Skip to main content

|Logical Compatibility of Quran and Science (2)|

|Logical Compatibility of Quran and Science (2)|

دین اسلام پہ اعتراضات سائنس کے نام پہ ماضی میں ہوئے، آج بھی جاری ہیں اور مستقبل میں بھی ہونگے۔
اس تناظر میں اگر ہم مسلمان یہ ماننا شروع کر دیں کہ سائنس اور دینِ اسلام کا آپس میں کوئی تعلق نہیں تو ان اعتراضات کا کیا کِیا جائے گا جو سائنس کو بنیاد بنا کر کثرت کے ساتھ ہوتے ہیں؟
کیا چپ کر کے یہ معاملات دیکھے جائیں گے؟
اور یہ کہا جائے گا کہ ہمیں بحثیت مسلمان کوئی فرق نہیں پڑتا اگر سائنس کو بنیاد بنا کر اسلام کو افسانوی کہانیوں کا مجموعہ قرار دیا جائے کیونکہ ہم تو یہ مانتے ہی نہیں کہ اسلام اور سائنس کا کوئی آپسی تعلق یا مطابقت موجود ہے لہذا ہم دین اسلام کا دفاع سائنسی تحقیقات کے ذریعے نہیں کریں گے۔۔۔!
کیا یہ عقلی، منطقی اور فطری طور پہ درست رویہ ہوگا؟
یہ انسانی فطرت ہے کہ انسان اپنے نظریات کا ہر صورت دفاع کرتا ہے۔ (نظریات کا صحیح یا غلط ہونا ایک علیحدہ بحث ہے۔)
عقلی اور منطقی لحاظ سے ہر باشعور مسلمان اس رویہ کی مخالفت کرے گا کیونکہ اس کے بے شمار نقصانات ہیں جن کو اس مختصر پوسٹ میں بیان کرنا ممکن نہیں لیکن ہر فہم وفراست والا مسلمان ان سے آگاہ ہے۔

یہ رویہ قابلِ قبول نہیں تو پھر کیا کِیا جائے؟
اس کا سیدھا منطقی جواب یہ ہے۔
وہ اعتراضات جو سائنس کو بنیاد بنا کر کیے گئے، کیے جاتے ہیں اور ہوتے رہیں گے ان کا جواب بھی سائنسی تحقیقات کے ذریعے ہی دیا جائے گا۔
لیکن جوابات تحریر کرنے سے پہلے آپ کو اسلام اور سائنس کی مطابقت کو ماننا پڑے گا۔۔۔۔۔کیونکہ جوابات میں آپ یہی تو ثابت کریں گے اسلام اور مستند سائنس میں کوئی تضاد نہیں۔۔۔!
اس کے لئے آپ کو سائنس کی فطرت، طریقہ کار، تاریخ اور طریقہ استعمال کا علم ہونا چاہیے اور آپ کو اسلام و سائنس کی مطابقت کے اصول اور قوانین کا علم ہونا چاہیے۔ یہ اصول اور قوانین ہم مسلمان آپسی گفتگو، بحث ومباحثہ، رائے اور مشوروں سے طے کریں گے۔
اسلام و سائنس کی مطابقت کے اصول اور قوانین طے کرنے کے لئے جتنی مرضی تعمیری گفتگو کریں، قابلِ قبول ہے۔ لیکن ایک باشعور مسلمان کے لئے اسلام و سائنس کی مطابقت کو عقلی، منطقی اور فطری پہلو سے نہ ماننا ممکن نہیں اور اس کو تسلیم کرنا لازمی قرار پاتا ہے۔

پہلی پوسٹ کا لنک:
https://m.facebook.com/groups/1191878070977827?view=permalink&id=1355145954651037

---------------------------------------------
Sohaib Zobair

Comments

Popular posts from this blog

کیا سائنسدانوں نے مصنوعی خلیہ بنا لیا ؟

کیا سائنس دانوں نے مصنوعی خلیہ بنا لیا؟ تحریر: ڈاکٹر نثار احمد پچھلے کچھ دنوں سے کچھ فورمز پر یہ بحث چھڑی ہوئی ہے کہ کچھ حیاتیات دانوں نے تجربہ گاہ میں مصنوعی خلیے تیار کر لئے ہیں۔ تفصیلات اس لنک میں۔ https://www.sciencemag.org/news/2018/11/biologists-create-most-lifelike-artificial-cells-yet اس تمام بحث سے پہلے آپ کو یہ جاننا ہوگا کہ خلیہ دراصل ہوتا کیا ہے۔ خلیے کی تعریف ہم یوں کرسکتے ہیں کہ یہ زندگی کی ساختی اور فعلیاتی اکائی ہے۔ ایک خلیے کے اندر سینکڑوں مختلف عضویے ہوتے ہیں جو مل جل کر فیکٹری کی طرح کام کرتے ہیں۔ اس کے علاوہ متعدد اینزائمز بھی موجود ہوتے ہیں جو کیمیائی تعاملات میں عمل انگیز کے طور پر کام کرتے ہیں۔ اس کے علاوہ یہ خلیہ تقسیم در تقسیم ہو کر اپنے جیسے مزید خلیے بنا سکتا ہے۔ کچھ جاندار ایسے بھی پائے جاتے ہیں جو صرف ایک خلیے پر مشتمل ہوتے ہیں۔ انہیں ہم یک خلوی جاندار بھی کہتے ہیں۔ اوپر دئیے گئے آرٹیکل میں جو کہ سائنس جریدے میں پبلش ہوا کوئی بہت زیادہ نیا کارنامہ نہیں کیا گیا۔ اس پیپر میں بتایا گیا کہ کہ تجربہ گاہ میں کچھ خلیوں سے ملتی جلتی ساختیں بنائی گئیں جن م...

سانڈے کا تیل میڈیکل سائنس کی نظر میں !

سانڈے کا تیل میڈیکل سائنس کی نظر میں ! جنسی و نفسیاتی بیماریاں اور جانوروں کا قتل عام ۔۔۔! (18+ تحریر) __________________ تحقیق و تحریر : حسن خلیل چیمہ ______________________________________________ نوٹ : ( یہ تحریر عوامی آگاہی اور معصوم جانوروں کے بے جا قتل عام کو روکنے کے لئے اور عوام تک جدید میڈیکل سائنس کی رخ سے درست معلومات پہنچانے کی ایک کوشش ہے سانڈے کے تیل کے بارے میں اپنی رائے اور تجربے کو ایک طرف رکھ کہ اس تحریر کا مکمل مطالعہ کرنے کے بعد ہی اختلاف کریں شکریہ ) (خواتین اس تحریر کو پڑھنے سے اجتناب کریں ) ہمیشہ سے یہ دیکھ کر دکھ ہوتا ہے کہ جہاں دنیا سائنس و ٹیکنالوجی میں ترقی کرتی جا رہی ہے وہی ہم پاکستانی آج بھی اسی زمانہ قدیم میں جی رہیں ہیں جس میں انسانی سائنسی انقلاب سے پہلے ہمارے اجداد نے زندگی  گزاری  آج بھی ہم اسی طریقہ کار پر چل رہیں ہیں جہاں بیمار ہونے پر  اندازے سے دوا دینے والا کوئی حکیم ہوتا تھا جو مختلف جڑی بوٹیوں کو ملا کر کوئی ایسی دوا دے دیتا تھا جو وقتی طور ریلیف فراہم کرتی تھی کیونکہ ان وقتوں میں لوگوں کی خوارک میں زیادہ ملاوٹ نہ تھ...

قرآن اور سرن لیبارٹری

سورة انبیاء کی آیت نمبر 30 اور سرن لیبارٹری ۔۔۔!!! ____________________ سورۃ الانبیاء آیت نمبر 30 میں ربِ کائنات فرماتا ہے کہ اَوَلَمۡ يَرَ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡۤا اَنَّ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضَ كَانَتَا رَتۡقًا فَفَتَقۡنٰهُمَا‌ؕ وَجَعَلۡنَا مِنَ الۡمَآءِ كُلَّ شَىۡءٍ حَىٍّ‌ؕ اَفَلَا يُؤۡمِنُوۡنَ‏ ﴿۳۰﴾ کیا کافروں نے نہیں دیکھا کہ آسمان اور زمین دونوں ملے ہوئے تھے تو ہم نے جدا جدا کردیا۔ اور تمام جاندار چیزیں ہم نے پانی سے بنائیں۔ پھر یہ لوگ ایمان کیوں نہیں لاتے؟  ﴿۳۰﴾ معزز قارئین علماء کے نزدیک یہ آیت بگ بینگ سے متعلق ہے کہ ایک عظیم الشان دھماکہ ہوا جس سے اربوں میل دور تک دھواں پھیل گیا پھر اس دھوئیں میں سے  ٹھوس اجسام ستارے ،سیارے اور کومینٹس وغیرہ بننے کا عمل شروع ہوا ایک اور جگہ  ارشاد ہے کہ ثُمَّ اسۡتَوٰىۤ اِلَى السَّمَآءِ وَهِىَ دُخَانٌ فَقَالَ لَهَا وَلِلۡاَرۡضِ ائۡتِيَا طَوۡعًا اَوۡ كَرۡهًاؕ قَالَتَاۤ اَتَيۡنَا طَآٮِٕعِيۡنَ‏ ﴿۱۱﴾ پھر آسمان کی طرف متوجہ ہوا اور وہ دھواں تھا تو اس نے اس سے اور زمین سے فرمایا کہ دونوں آؤ (خواہ) خوشی سے خواہ ناخوشی سے۔ انہوں...