نیو ڈارونزم (Neo-Darwinism) جانداروں کے اعضاء، ساخت اور اڈاپٹییشنز میں پائی جانے والی مماثلت کو فوراً مشترکہ اجداد کا نتیجہ قرار دے دیتا ہے اور کسی بھی متبادل وضاحت کو زیر بحث نہیں لانا۔
مشترکہ اجداد کا مفروضہ ارتقائی سائنسدانوں میں ڈارون پرستی کی وجہ سے ایک عمومی سوچ کے طور پہ رائج ہے جبکہ اس کے ثبوت ناکافی ہیں
حقیقت اس سے بہت مختلف ہے!
جانداروں میں اکثریتی اعضاء، ساخت اور اڈاپٹیشنز کنورجنٹ ارتقاء (Convergent Evolution) کا نتیجہ ہیں۔
مثال کے طور پہ تمام تر ڈارون پرستی کے باوجود ارتقائی سائنسدان یہ ماننے پہ مجبور ہیں کہ مختلف جانداروں کی نسلوں میں مختلف اقسام کی آنکھوں کا ارتقاء تقریباً 40 مختلف بار ہوا۔۔۔!
آنکھ کسی ایک مشترکہ جد میں حادثاتی میوٹیشنز کی وجہ سے ظہور پزیر ہو کر پھر وقت کے ساتھ اگلی نسلوں میں منتقل "نہیں" ہوئی۔
یہ کیسے ممکن ہے کہ نیو ڈارونزم جیسے غیر سمتی، بے مقصد، بے معنی ارتقائی پروسیس کے ذریعے ایک ہی قسم کا اعضاء تقریباً 40 بار مختلف اقسام کے جانداروں میں ارتقاء پذیر ہو۔۔۔!
یہ سائنسی شواہد ڈارون پرست سائنسدانوں کو ہضم نہیں ہوتے لہذا ہر طرح کے قیاس و کہانیوں سے آنکھ کے ارتقاء کو بھی مشترکہ اجداد کی دلدل میں لانے کی پرزور کوشش ہر وقت جاری ہے۔
مشترکہ اجداد مفروضے کی غیر متوازن اور مفروضاتی بنیادوں کو سمجھنے کے لئے اس پوسٹ کو پڑھیں۔
https://m.facebook.com/groups/1191878070977827?view=permalink&id=1269812823184351
----------------------------------------
Sohaib Zobair

Comments
Post a Comment