Skip to main content

|Doctrine of Common Descent is False|


ڈارونین ارتقاء میں یک خلوی مشترکہ جد کے وجود کو ایک عقیدے (Doctrine) کے طور پہ مانا جاتا ہے۔ ڈارون پرست سائنسدان اس کو ناقابلِ تردید سچائی اور مسلمہ حقیقت کے طور پہ تسلیم کرتے ہیں۔ اس پہ تنقید کرنے یا سوال کرنے کا تصور بھی نہیں کیا جا سکتا۔ باوجود اس کے کہ شواہد نہ ہونے کے برابر ہیں اور یک خلوی مشترکہ جد عقیدے (Doctrine) کے متبادل ماڈلز بھی موجود ہیں۔ ایسا ڈارون پرست رویہ سائنس کی ترقی میں روکاوٹ بنا ہوا ہے۔ یک خلوی مشترکہ جد کا کوئی ٹھوس ثبوت موجود نہیں، ڈارون پرست سائنسدانوں کا گروہ اس عقیدے (Doctrine) کو چھوڑنے کے لئے بھی تیار نہیں اور یہ عقیدہ بہت سے اہم سوالات کی وضاحت بھی نہیں کرتا۔
آپ سوچ رہے ہونگے میں لفظ
"عقیدے (Doctrine)" کا استعمال بار بار کیوں کر رہا ہوں؟ ایسا میں نہیں کر رہا ہے بلکہ بائیولوجی کی فیلڈ کے مشہور و معروف سائنسدان Carl Woese کر رہے ہیں۔

ماڈرن سائنس نے ہمیشہ کی طرح ڈارونین ارتقاء کا ایک اور بنیادی اور اہم ترین یک خلوی مشترکہ جد کا عقیدہ بھی غلط ثابت کر دیا۔
کارل ووز نے ایک تھیوری پیش کی جو PNAS جریدے میں پبلش ہوئی جس کے مطابق جانداروں کا ارتقاء کم از کم تین مختلف ابتدائی خلیات سے ہوا ہے نہ کہ صرف ایک خلیہ سے۔ ان کے مطابق بکٹیریا، ارکیا اور یوکیرٹیوٹس تین مختلف خلیات سے وجود میں آئے جن کا کسی ایک خلیے سے کوئی تعلق نہیں۔
میری نظر میں یہ سائنسی تحقیقات کی بہت اچھی سمت ہے کہ یک خلوی عقیدے جیسی بوسیدہ سوچ سے ترقی کر کے سائنس اب کم از کم تین ابتدائی خلیات مان چکی ہے سائنسی تحقیقات کی یہ سمت ہمارے بیانیے کے مطابق ہے جو کہ اچھی بات ہے۔
"A new theory of cellular evolution published in the current issue of the Proceedings of the National Academy of Sciences rejects Charles Darwins Doctrine of Common Descent—the idea that all organisms are derived from a single primordial ancestor."

کارل ووز کا مزید کہنا تھا کہ بائیولوجی میں مشترک اجداد (Common Descent) جیسی پرانی اور ناکام سوچ آج بھی موجود ہے جو کہ ابتدائی خلیات کی وضاحت نہیں کرتی۔ اگر سائنس میں ترقی کرنی ہے اور اہم سوالات کے جواب جاننے ہیں تو ہمیں ڈارونین عقائد ترک کر کے نئی سمت میں سوچنے کی ضرورت ہے۔
"We cant expect to explain cellular evolution if we stay locked in the classical Darwinian mode of thinking, The time has come for biology to go beyond the Doctrine of Common Descent."

Reference:
https://www.scientificamerican.com/article/new-theory-of-cell-evolut/
---------------------------------------------
Sohaib Zobair


Comments

Popular posts from this blog

کیا سائنسدانوں نے مصنوعی خلیہ بنا لیا ؟

کیا سائنس دانوں نے مصنوعی خلیہ بنا لیا؟ تحریر: ڈاکٹر نثار احمد پچھلے کچھ دنوں سے کچھ فورمز پر یہ بحث چھڑی ہوئی ہے کہ کچھ حیاتیات دانوں نے تجربہ گاہ میں مصنوعی خلیے تیار کر لئے ہیں۔ تفصیلات اس لنک میں۔ https://www.sciencemag.org/news/2018/11/biologists-create-most-lifelike-artificial-cells-yet اس تمام بحث سے پہلے آپ کو یہ جاننا ہوگا کہ خلیہ دراصل ہوتا کیا ہے۔ خلیے کی تعریف ہم یوں کرسکتے ہیں کہ یہ زندگی کی ساختی اور فعلیاتی اکائی ہے۔ ایک خلیے کے اندر سینکڑوں مختلف عضویے ہوتے ہیں جو مل جل کر فیکٹری کی طرح کام کرتے ہیں۔ اس کے علاوہ متعدد اینزائمز بھی موجود ہوتے ہیں جو کیمیائی تعاملات میں عمل انگیز کے طور پر کام کرتے ہیں۔ اس کے علاوہ یہ خلیہ تقسیم در تقسیم ہو کر اپنے جیسے مزید خلیے بنا سکتا ہے۔ کچھ جاندار ایسے بھی پائے جاتے ہیں جو صرف ایک خلیے پر مشتمل ہوتے ہیں۔ انہیں ہم یک خلوی جاندار بھی کہتے ہیں۔ اوپر دئیے گئے آرٹیکل میں جو کہ سائنس جریدے میں پبلش ہوا کوئی بہت زیادہ نیا کارنامہ نہیں کیا گیا۔ اس پیپر میں بتایا گیا کہ کہ تجربہ گاہ میں کچھ خلیوں سے ملتی جلتی ساختیں بنائی گئیں جن م...

سانڈے کا تیل میڈیکل سائنس کی نظر میں !

سانڈے کا تیل میڈیکل سائنس کی نظر میں ! جنسی و نفسیاتی بیماریاں اور جانوروں کا قتل عام ۔۔۔! (18+ تحریر) __________________ تحقیق و تحریر : حسن خلیل چیمہ ______________________________________________ نوٹ : ( یہ تحریر عوامی آگاہی اور معصوم جانوروں کے بے جا قتل عام کو روکنے کے لئے اور عوام تک جدید میڈیکل سائنس کی رخ سے درست معلومات پہنچانے کی ایک کوشش ہے سانڈے کے تیل کے بارے میں اپنی رائے اور تجربے کو ایک طرف رکھ کہ اس تحریر کا مکمل مطالعہ کرنے کے بعد ہی اختلاف کریں شکریہ ) (خواتین اس تحریر کو پڑھنے سے اجتناب کریں ) ہمیشہ سے یہ دیکھ کر دکھ ہوتا ہے کہ جہاں دنیا سائنس و ٹیکنالوجی میں ترقی کرتی جا رہی ہے وہی ہم پاکستانی آج بھی اسی زمانہ قدیم میں جی رہیں ہیں جس میں انسانی سائنسی انقلاب سے پہلے ہمارے اجداد نے زندگی  گزاری  آج بھی ہم اسی طریقہ کار پر چل رہیں ہیں جہاں بیمار ہونے پر  اندازے سے دوا دینے والا کوئی حکیم ہوتا تھا جو مختلف جڑی بوٹیوں کو ملا کر کوئی ایسی دوا دے دیتا تھا جو وقتی طور ریلیف فراہم کرتی تھی کیونکہ ان وقتوں میں لوگوں کی خوارک میں زیادہ ملاوٹ نہ تھ...

قرآن اور سرن لیبارٹری

سورة انبیاء کی آیت نمبر 30 اور سرن لیبارٹری ۔۔۔!!! ____________________ سورۃ الانبیاء آیت نمبر 30 میں ربِ کائنات فرماتا ہے کہ اَوَلَمۡ يَرَ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡۤا اَنَّ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضَ كَانَتَا رَتۡقًا فَفَتَقۡنٰهُمَا‌ؕ وَجَعَلۡنَا مِنَ الۡمَآءِ كُلَّ شَىۡءٍ حَىٍّ‌ؕ اَفَلَا يُؤۡمِنُوۡنَ‏ ﴿۳۰﴾ کیا کافروں نے نہیں دیکھا کہ آسمان اور زمین دونوں ملے ہوئے تھے تو ہم نے جدا جدا کردیا۔ اور تمام جاندار چیزیں ہم نے پانی سے بنائیں۔ پھر یہ لوگ ایمان کیوں نہیں لاتے؟  ﴿۳۰﴾ معزز قارئین علماء کے نزدیک یہ آیت بگ بینگ سے متعلق ہے کہ ایک عظیم الشان دھماکہ ہوا جس سے اربوں میل دور تک دھواں پھیل گیا پھر اس دھوئیں میں سے  ٹھوس اجسام ستارے ،سیارے اور کومینٹس وغیرہ بننے کا عمل شروع ہوا ایک اور جگہ  ارشاد ہے کہ ثُمَّ اسۡتَوٰىۤ اِلَى السَّمَآءِ وَهِىَ دُخَانٌ فَقَالَ لَهَا وَلِلۡاَرۡضِ ائۡتِيَا طَوۡعًا اَوۡ كَرۡهًاؕ قَالَتَاۤ اَتَيۡنَا طَآٮِٕعِيۡنَ‏ ﴿۱۱﴾ پھر آسمان کی طرف متوجہ ہوا اور وہ دھواں تھا تو اس نے اس سے اور زمین سے فرمایا کہ دونوں آؤ (خواہ) خوشی سے خواہ ناخوشی سے۔ انہوں...