Skip to main content

|Genes For Squid Eyes and Human Legs|


نئی سائنسی تحقیقات آئے دن نیو ڈارونین ارتقاء کے خلاف شواہد مہیا کر کے اس بات کو واضح کر رہیں ہیں کہ نیو ڈارونین ارتقاء ایک ناکام ہوتی تھیوری ہے لہذا اس کے متبادل کسی بہتر فریم ورک کی تلاش شروع کی جائے۔ ایسی ہی ایک نئی تحقیق حال ہی میں سامنے آئی جب ارتقائی سائنسدان سکوئڈ (Squid) کی آنکھوں کی ڈیولپمنٹ کے زمہ دار جین نیٹورک کا پتہ لگانے کی کوشش کر رہے تھے۔
اس کے لئے سکوئد کی ایک سپیشیز Doryteuthis pealeii کے ایمبریو (Embryo) کو بطور تحقیق استعمال کیا جا رہا تھا۔ اس ایمبریو کی ڈیولپمنٹ کے دوران سائنسدان جینز کے آن اور آف ہونے کا بغور مشاہدہ کر رہے تھے اور حیران کن طور پہ معلومات سامنے آئیں کہ جونسا جین ریگولیٹری نیٹ ورک انسانی ایمبریو کی ڈیولپمنٹ کے دوران ٹانگیں بنانے کے لئے آن ہوتا ہے وہی جین ریگولیٹری نیٹ ورک سکوئڈ کی آنکھیں اور لینز بنانے کے لئے کام کرتا ہے۔ یعنی ایک ہی طرح کے جینز دو مکمل طور پہ مختلف سپیشیز میں دو مکمل طور پہ مختلف کام انجام دے رہے ہیں۔

اب یہاں پہ کچھ نکات نوٹ کرنے والے ہیں:

1) سکوئد Cephalopod کہلاتے ہیں اور انسان Vertebrate کہلاتے ہیں۔ ارتقائی تھیوری کے مطابق ان دونوں کی ارتقائی شاخ ماضی میں تقریباً 500 ملین سال پہلے علیحدہ ہوئی۔ اب پانچ سو ملین سال سے یہ جینز نیٹورک دونوں طرح کے جانداروں میں موجود ہے نہ جینز کا ارتقاء ہوا نہ جینز ناپید ہوئے!!
ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ اتنے لمبے عرصے میں نئے طرح کے جینز رینڈم میوٹیشن سے ارتقاء کرتے جو انسانی امبریو میں ٹانگیں ڈیویلپ کرتے!!

2) یا پھر ایک جیسے جینز نیٹ ورک کا کنورجنٹ ارتقاء علیحدہ علیحدہ ہوا۔ یعنی ایک ہی طرح کے جینیاتی حروف کا ارتقاء دو مختلف اقسام کے جانداروں میں ہوا لیکن فنکشن مختلف ہوگیا!!!
یہ معاملہ مزید غیر منطقی معلوم ہوتا ہے!

3) اس تناظر میں جنیاتی مماثلت بھی بے معنی ہو جاتی ہے کیونکہ ایک ہی طرح کے جینز انسانی ایمبریو میں ٹانگیں ڈیویلپ کر رہے ہیں اور سکوئڈ کے ایمبریو میں آنکھ کا لینز بنا رہے ہیں۔
جب ایک ہی طرح کے جینز مختلف جانداروں میں مختلف فنکشن سر انجام دیتے ہیں تو صرف جینیاتی حروف کی مماثلت کچھ بھی ظاہر نہیں کرتی۔

نئی سائنسی تحقیقات ارتقاء کو ایک مزید الجھی ہوئی پہیلی بناتی جا رہیں ہیں اور دیے گئے نکات پہ غور کریں تو واضح ہوتا ہے کہ یہ آج بھی ایک معمہ ہے کہ نیو ڈارونین ارتقاء ہے کیا!؟ اور ہوا کیسے!؟

Reference:
https://www.sciencemag.org/news/2019/07/genes-make-squid-eyes-also-make-your-legs?utm_campaign=SciMag&utm_source=JHubbard&utm_medium=Facebook

--------------------------------------------
Sohaib Zobair

Comments

Popular posts from this blog

کیا سائنسدانوں نے مصنوعی خلیہ بنا لیا ؟

کیا سائنس دانوں نے مصنوعی خلیہ بنا لیا؟ تحریر: ڈاکٹر نثار احمد پچھلے کچھ دنوں سے کچھ فورمز پر یہ بحث چھڑی ہوئی ہے کہ کچھ حیاتیات دانوں نے تجربہ گاہ میں مصنوعی خلیے تیار کر لئے ہیں۔ تفصیلات اس لنک میں۔ https://www.sciencemag.org/news/2018/11/biologists-create-most-lifelike-artificial-cells-yet اس تمام بحث سے پہلے آپ کو یہ جاننا ہوگا کہ خلیہ دراصل ہوتا کیا ہے۔ خلیے کی تعریف ہم یوں کرسکتے ہیں کہ یہ زندگی کی ساختی اور فعلیاتی اکائی ہے۔ ایک خلیے کے اندر سینکڑوں مختلف عضویے ہوتے ہیں جو مل جل کر فیکٹری کی طرح کام کرتے ہیں۔ اس کے علاوہ متعدد اینزائمز بھی موجود ہوتے ہیں جو کیمیائی تعاملات میں عمل انگیز کے طور پر کام کرتے ہیں۔ اس کے علاوہ یہ خلیہ تقسیم در تقسیم ہو کر اپنے جیسے مزید خلیے بنا سکتا ہے۔ کچھ جاندار ایسے بھی پائے جاتے ہیں جو صرف ایک خلیے پر مشتمل ہوتے ہیں۔ انہیں ہم یک خلوی جاندار بھی کہتے ہیں۔ اوپر دئیے گئے آرٹیکل میں جو کہ سائنس جریدے میں پبلش ہوا کوئی بہت زیادہ نیا کارنامہ نہیں کیا گیا۔ اس پیپر میں بتایا گیا کہ کہ تجربہ گاہ میں کچھ خلیوں سے ملتی جلتی ساختیں بنائی گئیں جن م...

سانڈے کا تیل میڈیکل سائنس کی نظر میں !

سانڈے کا تیل میڈیکل سائنس کی نظر میں ! جنسی و نفسیاتی بیماریاں اور جانوروں کا قتل عام ۔۔۔! (18+ تحریر) __________________ تحقیق و تحریر : حسن خلیل چیمہ ______________________________________________ نوٹ : ( یہ تحریر عوامی آگاہی اور معصوم جانوروں کے بے جا قتل عام کو روکنے کے لئے اور عوام تک جدید میڈیکل سائنس کی رخ سے درست معلومات پہنچانے کی ایک کوشش ہے سانڈے کے تیل کے بارے میں اپنی رائے اور تجربے کو ایک طرف رکھ کہ اس تحریر کا مکمل مطالعہ کرنے کے بعد ہی اختلاف کریں شکریہ ) (خواتین اس تحریر کو پڑھنے سے اجتناب کریں ) ہمیشہ سے یہ دیکھ کر دکھ ہوتا ہے کہ جہاں دنیا سائنس و ٹیکنالوجی میں ترقی کرتی جا رہی ہے وہی ہم پاکستانی آج بھی اسی زمانہ قدیم میں جی رہیں ہیں جس میں انسانی سائنسی انقلاب سے پہلے ہمارے اجداد نے زندگی  گزاری  آج بھی ہم اسی طریقہ کار پر چل رہیں ہیں جہاں بیمار ہونے پر  اندازے سے دوا دینے والا کوئی حکیم ہوتا تھا جو مختلف جڑی بوٹیوں کو ملا کر کوئی ایسی دوا دے دیتا تھا جو وقتی طور ریلیف فراہم کرتی تھی کیونکہ ان وقتوں میں لوگوں کی خوارک میں زیادہ ملاوٹ نہ تھ...

قرآن اور سرن لیبارٹری

سورة انبیاء کی آیت نمبر 30 اور سرن لیبارٹری ۔۔۔!!! ____________________ سورۃ الانبیاء آیت نمبر 30 میں ربِ کائنات فرماتا ہے کہ اَوَلَمۡ يَرَ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡۤا اَنَّ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضَ كَانَتَا رَتۡقًا فَفَتَقۡنٰهُمَا‌ؕ وَجَعَلۡنَا مِنَ الۡمَآءِ كُلَّ شَىۡءٍ حَىٍّ‌ؕ اَفَلَا يُؤۡمِنُوۡنَ‏ ﴿۳۰﴾ کیا کافروں نے نہیں دیکھا کہ آسمان اور زمین دونوں ملے ہوئے تھے تو ہم نے جدا جدا کردیا۔ اور تمام جاندار چیزیں ہم نے پانی سے بنائیں۔ پھر یہ لوگ ایمان کیوں نہیں لاتے؟  ﴿۳۰﴾ معزز قارئین علماء کے نزدیک یہ آیت بگ بینگ سے متعلق ہے کہ ایک عظیم الشان دھماکہ ہوا جس سے اربوں میل دور تک دھواں پھیل گیا پھر اس دھوئیں میں سے  ٹھوس اجسام ستارے ،سیارے اور کومینٹس وغیرہ بننے کا عمل شروع ہوا ایک اور جگہ  ارشاد ہے کہ ثُمَّ اسۡتَوٰىۤ اِلَى السَّمَآءِ وَهِىَ دُخَانٌ فَقَالَ لَهَا وَلِلۡاَرۡضِ ائۡتِيَا طَوۡعًا اَوۡ كَرۡهًاؕ قَالَتَاۤ اَتَيۡنَا طَآٮِٕعِيۡنَ‏ ﴿۱۱﴾ پھر آسمان کی طرف متوجہ ہوا اور وہ دھواں تھا تو اس نے اس سے اور زمین سے فرمایا کہ دونوں آؤ (خواہ) خوشی سے خواہ ناخوشی سے۔ انہوں...