Skip to main content

Pulverizing Edifice of Neo Darwinism (Failure of Darwinian Dogmas)


نیو ڈارونین تھیوری کی حیثیت سائنسی اعتبار سے کم اور مغربی نظام کو سہارا دینے سے متعلق زیادہ اہم ہے یہی وجہ ہے کہ باوجود تمام تر سائنسی شواہد اور ڈیٹا کے جو نیو ڈارونین تھیوری کے بنیادی دعویٰ جات کی ناکامی کو بے نقاب کرتے ہیں اس تھیوری کو مغربی نظام سے نکالنا اور سائنسی طور پہ رد کرنا آسان کام نہیں۔ کچھ سائنسدان ہمت کر کے اور اپنا سائنسی کیرئیر خطرے میں ڈال کر نیو ڈارونین تھیوری پہ تنقیدی مواد ضرور لکھتے ہیں لیکن یہ ایک عمومی طرزِ عمل نہیں کیونکہ ایسا رویہ فنڈنگ میں روکاوٹ، ریسرچ پروجیکٹس کی دستیابی، یونیورسٹی میں بطور پروفیسر رکھے جانے یا ریسرچ لیبز میں بطور ریسرچر کام کر کے اپنا کیریئر بنانے جیسے مواقعوں میں روکاوٹ بنتا ہے۔
موجودہ دور کے سسٹم میں آج کا سائنسدان نوکری کرتا ہے چاہے وہ گورنمنٹ کی ریسرچ لیبز میں گورنمنٹ کی فنڈنگ سے ہو یا پرائیویٹ لیبز میں کسی ارب پتی کی فنڈنگ سے ہو۔ تلخ حقیقت یہ ہے کہ اس سائنسدان ملازم کو گورنمنٹ کی طرف سے یا کسی ارب پتی کے طرف سے ایک "جاب" دی جاتی ہے جسے آپ عام طور پہ "سائنسی ریسرچ" کہتے ہیں۔ تنخواہ لینے والا یہ سائنسدان اپنے باس کے کہے سے ہٹ کر کچھ کرنے کا سوچ بھی نہیں سکتا لہذا نتیجتاً سائنسی تحقیق کی سمت گورنمنٹ کی پسند یا کسی ارب پتی کی کمپنی میں ممکنہ نئی پروڈکٹس تیار کر سکنے والی ریسرچ تک محدود ہوتی ہے جو موجودہ معاشی نظام میں منافع بخش ثابت ہو سکے لیکن میڈیا پہ نعرہ انسانیت کی خدمت کا ہی لگایا جاتا ہے۔
آج کی سائنسی تحقیقات نہایت مہنگے آلات، مشینری اور سازو سامان کے بغیر ممکن نہیں جس کا خرچہ گورنمنٹ اٹھا سکتی ہے یا کسی ارب پتی کی پرائیویٹ لیبز میں دستیاب ہیں لہذا ایک سائنسدان جتنا بھی زہین ہو ان آلات اور سازو سامان کے بغیر کوئی قابلِ زکر ریسرچ نہیں کر سکتا۔ سائنسی سچ کی راہ پہ نکلنا ممکنہ طور پہ اپنے پاؤں پہ کلہاڑی مارنے کے مترادف بھی ہو سکتا ہے۔
ایسی صورتحال میں سائنسدانوں کے لئے اپنے کیریئر کو ترجیح دینا ضروری بن جاتا ہے۔ خود کو سسٹم اور "ماحول" کے مطابق ڈھالنا ضروری ہے تاکہ "سروائیو" کیا جا سکے بنسبت کہ نیو ڈارونین تھیوری کی خلاف تنقیدی مواد لکھنا شروع ہوجائیں اور ایک Rogue Scientist کہلاوائیں۔
اس موضوع پہ اور بہت کچھ لکھا جا سکتا ہے لیکن یہاں صرف مختصر انداز میں اس عمومی اعتراض کا جواب مقصود تھا کہ اگر نیو ڈارونین تھیوری حقیقتاً ایک کمزور اور ناکام ہو چکی تھیوری ہے تو اب تک رائج کیوں ہے؟

اتنے پریشر کے باوجود بھی سائنسی جریدوں میں کچھ سائنسدان ہمت کر کے نیو ڈارونین تھیوری کے بنیادی تصورات اور دعویٰ جات کی ناکامی بارے تنقیدی پیپر ضرور لکھتے ہیں آخر سچ کو زیادہ دیر تک دبایا نہیں جا سکتا۔
اس پوسٹ میں دیا گیا سائنسی پیپر بھی اسی متعلق ہے جو کہ بہت جامع اور با معنی انداز میں حقائق کو بیان کرتا ہے۔ یہ سائنسی پیپر لکھنے والا سائنسدان خود ارتقاء کو ماننے کے باوجود اس بات کو کھلے الفاظ میں تسلیم کر رہا ہے کہ نیو ڈارونین ارتقاء کے تمام بنیادی دعوے اور تصورات غلط ثابت ہو چکے ہیں اور اب کسی نئے وضاحتی فریم کی آمد متوقع ہے۔
یہ سائنسی پیپر ایک مشہور جریدے Cell میں پبلش ہوا لیکن وہاں سے پورا پڑھا نہیں جا سکتا لہذا ncbi ڈیٹا بیس کا لنک استعمال کروں گا جہاں سے یہ سائنسی پیپر پورا پڑھا جا سکتا ہے۔
Cell Publication:
https://www.cell.com/trends/genetics/fulltext/S0168-9525(09)00180-2
NCBI Database:
https://www.ncbi.nlm.nih.gov/pmc/articles/PMC2784144/#!po=37.1795

یہ سائنسی پیپر Origin of Species کے شائع ہونے کے 150 سال پورے ہونے پہ لکھا گیا اور شروعات میں ہی واضح الفاظ میں کہا گیا کہ موجودہ ڈارونین فریم ورک مکمل طور پہ ناکام ہوچکا ہے جس کی وجہ ارتقاء کا بہت سے مختلف پروسیسز اور مختلف پیٹرن پہ ہوسکنے کے سائنسی شواہد کی موجودگی ہے لہذا کٹر ڈارونین تصورات سے ہٹ کر کوئی نیا فریم ورک متوقع ہے۔ یاد رہے نیا فریم ورک ارتقاء کی ایک مکمل طور پہ مختلف تصویر پیش کر سکتا ہے۔
"The edifice of the Modern Synthesis has crumbled, apparently, beyond repair. The hallmark of the Darwinian discourse of 2009 is the plurality of evolutionary processes and patterns."
https://www.ncbi.nlm.nih.gov/pmc/articles/PMC2784144/#!po=62.8205

مزید اس پبلیکیشن میں اس نکتہ کو واضح کیا گیا کہ نیو ڈارونین فریم ورک میں پروکیریوٹس کی وضاحت اب مشکل سے ناممکن ہو چکی ہے کیونکہ مجموعی طور پہ کثیر خلوی جانداروں کی وضاحت کے لئے تیار ہوا یہ نیو ڈارونین فریم ورک پروکیریوٹس (Prokaryotes) کے ارتقاء اور اب تک موجودگی کی وضاحت کرنے میں ناکام ہے۔ ڈارونین قیاس کے مطابق پروکیریوٹس زمین میں پائے جانے والے سب سے پہلے جاندار تھے جن سے پیچیدہ کثیر خلوی جانداروں کا ارتقاء ہوا لیکن حیران کن طور پہ پروکیریوٹیس اپنے تمام تر سادہ نظام اور انہی ابتدائی (primitive) خصوصیات کے ساتھ آج بھی موجود ہیں۔ نہ صرف موجود ہیں بلکہ ناقابلِ یقین حد تک متنوع اور شدید ماحولیات میں اپنے اسی سادہ سٹرکچر کے ساتھ سروائیو بھی کر رہے ہیں۔
مزید horizontal gene transfer کی موجودگی سے نہ صرف زندگی کا درخت (Tree of Life) زمین بوس ہوچکا ہے بلکہ اس کے ساتھ ایک اور بنیادی ارتقائی تصور، تدریجی ارتقاء (gradualism) بھی زمین بوس ہوچکا ہے کیونکہ horizontal Gene transfer میں چھوٹی چھوٹی تبدیلیاں لمبے عرصے میں اکٹھی نہیں ہوتیں بلکہ پورے کا پورا جین یا ڈی این اے کا ایک بڑا حصہ ایک بیکٹیریا سے دوسرے بیکٹیریا میں منتقل ہوتا ہے پروکیریوٹیس میں جینیاتی میٹیریل شئیر کرنے کا یہ ایک عمومی طریقہ ہے جو کہ تدریجی ارتقائی عقیدہ کے برعکس ہے۔
"The discovery of pervasive HGT and the overall dynamics of the genetic universe destroys not only the Tree of Life as we knew it but also another central tenet of the Modern Synthesis inherited from Darwin, gradualism."
https://www.ncbi.nlm.nih.gov/pmc/articles/PMC2784144/#!po=62.8205

نیو ڈارونین ارتقاء کا ایک اور بنیادی تصور جس کے مطابق فطری چناؤ (natural selection) مجموعی طور پہ ارتقائی تاریخ میں تمام تر جانداروں کے ارتقاء کا زمہ دار ہے یہ بھی موجودہ دور کی سائنسی تحقیقات اور انفارمیشن کے سامنے پرانے دور کی بوسیدہ سوچ بن کر رہ گیا ہے بلکل ایسے ہی جیسے تدریجی ارتقاء اور زندگی کا درخت ناکام ہوتے تصورات بن چکے ہیں۔ نیوٹرل تھیوری کے آنے سے اور پھر حالیہ دور کی تحقیقات سے ایسے شواہد سامنے ائے ہیں جس کے مطابق ارتقاء اگر ہوا بھی ہے تو adaptive نہیں بلکہ neutral ہے جس کے مطابق جانداروں کے جینوم میں فکس ہونے والی مجموعی میوٹیشن اڈاپٹیشن نہیں ہیں جو کہ فطری چناؤ سے فکس ہوئیں بلکہ یہ میوٹیشنز نیوٹرل ہیں جو رینڈم ڈرفٹ اور دیگر پروسیسز کا نتیجہ ہیں۔ لہذا کٹر ڈارونین عقیدہ جس کے مطابق مفید میوٹیشن فطری چناؤ سے فکس ہوتی ہیں اور تمام تر ارتقاء ہوتا ہے ایک بوسیدہ سوچ اور پرانے وقتوں کی باتیں ہیں۔ جدید سائنسی تحقیقات کٹر ڈارونین تصورات اور قیاسات سے بہت مختلف تصویر دیکھا رہی ہیں۔
"Equally outdated is the (neo)Darwinian notion of the adaptive nature of evolution: clearly, genomes show very little if any signs of optimal design, and random drift constrained by purifying in all likelihood contributes (much) more to genome evolution than Darwinian selection"
https://www.ncbi.nlm.nih.gov/pmc/articles/PMC2784144/#!po=62.8205

سائنسی جریدے Cell میں پبلش ہونے والے اس سائنسی پیپر کے آخر میں طنزیہ انداز میں اور بلکل واضح الفاظ میں کہا گیا ہے اتنے واضح الفاظ میں کہ میرے لیے بھی تھوڑا حیران کن تھا۔
تمام جدید سائنسی تحقیقات کو مد نظر رکھتے ہوئے اس پبلیکیشن میں یہ نتیجہ اخذ کیا گیا کہ نیو ڈارونین ارتقاء کے تمام بنیادی عقائد، قیاس اور تصورات یا تو مکمل طور پہ ناکام ہوچکے ہیں یا ان کا متبادل ا چکا ہے۔
لہذا سادہ الفاظ میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ نیو ڈارونین ارتقاء (Neo Darwinism) ماضی کا قصہ بن چکا ہے...!!
"The summary of the state of affairs on the 150th anniversary of the Origin is somewhat shocking: in the post-genomic era, all major tenets of the Modern Synthesis are, if not outright overturned, replaced by a new and incomparably more complex vision of the key aspects of evolution (Box 1). So, not to mince words, the Modern Synthesis is gone."
https://www.ncbi.nlm.nih.gov/pmc/articles/PMC2784144/#!po=62.8205

تمام سائنسی حقائق آپ کے سامنے ہیں نیو ڈارونین ارتقاء کے تمام بنیادی تصورات غلط ثابت ہو چکے ہیں۔ چاہے وہ نیو ڈارونزم کا بنیادی تصور ایک بڑا اور مسلسل زندگی کا درخت (Tree of Life) ہو۔
یا نیو ڈارونزم کا بنیادی تصور تدریجی ارتقاء (Gradualism) ہو۔
یا نیو ڈارونزم کا ایک اور بنیادی تصور جس کے مطابق فطری چناؤ مفید میوٹیشن کو فکس کر کے تمام تر ارتقاء کا زمہ دار ہے۔
یہاں ایک نکتہ واضح کرنا چاہوں گا اس سائنس پبلیکشن میں ایک جگہ تمام جانداروں کے مشترکہ اجداد کو ایک حقیقت کہا گیا ہے جبکہ سائنس لحاظ سے یہ بات غلط ہے تمام جانداروں کے مشترکہ اجداد ایک مفروضہ ہے اور ایک عمومی تصور کے طور پہ رائج ہے اس مفروضے کو آجتک سائنس بنیادوں پہ ٹیسٹ نہیں کیا گیا۔ یاد رہے یہ مستند ثابت شدہ سائنس کا حصہ نہیں بلکہ ایک عمومی "مفروضہ" ہے۔ اس موضوع پہ میری ایک پوسٹ کا لنک
https://m.facebook.com/groups/1191878070977827?view=permalink&id=1269812823184351
اب آپ حضرات مجھے بتائیں کہ نیو ڈارونزم کا باقی کیا بچا ہے؟ سوائے ایک جذباتی عقیدت مند ڈارونی ارتقاء کو بغیر کسی سمجھ کے صرف احساس کمتری یا خود کو تعلیم یافتہ کہلوانے کے ذہنی پریشر میں اندھا دھند مانتا چلا جائے!

----------------------------------------
Written and Researched by
Sohaib Zobair

Comments

Popular posts from this blog

کیا سائنسدانوں نے مصنوعی خلیہ بنا لیا ؟

کیا سائنس دانوں نے مصنوعی خلیہ بنا لیا؟ تحریر: ڈاکٹر نثار احمد پچھلے کچھ دنوں سے کچھ فورمز پر یہ بحث چھڑی ہوئی ہے کہ کچھ حیاتیات دانوں نے تجربہ گاہ میں مصنوعی خلیے تیار کر لئے ہیں۔ تفصیلات اس لنک میں۔ https://www.sciencemag.org/news/2018/11/biologists-create-most-lifelike-artificial-cells-yet اس تمام بحث سے پہلے آپ کو یہ جاننا ہوگا کہ خلیہ دراصل ہوتا کیا ہے۔ خلیے کی تعریف ہم یوں کرسکتے ہیں کہ یہ زندگی کی ساختی اور فعلیاتی اکائی ہے۔ ایک خلیے کے اندر سینکڑوں مختلف عضویے ہوتے ہیں جو مل جل کر فیکٹری کی طرح کام کرتے ہیں۔ اس کے علاوہ متعدد اینزائمز بھی موجود ہوتے ہیں جو کیمیائی تعاملات میں عمل انگیز کے طور پر کام کرتے ہیں۔ اس کے علاوہ یہ خلیہ تقسیم در تقسیم ہو کر اپنے جیسے مزید خلیے بنا سکتا ہے۔ کچھ جاندار ایسے بھی پائے جاتے ہیں جو صرف ایک خلیے پر مشتمل ہوتے ہیں۔ انہیں ہم یک خلوی جاندار بھی کہتے ہیں۔ اوپر دئیے گئے آرٹیکل میں جو کہ سائنس جریدے میں پبلش ہوا کوئی بہت زیادہ نیا کارنامہ نہیں کیا گیا۔ اس پیپر میں بتایا گیا کہ کہ تجربہ گاہ میں کچھ خلیوں سے ملتی جلتی ساختیں بنائی گئیں جن م...

سانڈے کا تیل میڈیکل سائنس کی نظر میں !

سانڈے کا تیل میڈیکل سائنس کی نظر میں ! جنسی و نفسیاتی بیماریاں اور جانوروں کا قتل عام ۔۔۔! (18+ تحریر) __________________ تحقیق و تحریر : حسن خلیل چیمہ ______________________________________________ نوٹ : ( یہ تحریر عوامی آگاہی اور معصوم جانوروں کے بے جا قتل عام کو روکنے کے لئے اور عوام تک جدید میڈیکل سائنس کی رخ سے درست معلومات پہنچانے کی ایک کوشش ہے سانڈے کے تیل کے بارے میں اپنی رائے اور تجربے کو ایک طرف رکھ کہ اس تحریر کا مکمل مطالعہ کرنے کے بعد ہی اختلاف کریں شکریہ ) (خواتین اس تحریر کو پڑھنے سے اجتناب کریں ) ہمیشہ سے یہ دیکھ کر دکھ ہوتا ہے کہ جہاں دنیا سائنس و ٹیکنالوجی میں ترقی کرتی جا رہی ہے وہی ہم پاکستانی آج بھی اسی زمانہ قدیم میں جی رہیں ہیں جس میں انسانی سائنسی انقلاب سے پہلے ہمارے اجداد نے زندگی  گزاری  آج بھی ہم اسی طریقہ کار پر چل رہیں ہیں جہاں بیمار ہونے پر  اندازے سے دوا دینے والا کوئی حکیم ہوتا تھا جو مختلف جڑی بوٹیوں کو ملا کر کوئی ایسی دوا دے دیتا تھا جو وقتی طور ریلیف فراہم کرتی تھی کیونکہ ان وقتوں میں لوگوں کی خوارک میں زیادہ ملاوٹ نہ تھ...

قرآن اور سرن لیبارٹری

سورة انبیاء کی آیت نمبر 30 اور سرن لیبارٹری ۔۔۔!!! ____________________ سورۃ الانبیاء آیت نمبر 30 میں ربِ کائنات فرماتا ہے کہ اَوَلَمۡ يَرَ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡۤا اَنَّ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضَ كَانَتَا رَتۡقًا فَفَتَقۡنٰهُمَا‌ؕ وَجَعَلۡنَا مِنَ الۡمَآءِ كُلَّ شَىۡءٍ حَىٍّ‌ؕ اَفَلَا يُؤۡمِنُوۡنَ‏ ﴿۳۰﴾ کیا کافروں نے نہیں دیکھا کہ آسمان اور زمین دونوں ملے ہوئے تھے تو ہم نے جدا جدا کردیا۔ اور تمام جاندار چیزیں ہم نے پانی سے بنائیں۔ پھر یہ لوگ ایمان کیوں نہیں لاتے؟  ﴿۳۰﴾ معزز قارئین علماء کے نزدیک یہ آیت بگ بینگ سے متعلق ہے کہ ایک عظیم الشان دھماکہ ہوا جس سے اربوں میل دور تک دھواں پھیل گیا پھر اس دھوئیں میں سے  ٹھوس اجسام ستارے ،سیارے اور کومینٹس وغیرہ بننے کا عمل شروع ہوا ایک اور جگہ  ارشاد ہے کہ ثُمَّ اسۡتَوٰىۤ اِلَى السَّمَآءِ وَهِىَ دُخَانٌ فَقَالَ لَهَا وَلِلۡاَرۡضِ ائۡتِيَا طَوۡعًا اَوۡ كَرۡهًاؕ قَالَتَاۤ اَتَيۡنَا طَآٮِٕعِيۡنَ‏ ﴿۱۱﴾ پھر آسمان کی طرف متوجہ ہوا اور وہ دھواں تھا تو اس نے اس سے اور زمین سے فرمایا کہ دونوں آؤ (خواہ) خوشی سے خواہ ناخوشی سے۔ انہوں...