Skip to main content

سورج کی گردش

#سورج_کی_گردش

| Dose Sun Rotate and Revolve ? |

تحریر و تحقیق : حسن جیلانی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اللہ تعالی کی تخلیقات پہ غور کیا جایے تو آپ کو کوئ بھی جسم سکون میں نظر نہیں آئے گی کاینات کا ذرہ ذرہ ہر آن متغیر اور رو بہ سفر ہے ۔ بقول علامہ اقبالؒ
"ثُبات اک تغیُر کو ہے زمانے میں"
قدیم زمانے (یعنی یونانی دور  سے لیکر گلیلو اور کوپرنیکس تک)  میں سورج کے بارے میں مُختلف نظریات موجود تھے ۔ کوئ زمین کو سنٹر جبکہ سورج کو اس کے گرد محو گردش مانتا تھا ، کوئ سورج کو ساکن اور زمین کو اس کے گرد محو سفر مانتا تھا ۔ جبکہ کوئ تمام نظر آنے والے اجرام سماوی کو فلیٹ مانتے تھے ۔ لیکن ساینس چُونکہ آگے بڑھنے اور ترقی کرنے کا نام ہے اس لیے آج ہم موجودہ دور کے کایناتی نظریے پہ غور کرتے ہیں ۔
نظام شمسی میں سب سے بڑی جسامت رکھنے والا "جلتا ہوا ستارہ " ہر وقت حرکت رہتا ہے ۔ لیکن اس کی رفتار زمین کی رفتار سے قدرے کم ہے ۔ زمین اپنی ایک محوری چکر چوبیس ۲۴ گھنٹوں میں مکمل کر لیتا ہے لیکن سُورج چونکہ زمین کی طرح ٹھوس جسامت نہیں رکھتا اس لیے سُورج کی رفتار ایک نقطے پہ قایم رہنا مشکل ہے ۔ ناسا NASA کے مطابق " سُورج گیس اور پلازمہ plasma کی ایک بال کی مانند ہے جس کی وجہ سے سُورج زمین اور چاند کی طرح سختی اور تیزی کے ساتھ گردش نہیں کر سکتا " ۔ دراصل سورج مُختلف تہوں اور حلقوں پہ مشتمل ہیں ۔ جس میں سے ہر حلقہ اور علاقہ مُختلف رفتار سے اپنا چکر پورا کرتا ہے ۔ سُورج اپنے محور کے گرد زمینی دنوں کے حساب سے 27 دن میں اپنا ایک چکر مُکمل کرتا ہے جبکہ یہی چکر زمین چوبیس گھنٹے میں پورا کرتا ہے اس لیے زمین پہ گزرے ہوے 27 دن سورج پہ ایک دن کے برابر ہیں ۔ لیکن یہاں پہ ایک مسلہ ہے وہ یہ کہ چُونکہ سُورج گیسوں پہ مُشتمل جسم ہے اس لیے مُختلف علاقے مُختلف رفتار سے گُھومتی ہے ۔ مثال کے طور پر سُورج کا "ایکویٹر equator خط استواء " پہ 24 دنوں میں ایک چکر پورا کرتا ہے ، جبکہ سُورج کے قُطبی علاقے یعنی "پولز poles" تقریبا تیس دن یا اس سے زیادہ دنوں میں اپنا چکر مُکمل کرتا ہیں ۔ ناسا کے مطابق "زمین کی اندرونی تہیں بیرونی تہوں کی بنسبت تیزی سے گھومتی ہے " ۔

سٹینفورڈ یونیورسٹی سولر سنٹر کے مُطابق غالباً 1612 میں "گلیلو" نے سُورج کی سطح پر ایک چیز نوٹ کی تھی جو وقت کے ساتھ ساتھ سورج کی سطح پہ تیر رہی ہے جس کو " سن سپاٹ sunspot " کہتے ہیں ، اسی سن سپاٹ کی وجہ سے یہ کنفرم ہوا کہ سُورج اپنی محوری گردش میں ہمہ وقت مصرُوف رہتا ہے ۔ جبکہ آج بھی ساینسدان سن سپاٹ کے مُشاہدے ہی کی وجہ سُورج کی محوری گردش اور اس کا دورانیہ معلوم کرتے ہیں ۔ اگر آپ دوربین کی مدد سے سورج کی مختلف تصویروں کو پروجیکٹ کرے توآپ سن سپاٹ کو دیکھ سکتے ہے ۔ اس طرح کئ روز کے مُشاہدے کے بعد آپ کو خود معلوم پڑہ جاتا ہین کہ سن سپاٹ سورج کی سطح پہ اپنی جگہ سے ہٹ رہے ہین ۔ سن سپاٹ تب بنتے ہیں جب سُورج میں موجود پلازمہ میگنیٹک فیلڈ magnetic field کے ساتھ تعامل پیدا کرتا ہے جس کے نتیجے میں چمک اور سولر سٹورم solar storm بھی پیدا ہو جاتے ہیں ۔ آپ سوچ رہے ہونگے کہ سن سپاٹ گرم جگہ ہوگی لیکن اس کے برعکس سن سپاٹ سورج کی سطح پہ موجود سرد جگہیں ہوتی ہے ۔ لیکن یہاں پہ سرد ہونے کا وہ مطلب نہیں جو ہم زمین پہ لیتے ہے بلکہ سن سپاٹ کا درجہ حرارت تقریبا 7500 فارن ہائیٹ ( 4000 سنٹی گریڈ ) ہوتا ہے جو زمین کی بنسبت آگ کہلاتا ہیں ۔

"Since the sun is a ball of gas/plasma, it does not have to rotate rigidly like the solid planets and moons do, In fact, our gaseous sun is divided into different zones and layers, with each of our host star's regions moving at varying speeds. On average, the sun rotates on its axis once every 27 days. However, its equator spins the fastest and takes about 24 days to rotate, while the poles take more than 30 days. The inner parts of the sun also spin faster than the outer layers," according to NASA.
https://www.google.com/url?q=https://www.livescience.com/32894-does-the-sun-rotate.html&sa=U&ved=2ahUKEwiyg5u8-bbkAhVDXRoKHeRuDVgQFjADegQICBAB&usg=AOvVaw24gp0TlzK8NuXywx4fQQjV

صرف یہی نہیں یہ تو ہم نے سورج کے محوری گردش کی بات کہ دی ۔ سورج محوری گردش کے ساتھ ساتھ اپنے مدار مین بھی ہماری کہکشاں ملکی وے کے گرد گردش کر رہا ہے ۔ اور یہ گردش تقریبا 226 ملین سالوں میں مُکمل ہوجاتا ہے ۔ اس حساب زمین کی ایک سال کی بنسبت سورج کا ایک سال 226 ملین سال ہوتا ہیں ۔ سُورج ملکی وے کے گرد تقریباً 225km/sec کی رفتار سے محوِ سفر ہیں ۔ ہماری کہکشاں خود بھی باقی کہکشاوں کے  پورے گروپ کے ساتھ گردش میں ہیں اور یہ گردش تقریباً 100km/sec ہیں ۔

Not only does the sun rotate, but it also orbits the centre of our galaxy, completing one orbit every 226 million years or so.
The Sun also orbits the centre of the Milky Way at about 225 km/sec, and our galaxy itself has a motion in its Local Group of galaxies of about 100 km/sec. Our Local Group, in turn, has a speed of about 220 km/sec relative to the Super Cluster it resides in, and there are further layers of motion beyond that.

https://www.google.com/url?q=https://www.smh.com.au/entertainment/books/does-the-sun-revolve-on-an-axis-or-is-it-stationary-in-the-middle-of-the-solar-system-20050611-gdlhr3.html&sa=U&ved=2ahUKEwiGr8GN_rbkAhWC4IUKHZH3AF0QFjAFegQICBAB&usg=AOvVaw1fb0ea7tpBLsAyQQ7noA-M

آخر میں یہ عرض کروں گا کہ پُرانے نظریات کے برعکس موجودہ نظریات کے مُطابق کاینات میں کوئ بھی جسم ساکن نہیں بلکہ ہر لمحہ ہر آن ہر جسم حرکت میں ہیں ۔ ہر جرم فلکی اپنے محور کے ساتھ ساتھ اپنے مدار میں بھی گردش کر رہا ہے ۔
جاری ہے !
________________________________________________
Researched by : syed akbar hassan shah

Comments

Popular posts from this blog

کیا سائنسدانوں نے مصنوعی خلیہ بنا لیا ؟

کیا سائنس دانوں نے مصنوعی خلیہ بنا لیا؟ تحریر: ڈاکٹر نثار احمد پچھلے کچھ دنوں سے کچھ فورمز پر یہ بحث چھڑی ہوئی ہے کہ کچھ حیاتیات دانوں نے تجربہ گاہ میں مصنوعی خلیے تیار کر لئے ہیں۔ تفصیلات اس لنک میں۔ https://www.sciencemag.org/news/2018/11/biologists-create-most-lifelike-artificial-cells-yet اس تمام بحث سے پہلے آپ کو یہ جاننا ہوگا کہ خلیہ دراصل ہوتا کیا ہے۔ خلیے کی تعریف ہم یوں کرسکتے ہیں کہ یہ زندگی کی ساختی اور فعلیاتی اکائی ہے۔ ایک خلیے کے اندر سینکڑوں مختلف عضویے ہوتے ہیں جو مل جل کر فیکٹری کی طرح کام کرتے ہیں۔ اس کے علاوہ متعدد اینزائمز بھی موجود ہوتے ہیں جو کیمیائی تعاملات میں عمل انگیز کے طور پر کام کرتے ہیں۔ اس کے علاوہ یہ خلیہ تقسیم در تقسیم ہو کر اپنے جیسے مزید خلیے بنا سکتا ہے۔ کچھ جاندار ایسے بھی پائے جاتے ہیں جو صرف ایک خلیے پر مشتمل ہوتے ہیں۔ انہیں ہم یک خلوی جاندار بھی کہتے ہیں۔ اوپر دئیے گئے آرٹیکل میں جو کہ سائنس جریدے میں پبلش ہوا کوئی بہت زیادہ نیا کارنامہ نہیں کیا گیا۔ اس پیپر میں بتایا گیا کہ کہ تجربہ گاہ میں کچھ خلیوں سے ملتی جلتی ساختیں بنائی گئیں جن م...

سانڈے کا تیل میڈیکل سائنس کی نظر میں !

سانڈے کا تیل میڈیکل سائنس کی نظر میں ! جنسی و نفسیاتی بیماریاں اور جانوروں کا قتل عام ۔۔۔! (18+ تحریر) __________________ تحقیق و تحریر : حسن خلیل چیمہ ______________________________________________ نوٹ : ( یہ تحریر عوامی آگاہی اور معصوم جانوروں کے بے جا قتل عام کو روکنے کے لئے اور عوام تک جدید میڈیکل سائنس کی رخ سے درست معلومات پہنچانے کی ایک کوشش ہے سانڈے کے تیل کے بارے میں اپنی رائے اور تجربے کو ایک طرف رکھ کہ اس تحریر کا مکمل مطالعہ کرنے کے بعد ہی اختلاف کریں شکریہ ) (خواتین اس تحریر کو پڑھنے سے اجتناب کریں ) ہمیشہ سے یہ دیکھ کر دکھ ہوتا ہے کہ جہاں دنیا سائنس و ٹیکنالوجی میں ترقی کرتی جا رہی ہے وہی ہم پاکستانی آج بھی اسی زمانہ قدیم میں جی رہیں ہیں جس میں انسانی سائنسی انقلاب سے پہلے ہمارے اجداد نے زندگی  گزاری  آج بھی ہم اسی طریقہ کار پر چل رہیں ہیں جہاں بیمار ہونے پر  اندازے سے دوا دینے والا کوئی حکیم ہوتا تھا جو مختلف جڑی بوٹیوں کو ملا کر کوئی ایسی دوا دے دیتا تھا جو وقتی طور ریلیف فراہم کرتی تھی کیونکہ ان وقتوں میں لوگوں کی خوارک میں زیادہ ملاوٹ نہ تھ...

قرآن اور سرن لیبارٹری

سورة انبیاء کی آیت نمبر 30 اور سرن لیبارٹری ۔۔۔!!! ____________________ سورۃ الانبیاء آیت نمبر 30 میں ربِ کائنات فرماتا ہے کہ اَوَلَمۡ يَرَ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡۤا اَنَّ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضَ كَانَتَا رَتۡقًا فَفَتَقۡنٰهُمَا‌ؕ وَجَعَلۡنَا مِنَ الۡمَآءِ كُلَّ شَىۡءٍ حَىٍّ‌ؕ اَفَلَا يُؤۡمِنُوۡنَ‏ ﴿۳۰﴾ کیا کافروں نے نہیں دیکھا کہ آسمان اور زمین دونوں ملے ہوئے تھے تو ہم نے جدا جدا کردیا۔ اور تمام جاندار چیزیں ہم نے پانی سے بنائیں۔ پھر یہ لوگ ایمان کیوں نہیں لاتے؟  ﴿۳۰﴾ معزز قارئین علماء کے نزدیک یہ آیت بگ بینگ سے متعلق ہے کہ ایک عظیم الشان دھماکہ ہوا جس سے اربوں میل دور تک دھواں پھیل گیا پھر اس دھوئیں میں سے  ٹھوس اجسام ستارے ،سیارے اور کومینٹس وغیرہ بننے کا عمل شروع ہوا ایک اور جگہ  ارشاد ہے کہ ثُمَّ اسۡتَوٰىۤ اِلَى السَّمَآءِ وَهِىَ دُخَانٌ فَقَالَ لَهَا وَلِلۡاَرۡضِ ائۡتِيَا طَوۡعًا اَوۡ كَرۡهًاؕ قَالَتَاۤ اَتَيۡنَا طَآٮِٕعِيۡنَ‏ ﴿۱۱﴾ پھر آسمان کی طرف متوجہ ہوا اور وہ دھواں تھا تو اس نے اس سے اور زمین سے فرمایا کہ دونوں آؤ (خواہ) خوشی سے خواہ ناخوشی سے۔ انہوں...