کیا سائنس دانوں نے مصنوعی خلیہ بنا لیا؟
تحریر: ڈاکٹر نثار احمد
پچھلے کچھ دنوں سے کچھ فورمز پر یہ بحث چھڑی ہوئی ہے کہ کچھ حیاتیات دانوں نے تجربہ گاہ میں مصنوعی خلیے تیار کر لئے ہیں۔ تفصیلات اس لنک میں۔
https://www.sciencemag.org/news/2018/11/biologists-create-most-lifelike-artificial-cells-yet
اس تمام بحث سے پہلے آپ کو یہ جاننا ہوگا کہ خلیہ دراصل ہوتا کیا ہے۔ خلیے کی تعریف ہم یوں کرسکتے ہیں کہ یہ زندگی کی ساختی اور فعلیاتی اکائی ہے۔ ایک خلیے کے اندر سینکڑوں مختلف عضویے ہوتے ہیں جو مل جل کر فیکٹری کی طرح کام کرتے ہیں۔ اس کے علاوہ متعدد اینزائمز بھی موجود ہوتے ہیں جو کیمیائی تعاملات میں عمل انگیز کے طور پر کام کرتے ہیں۔ اس کے علاوہ یہ خلیہ تقسیم در تقسیم ہو کر اپنے جیسے مزید خلیے بنا سکتا ہے۔ کچھ جاندار ایسے بھی پائے جاتے ہیں جو صرف ایک خلیے پر مشتمل ہوتے ہیں۔ انہیں ہم یک خلوی جاندار بھی کہتے ہیں۔
اوپر دئیے گئے آرٹیکل میں جو کہ سائنس جریدے میں پبلش ہوا کوئی بہت زیادہ نیا کارنامہ نہیں کیا گیا۔ اس پیپر میں بتایا گیا کہ کہ تجربہ گاہ میں کچھ خلیوں سے ملتی جلتی ساختیں بنائی گئیں جن میں نیوکلیس کی طرح کی ساخت پائی جاتی ہے لیکن اس خلیے نما ساخت کے باہر کوئی خلوی جھلی یا پلازمہ ممبرین موجود نہیں۔ قدرتی خلیوں کے برعکس اس خلیے نما ساخت میں وہی اجزاء پائے جاتے ہیں جو مٹی میں موجود ہوتے ہیں۔
یہاں پر میں دو باتیں کہنا چاہوں گا کہ کس طرح کچھ فیس بکی ارتقائی سائنسدانوں کا یہ دعوی' کے اس تحقیق سے مصنوعی زندگی بنا لی گئی، غلط ہے۔
1۔ ان مصنوعی خلیے نما ساختوں میں موجود ڈی این اے اپنی کاپیاں تیار کرسکتا ہے لیکن یہ کوئی بڑی بات نہیں کیونکہ یہ کام PCR مشینیں گزشتہ کئی سالوں سے کر رہی ہیں۔ ڈی این اے کی یہ خود کار صلاحیت ہے کہ یہ اپنی کاپیاں تیار کرسکتا ہے۔ اس عمل کیلئے ایک اینزائم درکار ہوتا ہے جسے ڈی این اے پولیمیریز کہا جاتا ہے۔ مذکورہ تحقیق میں موجود خلیوں میں یہ اینزائم بھی باہر سے مہیا کیا گیا۔ اس طرح یہ کسی طور پر نہیں کہا جا سکتا کہ یہ خلیے نما ساختیں قدرتی خلیے کے کہیں نزدیک بھی موجود ہیں۔ خلوی جھلی نما ساختیں بھی اس سے پہلے مصنوعی طور پر بنا لی گئی ہیں جنہیں Liposomes کہتے ہیں۔
2۔ خلوی اجزاء کو بروئے کار لا کر اگر مستقبل میں کوئی مصنوعی خلیہ بنا بھی لیا جائے تو وہ ارتقائی سائنسدانوں کے اس فلسفے کو سپورٹ نہیں کرتا کہ 4 ارب سال پہلے بے ترتیب عوامل کی بدولت غیر نامیاتی عناصر سے کوئی خلیہ خود بخود بن گیا۔ اس دعوے کو سچا ثابت کرنے کیلئے ارتقائی سائنسدانوں کو غیر نامیاتی مرکبات استعمال کرتے ہوئے کسی بھی بے ترتیب طریقے سے ایک سادہ خلیہ بنانا ہوگا۔ خلیہ کیا ہوتا ہے یہ اوپر بیان کردیا گیا ہے۔ خلوی اجزاء کو بروئے کار لاتے ہوئے کوئی خلیے نما ساخت بنا لینا اس دعوے کو ثابت نہیں کرتا۔
سائنس کسی کی میراث نہیں لیکن کچھ مذہب بیزار لوگ ہر نئی سائنسی دریافت کو مذہب کے خلاف ثابت کرنے پر تلے ہوتے ہیں۔ مذکورہ تحقیق میں جو خلیے نما ساختیں بنائی گئیں یہ مستقبل میں کینسر کے علاج اور دوائیوں کو ٹارگٹ تک پہنچانے میں بے حد کارآمد ثابت ہو سکتی ہے۔ لیکن اس تحقیق سے یہ ثابت کرنا کہ انسان نے مکمل طور مصنوعی زندگی خام مادوں سے بنا لی غلط ہے۔
تحریر: ڈاکٹر نثار احمد
پچھلے کچھ دنوں سے کچھ فورمز پر یہ بحث چھڑی ہوئی ہے کہ کچھ حیاتیات دانوں نے تجربہ گاہ میں مصنوعی خلیے تیار کر لئے ہیں۔ تفصیلات اس لنک میں۔
https://www.sciencemag.org/news/2018/11/biologists-create-most-lifelike-artificial-cells-yet
اس تمام بحث سے پہلے آپ کو یہ جاننا ہوگا کہ خلیہ دراصل ہوتا کیا ہے۔ خلیے کی تعریف ہم یوں کرسکتے ہیں کہ یہ زندگی کی ساختی اور فعلیاتی اکائی ہے۔ ایک خلیے کے اندر سینکڑوں مختلف عضویے ہوتے ہیں جو مل جل کر فیکٹری کی طرح کام کرتے ہیں۔ اس کے علاوہ متعدد اینزائمز بھی موجود ہوتے ہیں جو کیمیائی تعاملات میں عمل انگیز کے طور پر کام کرتے ہیں۔ اس کے علاوہ یہ خلیہ تقسیم در تقسیم ہو کر اپنے جیسے مزید خلیے بنا سکتا ہے۔ کچھ جاندار ایسے بھی پائے جاتے ہیں جو صرف ایک خلیے پر مشتمل ہوتے ہیں۔ انہیں ہم یک خلوی جاندار بھی کہتے ہیں۔
اوپر دئیے گئے آرٹیکل میں جو کہ سائنس جریدے میں پبلش ہوا کوئی بہت زیادہ نیا کارنامہ نہیں کیا گیا۔ اس پیپر میں بتایا گیا کہ کہ تجربہ گاہ میں کچھ خلیوں سے ملتی جلتی ساختیں بنائی گئیں جن میں نیوکلیس کی طرح کی ساخت پائی جاتی ہے لیکن اس خلیے نما ساخت کے باہر کوئی خلوی جھلی یا پلازمہ ممبرین موجود نہیں۔ قدرتی خلیوں کے برعکس اس خلیے نما ساخت میں وہی اجزاء پائے جاتے ہیں جو مٹی میں موجود ہوتے ہیں۔
یہاں پر میں دو باتیں کہنا چاہوں گا کہ کس طرح کچھ فیس بکی ارتقائی سائنسدانوں کا یہ دعوی' کے اس تحقیق سے مصنوعی زندگی بنا لی گئی، غلط ہے۔
1۔ ان مصنوعی خلیے نما ساختوں میں موجود ڈی این اے اپنی کاپیاں تیار کرسکتا ہے لیکن یہ کوئی بڑی بات نہیں کیونکہ یہ کام PCR مشینیں گزشتہ کئی سالوں سے کر رہی ہیں۔ ڈی این اے کی یہ خود کار صلاحیت ہے کہ یہ اپنی کاپیاں تیار کرسکتا ہے۔ اس عمل کیلئے ایک اینزائم درکار ہوتا ہے جسے ڈی این اے پولیمیریز کہا جاتا ہے۔ مذکورہ تحقیق میں موجود خلیوں میں یہ اینزائم بھی باہر سے مہیا کیا گیا۔ اس طرح یہ کسی طور پر نہیں کہا جا سکتا کہ یہ خلیے نما ساختیں قدرتی خلیے کے کہیں نزدیک بھی موجود ہیں۔ خلوی جھلی نما ساختیں بھی اس سے پہلے مصنوعی طور پر بنا لی گئی ہیں جنہیں Liposomes کہتے ہیں۔
2۔ خلوی اجزاء کو بروئے کار لا کر اگر مستقبل میں کوئی مصنوعی خلیہ بنا بھی لیا جائے تو وہ ارتقائی سائنسدانوں کے اس فلسفے کو سپورٹ نہیں کرتا کہ 4 ارب سال پہلے بے ترتیب عوامل کی بدولت غیر نامیاتی عناصر سے کوئی خلیہ خود بخود بن گیا۔ اس دعوے کو سچا ثابت کرنے کیلئے ارتقائی سائنسدانوں کو غیر نامیاتی مرکبات استعمال کرتے ہوئے کسی بھی بے ترتیب طریقے سے ایک سادہ خلیہ بنانا ہوگا۔ خلیہ کیا ہوتا ہے یہ اوپر بیان کردیا گیا ہے۔ خلوی اجزاء کو بروئے کار لاتے ہوئے کوئی خلیے نما ساخت بنا لینا اس دعوے کو ثابت نہیں کرتا۔
سائنس کسی کی میراث نہیں لیکن کچھ مذہب بیزار لوگ ہر نئی سائنسی دریافت کو مذہب کے خلاف ثابت کرنے پر تلے ہوتے ہیں۔ مذکورہ تحقیق میں جو خلیے نما ساختیں بنائی گئیں یہ مستقبل میں کینسر کے علاج اور دوائیوں کو ٹارگٹ تک پہنچانے میں بے حد کارآمد ثابت ہو سکتی ہے۔ لیکن اس تحقیق سے یہ ثابت کرنا کہ انسان نے مکمل طور مصنوعی زندگی خام مادوں سے بنا لی غلط ہے۔

Comments
Post a Comment