چند دن پہلے نیچر جریدے میں 100 ملین سال پرانے امبر (Amber) میں ectoparasite کے فاسلز کو رپورٹ کیا گیا جن کی ساخت (Morphology) موجودہ دور کی جوؤں (lice) سے ہوبہو مشابہت رکھتی ہے۔ امبر (Amber) کچھ درختوں سے نکلنی والی رال کو کہتے ہیں۔ جب ان درختوں کو کٹ لگتا ہے تو وہاں سے پیلے رنگ کی چپکو رال نکلتی ہے جس میں بعض اوقات مختلف کیڑے وغیرہ پھنس جاتے ہیں اگر رال کا سائز بڑا ہوتو چھوٹے پرندے، مینڈک اور مچھلیاں وغیرہ بھی اس میں پھنس کر مر جاتی ہیں۔ بعض اوقات یہ رال مناسب ماحول میں دب کر فاسل بن جاتی ہے جو اپنے ساتھ مختلف جانداروں کے اجسام کو محفوظ کیے ہوتی ہے۔ ectoparasites ایسے پیراسائٹ ہوتے ہیں جو جانداروں کے باہری جسم، جلد اور بالوں وغیرہ میں پائے جاتے ہیں۔
نیچر جریدے میں 100 ملین سال پرانے فاسل امبر میں پھنسی دس جوؤں کے اجسام کو رپورٹ کیا گیا جن کی ساخت کروڑوں سال پہلے بھی موجودہ دور کی جوؤں سے مشابہت رکھتی تھی۔ اس امبر میں ڈائنوسار کے پروں کے فاسل بھی موجود تھے اور سائنسدانوں کا خیال ہے کہ یہ جوئیں (lice) ڈائنوسار کے پروں میں ہی پائی جاتیں تھیں۔
یہ بھی کافی حیرانی کی بات ہے کہ سو ملین سال پہلے بھی ان جوؤں کا رہن سہن اور خوراک حاصل کرنے کا ذریعہ موجودہ جوؤں جیسا ہی تھا۔ یعنی نہ تو ان ectoparasites کے رہن سہن میں کوئی تبدیلی آئی اور نہ ہی ان کی ساخت میں کوئی خاص تبدیلی آئی۔ میانمار کے جنگلات سے حاصل کیے گئے امبر میں پھنسے ان دس کے قریب پیراسائٹس کا ایورج سائز 0.2 ملی میٹر ہے اور ان کو سائنسی نام Mesophthirus engeli دیا گیا ہے۔
ایسے سینکڑوں فاسلز آجتک دریافت ہو چکے ہیں جو کروڑوں اور اربوں سال پہلے کے ہیں اور موجودہ دور کے جانداروں سے مشابہت رکھتے ہیں لیکن ان میں کوئی ڈارونی ارتقاء نظر نہیں آتا۔ جبکہ spontaneous mutations ہر وقت جاری ہیں یہ روک نہیں سکتیں۔ ماحول بھی ہر وقت تبدیل ہو رہا ہے معدومیت کے واقعات بھی ہو رہے ہیں۔ آتش فشاں پہاڑ، سیلاب، برفانی دور، زلزلے، اور دیگر ماحولیاتی تبدیلیاں بھی ہر وقت جاری ہیں ان کا روکنا بھی ناممکن ہے۔ اس کے علاؤہ Biotic پریشر ہے یعنی وہ سیلکشن پریشر جو صرف ایک جاندار کے ارتقاء کرنے سے اس سے منسلک دوسرے تمام جانداروں پہ پڑتا ہے اور پوری فوڈ چین اس پریشر سے متاثر ہوتی ہے۔
اس سب کے باوجود اگر یہ فرض کر بھی لیا جائے کہ کوئی بھی ماحولیاتی پریشر یا Biotic پریشر نہیں ہے(جو کہ ناممکن ہے) تو ایک اور بنیادی مسئلہ ہے۔ جانداروں کے جینوم میں ہر وقت جاری میوٹیشن سے اکھٹی ہونی والی منفی میوٹیشن کی وجہ سے deleterious mutation load پیدا ہوتا جو جاندار کے بقا کے لئے خطرہ ہوتا ہے اس صورت میں صرف دو ہی راستے بچتے ہیں یا تو مفید میوٹیشن کی وجہ سے جاندار ارتقاء کر جائے یا پھر جینوم میں اکٹھی ہونے والی منفی میوٹیشن کے بوجھ سے ناپید ہو جائے۔ نیو ڈارونی فریم ورک میں کسی جاندار کا کروڑوں سال تک بغیر کسی تبدیلی اور ارتقاء کے ذندہ رہنا ناممکن ہے۔
سائنس پبلیکشنز کے مطابق اگر فاسل ریکارڈ کا بغور مطالعہ کیا جائے تو تمام فاسل ریکارڈ ارتقائی ٹہراؤ (Evolutionary Stasis) کا شکار ہے۔ جبکہ تدریجی آہستہ آہستہ ہونے والا ارتقاء کہیں نظر نہیں آتا اور صرف ایک exception کے طور پہ موجود ہے۔ صرف 5 فیصد کیسز میں فاسلز کی وضاحت تدریجی (gradualist) پہلو سے کی جا سکتی ہے۔ جبکہ 95 فیصد کیسز میں فاسل ریکارڈ یا تو جانداروں میں کوئی تبدیلی ظاہر نہیں کرتا یا پھر چھوٹی موٹی رینڈم اڈاپٹیشن دیکھاتا ہے جو کہ جینٹک ڈرفٹ (genetic drift) کا نتیجہ ہیں۔ یہ فطری چناؤ سے ہونے والے تدریجی ارتقاء سے بہت مختلف ہیں۔
Science Article:
https://www.smithsonianmag.com/science-nature/lice-filled-dinosaur-feathers-found-trapped-100-million-year-old-amber-180973727/
Science Publication:
https://www.nature.com/articles/s41467-019-13516-4
------------------------------------------
Sohaib Zobair

Comments
Post a Comment