Skip to main content

|Convergent Evolution of Bioluminescence|


کیا ایک جیسی جسمانی ساخت، اڈاپٹیشنز، اعضاء اور جنیاتی حصوں کا مطلب صرف اور صرف یہ ہے کہ یہ مشترکہ اجداد کا نتیجہ ہیں؟
یعنی موجودہ جانداروں میں نظر آنے والی مماثلت کا مطلب صرف یہ ہے کہ یہ تمام جاندار ماضی میں ایک ہی مشترکہ جد سے ارتقاء پذیر ہوئے ہیں۔
بالکل بھی نہیں!
کیا مشترکہ اجداد مفروضے کے علاوہ جانداروں کی مماثلت بیان کرنے کا کوئی اور ذریعہ بھی ہے؟
جی بلکل ہے!

مثال کے طور پہ Bioluminescence ہے۔ جس میں جاندار اپنے جسم میں ہونے والے کیمیکل ری ایکشن کے ذریعے روشنی خارج کر سکتے ہیں۔ یہ کیمیکل ری ایکشن ایک مالیکول luciferin، آکسیجن اور انزائم Luciferase کی موجودگی میں وقوع پزیر ہوتا ہے۔ روشنی پیدا کر سکنے کے حامل جاندار اس ری ایکشن کے زریعے روشنی کی شدت اور اس کا رنگ منتخب کر سکنے کے قابل ہوتے ہیں۔ روشنی پیدا کر سکنے کی خاصیت بیکٹریا، جیلی فش، الجی، مچھلیوں اور کیڑوں وغیرہ میں پائی جاتی ہے۔ ان تمام جانداروں میں یہ اڈپٹیشن موجود ہے تو کیا یہ کہا جائے گا کہ ثابت ہوا کہ ان تمام جانداروں کے اجداد مشترک ہیں اور ان میں یہ خاصیت ایک مشترکہ جد کی وجہ سے آئی ہے؟!
ایسا کہنا غلط ہوگا۔۔۔!

مشہور جریدے Plos One کی ایک سائنس پبلیکیشن یہ واضح کرتی ہے کہ Bioluminescence صرف مچھلیوں کی کلاس Actinopterygii میں کم از کم 29 بار مختلف مواقعوں پہ علیحدہ علیحدہ ظہور پزیر ہوئی۔
اگر باقی تمام اقسام کے سمندری جاندار اور زمینی arthropods کو شامل کیا جائے تو Bioluminescence کا کنورجنٹ ارتقاء تقریباً 40 دفعہ سے بھی زیادہ ہوا ہے۔
یہ کسی ایک مشترکہ جد میں جنیاتی حادثے سے وقوع پزیر ہو کر اگلی نسلوں میں نہیں گئی۔
ہر مماثلت کو فوراً مشترکہ جد کا نتیجہ قرار دینا "ارتقائی مغالطہ" ہے جو ڈارون پرست حضرات کثرت کے ساتھ کرتے ہیں۔ مماثلت کو بنیاد بنا کر فوراً مشترکہ جد کا قیاس کرنا ایک عمومی مغالطہ ہے جو عمومی طور پہ غلط ہوتا ہے۔

---------------------------------------------
Sohaib Zobair


Comments

Popular posts from this blog

کیا سائنسدانوں نے مصنوعی خلیہ بنا لیا ؟

کیا سائنس دانوں نے مصنوعی خلیہ بنا لیا؟ تحریر: ڈاکٹر نثار احمد پچھلے کچھ دنوں سے کچھ فورمز پر یہ بحث چھڑی ہوئی ہے کہ کچھ حیاتیات دانوں نے تجربہ گاہ میں مصنوعی خلیے تیار کر لئے ہیں۔ تفصیلات اس لنک میں۔ https://www.sciencemag.org/news/2018/11/biologists-create-most-lifelike-artificial-cells-yet اس تمام بحث سے پہلے آپ کو یہ جاننا ہوگا کہ خلیہ دراصل ہوتا کیا ہے۔ خلیے کی تعریف ہم یوں کرسکتے ہیں کہ یہ زندگی کی ساختی اور فعلیاتی اکائی ہے۔ ایک خلیے کے اندر سینکڑوں مختلف عضویے ہوتے ہیں جو مل جل کر فیکٹری کی طرح کام کرتے ہیں۔ اس کے علاوہ متعدد اینزائمز بھی موجود ہوتے ہیں جو کیمیائی تعاملات میں عمل انگیز کے طور پر کام کرتے ہیں۔ اس کے علاوہ یہ خلیہ تقسیم در تقسیم ہو کر اپنے جیسے مزید خلیے بنا سکتا ہے۔ کچھ جاندار ایسے بھی پائے جاتے ہیں جو صرف ایک خلیے پر مشتمل ہوتے ہیں۔ انہیں ہم یک خلوی جاندار بھی کہتے ہیں۔ اوپر دئیے گئے آرٹیکل میں جو کہ سائنس جریدے میں پبلش ہوا کوئی بہت زیادہ نیا کارنامہ نہیں کیا گیا۔ اس پیپر میں بتایا گیا کہ کہ تجربہ گاہ میں کچھ خلیوں سے ملتی جلتی ساختیں بنائی گئیں جن م...

سانڈے کا تیل میڈیکل سائنس کی نظر میں !

سانڈے کا تیل میڈیکل سائنس کی نظر میں ! جنسی و نفسیاتی بیماریاں اور جانوروں کا قتل عام ۔۔۔! (18+ تحریر) __________________ تحقیق و تحریر : حسن خلیل چیمہ ______________________________________________ نوٹ : ( یہ تحریر عوامی آگاہی اور معصوم جانوروں کے بے جا قتل عام کو روکنے کے لئے اور عوام تک جدید میڈیکل سائنس کی رخ سے درست معلومات پہنچانے کی ایک کوشش ہے سانڈے کے تیل کے بارے میں اپنی رائے اور تجربے کو ایک طرف رکھ کہ اس تحریر کا مکمل مطالعہ کرنے کے بعد ہی اختلاف کریں شکریہ ) (خواتین اس تحریر کو پڑھنے سے اجتناب کریں ) ہمیشہ سے یہ دیکھ کر دکھ ہوتا ہے کہ جہاں دنیا سائنس و ٹیکنالوجی میں ترقی کرتی جا رہی ہے وہی ہم پاکستانی آج بھی اسی زمانہ قدیم میں جی رہیں ہیں جس میں انسانی سائنسی انقلاب سے پہلے ہمارے اجداد نے زندگی  گزاری  آج بھی ہم اسی طریقہ کار پر چل رہیں ہیں جہاں بیمار ہونے پر  اندازے سے دوا دینے والا کوئی حکیم ہوتا تھا جو مختلف جڑی بوٹیوں کو ملا کر کوئی ایسی دوا دے دیتا تھا جو وقتی طور ریلیف فراہم کرتی تھی کیونکہ ان وقتوں میں لوگوں کی خوارک میں زیادہ ملاوٹ نہ تھ...

قرآن اور سرن لیبارٹری

سورة انبیاء کی آیت نمبر 30 اور سرن لیبارٹری ۔۔۔!!! ____________________ سورۃ الانبیاء آیت نمبر 30 میں ربِ کائنات فرماتا ہے کہ اَوَلَمۡ يَرَ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡۤا اَنَّ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضَ كَانَتَا رَتۡقًا فَفَتَقۡنٰهُمَا‌ؕ وَجَعَلۡنَا مِنَ الۡمَآءِ كُلَّ شَىۡءٍ حَىٍّ‌ؕ اَفَلَا يُؤۡمِنُوۡنَ‏ ﴿۳۰﴾ کیا کافروں نے نہیں دیکھا کہ آسمان اور زمین دونوں ملے ہوئے تھے تو ہم نے جدا جدا کردیا۔ اور تمام جاندار چیزیں ہم نے پانی سے بنائیں۔ پھر یہ لوگ ایمان کیوں نہیں لاتے؟  ﴿۳۰﴾ معزز قارئین علماء کے نزدیک یہ آیت بگ بینگ سے متعلق ہے کہ ایک عظیم الشان دھماکہ ہوا جس سے اربوں میل دور تک دھواں پھیل گیا پھر اس دھوئیں میں سے  ٹھوس اجسام ستارے ،سیارے اور کومینٹس وغیرہ بننے کا عمل شروع ہوا ایک اور جگہ  ارشاد ہے کہ ثُمَّ اسۡتَوٰىۤ اِلَى السَّمَآءِ وَهِىَ دُخَانٌ فَقَالَ لَهَا وَلِلۡاَرۡضِ ائۡتِيَا طَوۡعًا اَوۡ كَرۡهًاؕ قَالَتَاۤ اَتَيۡنَا طَآٮِٕعِيۡنَ‏ ﴿۱۱﴾ پھر آسمان کی طرف متوجہ ہوا اور وہ دھواں تھا تو اس نے اس سے اور زمین سے فرمایا کہ دونوں آؤ (خواہ) خوشی سے خواہ ناخوشی سے۔ انہوں...