Skip to main content

|What is Beneficial Mutation?|

|What is Beneficial Mutation?|

میں مختصر طور پہ ایک نکتہ کی وضاحت کرنا چاہوں گا جو مفید میوٹیشن سے متعلق ہے۔
اکثر اوقات ارتقائی حضرات اس غلط فہمی کا شکار ہوتے ہیں کہ مفید میوٹیشن ہونے کا مطلب یہ ہے کہ اب وہ جاندار جس کے جینوم میں مفید میوٹیشن ہوئی ہے یہ سروائو کر جائے گا اور باقی ناپید ہوجائیں گے۔
یہ بلکل غلط سوچ ہے۔۔۔۔!

تمام تر پیچیدگی کو ایک سائیڈ پہ کر کے یہاں سے شروعات کرتے ہیں کہ ایک مفید میوٹیشن ہوگئی ہے اب اس کا مطلب کیا ہے؟
مفید میوٹیشن کا مطلب صرف یہ ہے کہ ایک پاپولیشن میں جس جاندار میں یہ میوٹیشن موجود ہے اس کے موازناتی طور پہ سروائو کرنے کے امکانات تھوڑے زیادہ ہیں۔ یعنی پاپولیشن کے باقی جانداروں کے مقابلے میں فرض کریں دس یا بیس فیصد امکانات زیادہ ہیں۔ مفید میوٹیشن کسی جاندار کو ناقابلِ شکست نہیں بناتی اور نہ مفید میوٹیشن اس بات کی گارنٹی ہے کہ اب لازمی طور پہ مفید میوٹیشن والا جاندار ہی بچے گا اور باقی سب لازمی طور پہ ناپید ہونگے۔
مفید میوٹیشن والا جاندار بھی شکاری کی خوراک بن سکتا ہے یا قدرتی آفات کا شکار ہوسکتا ہے۔ جس کے نتیجے میں مفید میوٹیشن بھی ختم ہو جائے گی اگر اس نے وہ میوٹیشن اگلی نسل میں منتقل نہیں کی۔

ایک اہم نکتہ یہ ہے کہ کسی فائدہ مند فینوٹائپ کی حدود ہوتیں مثال کے طور پہ ایک تیز بھاگنے والا گھوڑا ایک حد تک تیز بھگانے کی صلاحیت کا مالک ہوسکتا ہے۔ تیز سے تیز بھاگنے کی صلاحیت کے دوران ایک وقت ایسا آتا ہے جب تیز رفتاری کی وجہ سے اس جاندار کی ہڈیوں، پٹھوں اور جسم میں اتنا دباؤ پڑتا ہے کہ تیز بھاگنے کی صلاحیت اس کی بقا کے لئے خطرہ بن جاتی ہے۔ لہذا اس وقت پہ فطری چناؤ کی سلیکشن تیز بھاگنے کے خلاف ہونا شروع ہو جاتی ہے۔
یہی اصول ہر اڈپٹییشن پہ لاگو ہوتا ہے۔

مفید میوٹیشن کو لے کر ایک اور صورتحال سامنے آتی ہے۔
مثال کے طور پہ ایک گھوڑے میں تیز بھاگنے کی مفید میوٹیشن ہوتی ہے۔  یہ گھوڑا ایک پاپولیشن کا حصّہ ہے جس کی تعداد 100 ہے۔
کافی عرصے بعد اس مفید میوٹیشن والے گھوڑوں کی تعداد ایک درجن ہو جاتی ہے۔ لیکن اب ایک نیا چیلنج سامنے آتا ہے۔ گھوڑے کے شکاری تیز بھاگنے میں ماہر ہو جاتے ہیں لیکن جسامت میں کمزور ہیں۔ گھوڑوں کی اس پاپولیشن میں ہوئی ایک مزید مفید میوٹیشن سے ایک گھوڑا طاقتور جسامت کا مالک بن جاتا ہے۔ یہ بھاگنے کے بجائے جوابی حملہ کرتا ہے اور شکاری اس سے ڈر کر دور ہو جاتے ہیں۔ تیز شکاری تیز گھوڑوں کو پکڑ سکتے ہیں لیکن طاقتور گھوڑے سے دور رہتے ہیں۔
تیز بھاگنے والی صلاحیت پاپولیشن میں فکس ہونے سے پہلے ہی اپنی اہمیت کھو دیتی ہے۔ اب طاقتور جسامت کے گھوڑے باقیوں سے کچھ بہتر بقا کر سکتے ہیں۔
یہ سلسلہ اسی طرح چلتا ہے اور مزید پیچیدہ ہوتا رہتا ہے۔ اس سے پاپولیشن میں تنوع ضرور آتا ہے لیکن نئی اقسام کے اعضاء اور نئی اقسام کے جانداروں کی وضاحت ممکن نہیں۔۔۔۔!
(یہاں جیوگرافک Isolation، ریپروڈکٹیو Isolation اور Novelty وغیرہ کو بھی گفتگو کا حصہ بنا کر تسلی کرائی جا سکتی ہے لیکن اس سے گفتگو بہت طویل ہو جائے گی۔)

یہ طریقہ ایک پاپولیشن میں چھوٹی موٹی تبدیلیوں تک تو سمجھ آتا ہے لیکن اس سے کسی نئے جاندار کا وجود پا جانا "ارتقائی معجزہ" ہی کہلائے گا۔

---------------------------------------------
Sohaib Zobair

Comments

Popular posts from this blog

کیا سائنسدانوں نے مصنوعی خلیہ بنا لیا ؟

کیا سائنس دانوں نے مصنوعی خلیہ بنا لیا؟ تحریر: ڈاکٹر نثار احمد پچھلے کچھ دنوں سے کچھ فورمز پر یہ بحث چھڑی ہوئی ہے کہ کچھ حیاتیات دانوں نے تجربہ گاہ میں مصنوعی خلیے تیار کر لئے ہیں۔ تفصیلات اس لنک میں۔ https://www.sciencemag.org/news/2018/11/biologists-create-most-lifelike-artificial-cells-yet اس تمام بحث سے پہلے آپ کو یہ جاننا ہوگا کہ خلیہ دراصل ہوتا کیا ہے۔ خلیے کی تعریف ہم یوں کرسکتے ہیں کہ یہ زندگی کی ساختی اور فعلیاتی اکائی ہے۔ ایک خلیے کے اندر سینکڑوں مختلف عضویے ہوتے ہیں جو مل جل کر فیکٹری کی طرح کام کرتے ہیں۔ اس کے علاوہ متعدد اینزائمز بھی موجود ہوتے ہیں جو کیمیائی تعاملات میں عمل انگیز کے طور پر کام کرتے ہیں۔ اس کے علاوہ یہ خلیہ تقسیم در تقسیم ہو کر اپنے جیسے مزید خلیے بنا سکتا ہے۔ کچھ جاندار ایسے بھی پائے جاتے ہیں جو صرف ایک خلیے پر مشتمل ہوتے ہیں۔ انہیں ہم یک خلوی جاندار بھی کہتے ہیں۔ اوپر دئیے گئے آرٹیکل میں جو کہ سائنس جریدے میں پبلش ہوا کوئی بہت زیادہ نیا کارنامہ نہیں کیا گیا۔ اس پیپر میں بتایا گیا کہ کہ تجربہ گاہ میں کچھ خلیوں سے ملتی جلتی ساختیں بنائی گئیں جن م...

سانڈے کا تیل میڈیکل سائنس کی نظر میں !

سانڈے کا تیل میڈیکل سائنس کی نظر میں ! جنسی و نفسیاتی بیماریاں اور جانوروں کا قتل عام ۔۔۔! (18+ تحریر) __________________ تحقیق و تحریر : حسن خلیل چیمہ ______________________________________________ نوٹ : ( یہ تحریر عوامی آگاہی اور معصوم جانوروں کے بے جا قتل عام کو روکنے کے لئے اور عوام تک جدید میڈیکل سائنس کی رخ سے درست معلومات پہنچانے کی ایک کوشش ہے سانڈے کے تیل کے بارے میں اپنی رائے اور تجربے کو ایک طرف رکھ کہ اس تحریر کا مکمل مطالعہ کرنے کے بعد ہی اختلاف کریں شکریہ ) (خواتین اس تحریر کو پڑھنے سے اجتناب کریں ) ہمیشہ سے یہ دیکھ کر دکھ ہوتا ہے کہ جہاں دنیا سائنس و ٹیکنالوجی میں ترقی کرتی جا رہی ہے وہی ہم پاکستانی آج بھی اسی زمانہ قدیم میں جی رہیں ہیں جس میں انسانی سائنسی انقلاب سے پہلے ہمارے اجداد نے زندگی  گزاری  آج بھی ہم اسی طریقہ کار پر چل رہیں ہیں جہاں بیمار ہونے پر  اندازے سے دوا دینے والا کوئی حکیم ہوتا تھا جو مختلف جڑی بوٹیوں کو ملا کر کوئی ایسی دوا دے دیتا تھا جو وقتی طور ریلیف فراہم کرتی تھی کیونکہ ان وقتوں میں لوگوں کی خوارک میں زیادہ ملاوٹ نہ تھ...

قرآن اور سرن لیبارٹری

سورة انبیاء کی آیت نمبر 30 اور سرن لیبارٹری ۔۔۔!!! ____________________ سورۃ الانبیاء آیت نمبر 30 میں ربِ کائنات فرماتا ہے کہ اَوَلَمۡ يَرَ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡۤا اَنَّ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضَ كَانَتَا رَتۡقًا فَفَتَقۡنٰهُمَا‌ؕ وَجَعَلۡنَا مِنَ الۡمَآءِ كُلَّ شَىۡءٍ حَىٍّ‌ؕ اَفَلَا يُؤۡمِنُوۡنَ‏ ﴿۳۰﴾ کیا کافروں نے نہیں دیکھا کہ آسمان اور زمین دونوں ملے ہوئے تھے تو ہم نے جدا جدا کردیا۔ اور تمام جاندار چیزیں ہم نے پانی سے بنائیں۔ پھر یہ لوگ ایمان کیوں نہیں لاتے؟  ﴿۳۰﴾ معزز قارئین علماء کے نزدیک یہ آیت بگ بینگ سے متعلق ہے کہ ایک عظیم الشان دھماکہ ہوا جس سے اربوں میل دور تک دھواں پھیل گیا پھر اس دھوئیں میں سے  ٹھوس اجسام ستارے ،سیارے اور کومینٹس وغیرہ بننے کا عمل شروع ہوا ایک اور جگہ  ارشاد ہے کہ ثُمَّ اسۡتَوٰىۤ اِلَى السَّمَآءِ وَهِىَ دُخَانٌ فَقَالَ لَهَا وَلِلۡاَرۡضِ ائۡتِيَا طَوۡعًا اَوۡ كَرۡهًاؕ قَالَتَاۤ اَتَيۡنَا طَآٮِٕعِيۡنَ‏ ﴿۱۱﴾ پھر آسمان کی طرف متوجہ ہوا اور وہ دھواں تھا تو اس نے اس سے اور زمین سے فرمایا کہ دونوں آؤ (خواہ) خوشی سے خواہ ناخوشی سے۔ انہوں...