کا جو کہ کمپوٹرز سے کچھ زیادہ ہوتے تھے جن کے وجود کو کسی گاؤں کے لئے ایک نعمت سے کم نہیں سمجھا جاتا تھا اس کے بعد سپیشلسٹ اور اب میڈیکل سائنس اس قدر ترقی کر چکی ہے کہ کسی ایک آرگن یا اعضاء کے بھی مختلف سپشلیسٹس ہوتے ہیں
لیکن ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔!
یہ تو تھی میڈیکل سائنس میں ترقی اور انقلاب کی کہانی اس کہانی میں ہم ابھی تک کہاں ہیں آپ نے کبھی سوچا ؟
اگر میں غلط نہیں ہوں تو ہم آج بھی ہم دور جہالت میں ہیں جہاں بیماریوں کا علاج پیروں فقیروں کے تعویذ ، حکیموں کے نسخے ، گھر میں پڑی اسپرین یا پھر جس کے پاس چند پیسے ہیں وہ جاتے ہیں کمپوٹرز کے پاس جو چند پیسے فیس لے کر آپ کو تین چار بار دوائی دیتے ہیں اس کے بعد آپ کو شفاء نصیب ہوتی ہے !
اور چند ہی لوگ ہیں جو سپشلیسٹس کے پاس سے بیماری کا چیک اپ کرواتے ہیں وہ بھی تب جب مریض آخری سٹیج پر ہوتا ہے مطلب قریب قریب مرنے والا ہوتا ہے سوائے چند بڑے شہروں کے اور سرکاری ہسپتالوں کے کوئی کہیں بھی اچھے علاج کی سہولیات میسر نہیں اور اگر ہیں بھی تو ہم ایسے ہسپتالوں کا رخ ہی نہیں کرتے ۔
یہ ساری بات کرنے کا مقصد یہ بتانا تھا کہ میڈیکل سائنس جس طرح دن رات ترقی کر رہی اس ترقی سے ہم کتنا فایدہ اٹھا رہے ہیں اور ہمارا طریقہ علاج کیا ہے ۔
یہ تو تھا ہماری میڈیکل سائنس سے متعلق سمجھ بوجھ کا حال اب بات کرتے ہیں اپنے آج کے اصلی موضوع پر !
ابھی کل ہی میں بازار سے گزر رہا تھا تو بیچ بازار میں ایک پنسار سٹور کے سامنے ایک گندہ بھدا شخص ہاتھ میں چند زندہ سپینی ٹیلیڈ لیزرٹ جنھیں پنجابی میں سانڈا کہا جاتا ہے لئے کھڑا تھا اور تھوڑی دیر بعد اس نے آگ جلائی اور دونوں چھپکلیوں کا بے رحمی سے گلا کاٹا اور انھیں تڑپتا ہوا اس آگ پر چڑھا دیا ۔ کیا ہم انسانوں کے اندر سے انسانیت مر چکی ہے کہ ہم کسی جاندار پر اس حد تک ظلم کرتے ہیں ؟ اس کے بعد اس نے اس میں سے نکلے تیل کی دو چار چھوٹی شیشیاں بھری اور نکلتا بنا لیکن اس کے جانے کے بعد بھی وہ چھپکلیاں ابھی پوری طرح سے مری نہیں تھیں بلکہ تڑپ رہی تھیں ۔ کچھ تو ان کی ریڑھ کی ہڈی توڑ دیتے ہیں ۔
اب سوال یہ ہے کہ ان جانداروں کو یوں بے رحمی سے قتل کرنے سے ہم انسانوں کو کیا فایدہ ملتا ؟
ان سے حاصل ہونے والے تیل کے میڈیکل سائنس کی نظر میں کیا فائدے ہیں ؟
اور کیا واقع ہی میں سانڈے کا تیل کوئی خاص قسم کی شہ ہے جس سے مردانہ طاقت بڑھتی ہے ؟
کیا جنسی بیماریاں جسمانی ہوتی ہیں ؟
آج ہم ان سب سوالوں کے جواب جانے گے اپنی اس تحریر میں تو چلئے شروع کرتے ہیں !
_________________________________
سب سے پہلے بات کرتے ہیں فائدے :
کیونکہ یہ میڈیکل سائنس کا دور ہے تو میڈیکل سائنس کے نزدیک سانڈے کا تعلق ریپٹیلنز یا رینگنے والے جانور سے ہے جن سے ہمیں Omega 3 یا monounsaturated fat یا پھر healthy fats کافی زیادہ مقدار میں ملتے ہیں تاہم رینگنے والے جانوروں میں سے ہم مسلمان کسی جاندار کو نہیں کھاتے اس کے بدلے ہم مچھلی سے وہ سب فیٹس حاصل کر سکتے ہیں جو ہمیں سانڈے سے ملتے ہیں اور ان فیٹس کا مردانہ طاقت سے کوئی تعلق نہیں کیونکہ مردانہ طاقت Omega 6 سے بڑھتی ہے جو کہ saturated fat کہلاتا ہے اور مردانہ جنسی ہارمون ٹیسٹاسٹیرون کو پیدا کرنے میں مدد فراہم کرتا ہے ۔ رہی بات مالش کی تو مالش سے مراد کسی مسل کی سٹریچنگ کرنے کو کہتے ہیں جس سے مسل بڑھتا تو نہیں لیکن بہتر محسوس ہوتا ہے اور مالش بھی ان پٹھوں کی کی جاتی ہے جنھیں ہم روزانہ بھاری بھرکم وزن اٹھانے کے لئے استعمال کرتے ہیں یا پھر ذہنی تنائو کم کرنے کے لئے مالش کی جاتی ہے ۔ یہ ثابت شدہ بات ہے کہ جسم کے کسی مسل کو لمبا نہیں کیا جا سکتا بلکہ مسلز موٹے ہوتے ہیں اور وہ بھی اچھی خاصی ورزش اور اچھی خوراک کے دم پر کبھی کسی نے مالش کر کے مسلز نہیں بڑھائے ورنہ لوگ جم جانے کی بجائے ماشیوں کے پاس جاتے اور اپنا وزن کم کرتے ۔
یہ رپورٹ پڑھ لیں اور سمجھ لیں کے میڈیکل سائنس کے نزدیک اس کی کیا حیثیت ہے 👇
https://www.aa.com.tr/en/pg/photo-gallery/man-sells-lizard-oil
___________________________________
اب بات کرتے ہیں تیل کی !
تو بات تیل کی ہو دنیا میں صرف دو طرح کے فیٹس پائے جاتے ہیں جنھیں عام زبان میں اچھا کلیسٹرول اور برا کلیسٹرول کہا جاتا ہے ۔ کھانے پکانے والی کمپنیاں انھیں Omega 3 اور Omega 6 کہتی ہیں ۔ اور میڈیکل میں ان کو healthy fats ,bad fats , saturated fat , unsaturated fats , monounsaturated fat , poly saturated fats اور مشہور زمانہ نام good calestrol اور bad calestrol کہا جاتا ہے ۔
یہ دو فیٹس ہی ہر جاندار کے اندر پائے جاتے ہیں پھر وہ انسان ہو یا جانور ، پودا ہو یا ریپٹیلین سب میں سیچوریٹڈ اور انسیچوریٹڈ فیٹ ہی ہوتا ہے !
ان فیٹس کا مختلف جانداروں میں مختلف اور ان سے حاصل ہونے والی اشیاء میں بھی مختلف ہوتا ہے جیسا کہ ڈیری میں اچھے اور برے کلیسٹرول کی شرح تقریباً 3:1 کی ہوتی ہے مطلب تین گنا برا فیٹ اور ایک گنا اچھا ۔
مثال کے طور پر آپ دیسی گھی کا ایک چمچہ لیتے ہو تو وہاں آپ کو 15 گرام فیٹ ملے گی جس میں قریب 3 گرام اچھا اور 12 گرام برا فیٹ ہو گا ۔ لیکن دیسی گھی میں اور بھی بہت سے اگریڈینٹس ہوتے ہیں اس لئے یہ اتنا فیٹ ہونے کے باوجود بھی صحت بخش ہوتا ہے جس پر میں تفصیل سے لکھ چکا ہوں !
اس طرح انڈے اور گوشت میں بھی اس کی شرح یہی رہتی ہے لیکن پودوں میں اس کی الٹ ہوتا ہے یہاں اچھا کلیسٹرول زیادہ ہوتا ہے اور برا بہت ہی کم ۔
مچھلی میں بھی Omega 3 بہت بڑی مقدار میں پایا جاتا ہے !
بات کی جائے سانڈے کی تو اس میں اومیگا 3 کافی مقدار میں پایا جاتا ہے اور ایک صحت مند سانڈے سے قریب 15 چمچ تک تیل نکلتا ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ عرب ممالک میں اس کو بہت شوق سے کھایا جاتا ہے کیونکہ وہ لوگ جانتے ہیں کہ اس کا اثر لگانے سے نہیں بلکہ کھانے سے ہو گا اور عربی زیتون کا استعمال بھی ایسی لئے زیادہ کرتے ہیں کیونکہ وہ تقریباً 85 فیصد اومیگا 3 پر مشتمل ہوتا ہے جو کہ دل کی شریانوں کو کھولتا اور جسم میں خون کی گردش کو تیز کرتا ہے جس سے جنسی طور پر انسان مضبوط ہوتا چلا جاتا ہے لیکن ہمارے یہاں پاکستان میں حکیم ان سب چیزوں کے زیادہ استعمال سے منع کرتے نظر آتے ہیں کیونکہ ان کے نزدیک یہ گرم چیز ہوتی ہے 😂 جبکہ ہمارے جسم کے لئے کوئی گرم سرد نہیں ہوتا اسے بس کام کرنے کے لئے اچھی غذا چاہیے جیسے ایک مشین کو پیٹرول چاہیے ہوتا ہے اور اس کے ساتھ موبل آئل وغیرہ جو کہ اس کی ضرورت کی چیز ہے ناکہ ٹھنڈی گرم !
بات کرنے کا مقصد یہ تھا کہ اچھی خوراک اور معلومات سے ہی آپ کو معلوم پڑھ سکتا ہے کہ آپ جس چیز کا کیوں استعمال کر رہے ہو اور اس کا کیا فایدہ ہے ۔ اور میڈیکل سائنس نے آج ہمیں یہ بات بتا دی ہے !
___________________________
تیسرا سوال تھا کہ کیا واقع ہی میں سانڈے کا تیل کوئی خاص چیز ہے تو اس کا جواب ہے نہیں بلکہ یہ امیگا 3 فیٹی ایسڈ ہوتے ہیں جو خون کی نالیوں کو کھلا کرتے ہیں جس سے جسم کے مخصوص عضو تک خون اچھے سے پہنچاتا ہے اور خون کی گردش بہتر ہونے سے انسانی جنسی طاقت بڑھ جاتی ہے اور اچھا تناؤ ملتا ہے ۔ یہ فائدے اسے کھانے سے ہی مل سکتے ہیں ناکہ لگانے سے !
اور اگر سانڈے کا تیل اتنا ہی کارگر اور کوئی اہم چیز ہوتی تو بہت سی ملٹی نیشنل کمپنیاں اس پر ریسرچ کرتیں اور مغرب اور میڈیکل سائنس میں اسے قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا ۔ ملکی و غیر ملکی ڈرگ مافیہ اس کی سپلائی ہر کنٹرول حاصل کرتا اور مہنگے داموں بچتا !
لیکن ایسا کچھ بھی نہیں ہے کیونکہ یہ ایک عام سی چیز ہے جو باقی پودوں اور جانوروں خصوصاً مچھلی اور زیتون میں پائی جاتی ہے !
________________________________
ہمارا اگلا سوال تھا
کیا جنسی بیماریاں جسمانی ہوتی ہیں یا پھر ان کا تعلق نفسیات سے ہے ؟
ریسرچ سے یہ بات ثابت شدہ ہے کہ زیادہ تر جنسی بیماریوں کا تعلق نفسیات سے ہوتا ہے ناکہ جسمانی طور پر یہ بیماریاں جنم لیتی ہے اور جسمانی طور پر جنسی بیماریوں کا شکار زیادہ تر زنا کرنے والے اور نشہ کرنے والے افراد ہوتے ہیں ۔
ہمارے معاشرے میں لوگ خصوصاً نوجوان حکیموں کے ہتھے چڑھ جاتے ہیں اور پھر وہ انھیں کبھی مشت زنی اور کبھی پری میچور ایجیکولیشن یا صورت انزال کے نام پر خوب بلیک میل کرتے ہیں ۔
مشت زنی کی بات کی جائے تو یہ ہر کوئی جب جوانی میں قدم رکھتا ہے تو کرتا ہے اس میں کوئی شرمانے والی اور ڈھکی چھپی بات نہیں ۔ اور یہ بات حکیم خضرات بخوبی جانتے ہیں اور یہی ان کا سب سے بڑا ہتھیار ہوتا ہے ۔ وہ نوجوانوں کو طرح طرح سے بلیک میل کرتے اور اپنی دیسی داویاں بیچتے ہیں جبکہ سائنسی طور پر یہ بات ثابت ہو چکی ہے کہ مشت زنی کا کوئی نقصان نہیں ۔ لیکن بے شک اس کا کوئی جنسی نقصان نہیں ہے لیکن میرے نزدیک یہ جسم سے بہت سے ضروری وٹامنز اور منرلز کے نکلنے کی وجہ بنتا ہے تو ایک نقصان دہ عمل ہے اور ہمارا دین بھی اس کی اجازت نہیں دیتا اس لئے یہ ایک بہت برا عمل ہے !
کسی نوجوان کے لئے مشت زنی کے بعد پری میچور ایجیکولیشن یا جلد انزال کی بیماری سب سے بڑا درد سر ہوتی ہے جبکہ یہ کوئی بیماری ہے ہی نہیں بلکہ قریب 90 فیصد سے بھی زائد لوگ جلد انزال یا صورت انزال کا شکار ہوتے ہیں اس لئے اس سے گھبرانے کی کوئی ضرورت نہیں یہ وقت کے ساتھ ساتھ خود بخود ٹھیک ہو جاتی ہے ۔ یہ ایک نفسیاتی بیماری بن سکتی ہے اگر آپ ڈپریشن میں رہتے ہیں تو اس لئے کسی قسم کا دماغی بوجھ نہ لیں اور نہ ہی کوئی دیسی دوائی کھائیں اور نہ تیل لگائیں ۔
اس کے بعد حکیموں کی جو تیسری بیماری ہوتی ہے جس سے وہ نوجوانوں کو ڈرا کر اپنا چورن بیچتے ہیں وہ مشت زنی کی وجہ سے عضو کا ٹیرھا ہو جانا ہے جس کی وجہ بلکل بھی مشت زنی نہیں ہوتا بلکہ ایسا اگر کوئی شخص تناؤ کی حالت میں اپنے عضو کو کہیں زور سے ٹکراتا ہے تو اس صورت میں عضو ٹیڑھا ہو جاتا ہے اور ہمیشہ ٹیڑھا کی رہتا ہے !
اس کے بعد آتی ہے اریکٹائل ڈسفنگشن کی بیماری جو کہ ایک نارمل چیز ہے اور ہر مرد کو زندگی میں کبھی نہ کبھی اس کا سامنا کرنا ہی پڑتا ہے جو کہ بنیادی طور ہر ایک نفسیاتی بیماری ہے لیکن اگر آپ کی عمر زیادہ ہے ، آپ کو کوئی بڑی بیماری ہے تو بھی آپ کو یہ بیماری ہو سکتی ہے
اس کے علاوہ 30 سال کے بعد قدرتی طور پر ٹیسٹاسٹیرون لیول کا گر جانا اور نالیوں میں خون کے بہاؤ کا کم ہو جانا بھی اس کی وجہ بنتا ہے جس کے لئے پھر ڈاکٹرز "ویاگرا " نامی میڈیسن استعمال کرنے کا مشورہ دیتے ہیں
اس کے لئے آپ حکیم کی بجائے کسی جنسی ڈاکٹر کو دیکھائیں جو کہ بیک وقت نفسیات کا ڈاکٹر بھی ہوتا ہے ۔
کیونکہ حکمت اندازوں سے چلتی ہے بلکہ میڈیکل سائنس تجربات و مشاہدات سے نکلا ہوا علم ہے اس لئے بہترین علم کا استعمال کریں اور کوئی شرم نہ کریں اور نہ ہی فضول ادویات استعمال کریں اور پیسہ بہائیں جن کو کوئی فایدہ ہی نہیں
________________
آخر میں پھر کہتا ہوں کہ یہ ظلم بند کرو کسی جان کو اتنی تکلیف مت دو کہ خدا تم پر رحم نہ کرے !
پہلے بھی بول چکا ہوں کہ اگر سانڈے کا تیل کوئی خاص چیز ہوتی تو انٹرنیشنل مارکیٹ میں اس کی بہت قیمت ہوتی اور ڈرگ مافیہ کبھی بھی ایسے کھولے عام بیچنے کی اجازت نہیں دیتا لیکن حقیقت تو یہ ہے کہ یہ ایک صرف زیتون اور مچھلی کی تیل سے بھی کمتر ایک تیل ہے جس کا کوئی سائنسی ثبوت نہیں اور نہ ہی کوئی فایدہ ہے سوائے جانوروں پر ظلم کے اور اپنے وہم کو مٹانے کے !
اسی کے ساتھ میں اپنی بات ختم کرتا ہوں اپنا قیمتی وقت دینے کا شکریہ
اللہ نگہبان 🖤
جنسی و نفسیاتی بیماریاں اور جانوروں کا قتل عام ۔۔۔!
(18+ تحریر)
__________________
تحقیق و تحریر : حسن خلیل چیمہ
______________________________________________
نوٹ : ( یہ تحریر عوامی آگاہی اور معصوم جانوروں کے بے جا قتل عام کو روکنے کے لئے اور عوام تک جدید میڈیکل سائنس کی رخ سے درست معلومات پہنچانے کی ایک کوشش ہے سانڈے کے تیل کے بارے میں اپنی رائے اور تجربے کو ایک طرف رکھ کہ اس تحریر کا مکمل مطالعہ کرنے کے بعد ہی اختلاف کریں
شکریہ )
(خواتین اس تحریر کو پڑھنے سے اجتناب کریں )
ہمیشہ سے یہ دیکھ کر دکھ ہوتا ہے کہ جہاں دنیا سائنس و ٹیکنالوجی میں ترقی کرتی جا رہی ہے وہی ہم پاکستانی آج بھی اسی زمانہ قدیم میں جی رہیں ہیں جس میں انسانی سائنسی انقلاب سے پہلے ہمارے اجداد نے زندگی گزاری آج بھی ہم اسی طریقہ کار پر چل رہیں ہیں جہاں بیمار ہونے پر اندازے سے دوا دینے والا کوئی حکیم ہوتا تھا جو مختلف جڑی بوٹیوں کو ملا کر کوئی ایسی دوا دے دیتا تھا جو وقتی طور ریلیف فراہم کرتی تھی کیونکہ ان وقتوں میں لوگوں کی خوارک میں زیادہ ملاوٹ نہ تھی تو ان کا امیون سسٹم انتا طاقتور ہوتا تھا کہ وہ چھوٹی موٹی دوا سے بھی بیماری کو کنٹرول کر لیتا تھا پھر تعویز دھاگے کا زمانہ گزرا اور اس کے بعد زمانہ آیا ایلو پیتھی کا جہاں لوگوں نے سر درد کی ایک دوا گھر پر رکھی ہوتی تھی اور خود ہی ڈاکٹر بنے پھرتے تھے اور جب کبھی کوئی بیمار ہوتا تو بنا اس کی بیماری کی وجہ جانے اس کو اسپرین یا پونسٹان کی گولیاں کھلاتے رہتے بے شک مریض کو کینسر کا مرض لاحق ہو ۔
یہ سب لوگوں کے کم تعلیم یافتہ ہونے اور کسی بیماری کو سائنسی طور پر نہ سمجھنے کی وجہ سے تھا اور تب ڈاکٹر بھی وہ شحض مانا جاتا تھا جو کسی علاقے کے مشہور ڈاکٹر کے پاس کمپوٹر رہا ہو (عطائی ڈاکٹر ) اور یا کسی سرکاری ہسپتال کا ملازم ہو اور ڈیوٹی کرنے کے بعد وہی سارے پنڈ یا گاؤں کے مریضوں کا معائنہ کرتا تھا۔
پھر دور آیا ایم بی بی ایس ڈاکٹرز کا جو کہ کمپوٹرز سے کچھ زیادہ ہوتے تھے جن کے وجود کو کسی گاؤں کے لئے ایک نعمت سے کم نہیں سمجھا جاتا تھا اس کے بعد سپیشلسٹ اور اب میڈیکل سائنس اس قدر ترقی کر چکی ہے کہ کسی ایک آرگن یا اعضاء کے بھی مختلف سپشلیسٹس ہوتے ہیں
لیکن ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔!
یہ تو تھی میڈیکل سائنس میں ترقی اور انقلاب کی کہانی اس کہانی میں ہم ابھی تک کہاں ہیں آپ نے کبھی سوچا ؟
اگر میں غلط نہیں ہوں تو ہم آج بھی ہم دور جہالت میں ہیں جہاں بیماریوں کا علاج پیروں فقیروں کے تعویذ ، حکیموں کے نسخے ، گھر میں پڑی اسپرین یا پھر جس کے پاس چند پیسے ہیں وہ جاتے ہیں کمپوٹرز کے پاس جو چند پیسے فیس لے کر آپ کو تین چار بار دوائی دیتے ہیں اس کے بعد آپ کو شفاء نصیب ہوتی ہے !
اور چند ہی لوگ ہیں جو سپشلیسٹس کے پاس سے بیماری کا چیک اپ کرواتے ہیں وہ بھی تب جب مریض آخری سٹیج پر ہوتا ہے مطلب قریب قریب مرنے والا ہوتا ہے سوائے چند بڑے شہروں کے اور سرکاری ہسپتالوں کے کوئی کہیں بھی اچھے علاج کی سہولیات میسر نہیں اور اگر ہیں بھی تو ہم ایسے ہسپتالوں کا رخ ہی نہیں کرتے ۔
یہ ساری بات کرنے کا مقصد یہ بتانا تھا کہ میڈیکل سائنس جس طرح دن رات ترقی کر رہی اس ترقی سے ہم کتنا فایدہ اٹھا رہے ہیں اور ہمارا طریقہ علاج کیا ہے ۔
یہ تو تھا ہماری میڈیکل سائنس سے متعلق سمجھ بوجھ کا حال اب بات کرتے ہیں اپنے آج کے اصلی موضوع پر !
ابھی کل ہی میں بازار سے گزر رہا تھا تو بیچ بازار میں ایک پنسار سٹور کے سامنے ایک گندہ بھدا شخص ہاتھ میں چند زندہ سپینی ٹیلیڈ لیزرٹ جنھیں پنجابی میں سانڈا کہا جاتا ہے لئے کھڑا تھا اور تھوڑی دیر بعد اس نے آگ جلائی اور دونوں چھپکلیوں کا بے رحمی سے گلا کاٹا اور انھیں تڑپتا ہوا اس آگ پر چڑھا دیا ۔ کیا ہم انسانوں کے اندر سے انسانیت مر چکی ہے کہ ہم کسی جاندار پر اس حد تک ظلم کرتے ہیں ؟ اس کے بعد اس نے اس میں سے نکلے تیل کی دو چار چھوٹی شیشیاں بھری اور نکلتا بنا لیکن اس کے جانے کے بعد بھی وہ چھپکلیاں ابھی پوری طرح سے مری نہیں تھیں بلکہ تڑپ رہی تھیں ۔ کچھ تو ان کی ریڑھ کی ہڈی توڑ دیتے ہیں ۔
اب سوال یہ ہے کہ ان جانداروں کو یوں بے رحمی سے قتل کرنے سے ہم انسانوں کو کیا فایدہ ملتا ؟
ان سے حاصل ہونے والے تیل کے میڈیکل سائنس کی نظر میں کیا فائدے ہیں ؟
اور کیا واقع ہی میں سانڈے کا تیل کوئی خاص قسم کی شہ ہے جس سے مردانہ طاقت بڑھتی ہے ؟
کیا جنسی بیماریاں جسمانی ہوتی ہیں ؟
آج ہم ان سب سوالوں کے جواب جانے گے اپنی اس تحریر میں تو چلئے شروع کرتے ہیں !
_________________________________
سب سے پہلے بات کرتے ہیں فائدے :
کیونکہ یہ میڈیکل سائنس کا دور ہے تو میڈیکل سائنس کے نزدیک سانڈے کا تعلق ریپٹیلنز یا رینگنے والے جانور سے ہے جن سے ہمیں Omega 3 یا monounsaturated fat یا پھر healthy fats کافی زیادہ مقدار میں ملتے ہیں تاہم رینگنے والے جانوروں میں سے ہم مسلمان کسی جاندار کو نہیں کھاتے اس کے بدلے ہم مچھلی سے وہ سب فیٹس حاصل کر سکتے ہیں جو ہمیں سانڈے سے ملتے ہیں اور ان فیٹس کا مردانہ طاقت سے کوئی تعلق نہیں کیونکہ مردانہ طاقت Omega 6 سے بڑھتی ہے جو کہ saturated fat کہلاتا ہے اور مردانہ جنسی ہارمون ٹیسٹاسٹیرون کو پیدا کرنے میں مدد فراہم کرتا ہے ۔ رہی بات مالش کی تو مالش سے مراد کسی مسل کی سٹریچنگ کرنے کو کہتے ہیں جس سے مسل بڑھتا تو نہیں لیکن بہتر محسوس ہوتا ہے اور مالش بھی ان پٹھوں کی کی جاتی ہے جنھیں ہم روزانہ بھاری بھرکم وزن اٹھانے کے لئے استعمال کرتے ہیں یا پھر ذہنی تنائو کم کرنے کے لئے مالش کی جاتی ہے ۔ یہ ثابت شدہ بات ہے کہ جسم کے کسی مسل کو لمبا نہیں کیا جا سکتا بلکہ مسلز موٹے ہوتے ہیں اور وہ بھی اچھی خاصی ورزش اور اچھی خوراک کے دم پر کبھی کسی نے مالش کر کے مسلز نہیں بڑھائے ورنہ لوگ جم جانے کی بجائے ماشیوں کے پاس جاتے اور اپنا وزن کم کرتے ۔
یہ رپورٹ پڑھ لیں اور سمجھ لیں کے میڈیکل سائنس کے نزدیک اس کی کیا حیثیت ہے 👇
https://www.aa.com.tr/en/pg/photo-gallery/man-sells-lizard-oil
___________________________________
اب بات کرتے ہیں تیل کی !
تو بات تیل کی ہو دنیا میں صرف دو طرح کے فیٹس پائے جاتے ہیں جنھیں عام زبان میں اچھا کلیسٹرول اور برا کلیسٹرول کہا جاتا ہے ۔ کھانے پکانے والی کمپنیاں انھیں Omega 3 اور Omega 6 کہتی ہیں ۔ اور میڈیکل میں ان کو healthy fats ,bad fats , saturated fat , unsaturated fats , monounsaturated fat , poly saturated fats اور مشہور زمانہ نام good calestrol اور bad calestrol کہا جاتا ہے ۔
یہ دو فیٹس ہی ہر جاندار کے اندر پائے جاتے ہیں پھر وہ انسان ہو یا جانور ، پودا ہو یا ریپٹیلین سب میں سیچوریٹڈ اور انسیچوریٹڈ فیٹ ہی ہوتا ہے !
ان فیٹس کا مختلف جانداروں میں مختلف اور ان سے حاصل ہونے والی اشیاء میں بھی مختلف ہوتا ہے جیسا کہ ڈیری میں اچھے اور برے کلیسٹرول کی شرح تقریباً 3:1 کی ہوتی ہے مطلب تین گنا برا فیٹ اور ایک گنا اچھا ۔
مثال کے طور پر آپ دیسی گھی کا ایک چمچہ لیتے ہو تو وہاں آپ کو 15 گرام فیٹ ملے گی جس میں قریب 3 گرام اچھا اور 12 گرام برا فیٹ ہو گا ۔ لیکن دیسی گھی میں اور بھی بہت سے اگریڈینٹس ہوتے ہیں اس لئے یہ اتنا فیٹ ہونے کے باوجود بھی صحت بخش ہوتا ہے جس پر میں تفصیل سے لکھ چکا ہوں !
اس طرح انڈے اور گوشت میں بھی اس کی شرح یہی رہتی ہے لیکن پودوں میں اس کی الٹ ہوتا ہے یہاں اچھا کلیسٹرول زیادہ ہوتا ہے اور برا بہت ہی کم ۔
مچھلی میں بھی Omega 3 بہت بڑی مقدار میں پایا جاتا ہے !
بات کی جائے سانڈے کی تو اس میں اومیگا 3 کافی مقدار میں پایا جاتا ہے اور ایک صحت مند سانڈے سے قریب 15 چمچ تک تیل نکلتا ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ عرب ممالک میں اس کو بہت شوق سے کھایا جاتا ہے کیونکہ وہ لوگ جانتے ہیں کہ اس کا اثر لگانے سے نہیں بلکہ کھانے سے ہو گا اور عربی زیتون کا استعمال بھی ایسی لئے زیادہ کرتے ہیں کیونکہ وہ تقریباً 85 فیصد اومیگا 3 پر مشتمل ہوتا ہے جو کہ دل کی شریانوں کو کھولتا اور جسم میں خون کی گردش کو تیز کرتا ہے جس سے جنسی طور پر انسان مضبوط ہوتا چلا جاتا ہے لیکن ہمارے یہاں پاکستان میں حکیم ان سب چیزوں کے زیادہ استعمال سے منع کرتے نظر آتے ہیں کیونکہ ان کے نزدیک یہ گرم چیز ہوتی ہے 😂 جبکہ ہمارے جسم کے لئے کوئی گرم سرد نہیں ہوتا اسے بس کام کرنے کے لئے اچھی غذا چاہیے جیسے ایک مشین کو پیٹرول چاہیے ہوتا ہے اور اس کے ساتھ موبل آئل وغیرہ جو کہ اس کی ضرورت کی چیز ہے ناکہ ٹھنڈی گرم !
بات کرنے کا مقصد یہ تھا کہ اچھی خوراک اور معلومات سے ہی آپ کو معلوم پڑھ سکتا ہے کہ آپ جس چیز کا کیوں استعمال کر رہے ہو اور اس کا کیا فایدہ ہے ۔ اور میڈیکل سائنس نے آج ہمیں یہ بات بتا دی ہے !
___________________________
تیسرا سوال تھا کہ کیا واقع ہی میں سانڈے کا تیل کوئی خاص چیز ہے تو اس کا جواب ہے نہیں بلکہ یہ امیگا 3 فیٹی ایسڈ ہوتے ہیں جو خون کی نالیوں کو کھلا کرتے ہیں جس سے جسم کے مخصوص عضو تک خون اچھے سے پہنچاتا ہے اور خون کی گردش بہتر ہونے سے انسانی جنسی طاقت بڑھ جاتی ہے اور اچھا تناؤ ملتا ہے ۔ یہ فائدے اسے کھانے سے ہی مل سکتے ہیں ناکہ لگانے سے !
اور اگر سانڈے کا تیل اتنا ہی کارگر اور کوئی اہم چیز ہوتی تو بہت سی ملٹی نیشنل کمپنیاں اس پر ریسرچ کرتیں اور مغرب اور میڈیکل سائنس میں اسے قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا ۔ ملکی و غیر ملکی ڈرگ مافیہ اس کی سپلائی ہر کنٹرول حاصل کرتا اور مہنگے داموں بچتا !
لیکن ایسا کچھ بھی نہیں ہے کیونکہ یہ ایک عام سی چیز ہے جو باقی پودوں اور جانوروں خصوصاً مچھلی اور زیتون میں پائی جاتی ہے !
________________________________
ہمارا اگلا سوال تھا
کیا جنسی بیماریاں جسمانی ہوتی ہیں یا پھر ان کا تعلق نفسیات سے ہے ؟
ریسرچ سے یہ بات ثابت شدہ ہے کہ زیادہ تر جنسی بیماریوں کا تعلق نفسیات سے ہوتا ہے ناکہ جسمانی طور پر یہ بیماریاں جنم لیتی ہے اور جسمانی طور پر جنسی بیماریوں کا شکار زیادہ تر زنا کرنے والے اور نشہ کرنے والے افراد ہوتے ہیں ۔
ہمارے معاشرے میں لوگ خصوصاً نوجوان حکیموں کے ہتھے چڑھ جاتے ہیں اور پھر وہ انھیں کبھی مشت زنی اور کبھی پری میچور ایجیکولیشن یا صورت انزال کے نام پر خوب بلیک میل کرتے ہیں ۔
مشت زنی کی بات کی جائے تو یہ ہر کوئی جب جوانی میں قدم رکھتا ہے تو کرتا ہے اس میں کوئی شرمانے والی اور ڈھکی چھپی بات نہیں ۔ اور یہ بات حکیم خضرات بخوبی جانتے ہیں اور یہی ان کا سب سے بڑا ہتھیار ہوتا ہے ۔ وہ نوجوانوں کو طرح طرح سے بلیک میل کرتے اور اپنی دیسی داویاں بیچتے ہیں جبکہ سائنسی طور پر یہ بات ثابت ہو چکی ہے کہ مشت زنی کا کوئی نقصان نہیں ۔ لیکن بے شک اس کا کوئی جنسی نقصان نہیں ہے لیکن میرے نزدیک یہ جسم سے بہت سے ضروری وٹامنز اور منرلز کے نکلنے کی وجہ بنتا ہے تو ایک نقصان دہ عمل ہے اور ہمارا دین بھی اس کی اجازت نہیں دیتا اس لئے یہ ایک بہت برا عمل ہے !
کسی نوجوان کے لئے مشت زنی کے بعد پری میچور ایجیکولیشن یا جلد انزال کی بیماری سب سے بڑا درد سر ہوتی ہے جبکہ یہ کوئی بیماری ہے ہی نہیں بلکہ قریب 90 فیصد سے بھی زائد لوگ جلد انزال یا صورت انزال کا شکار ہوتے ہیں اس لئے اس سے گھبرانے کی کوئی ضرورت نہیں یہ وقت کے ساتھ ساتھ خود بخود ٹھیک ہو جاتی ہے ۔ یہ ایک نفسیاتی بیماری بن سکتی ہے اگر آپ ڈپریشن میں رہتے ہیں تو اس لئے کسی قسم کا دماغی بوجھ نہ لیں اور نہ ہی کوئی دیسی دوائی کھائیں اور نہ تیل لگائیں ۔
اس کے بعد حکیموں کی جو تیسری بیماری ہوتی ہے جس سے وہ نوجوانوں کو ڈرا کر اپنا چورن بیچتے ہیں وہ مشت زنی کی وجہ سے عضو کا ٹیرھا ہو جانا ہے جس کی وجہ بلکل بھی مشت زنی نہیں ہوتا بلکہ ایسا اگر کوئی شخص تناؤ کی حالت میں اپنے عضو کو کہیں زور سے ٹکراتا ہے تو اس صورت میں عضو ٹیڑھا ہو جاتا ہے اور ہمیشہ ٹیڑھا کی رہتا ہے !
اس کے بعد آتی ہے اریکٹائل ڈسفنگشن کی بیماری جو کہ ایک نارمل چیز ہے اور ہر مرد کو زندگی میں کبھی نہ کبھی اس کا سامنا کرنا ہی پڑتا ہے جو کہ بنیادی طور ہر ایک نفسیاتی بیماری ہے لیکن اگر آپ کی عمر زیادہ ہے ، آپ کو کوئی بڑی بیماری ہے تو بھی آپ کو یہ بیماری ہو سکتی ہے
اس کے علاوہ 30 سال کے بعد قدرتی طور پر ٹیسٹاسٹیرون لیول کا گر جانا اور نالیوں میں خون کے بہاؤ کا کم ہو جانا بھی اس کی وجہ بنتا ہے جس کے لئے پھر ڈاکٹرز "ویاگرا " نامی میڈیسن استعمال کرنے کا مشورہ دیتے ہیں
اس کے لئے آپ حکیم کی بجائے کسی جنسی ڈاکٹر کو دیکھائیں جو کہ بیک وقت نفسیات کا ڈاکٹر بھی ہوتا ہے ۔
کیونکہ حکمت اندازوں سے چلتی ہے بلکہ میڈیکل سائنس تجربات و مشاہدات سے نکلا ہوا علم ہے اس لئے بہترین علم کا استعمال کریں اور کوئی شرم نہ کریں اور نہ ہی فضول ادویات استعمال کریں اور پیسہ بہائیں جن کو کوئی فایدہ ہی نہیں
________________
آخر میں پھر کہتا ہوں کہ یہ ظلم بند کرو کسی جان کو اتنی تکلیف مت دو کہ خدا تم پر رحم نہ کرے !
پہلے بھی بول چکا ہوں کہ اگر سانڈے کا تیل کوئی خاص چیز ہوتی تو انٹرنیشنل مارکیٹ میں اس کی بہت قیمت ہوتی اور ڈرگ مافیہ کبھی بھی ایسے کھولے عام بیچنے کی اجازت نہیں دیتا لیکن حقیقت تو یہ ہے کہ یہ ایک صرف زیتون اور مچھلی کی تیل سے بھی کمتر ایک تیل ہے جس کا کوئی سائنسی ثبوت نہیں اور نہ ہی کوئی فایدہ ہے سوائے جانوروں پر ظلم کے اور اپنے وہم کو مٹانے کے !
اسی کے ساتھ میں اپنی بات ختم کرتا ہوں اپنا قیمتی وقت دینے کا شکریہ
اللہ نگہبان 🖤

Comments
Post a Comment