ڈارونزم کے مطابق مذہب اور خدا کی کوئی بھی حقیقی حثیت نہیں یہ صرف سروائول کے لئے ہوئی دماغی اڈپٹیشنز ہیں جو فطری چناؤ اور میوٹیشنز کا نتیجہ ہیں۔ ڈارون پرست سائنسدانوں کے مطابق جب ہم لاکھوں سال پہلے باندر نما مخلوق سے ارتقاء کر رہے تھے اور ہمارے دماغ کا سائز بڑھ رہا تھا، پیچیدہ سوچ جنم لے رہی تھی اسی دوران مزہب اور خدا کا تخیلاتی خاکہ حادثاتی (Accidental by Product) طور پہ ہمارے سوچنے کی انداز اور پیٹرن میں شامل ہوگیا۔ چونکہ یہ سروائول کے لئے اچھا تھا، گروہ کو اکٹھا رکھتا تھا، مشکلات اور جیلنجز کا مقابلہ کرنا آسان بناتا تھا ساتھ ہی فطری مظاہر کی ایک آسان وضاحت بھی پیش کرتا تھا لہذا اسی وجہ سے خدا اور مذہب کا تصور ہماری انسانی سوچ کا اہم حصہ بن کر آجتک ہمارے اندر موجود ہے۔
میرے نزدیک ارتقائی تھیوری مفروضے اور قیاس ایجاد کرنے کی ایسی مشین ہے کہ سائنس کی تاریخ میں اس کی مثال نہیں ملتی۔
لیکن یہاں ایک سوال ان مسلمانوں سے بھی بنتا ہے جو ڈارونزم کے قصیدے پڑھتے ہلکان ہو رہے ہوتے ہیں۔ باندر سے انسان کا ارتقاء بھی مان چکے ہیں۔ ارتقائی تھیوری کے ہر قیاس اور ہر مفروضے پہ پختہ ایمان بھی رکھتے ہیں۔ ہر ارتقائی وضاحت کو بھی من و عن تسلیم کرتے ہیں۔
سوال یہ بنتا ہے کیا ارتقائی تھیوری ٹھیک کہ رہی ہے کہ دین اسلام اور خدا حادثاتی دماغی ارتقاء کا نتیجہ ہیں؟!
Reference:
https://www.discovermagazine.com/planet-earth/the-human-brain-evolved-to-believe-in-gods

Comments
Post a Comment