میری نظر سے قرآن پاک کی ایک آیت گزری جس میں اللہ پاک ملحدین کی ایک روش کا زکر کر رہے ہیں۔ وہ روش یہ ہے کہ ہر مظہر کی اندھی اور غیر سمتی فطری طاقتوں سے وضاحت کرنا۔
وَاِ نْ يَّرَوْا كِسْفًا مِّنَ السَّمَآءِ سَا قِطًا يَّقُوْلُوْا سَحَا بٌ مَّرْكُوْمٌ
"یہ لوگ آسمان کے ٹکڑے بھی گرتے ہوئے دیکھ لیں تو کہیں گے یہ بادل ہیں جو امڈے چلے آ رہے ہیں"
(At-Tur 52:44)
یعنی اگر اللہ پاک ان کو واضح ترین نشانیاں بھی دیکھا دیں تو بھی یہ لوگ "نیچرل فلاسفی" سے اس کی تاویل گھڑ لیں گے۔ آسمان کے ٹکڑے ان کو نیچرل فلاسفی سے بادل نظر آئیں گے۔ سامنے موجود خوبصورت پرندے کا وجود فطری چناؤ اور جینیاتی حادثات سے وجود میں آیا نظر آئے گا۔
کائنات کے قانون بگ بینگ کے بعد بغیر کسی ذہین مداخلت کے خودبخود وجود میں اکر کھربوں ستارے بناتے نظر آئیں گے۔
پوری ڈارونین تھیوری بھی اسی نیچرل فلاسفی کی بنیاد پہ قائم ہے جو کسی بھی ذہین ہستی کی مداخلت کو غیر عقلی قرار دے کر صرف اندھی فطری طاقتوں سے تمام مخلوقات کے وجود میں آنے کی وضاحت کرنے کی ایک کوشش ہے۔ اگر میں یہ کہوں کہ موجودہ وقت کی پوری سائنس اسی نیچرل فلاسفی کی بنیاد پہ کھڑی ہے تو غلط نہ ہوگا۔ یہی وجہ ہے کہ سائنس کی ابتدائی سمجھ رکھنے والا انسان شروع میں الحادی وسوسوں کا شکار ہوتا ہے لیکن جب گہرائی میں سائنس کے طریقہ کار اور الحادی فکر کا مطالعہ کرتا ہے تو ان وسوسوں سے دور ہو جاتا ہے۔
اس ضمن میں کیا ایسا ممکن ہے کہ اللہ پاک نے اپنے وعدے کے مطابق ہمیں اپنی نشانیاں آسمانوں اور ہمارے اپنے وجود میں ظاہر کر دی ہیں لیکن سائنس پہ چھائے اس "نیچرل فلاسفی" کے اندھیرے سے ان مظاہر اور نشانیوں کی جو وضاحتیں اور تھیوریز ہم تک پہنچتی ہیں وہ ان نشانیوں کو فطرت کی اندھی طاقتوں کے سپرد کرتی ہوں؟!
اس وقت تمام تر سائنسی تحقیقات سیکیولر مغربی دنیا اور چائنہ کے ملحد سائنسدان کرتے ہیں۔ تقریبا تمام تر سائنسی تحقیقات صرف انہی دو ذرائع سے آتی ہے: لبرل و سیکولر مغرب اور چائینہ۔ لہذا یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ اس وقت سائنس میں الحادی نیچرل فلاسفی پہ مبنی فریم ورک اور تھیوریز کی طرف جھکاؤ موجود ہے۔
جبکہ دوسری طرف مسلمانوں کا اس وقت سائنسی تحقیقات میں آٹے میں نمک کے برابر بھی کوئی کردار موجود نہیں۔ جب تک مسلمان آگے بڑھ کر سائنسی تحقیقات میں اپنی خدمات پیش نہیں کرتے تب تک سائنس پہ چھائے اس نیچرل فلاسفی کے اندھیرے چھٹنے والے نہیں!

Comments
Post a Comment