|437 Million years Old Scorpion Fossils|
ڈارونین ارتقاء یہ دعوی کرتا ہے کہ اگر آپ موجودہ دور سے ماضی کی طرف جانا شروع کریں تو آپ کو جانداروں کی ساخت، اجسام اور مارفالوجی مختلف نظر آئے گی۔ اگر ماضی میں کافی دور تک چلے جائیں دو یا تین سو ملین سال پہلے تو آپ کو موجودہ جانداروں جیسا کوئی جاندار نظر نہیں آئے گا کیونکہ جاندار وقت اور ماحول کے ساتھ اپنی ساخت، اجسام اور مارفالوجی بدلتے ا رہے ہیں۔
لیکن مسئلہ یہ ہے کہ سائنسی شواہد اس کے برعکس ہیں۔ جنوری 2020 میں نیچر جریدے میں پبلش ہوا سائنسی پیپر ایسے فاسل شواہد کو رپورٹ کرتا ہے جس کے مطابق 437 ملین سال پہلے ٹیکسامک آرڈر Scorpiones کے رکن بِچھو Parioscorpio venator اپنی ہوبہو اندرونی ساخت اور قدرے مماثل بیرونی ساخت کے ساتھ موجود تھا۔ ویسی ہی ساخت جیسی آج کے دور کے بِچھوؤں کی ہے۔
اگر ڈارونین تھیوری کے مفروضہ جات اور قیاسات درست ہوں تو ایسے فاسل بچھو دریافت ہونا ممکن نہیں۔ کیوں؟ اس کی وضاحت کے لئے یہاں کچھ اہم نکات کا زکر کرنا چاہوں گا۔
سائنسی شواہد کے مطابق کثیر خلوی پیچیدہ جاندار تقریباً 540 ملین سال پہلے اپنی فائلم (Phylum) سطح کی جسمانی ساخت کے ساتھ جیالوجک ٹائم سکیل کے مطابق اچانک ظہور پذیر ہوئے۔ حال ہی میں تحقیق سے سامنے آئے دو فاسل بچھوؤں کی عمر 437 ملین سال ہے۔ یعنی تقریباً کثیر خلوی پیچیدہ جانداروں کی پوری ارتقائی تاریخ گزر جانے کے بعد بھی وہ ارتقائی تبدیلی نظر نہیں آئی جس کا دعویٰ ڈارونین ارتقاء کرتا ہے۔
اگر یہ کہا جائے کہ ماحول تبدیل نہیں ہوا تھا تو اس سے زیادہ غیر سائنسی اور غیر منطقی معذرت خواہانہ جواب اور کوئی نہ ہوگا کیونکہ 437 ملین سال میں بچھوؤں نے ارتقائی تاریخ کے تمام پانچ بڑی معدومیت (Big Five Extinctions) کے واقعات کا سامنا کیا۔ اس کے علاؤہ درجنوں چھوٹی اور درمیانی سطح کی علاقائی معدومیت کے واقعات بھی ہیں۔
مزید یہ کہ رینڈم میوٹیشنز ہر وقت جاری ہیں یہ رک نہیں سکتیں۔ یہ Spontaneous ہیں۔ ایک لمبے عرصے 437 ملین سال میں ہونے والی اربوں نقصان دہ اور مفید میوٹیشنز کس کھاتے گئیں؟ نہ نقصان دہ میوٹیشن کی وجہ سے فطری چناؤ نے بچھو فلٹر کر کے ناپید کیے اور نہ فطری چناؤ نے مفید میوٹیشنز کی وجہ سے ارتقاء کروایا۔ ماحول کا اس عرصے میں مسلسل تبدیل ہونا اور پانچ بڑی
معدومیت کے واقعات کا سامنا کرنا، یہ Abiotic پریشر تھا۔
بچھوؤں کی خوراک بننے والے جانداروں کی اڈاپٹیشنز یا ارتقاء اور بچھوؤں کا شکار کرنے والے جانداروں کی اڈپٹیشنز یا ارتقاء کرنے سے جو Biotic پریشر بچھووں پہ پڑا اس کے جواب میں بھی ڈارونین ارتقاء نہ ہوا۔
یہ سب جیالوجک، جنیاتی اور ماحولیات حقائق ہیں جن کو جھٹلانا ناممکن ہے!
بچھوؤں کا سائنسی نام Scorpiones ہے جو ٹکسانامک درجے پہ آرڈر (Order) کہلاتا ہے اور ان کی 2000 کے قریب مختلف اقسام یا سپیشیز ہیں۔ ان کا سائز آدھے انچ سے لے آٹھ انچ تک ہوتا ہے۔ آج سے 437 ملین سال پہلے بھی یہ بچھو تھے اور آج بھی یہ بچھو ہی ہیں۔۔۔!
جن فاسل بچھوؤں کی میں بات کر رہا ہوں یہ اصل میں 1980 میں دریافت ہوئے اور بغیر تحقیق کے ان فاسلز کو Wisconsin Geology Museum کے تہ خانے میں بند کر دیا گیا۔ حال ہی میں Wendruff نے اپنی پی ایچ ڈی کے دوران اس تہ خانے کا دورہ کیا اور ان فاسلز پہ نظر پڑی۔ شک ہوا کہ یہ بچھو کے فاسلز ہیں کیونکہ ساخت بہت مماثل تھی۔ تحقیق کے بعد پیپر پبلش کیا اور پیپر میں یہ حقائق بیان کیے کہ یہ 437 ملین سال پرانے فاسل بچھو ہیں جن کی اندرونی ساخت، دورانِ خون کا نظام اور سانس لینے کا نظام آج کے دور کے بچھوؤں سے مکمل طور پہ مماثلت رکھتا ہے۔
آرٹیکل ملاحظہ کریں:
"This suggests that parts of the internal anatomy of scorpions have not changed much in nearly 440 million years"
https://www.sciencemag.org/news/2020/01/oldest-scorpion-known-science
اس کے بعد یہ سوال پیدا ہوا کیا یہ فاسل بچھو ان ابتدائی بچھوؤں کی نمائندگی کرتے ہیں جو ڈارونین ارتقاء کے مفروضے کے مطابق پانی سے باہر نکل کر زمین پہ ارتقاء پذیر ہوئے؟
متعلقہ سائنسدان مباحثہ کے بعد اس نتیجہ پہ پہنچے ہیں کہ فلوقت ایسا کوئی ثبوت موجود نہیں جو یہ واضح کرے کہ یہ فاسل بچھو پانی میں رہتے تھے یا پانی اور خشکی دونوں پہ رہنے کے قابل تھے جو کہ ڈارونین ارتقاء کا مفروضہ ہے۔
لیکن یہ حقائق واضح ہیں کہ 437 ملین سال پرانے ان فاسل بچھوؤں کی اندرونی ساخت آج کے دور کے بچھوؤں سے مماثلت رکھتی ہے لہذا اس کا سیدھا جواب یہی ہے کہ یہ خشکی پہ سانس لینے والے موجودہ دور کے عام بچھوؤں جیسے ہی تھے۔
آرٹیکل ملاحظہ کریں:
"Wendruff and his colleagues argue that because the internal structure of P. venator is so similar to that of modern scorpions, it is very likely it could have lived on land and breathed air."
https://www.sciencemag.org/news/2020/01/oldest-scorpion-known-science
مختصر طور پہ کہا جائے تو تحقیق شدہ فاسل بچھوؤں کی بیرونی ساخت اور اندرونی ساخت میں سانس لینے کا نظام اور دورانِ خون کا نظام موجودہ دور کے خشکی پہ رہنے والے بچھوؤں جیسا ہی تھا۔ یہ437 ملین سال پہلے بھی بچھو تھے اور آج بھی بچھو ہی ہیں!
جبکہ ڈارونین ارتقاء کے حق میں ہمیشہ کی طرح صرف غیر ثابت شدہ مفروضے اور قیاس ہیں جن کا کوئی ٹھوس ثبوت موجود نہیں۔
---------------------------------------------
Sohaib Zobair
ڈارونین ارتقاء یہ دعوی کرتا ہے کہ اگر آپ موجودہ دور سے ماضی کی طرف جانا شروع کریں تو آپ کو جانداروں کی ساخت، اجسام اور مارفالوجی مختلف نظر آئے گی۔ اگر ماضی میں کافی دور تک چلے جائیں دو یا تین سو ملین سال پہلے تو آپ کو موجودہ جانداروں جیسا کوئی جاندار نظر نہیں آئے گا کیونکہ جاندار وقت اور ماحول کے ساتھ اپنی ساخت، اجسام اور مارفالوجی بدلتے ا رہے ہیں۔
لیکن مسئلہ یہ ہے کہ سائنسی شواہد اس کے برعکس ہیں۔ جنوری 2020 میں نیچر جریدے میں پبلش ہوا سائنسی پیپر ایسے فاسل شواہد کو رپورٹ کرتا ہے جس کے مطابق 437 ملین سال پہلے ٹیکسامک آرڈر Scorpiones کے رکن بِچھو Parioscorpio venator اپنی ہوبہو اندرونی ساخت اور قدرے مماثل بیرونی ساخت کے ساتھ موجود تھا۔ ویسی ہی ساخت جیسی آج کے دور کے بِچھوؤں کی ہے۔
اگر ڈارونین تھیوری کے مفروضہ جات اور قیاسات درست ہوں تو ایسے فاسل بچھو دریافت ہونا ممکن نہیں۔ کیوں؟ اس کی وضاحت کے لئے یہاں کچھ اہم نکات کا زکر کرنا چاہوں گا۔
سائنسی شواہد کے مطابق کثیر خلوی پیچیدہ جاندار تقریباً 540 ملین سال پہلے اپنی فائلم (Phylum) سطح کی جسمانی ساخت کے ساتھ جیالوجک ٹائم سکیل کے مطابق اچانک ظہور پذیر ہوئے۔ حال ہی میں تحقیق سے سامنے آئے دو فاسل بچھوؤں کی عمر 437 ملین سال ہے۔ یعنی تقریباً کثیر خلوی پیچیدہ جانداروں کی پوری ارتقائی تاریخ گزر جانے کے بعد بھی وہ ارتقائی تبدیلی نظر نہیں آئی جس کا دعویٰ ڈارونین ارتقاء کرتا ہے۔
اگر یہ کہا جائے کہ ماحول تبدیل نہیں ہوا تھا تو اس سے زیادہ غیر سائنسی اور غیر منطقی معذرت خواہانہ جواب اور کوئی نہ ہوگا کیونکہ 437 ملین سال میں بچھوؤں نے ارتقائی تاریخ کے تمام پانچ بڑی معدومیت (Big Five Extinctions) کے واقعات کا سامنا کیا۔ اس کے علاؤہ درجنوں چھوٹی اور درمیانی سطح کی علاقائی معدومیت کے واقعات بھی ہیں۔
مزید یہ کہ رینڈم میوٹیشنز ہر وقت جاری ہیں یہ رک نہیں سکتیں۔ یہ Spontaneous ہیں۔ ایک لمبے عرصے 437 ملین سال میں ہونے والی اربوں نقصان دہ اور مفید میوٹیشنز کس کھاتے گئیں؟ نہ نقصان دہ میوٹیشن کی وجہ سے فطری چناؤ نے بچھو فلٹر کر کے ناپید کیے اور نہ فطری چناؤ نے مفید میوٹیشنز کی وجہ سے ارتقاء کروایا۔ ماحول کا اس عرصے میں مسلسل تبدیل ہونا اور پانچ بڑی
معدومیت کے واقعات کا سامنا کرنا، یہ Abiotic پریشر تھا۔
بچھوؤں کی خوراک بننے والے جانداروں کی اڈاپٹیشنز یا ارتقاء اور بچھوؤں کا شکار کرنے والے جانداروں کی اڈپٹیشنز یا ارتقاء کرنے سے جو Biotic پریشر بچھووں پہ پڑا اس کے جواب میں بھی ڈارونین ارتقاء نہ ہوا۔
یہ سب جیالوجک، جنیاتی اور ماحولیات حقائق ہیں جن کو جھٹلانا ناممکن ہے!
بچھوؤں کا سائنسی نام Scorpiones ہے جو ٹکسانامک درجے پہ آرڈر (Order) کہلاتا ہے اور ان کی 2000 کے قریب مختلف اقسام یا سپیشیز ہیں۔ ان کا سائز آدھے انچ سے لے آٹھ انچ تک ہوتا ہے۔ آج سے 437 ملین سال پہلے بھی یہ بچھو تھے اور آج بھی یہ بچھو ہی ہیں۔۔۔!
جن فاسل بچھوؤں کی میں بات کر رہا ہوں یہ اصل میں 1980 میں دریافت ہوئے اور بغیر تحقیق کے ان فاسلز کو Wisconsin Geology Museum کے تہ خانے میں بند کر دیا گیا۔ حال ہی میں Wendruff نے اپنی پی ایچ ڈی کے دوران اس تہ خانے کا دورہ کیا اور ان فاسلز پہ نظر پڑی۔ شک ہوا کہ یہ بچھو کے فاسلز ہیں کیونکہ ساخت بہت مماثل تھی۔ تحقیق کے بعد پیپر پبلش کیا اور پیپر میں یہ حقائق بیان کیے کہ یہ 437 ملین سال پرانے فاسل بچھو ہیں جن کی اندرونی ساخت، دورانِ خون کا نظام اور سانس لینے کا نظام آج کے دور کے بچھوؤں سے مکمل طور پہ مماثلت رکھتا ہے۔
آرٹیکل ملاحظہ کریں:
"This suggests that parts of the internal anatomy of scorpions have not changed much in nearly 440 million years"
https://www.sciencemag.org/news/2020/01/oldest-scorpion-known-science
اس کے بعد یہ سوال پیدا ہوا کیا یہ فاسل بچھو ان ابتدائی بچھوؤں کی نمائندگی کرتے ہیں جو ڈارونین ارتقاء کے مفروضے کے مطابق پانی سے باہر نکل کر زمین پہ ارتقاء پذیر ہوئے؟
متعلقہ سائنسدان مباحثہ کے بعد اس نتیجہ پہ پہنچے ہیں کہ فلوقت ایسا کوئی ثبوت موجود نہیں جو یہ واضح کرے کہ یہ فاسل بچھو پانی میں رہتے تھے یا پانی اور خشکی دونوں پہ رہنے کے قابل تھے جو کہ ڈارونین ارتقاء کا مفروضہ ہے۔
لیکن یہ حقائق واضح ہیں کہ 437 ملین سال پرانے ان فاسل بچھوؤں کی اندرونی ساخت آج کے دور کے بچھوؤں سے مماثلت رکھتی ہے لہذا اس کا سیدھا جواب یہی ہے کہ یہ خشکی پہ سانس لینے والے موجودہ دور کے عام بچھوؤں جیسے ہی تھے۔
آرٹیکل ملاحظہ کریں:
"Wendruff and his colleagues argue that because the internal structure of P. venator is so similar to that of modern scorpions, it is very likely it could have lived on land and breathed air."
https://www.sciencemag.org/news/2020/01/oldest-scorpion-known-science
مختصر طور پہ کہا جائے تو تحقیق شدہ فاسل بچھوؤں کی بیرونی ساخت اور اندرونی ساخت میں سانس لینے کا نظام اور دورانِ خون کا نظام موجودہ دور کے خشکی پہ رہنے والے بچھوؤں جیسا ہی تھا۔ یہ437 ملین سال پہلے بھی بچھو تھے اور آج بھی بچھو ہی ہیں!
جبکہ ڈارونین ارتقاء کے حق میں ہمیشہ کی طرح صرف غیر ثابت شدہ مفروضے اور قیاس ہیں جن کا کوئی ٹھوس ثبوت موجود نہیں۔
---------------------------------------------
Sohaib Zobair

Comments
Post a Comment