|What is Coronavirus?|
کرونا وائرس کے خلاف سب سے اہم چیز صحیح انفارمیشن اور احتیاط ہے۔
سب سے پہلے تو ٹرمینالوجی کی وضاحت کرنا چاہوں گا۔ بہت سے عوام COVID-19 کو وائرس سمجھ رہی ہے جبکہ یہ انفیکشن کا نام ہے۔ اس انفیکشن یا بیماری میں سر درد، فلو، کھانسی، چھینکیں، جسم درد کی شکایت ہوتی ہے جو کہ زیادہ سنجیدہ نہیں ہوتی اور جسم کا مدافعتی نظام اس پہ قابو پا لیتا ہے۔ بعض اوقات کرونا وائرس کا شکار فرد کوئی علامت ظاہر نہیں کرتا اور ٹھیک ہوجاتا ہے۔ لیکن شدید کیسز میں بیماری کا شکار افراد کو پھیپڑوں کی خرابی کی وجہ سے سانس لینے میں مشکل کا سامنا کرنا پڑتا جس کی وجہ سے ان کو وینٹی لیٹر کی ضرورت پڑتی ہے۔ یہ آپ کے جسم میں آکسیجن کی ضروری مقدار پہنچاتی ہے اور کاربن ڈائی آکسائیڈ کو باہر نکالتی ہے۔ یہ صورتحال جان لیوا ثابت ہو سکتی ہے۔ مختلف ممالک میں COVID-19 بیماری کا شکار افراد کی اموات کی تعداد جرمنی 0.5% سے لے کر اٹلی 10% تک ریکارڈ کی گئی ہے۔
جس وائرس کی وجہ سے یہ بیماری ہوتی ہے اس کا
نام SARS-CoV-2 ہے۔ نیچے موجود تصویر اسی وائرس کی ہے۔
یہ RNA virus ہے جس کا سائز 29,900 نیوکلیوٹائڈز ہے۔ یہ ساخت میں گول ہے اور اس کی سطح پہ کانٹے نما ابھار موجود ہوتے ہیں۔ مختلف کرونا وائرسز کی ایک پوری فیملی (Coronaviridae) ہے. ان کا سائز 60-140nm نینو میٹر تک ہوتا ہے۔ یہ وائرسز مختلف جانوروں میں موجود ہوتے ہیں۔ لیکن عام طور پہ یہ انسان کے لئے خطرناک نہیں ہوتے۔ کروناوائرسز کی اس فیملی میں کچھ اقسام کے وائرس ایسے ہیں جو pathogenic ہیں یعنی انسان کو بیمار کر سکتے ہیں۔ یہ SARS, MERS اور COVID-19 جیسی بیماریوں کا باعث بن سکتے ہیں۔
کرونا وائرس (SARS-CoV-2) کی سطح پہ جو کانٹے نما ابھار ہوتا ہے اس کو spike protein کہا جاتا ہے اور اسی پروٹین کا استعمال کر کے یہ وائرس پھیپڑوں کے خلیات میں داخل ہوتا ہے۔ انسانی خلیات کی باہری سطح پہ سینکڑوں مختلف اقسام کے پروٹینز چپکے ہوتے ہیں جن کو receptor proteins کہتے ہیں۔ یہ جسم میں موجود مختلف اقسام کے خلیات کے درمیان رابطے کا کام کرتے ہیں جو بہت سے مختلف مالیکولز کے ذریعے ہوتا ہے۔ یہ مالیکیولز مطلوبہ خلیہ کی باہری سطح پہ موجود رسیپٹر پروٹین سے جا کر جڑ جاتے ہیں اور خلیہ کو مطلوبہ فنکشن کرنے کا سگنل ملتا ہے۔
کرونا وائرس اپنے کانٹے نما ابھار کو پھیپڑوں کے خلیات کی باہری سطح پہ موجود ایک خاص رسپیٹر پروٹین ACE2 سے جوڑنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
جڑنے کے بعد کرونا وائرس اپنا جینیاتی مواد خلیہ میں خارج کر دیتا ہے چونکہ یہ آر این اے (RNA) پہ مشتمل ہوتا ہے لہذا خلیہ میں موجود رائبوسوم (Ribosome) اس کے پروٹینز بنانا شروع کر دیتے ہیں۔ ان میں سے کچھ وائرل پروٹینز اس خلیہ کا نظام بگاڑ کر، اسے ہاجیک کر کے، اسے وائرس بنانے کی فیکٹری میں تبدیل کر دیتے ہیں اور باقی وائرل پروٹینز (Viral Proteins) آپس میں جڑ کر ایک نئے کرونا وائرس کو تشکیل دیتے ہیں۔ یہ سلسلہ چلتا رہتا پے اور کرونا وائرس کی لاکھوں کاپیز تیار ہوتی رہتی ہیں جبتک خلیہ مر نہیں جاتا۔ خلیہ کے مرنے کے بعد نئے کرونا وائرسز مزید خلیات کے لئے نکل پڑتے ہیں۔
کرونا وائرس (SARS-CoV-2) سے کیسے بچا جائے؟
کرونا وائرس سے بچاؤ کا سب سے اچھا طریقہ احتیاط ہے۔
ہجوم نہ بنایا جائے اور نہ ہجوم میں رہا جائے۔
کسی سے بات کرتے وقت اس فرد سے تین سے چار فٹ کا فاصلہ رکھیں۔
گھر سے غیر ضروری طور پہ باہر مت نکلیں۔
یہ سب احتیاط مختصر عرصے کے لئے ہے تاکہ کرونا وائرس کا پھیلاؤ روکا جا سکے۔
روازنہ صابن سے نہائیں اور ہاتھوں کو کسی بھی صابن سے (مہنگا یا سستا کوئی فرق نہیں پڑتا) دھوتے رہیں۔
اپنے موبائل کو الکوحل سینیٹائزر یا صابن لگے ٹشو سے صاف کرتے رہیں۔
کرنسی نوٹ کو چھونے کے بعد ہاتھوں صابن سے ضرور دھوئیں۔
غیر ضروری طور پہ دروازے، میز، کرسیاں اور ایسی عمومی سطحوں کو مت چھوئیں۔
کرونا وائرس جتنی آسانی سے پھیل سکتا ہے خوش قسمتی سے قدرت نے اس کا تریاق بھی اتنا ہی آسان رکھا ہے۔
اس کا تریاق عام صابن ہے۔
کرونا وائرس کی باہری تہ پروٹینز اور lipids کی بنی ہوئی ہے اور عام صابن کے مالیکیولز کا ایک سرا Hydrophobic ہوتا ہے جو lipids سے کیمیکل بانڈ بنا کر اس تہ کو خراب کرتا ہے۔ جس سے کرونا وائرس کا سٹرکچر اور جنیاتی مواد تباہ ہو جاتا ہے۔ عام صابن کے مالیکولز پانی کے ساتھ آسانی سے بہ جاتے ہیں اور ساتھ کرونا وائرس کی باہری تہ کو خراب کر کے ساتھ لے جاتے ہیں۔ لہذا کسی بھی صابن سے ہاتھ کثرت سے دھوتے رہیں اور الکوحل سینیٹائزر کا استعمال صرف تب کریں اگر صابن موجود نہ ہو۔
---------------------------------------------
Sohaib Zobair
کرونا وائرس کے خلاف سب سے اہم چیز صحیح انفارمیشن اور احتیاط ہے۔
سب سے پہلے تو ٹرمینالوجی کی وضاحت کرنا چاہوں گا۔ بہت سے عوام COVID-19 کو وائرس سمجھ رہی ہے جبکہ یہ انفیکشن کا نام ہے۔ اس انفیکشن یا بیماری میں سر درد، فلو، کھانسی، چھینکیں، جسم درد کی شکایت ہوتی ہے جو کہ زیادہ سنجیدہ نہیں ہوتی اور جسم کا مدافعتی نظام اس پہ قابو پا لیتا ہے۔ بعض اوقات کرونا وائرس کا شکار فرد کوئی علامت ظاہر نہیں کرتا اور ٹھیک ہوجاتا ہے۔ لیکن شدید کیسز میں بیماری کا شکار افراد کو پھیپڑوں کی خرابی کی وجہ سے سانس لینے میں مشکل کا سامنا کرنا پڑتا جس کی وجہ سے ان کو وینٹی لیٹر کی ضرورت پڑتی ہے۔ یہ آپ کے جسم میں آکسیجن کی ضروری مقدار پہنچاتی ہے اور کاربن ڈائی آکسائیڈ کو باہر نکالتی ہے۔ یہ صورتحال جان لیوا ثابت ہو سکتی ہے۔ مختلف ممالک میں COVID-19 بیماری کا شکار افراد کی اموات کی تعداد جرمنی 0.5% سے لے کر اٹلی 10% تک ریکارڈ کی گئی ہے۔
جس وائرس کی وجہ سے یہ بیماری ہوتی ہے اس کا
نام SARS-CoV-2 ہے۔ نیچے موجود تصویر اسی وائرس کی ہے۔
یہ RNA virus ہے جس کا سائز 29,900 نیوکلیوٹائڈز ہے۔ یہ ساخت میں گول ہے اور اس کی سطح پہ کانٹے نما ابھار موجود ہوتے ہیں۔ مختلف کرونا وائرسز کی ایک پوری فیملی (Coronaviridae) ہے. ان کا سائز 60-140nm نینو میٹر تک ہوتا ہے۔ یہ وائرسز مختلف جانوروں میں موجود ہوتے ہیں۔ لیکن عام طور پہ یہ انسان کے لئے خطرناک نہیں ہوتے۔ کروناوائرسز کی اس فیملی میں کچھ اقسام کے وائرس ایسے ہیں جو pathogenic ہیں یعنی انسان کو بیمار کر سکتے ہیں۔ یہ SARS, MERS اور COVID-19 جیسی بیماریوں کا باعث بن سکتے ہیں۔
کرونا وائرس (SARS-CoV-2) کی سطح پہ جو کانٹے نما ابھار ہوتا ہے اس کو spike protein کہا جاتا ہے اور اسی پروٹین کا استعمال کر کے یہ وائرس پھیپڑوں کے خلیات میں داخل ہوتا ہے۔ انسانی خلیات کی باہری سطح پہ سینکڑوں مختلف اقسام کے پروٹینز چپکے ہوتے ہیں جن کو receptor proteins کہتے ہیں۔ یہ جسم میں موجود مختلف اقسام کے خلیات کے درمیان رابطے کا کام کرتے ہیں جو بہت سے مختلف مالیکولز کے ذریعے ہوتا ہے۔ یہ مالیکیولز مطلوبہ خلیہ کی باہری سطح پہ موجود رسیپٹر پروٹین سے جا کر جڑ جاتے ہیں اور خلیہ کو مطلوبہ فنکشن کرنے کا سگنل ملتا ہے۔
کرونا وائرس اپنے کانٹے نما ابھار کو پھیپڑوں کے خلیات کی باہری سطح پہ موجود ایک خاص رسپیٹر پروٹین ACE2 سے جوڑنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
جڑنے کے بعد کرونا وائرس اپنا جینیاتی مواد خلیہ میں خارج کر دیتا ہے چونکہ یہ آر این اے (RNA) پہ مشتمل ہوتا ہے لہذا خلیہ میں موجود رائبوسوم (Ribosome) اس کے پروٹینز بنانا شروع کر دیتے ہیں۔ ان میں سے کچھ وائرل پروٹینز اس خلیہ کا نظام بگاڑ کر، اسے ہاجیک کر کے، اسے وائرس بنانے کی فیکٹری میں تبدیل کر دیتے ہیں اور باقی وائرل پروٹینز (Viral Proteins) آپس میں جڑ کر ایک نئے کرونا وائرس کو تشکیل دیتے ہیں۔ یہ سلسلہ چلتا رہتا پے اور کرونا وائرس کی لاکھوں کاپیز تیار ہوتی رہتی ہیں جبتک خلیہ مر نہیں جاتا۔ خلیہ کے مرنے کے بعد نئے کرونا وائرسز مزید خلیات کے لئے نکل پڑتے ہیں۔
کرونا وائرس (SARS-CoV-2) سے کیسے بچا جائے؟
کرونا وائرس سے بچاؤ کا سب سے اچھا طریقہ احتیاط ہے۔
ہجوم نہ بنایا جائے اور نہ ہجوم میں رہا جائے۔
کسی سے بات کرتے وقت اس فرد سے تین سے چار فٹ کا فاصلہ رکھیں۔
گھر سے غیر ضروری طور پہ باہر مت نکلیں۔
یہ سب احتیاط مختصر عرصے کے لئے ہے تاکہ کرونا وائرس کا پھیلاؤ روکا جا سکے۔
روازنہ صابن سے نہائیں اور ہاتھوں کو کسی بھی صابن سے (مہنگا یا سستا کوئی فرق نہیں پڑتا) دھوتے رہیں۔
اپنے موبائل کو الکوحل سینیٹائزر یا صابن لگے ٹشو سے صاف کرتے رہیں۔
کرنسی نوٹ کو چھونے کے بعد ہاتھوں صابن سے ضرور دھوئیں۔
غیر ضروری طور پہ دروازے، میز، کرسیاں اور ایسی عمومی سطحوں کو مت چھوئیں۔
کرونا وائرس جتنی آسانی سے پھیل سکتا ہے خوش قسمتی سے قدرت نے اس کا تریاق بھی اتنا ہی آسان رکھا ہے۔
اس کا تریاق عام صابن ہے۔
کرونا وائرس کی باہری تہ پروٹینز اور lipids کی بنی ہوئی ہے اور عام صابن کے مالیکیولز کا ایک سرا Hydrophobic ہوتا ہے جو lipids سے کیمیکل بانڈ بنا کر اس تہ کو خراب کرتا ہے۔ جس سے کرونا وائرس کا سٹرکچر اور جنیاتی مواد تباہ ہو جاتا ہے۔ عام صابن کے مالیکولز پانی کے ساتھ آسانی سے بہ جاتے ہیں اور ساتھ کرونا وائرس کی باہری تہ کو خراب کر کے ساتھ لے جاتے ہیں۔ لہذا کسی بھی صابن سے ہاتھ کثرت سے دھوتے رہیں اور الکوحل سینیٹائزر کا استعمال صرف تب کریں اگر صابن موجود نہ ہو۔
---------------------------------------------
Sohaib Zobair

Comments
Post a Comment