Skip to main content

|300 Million Years Old Dragonfly Fossils|


ڈریگن مکھی عام پائے جانے والا کیڑا ہے۔ یہ آپ کو باغوں اور کھیتوں میں اڑتی ہوئی ملتیں ہیں۔ بچے بڑے شوق سے ان کو ڈھونڈتے ہیں اور ان کو پکڑنے کی کوشش کرتے ہیں۔ یہ بہت سے خوبصورت رنگوں میں پائی جاتیں ہیں اور اڑنے میں بہت تیز ہوتیں ہیں۔ یہ دنیا کی ہر علاقے میں موجود ہیں۔ ڈریگن مکھی آج سے کئی سو ملین سال پہلے بھی موجود تھیں اور آج کے دور میں بھی بغیر کسی نیو ڈارونین ارتقائی تبدیلی کے موجود ہیں اس نکتہ پہ میں کچھ سائنسی حقائق شئیر کرنا چاہوں گا۔

ایک مشہور سائنس پبلیکشن ڈیٹا بیس Science Direct میں 2016 کی ایک سائنس پبلیکشنز کے مطابق ڈریگن مکھی کا ایک فاسل ملا جو Mid Cretaceous دور کا ہے۔ Cretaceous Period 145 ملین سال سے لے کر 66 ملین سال تک کا دور کہلاتا ہے. اس لحاظ سے Mid Cretaceous کا مطلب ہے ڈریگن مکھی کا یہ فاسل کم از کم 105 ملین سال پرانا ہے۔ یہ ڈریگن مکھی کا دوسرا فاسل ہے جو اس دور کا ہے۔
سو ملین سال پہلے بھی ڈریگن مکھی موجود تھی اور آج بھی موجود ہے!
"A new dragonfly Cretagomphaeschnaoides jarzembowskae gen. et sp. nov., is described from mid-Cretaceous Burmese amber.....This fossil is the second record of Anisoptera in Cretaceous amber."
https://www.sciencedirect.com/science/article/abs/pii/S0016787816300827

نیچر جریدے میں 2018 میں ایک پیپر پبلش ہوا۔ اس پیپر میں ڈریگن مکھی Meganeurid کے ایک 300 ملین سال پرانے فاسل پہ کی گئی تحقیق کو پیش کیا گیا۔ یہ ڈریگن مکھی اپنی شکاری خصوصیات اور ساخت میں موجودہ دور کی ڈریگن مکھی جیسی ہی تھی صرف جسامت میں کافی بڑی تھی۔ اس کا سائز ایک پر سے لے کر دوسرے پر تک 71cm تھا جو کہ تقریباً ڈھائی فٹ بنتا ہے۔ موجودہ دور کی ڈریگن مکھی کا سائز زیادہ سے زیادہ 4 انچ ہے۔
ڈریگن مکھی آج سے 300 ملین سال پہلے بھی پائی جاتی تھی اور آج بھی موجود ہے۔ اس میں نیو ڈارونین ارتقاء کا کوئی ثبوت نہیں۔ تین سو ملین سال میں نہ تو یہ کبوتر بن سکی اور نہ ڈائنوسار بن سکی۔
"The discovery of evidence relating to the palaeobiology of the charismatic, iconic, and giant dragonflies also reveals a remarkable consistency in predatory biology, as well as a range of variants known still today, along the odonatopteran lineage over the course of at least 300 million years."
https://www.nature.com/articles/s41598-018-30629-w

فاسل ریکارڈ میں جہاں بھی نظر ڈالیں نیو ڈارونین ارتقاء کا کوئی ثبوت میسر نہیں آتا۔ بلکہ فاسل ریکارڈ نیو ڈادونین ارتقاء کے خلاف شواہد سے بھرا پڑا ہے۔ چاہے جتنا مرضی وقت گزر جائے، جاندار اپنی ساخت میں تخیلاتی میکرو ارتقاء نہیں کرتے۔ ڈریگن مکھی کی تقریباً 5,000 مختلف اقسام ہیں۔
https://link.springer.com/chapter/10.1007/978-1-4020-8259-7_38
 لیکن تین سو ملین سال بعد بھی یہ اپنی ساخت میں ویسے کی ویسی ہے۔

--------------------------------------------------
Sohaib Zobair

Comments

Popular posts from this blog

کیا سائنسدانوں نے مصنوعی خلیہ بنا لیا ؟

کیا سائنس دانوں نے مصنوعی خلیہ بنا لیا؟ تحریر: ڈاکٹر نثار احمد پچھلے کچھ دنوں سے کچھ فورمز پر یہ بحث چھڑی ہوئی ہے کہ کچھ حیاتیات دانوں نے تجربہ گاہ میں مصنوعی خلیے تیار کر لئے ہیں۔ تفصیلات اس لنک میں۔ https://www.sciencemag.org/news/2018/11/biologists-create-most-lifelike-artificial-cells-yet اس تمام بحث سے پہلے آپ کو یہ جاننا ہوگا کہ خلیہ دراصل ہوتا کیا ہے۔ خلیے کی تعریف ہم یوں کرسکتے ہیں کہ یہ زندگی کی ساختی اور فعلیاتی اکائی ہے۔ ایک خلیے کے اندر سینکڑوں مختلف عضویے ہوتے ہیں جو مل جل کر فیکٹری کی طرح کام کرتے ہیں۔ اس کے علاوہ متعدد اینزائمز بھی موجود ہوتے ہیں جو کیمیائی تعاملات میں عمل انگیز کے طور پر کام کرتے ہیں۔ اس کے علاوہ یہ خلیہ تقسیم در تقسیم ہو کر اپنے جیسے مزید خلیے بنا سکتا ہے۔ کچھ جاندار ایسے بھی پائے جاتے ہیں جو صرف ایک خلیے پر مشتمل ہوتے ہیں۔ انہیں ہم یک خلوی جاندار بھی کہتے ہیں۔ اوپر دئیے گئے آرٹیکل میں جو کہ سائنس جریدے میں پبلش ہوا کوئی بہت زیادہ نیا کارنامہ نہیں کیا گیا۔ اس پیپر میں بتایا گیا کہ کہ تجربہ گاہ میں کچھ خلیوں سے ملتی جلتی ساختیں بنائی گئیں جن م...

سانڈے کا تیل میڈیکل سائنس کی نظر میں !

سانڈے کا تیل میڈیکل سائنس کی نظر میں ! جنسی و نفسیاتی بیماریاں اور جانوروں کا قتل عام ۔۔۔! (18+ تحریر) __________________ تحقیق و تحریر : حسن خلیل چیمہ ______________________________________________ نوٹ : ( یہ تحریر عوامی آگاہی اور معصوم جانوروں کے بے جا قتل عام کو روکنے کے لئے اور عوام تک جدید میڈیکل سائنس کی رخ سے درست معلومات پہنچانے کی ایک کوشش ہے سانڈے کے تیل کے بارے میں اپنی رائے اور تجربے کو ایک طرف رکھ کہ اس تحریر کا مکمل مطالعہ کرنے کے بعد ہی اختلاف کریں شکریہ ) (خواتین اس تحریر کو پڑھنے سے اجتناب کریں ) ہمیشہ سے یہ دیکھ کر دکھ ہوتا ہے کہ جہاں دنیا سائنس و ٹیکنالوجی میں ترقی کرتی جا رہی ہے وہی ہم پاکستانی آج بھی اسی زمانہ قدیم میں جی رہیں ہیں جس میں انسانی سائنسی انقلاب سے پہلے ہمارے اجداد نے زندگی  گزاری  آج بھی ہم اسی طریقہ کار پر چل رہیں ہیں جہاں بیمار ہونے پر  اندازے سے دوا دینے والا کوئی حکیم ہوتا تھا جو مختلف جڑی بوٹیوں کو ملا کر کوئی ایسی دوا دے دیتا تھا جو وقتی طور ریلیف فراہم کرتی تھی کیونکہ ان وقتوں میں لوگوں کی خوارک میں زیادہ ملاوٹ نہ تھ...

قرآن اور سرن لیبارٹری

سورة انبیاء کی آیت نمبر 30 اور سرن لیبارٹری ۔۔۔!!! ____________________ سورۃ الانبیاء آیت نمبر 30 میں ربِ کائنات فرماتا ہے کہ اَوَلَمۡ يَرَ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡۤا اَنَّ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضَ كَانَتَا رَتۡقًا فَفَتَقۡنٰهُمَا‌ؕ وَجَعَلۡنَا مِنَ الۡمَآءِ كُلَّ شَىۡءٍ حَىٍّ‌ؕ اَفَلَا يُؤۡمِنُوۡنَ‏ ﴿۳۰﴾ کیا کافروں نے نہیں دیکھا کہ آسمان اور زمین دونوں ملے ہوئے تھے تو ہم نے جدا جدا کردیا۔ اور تمام جاندار چیزیں ہم نے پانی سے بنائیں۔ پھر یہ لوگ ایمان کیوں نہیں لاتے؟  ﴿۳۰﴾ معزز قارئین علماء کے نزدیک یہ آیت بگ بینگ سے متعلق ہے کہ ایک عظیم الشان دھماکہ ہوا جس سے اربوں میل دور تک دھواں پھیل گیا پھر اس دھوئیں میں سے  ٹھوس اجسام ستارے ،سیارے اور کومینٹس وغیرہ بننے کا عمل شروع ہوا ایک اور جگہ  ارشاد ہے کہ ثُمَّ اسۡتَوٰىۤ اِلَى السَّمَآءِ وَهِىَ دُخَانٌ فَقَالَ لَهَا وَلِلۡاَرۡضِ ائۡتِيَا طَوۡعًا اَوۡ كَرۡهًاؕ قَالَتَاۤ اَتَيۡنَا طَآٮِٕعِيۡنَ‏ ﴿۱۱﴾ پھر آسمان کی طرف متوجہ ہوا اور وہ دھواں تھا تو اس نے اس سے اور زمین سے فرمایا کہ دونوں آؤ (خواہ) خوشی سے خواہ ناخوشی سے۔ انہوں...