Skip to main content

Posts

|Say Hello to Uncle Saccorhytus|

کیا آپ جانتے ہیں "انکل ساکوریٹس" کون ہیں؟ اگر نہیں تو نیچے دی گئی تصویر انکل ساکوریٹس کی ہے۔ ارتقائی سائنسدانوں بہت خوش ہیں کہ اخر کار انکل ساکوریٹس کے باقیات ڈھونڈ لئے گئے جن سے ان کا شجرہ نسب جا ملتا ہے۔ ارتقائی سائنسدانوں کے مطابق انکل ساکوریٹس آج سے 540 ملین سال پہلے افریقہ کے چھپڑ میں رہا کرتے تھے اور بڑے ننھے منھے اور چھوٹے سے ہوا کرتے تھے۔ ان کا سائز صرف ایک ملی میٹر تھا لیکن ان کا منہ بہت بڑا ہوا کرتا تھا۔ چونکہ ان کا منہ بہت بڑا تھا لہذا کھایا بہت کرتے تھے لیکن ان کی مقعد (Anus) پھر بھی موجود نہیں تھی۔ بس کیا بتائیں! فطری چناؤ نے ضد لگا لی تھی کہ جو مرضی ہو جائے انکل ساکوریٹس کی مقعد نہیں بننے دوں گا۔ ظاہری بات ہے مقعد نہ ہونے کا کوئی نہ کوئی فائدہ ضرور ہوگا اسی لئے فطری چناؤ نے اتنی ضد کی۔ ارتقائی سائنسدانوں نے اس پہ یہ تھیوری پیش کی ہے کہ اتنا عرصہ پہلے ٹوائلٹ نہیں ہوا کرتے تھے۔ جب ٹوائلٹ نہیں تھے تو پھر مقعد کا کیا فائدہ؟ لہذا فطری چناؤ نے ٹھیک کیا۔ ارتقائی سائنسدان اس وقت اپنے انکل کے باقیات کا معائنہ کر رہے کہ شاید انکل ساکوریٹس کے بڑے منہ سے کوئی وصیت نامہ...

|Genes For Squid Eyes and Human Legs|

نئی سائنسی تحقیقات آئے دن نیو ڈارونین ارتقاء کے خلاف شواہد مہیا کر کے اس بات کو واضح کر رہیں ہیں کہ نیو ڈارونین ارتقاء ایک ناکام ہوتی تھیوری ہے لہذا اس کے متبادل کسی بہتر فریم ورک کی تلاش شروع کی جائے۔ ایسی ہی ایک نئی تحقیق حال ہی میں سامنے آئی جب ارتقائی سائنسدان سکوئڈ (Squid) کی آنکھوں کی ڈیولپمنٹ کے زمہ دار جین نیٹورک کا پتہ لگانے کی کوشش کر رہے تھے۔ اس کے لئے سکوئد کی ایک سپیشیز Doryteuthis pealeii کے ایمبریو (Embryo) کو بطور تحقیق استعمال کیا جا رہا تھا۔ اس ایمبریو کی ڈیولپمنٹ کے دوران سائنسدان جینز کے آن اور آف ہونے کا بغور مشاہدہ کر رہے تھے اور حیران کن طور پہ معلومات سامنے آئیں کہ جونسا جین ریگولیٹری نیٹ ورک انسانی ایمبریو کی ڈیولپمنٹ کے دوران ٹانگیں بنانے کے لئے آن ہوتا ہے وہی جین ریگولیٹری نیٹ ورک سکوئڈ کی آنکھیں اور لینز بنانے کے لئے کام کرتا ہے۔ یعنی ایک ہی طرح کے جینز دو مکمل طور پہ مختلف سپیشیز میں دو مکمل طور پہ مختلف کام انجام دے رہے ہیں۔ اب یہاں پہ کچھ نکات نوٹ کرنے والے ہیں: 1) سکوئد Cephalopod کہلاتے ہیں اور انسان Vertebrate کہلاتے ہیں۔ ارتقائی تھیوری کے مطابق ...

Longest evolutionary staSis in Bacteria (prokaryotes never evolved )

ارتقاء کی تاریخ اور فاسل ریکارڈ کا مطالعہ کریں تو آپ کو ہر جگہ ارتقائی ٹھہراؤ (Evolutionary Stasis) نظر آتا ہے۔ جاندار اپنی ارتقائی تاریخ میں کبھی بھی کسی دوسرے جاندار میں تبدیل نہیں ہوتا چاہے کئی سو ملین سال گزر جائیں یا کئی بلین سال گزر جائیں۔ درجنوں مختلف جانداروں کی مثالیں فاسل ریکارڈ میں محفوظ ہیں جو ظاہر کرتیں ہیں کہ جاندار اپنی بنیادی ساخت میں اچانک ظاہر ہوتے ہیں اور پھر اسی بنیادی ساخت میں موجود رہتے ہیں۔ ایک مچھلی کی سینکڑوں مختلف اقسام ہو سکتیں ہیں لیکن ایک مچھلی کبھی بھی ڈائنوسار نہیں بنتی۔ ایسا ہی ارتقائی ٹھہراؤ کا پیٹرن آپ کو یک خلوی جانداروں میں دیکھنے کو ملتا ہے۔ ان یک خلوی جانداروں یا پروکیریوٹس (Prokaryotes) کے بارے نیو ڈارونین تھیوری کا دعویٰ یہ ہے کہ یہ لمبے عرصے میں ارتقاء کر کے مچھلیوں اور دیگر جانداروں میں تبدیل ہو گئے۔ جبکہ حقائق یہ ثابت کرتے ہیں کہ یک خلوی جاندار اربوں سال گزر جانے کے بعد بھی اپنی خصوصیات اور ساخت میں یک خلوی جاندار ہی رہتے ہیں۔ اکثر ارتقائی حضرات کا معذرت خواہانہ اعتراض ہوتا ہے کہ جی میکرو ارتقاء (Macroevolution) ہونے پہ وقت لگتا ہے۔ یہ ہزا...

|300 Million Years Old Dragonfly Fossils|

ڈریگن مکھی عام پائے جانے والا کیڑا ہے۔ یہ آپ کو باغوں اور کھیتوں میں اڑتی ہوئی ملتیں ہیں۔ بچے بڑے شوق سے ان کو ڈھونڈتے ہیں اور ان کو پکڑنے کی کوشش کرتے ہیں۔ یہ بہت سے خوبصورت رنگوں میں پائی جاتیں ہیں اور اڑنے میں بہت تیز ہوتیں ہیں۔ یہ دنیا کی ہر علاقے میں موجود ہیں۔ ڈریگن مکھی آج سے کئی سو ملین سال پہلے بھی موجود تھیں اور آج کے دور میں بھی بغیر کسی نیو ڈارونین ارتقائی تبدیلی کے موجود ہیں اس نکتہ پہ میں کچھ سائنسی حقائق شئیر کرنا چاہوں گا۔ ایک مشہور سائنس پبلیکشن ڈیٹا بیس Science Direct میں 2016 کی ایک سائنس پبلیکشنز کے مطابق ڈریگن مکھی کا ایک فاسل ملا جو Mid Cretaceous دور کا ہے۔ Cretaceous Period 145 ملین سال سے لے کر 66 ملین سال تک کا دور کہلاتا ہے. اس لحاظ سے Mid Cretaceous کا مطلب ہے ڈریگن مکھی کا یہ فاسل کم از کم 105 ملین سال پرانا ہے۔ یہ ڈریگن مکھی کا دوسرا فاسل ہے جو اس دور کا ہے۔ سو ملین سال پہلے بھی ڈریگن مکھی موجود تھی اور آج بھی موجود ہے! "A new dragonfly Cretagomphaeschnaoides jarzembowskae gen. et sp. nov., is described from mid-Cretaceous Burmese amber.....This ...

|Human To Apes Theory|

ایک بات تو واضح ہے بندر نما جانداروں کے فاسلز واقعی موجود ہیں۔ یہ حقیقت اور سچ ہے! آپ یہ سوچ رہے ہونگے کہ یہ میں کیا کہ رہا ہوں!! میں اپنی بات مکمل کرتا ہوں۔ بندر نما جانداروں کے فاسلز واقعی موجود ہیں لیکن مسئلہ ان فاسلز کی وضاحت (Interpretation) کا ہے۔ مغرب کا ملحد معاشرہ اور ملحد ارتقائی سائنسدان اس کی وضاحت یہ کرتے ہیں کہ بندر نما جانداروں سے انسان کا ارتقاء ہوا۔ جبکہ ایک مسلمان قرآنی حقائق کو سامنے رکھ کر ان فاسلز کی وضاحت یہ کرتا ہے کہ اصل میں انسانوں کی ایک ابادی کو بندر نما جانداروں میں تبدیل کیا گیا۔ جو آج فاسلز کی صورت میں برآمد ہو رہے ہیں! ارتقائی مسلمان اگر قرآن پاک کی آیات پہ واقعی غور فکر کرلیں تو شاید ان کو سمجھ اجائے کہ ایک مسلمان کے نزدیک بندر نما جانداروں کا ارتقاء انسانوں میں نہیں ہوا۔ بلکہ ایک نافرمان قوم کو اللہ پاک کے عذاب نے بندر نما حیوانوں میں تبدیل کر دیا تھا۔ ---------------------------------------------- وَلَقَدْ عَلِمْتُمُ الَّذِيْنَ اعْتَدَوْا مِنْكُمْ فِيْ السَّبْتِ فَقُلْنَا لَهُمْ كُوْنُوْا قِرَدَةً خَاسِئِـيْنَ  ۚ "پھر تمہیں اپنی قوم کے ...

|The Darkness of Naturalism|

میری نظر سے قرآن پاک کی ایک آیت گزری جس میں اللہ پاک ملحدین کی ایک روش کا زکر کر رہے ہیں۔ وہ روش یہ ہے کہ ہر مظہر کی اندھی اور غیر سمتی فطری طاقتوں سے وضاحت کرنا۔ وَاِ نْ يَّرَوْا كِسْفًا مِّنَ السَّمَآءِ سَا قِطًا يَّقُوْلُوْا سَحَا بٌ مَّرْكُوْمٌ "یہ لوگ آسمان کے ٹکڑے بھی گرتے ہوئے دیکھ لیں تو کہیں گے یہ بادل ہیں جو امڈے چلے آ رہے ہیں" (At-Tur 52:44) یعنی اگر اللہ پاک ان کو واضح ترین نشانیاں بھی دیکھا دیں تو بھی یہ لوگ "نیچرل فلاسفی" سے اس کی تاویل گھڑ لیں گے۔ آسمان کے ٹکڑے ان کو نیچرل فلاسفی سے بادل نظر آئیں گے۔ سامنے موجود خوبصورت پرندے کا وجود فطری چناؤ اور جینیاتی حادثات سے وجود میں آیا نظر آئے گا۔ کائنات کے قانون بگ بینگ کے بعد بغیر کسی ذہین مداخلت کے خودبخود وجود میں اکر کھربوں ستارے بناتے نظر آئیں گے۔ پوری ڈارونین تھیوری بھی اسی نیچرل فلاسفی کی بنیاد پہ قائم ہے جو کسی بھی ذہین ہستی کی مداخلت کو غیر عقلی قرار دے کر صرف اندھی فطری طاقتوں سے تمام مخلوقات کے وجود میں آنے کی وضاحت کرنے کی ایک کوشش ہے۔ اگر میں یہ کہوں کہ موجودہ وقت کی پوری سائنس اسی نیچ...

|Fossil lice 100 Million Years Old|

چند دن پہلے نیچر جریدے میں 100 ملین سال پرانے امبر (Amber) میں ectoparasite کے فاسلز کو رپورٹ کیا گیا جن کی ساخت (Morphology) موجودہ دور کی جوؤں (lice) سے ہوبہو مشابہت رکھتی ہے۔ امبر (Amber) کچھ درختوں سے نکلنی والی رال کو کہتے ہیں۔ جب ان درختوں کو کٹ لگتا ہے تو وہاں سے پیلے رنگ کی چپکو رال نکلتی ہے جس میں بعض اوقات مختلف کیڑے وغیرہ پھنس جاتے ہیں اگر رال کا سائز بڑا ہوتو چھوٹے پرندے، مینڈک اور مچھلیاں وغیرہ بھی اس میں پھنس کر مر جاتی ہیں۔ بعض اوقات یہ رال مناسب ماحول میں دب کر فاسل بن جاتی ہے جو اپنے ساتھ مختلف جانداروں کے اجسام کو محفوظ کیے ہوتی ہے۔ ectoparasites ایسے پیراسائٹ ہوتے ہیں جو جانداروں کے باہری جسم، جلد اور بالوں وغیرہ میں پائے جاتے ہیں۔ نیچر جریدے میں 100 ملین سال پرانے فاسل امبر میں پھنسی دس جوؤں کے اجسام کو رپورٹ کیا گیا جن کی ساخت کروڑوں سال پہلے بھی موجودہ دور کی جوؤں سے مشابہت رکھتی تھی۔ اس امبر میں ڈائنوسار کے پروں کے فاسل بھی موجود تھے اور سائنسدانوں کا خیال ہے کہ یہ جوئیں (lice) ڈائنوسار کے پروں میں ہی پائی جاتیں تھیں۔ یہ بھی کافی حیرانی کی بات ہے کہ سو ملین سا...