Skip to main content

مصنوعی ذہانت ( تیسرا حصہ)

#Artificial_intelligence
آرٹیفیشل انٹیلیجنس (تیسری قسط )
____________________________
تحقیق و تحریر :- حسن خلیل چیمہ
_______________________________________________
آرٹیفیشل انٹیلیجنس پر یہ میری تیسری قسط جبکہ سابقہ دو اقساط میں ہم نے جانا کہ آرٹیفیشل انٹیلیجنس کیا ہوتا ہے ،کیسے کام کرتے ہیں ،ان کے فائدے اور نقصانات کیا ہیں جبکہ نیورالنک سے متعلق جاننے کے بعد ہم نے جانا کہ ان آرٹیفیشل انٹیلیجنس یا مشینی ذہانت کو جہاں جدید بنایا جا رہا ہے اسی کے ساتھ اس مشینی ذہانت کو کنٹرول کرنے کے لئے کیا اقدامات کیے جا رہے ہیں اور ہم نے جانا کہ ٹرانس ہیومنزم کیا ہے اس سب کے باوجود پھر بھی میں اپنے مضمون کو محدود الفاظ میں نہیں سمیٹ سکا یہی وجہ ہے کہ لوگوں کے ذہن میں ایک سوال باقی رہا کہ کیا واقعی میں آرٹیفیشل انٹیلیجنس یا مشینی ذہانت اس قدر طاقتور ہو سکتی ہے کہ وہ انسانی ذہن کو مات دے سکے ؟
یہی وہ سوال تھا جس نے مجھے اس مضمون کا تیسرا حصہ لکھنے پر مجبور کیا
تو چلئے جانتے ہیں کیا ایسا ممکن ہے ؟
کیا مشینی ذہانت انسانی ذہانت کو مات دے سکے گی ؟
آرٹیفیشل کی کتنی اقسام ہیں اور یہ کیسے سیکھتے ہیں ؟
اس کے علاوہ ہم جانے گئے
صوفیہ ہیومنائیٹڈ ربورٹ کے بارے میں جیسے مشینی ذہانت کے نام پر دھوکہ کہا جاتا ہے کیا واقعی میں یہ سچ بات ہے ؟
اور جانیں گے کیا فرق ہے صوفیہ ربورٹ اور گوگل کے ورچوئل اسیسٹنٹ میں ؟
تو چلیں شروع کرتے ہیں ہمیشہ کی طرح آج کی اپنی دلچسپ تحریر کو ۔۔۔۔۔!!!!😊
_______________________________________________
آپ اس دنیا کے جس کسی بھی کونے میں بیٹھ کر جس کسی بھی ڈیوائس پر یہ تحریر پڑھ رہے ہیں وہ کچھ سال پہلے صرف ایک خیال ہوا کرتی تھی لیکن دن بدن ہم ٹیکنالوجی میں ترقی کر رہے ہیں یہی وجہ ہے کہ وہ خیال حقیقت میں بدل چکا ہے اور اسی ٹیکنالوجی نے آج ایک ایسے کمپیوٹر سسٹم یا سافٹ وئیر کو جنم دیا جو ہمارے پورے مستقبل کو بدلنے کی طاقت رکھتا ہے یعنی آرٹیفیشل انٹیلیجنس ۔آرٹیفیشل انٹیلیجنس کیا ہوتا ہے اور کیا یہ ہمارے لیے فائدہ مند ہوگا یا ایک بہت بڑا خطرہ ! اس پر تفصیل سے ہم پہلے ہی بات کر چکے ہیں لیکن یہاں صرف تمہید بانڈھنا چاہوں گا ۔ آرٹیفیشل انٹیلیجنس دو الفاظ سے مل کر بنا ہے آرٹیفیشل یعنی مصنوعی یا انسان کا بنایا ہوا جبکہ انٹیلی جنس کا مطلب ہے ذہانت ۔ یعنی انسانوں کی بنائی ہوئی ایسی ذہانت جو ہماری طرح سوچ سکے ہماری طرح فیصلہ کرسکے اور بالکل ہماری طرح ہی پریشانیوں کو حل کر سکے ۔ یہ جو سوچنے سمجھنے کی طاقت ہوتی ہے وہ انسانوں میں خود بہ خود پڑھتی ہے جیسا کہ کچھ دیکھ کر کچھ سن کر اور چھو کر ۔ہم سمجھ لیتے ہیں کہ کسی چیز کے ساتھ کیسے پیش آنا ہے اسی طرح کی خصوصیات مشینوں میں بھی ڈویلپ کی جاتی ہیں جسے ہم کہتے ہیں آج آرٹیفیشل انٹیلیجنس ۔
آرٹیفیشل انٹیلیجنس کی ایک چھوٹی سی مثال ہے ورچوئل اسسٹنٹ ۔آرٹیفیشل انٹیلیجنس کا سب سے بڑا مقصد ہماری زندگی کو پہلے سے زیادہ بہتر اور آسان بنانا ہے ۔
بھلے ہی آج کی آرٹیفیشل انٹیلیجنس بہت ہی بنیادی ہے لیکن سائنسدان اسے بہتر بنانے میں لگے ہیں اور آنے والے وقت میں یہ اپنے پیک پوائنٹ پر پہنچ جائے گا لیکن اس کے بعد کیا ہوگا اس پر ہم پچھلی تحریر میں تفصیل سے بات کر چکے ہیں ۔ممکن ہے کہ یہ باتیں آپ کو کسی سائنس فکشن فلم سے زیادہ کچھ نہیں لگ رہی ہوگی لیکن یقین کریں کہ ایسا ہونا ممکن ہے ۔
آرٹیفیشل انٹیلیجنس اپنے آپ سیکھنے کے قابل ہوتے ہیں اور یہ اپنی کارکردگی کو انسانوں سے بہتر بنانے کے بھی قابل ہوتے ہیں اور اس بات کا پتا تب چلا جب Deep mind کمپنی کا بنایا ہوا A-I ( Alpha zero) جسے خاص طور پر گیم کھیلنے کے لئے بنایا گیا تھا جس نے اس دنیا کے سب سے بڑے شطرنج کے کھلاڑی کو اسی کے کھیل میں ہرا دیا اور حیران کرنے والی بات یہ ہے کہ اس اے_ ای میں گیمز کھیلنے کے بنیادی احکامات ہیں ڈالے گئے تھے ۔
___________
اقسام :-
آرٹیفیشل انٹیلیجنس بنیادی طور پر تین طرح کے ہوتے ہیں ۔
1-آرٹیفیشل نیرو انٹیلیجنس یا ویک اے -ای ۔
2آرٹیفیشل جنرل انٹیلیجنس یا سٹرونگ اے ای ۔
3-آرٹیفیشل سوپر انٹیلیجنس جسے سینگولریٹی بھی کہا جاتا ہے

ابھی جو ہمیں اے-آئز نظر آتے ہیں بشمول گوگل ورچوئل اسسٹنٹ جس کی مثال میں اوپر دے چکا ہوں سب ویک اے آئز ہیں یہ اے-ائز صرف کچھ خاص اور ایک محدود ایریا تک ہی کام کر سکتے ہیں
مثال کے طور پر آپ اپنے کمپیوٹر میں شطرنج کھیل رہے ہیں اور سامنے والا اے ای بے شک اس کام میں ماہر ہی کیوں نہ ہو لیکن وہ اس کے علاوہ کوئی اور کام نہیں کر سکتا ۔آپ نے صوفیہ کا نام سنا ہوگا جسے سعودی عرب کی شہریت بھی دی گئی تھی وہ بھی ایک کمزور انٹیفیشیل انٹیلیجنس کا نمونہ ہے ۔
لیکن جیسا کہ میں نے آپ کو پہلے بھی بتایا کہ اس سعبے میں ہم ابھی ترقی کر رہے ہیں اور وقت کے ساتھ ساتھ جیسے ہم انہیں طاقتور بناتے جائیں گے ان میں سیکھنے کی طاقت بھی بڑھتی جائے گی اور جب وہ ہم انسانوں جتنا سمجھ دار ہو جائیں گے تب آپ نے کہا جائے گا آرٹیفیشل جنرل انٹیلیجنس یا طاقتور آرٹیفیشل انٹیلیجنس ۔
یہ بالکل ایک انسان کی طرح سوچ سکیں گے اور ہماری طرح ہی فیصلے لے سکیں گے نے بھی اس دنیا میں ہونے کا یعنی کاشیسنس کا احساس ہوگا ۔
اور جب یہ آرٹیفیشل جنرل انٹیلیجنس انسانوں سے کچھ زیادہ سمجھدار ہو جائیں گے تو تب انہیں کہا جائے گا آرٹیفیشل سوپر انٹیلیجنس یعنی کہ سنگولیرٹی ۔
ان کا دماغ انسانوں سے کہیں زیادہ تیز ہوگا فی الحال ابھی تک کوئی نہیں جانتا کہ سینگولرٹی کے آنے کے بعد کیا ہوگا ۔
کیونکہ سنگولیرٹی جانے کے بعد یا تو ہم انسانی تاریخ کی سب سے بڑی کامیابی کی طرف بڑھیں گے یا پھر سب سے بڑی تباہی کی طرف بہرحال ہم اس کے بارے میں بات کر چکے ہیں لیکن یہاں صرف یہ سمجھانا مقصود تھا کہ یہ ربورٹس کن کن مراحل سے گزر کر اس ذہانت کو حاصل کریں گے جو انسانی ذہانت کو مات دے سکی گی کیا دینے کے قابل ہو گئی ۔
اس کے علاوہ آرٹیفیشل انٹیلیجنس کے موجودہ دور میں ترقی سن کر لی مزید مثالوں کی بات کریں تو اس میں Nvidia کمپنی کا گرافک ٹول ہے جس نے لاکھوں ایسے چہرے بنا ڈالے جن کا اس دنیا میں موجود ہی نہیں اور نہ ہی بولو کبھی پیدا ہوئے ۔اس کے علاوہ اس کمپنی کی ایک ویب سائٹ آئی تھی جس کا نام تھا image جنریٹر جس میں اگر آپ کوئی تصویر کسے بناتے ہیں تو وہ ویب سائٹ کے ان بلٹ ٹول کا استعمال کرتے ہوئے اسی طرح کا ایک انسانی چہرہ بنا دیتی ہیں اس ٹول کو قابل استعمال بنانے کے لئے نیکسٹ لیول آرٹیفیشل انٹیلیجنس کا استعمال کیا گیا تھا جیسے generative adverseal network کہا جاتا ہے اسی کو بنیاد بناتے ہوئے اس کمپنی نے اپنے ملازموں کو اس سے بھی زیادہ حقیقی دیکھنے والی تصویریں پیدا کرنے والا سافٹ ویئر بنانے کی اجازت دے دی جس میں آپ کو کچھ بھی الٹا سیدھا بنا دوں تو وہ اسے ایک تصویر میں بدل دے گا جو بالکل حقیقی نظر آئے گی جبکہ اس لیے دنیا میں ایسی کوئی تصویر ہوگی ہی نہیں اور نہ ہی ایسا کوئی انسان اور جگہ نہ جانور ۔آج یہ سافٹ ویئر آپ کو کہیں بھی نہیں ملے گا تاکہ اس کا غلط استعمال نہ کیا جائے اور نہ ہی کمنٹ میں آپ مجھ سے اس کا کوئی لنک وغیرہ مانگنا 😊 اب آپ سوچ رہے ہوں گے کہ کیا اتنا ہی کر سکتی ہے آرٹیفیشل انٹیلیجنس ؟ تو چلیں ایک اور مثال سے اسے سمجھتے ہیں
ایک اور تکنیک ہے جسے deep learning technique کہتے ہیں جس کا استعمال گوگل کر رہی ہے اپنے آرٹیفیشل انٹیلیجنس کو مزید بہتر بنانے کے لئے ۔اب یہ ٹیکنالوجی کیسے کام کرتی ہے تو چلئے جانتے ہیں ابھی پہلے جس ٹیکنالوجی کے بارے میں آپ نے پڑھا وہ صرف چہرہ بناتی ہے لیکن اس تکنیک کی مدد سے آپ ایک انسان کی آواز پیدا کر سکتے ہیں ڈیپ لرننگ ٹیکنیک میں ایک فیچر ہیں جسے wave net کہا جاتا ہے جس کا استعمال گوگل کر رہا ہے اپنے گوگل اسسٹنٹ ٹول کے لیے ۔اس ٹیکنالوجی کی مدد سے کسی بھی انسان کی آواز کو دوبارہ سے پیدا کیا جا سکتا ہے یعنی کہ اگر آپ نے کچھ بولا تو آپ کی آواز دوبارہ سے پیدا کی جاسکتی ہے اور آپ بولو گے تو آپ کو بھی اصلی لگے گا ۔
1 سٹارٹ اپ ہیں جس نے ایک ایسی ٹیکنالوجی متعارف کرائی ہے اگر آپ کچھ بولو گے تو وہ آپ کی آواز کو کاپی کر لے گا اور پھر جو چاہے آپ کی آواز میں ریکارڈ کر سکتا ہے اس ٹیکنالوجی کا غلط استعمال بھی کیا جا سکتا ہے یعنی کہ کوئی غلط کام کر کے آپ کی آواز استعمال کی جاسکتی ہے اور آپ کو بلاوجہ پھنسیا جا سکتا ہے ۔
گوگل اپنے ورچوئل اسسٹنٹ میں اسی ٹیکنالوجی کا استعمال کر رہا ہے
اس کے علاوہ ایمازون ایک پروڈکٹ ہے الیکسا ۔یہ ڈیوائس بھی آپ کی آواز کو پہچان کر کام کرتا ہے مطلب آپ اسے کچھ بھی بولو گے اور وہ کرے گا یعنی کہ اگر آپ نے کس کو کال کرنا ہے یا پھر آپ کے گھر کی سکیورٹی پر مامور کیا گیا ہے تو یہ آپ کے حکم کے مطابق دروازہ کھولنے اور بند کردے گا اس کے علاوہ یہ آپ کے گھر کی روشنیاں ان آف بھی کر سکتا اور کام زیادہ بھی کر سکتا ہے
لیکن اس ڈیوائس میں خرابی تب پیدا ہوئی جب اس نے لوگوں کی آواز ریکارڈ کر کے اپنی جیسی دوسری ڈیوائسز کو بھیجنا شروع کردیں وی بھی مالک کے حکم کے بنا یعنی یہ ڈیوائس بھی اپنے آپ کام کرنے لگ گیا اس کے علاوہ یہ ڈیوائسز اپنے آپ ہسنے کی آواز نکالنے لگ جاتا ہے ۔
اب بات کرتے ہیں گوگل کے ورچوئل اسسٹنٹ اور صوفیہ ربورٹ کے بارے میں ۔
تو ابھی تک آپ لوگوں نے صوفیہ روبوٹ کے بارے میں کافی کچھ سن لیا ہوگا یہ ایک ربورٹ ہے جو کہ آرٹیفیشل انٹیلیجنس کا استعمال کرکے لوگوں سے بات کر سکتی ہے اور اس کی اسی ہونے کی وجہ بہت سارے ٹی وی چینلز اور ٹاک شوز نے اس کا انٹرویو لیا ہے کہا جارہا ہے کہ یہ کہ آرٹیفیشل انٹیلیجنس کا مستقبل ہے کیا واقعی میں یہ ربورٹ اتنا ذہین ہے ؟
تو اس کا جواب ہی نہیں بلکہ یہ ربورٹ ایک بہت بڑا فراڈ ہے جس سے ہیومنائڈ بتا کر ہمیں بیوقوف بنایا جا رہا ہے اور کہا جا رہا ہے کہ یہ آرٹیفیشل انٹیلیجنس کا مستقبل ہے
سفیر بورڈ کو جس انسان نے بنایا ہے اس کا نام ہے ڈیوڈ ہنسن ۔جو کہ ہنسن ربوٹک بانی ہیں اور کمال کی بات یہ ہے کہ ڈیوڈ ہنسن کے پاس ربوٹکس سے متعلق کوئی ڈگری نہیں ہے ان کے پاس فلم اورآرٹس متعلق ایک ڈگری موجود ہے جس کی وجہ سے یہ پہلے ورلڈ ڈیزنی میں کام کیا کرتے تھے جہاں یہ ڈیزنیر پاک میں بچوں کے چھوٹے موٹے کھلونے بنایا کرتے تھے اور تو اور انہوں نے صوفیہ ربورٹ سے پہلے بھی ایسے رپورٹ نہیں ہے جو بہت ہی معمولی تھے جیسا کہ انہوں نے ایک ائن سٹائن کاربوٹ بنایا تھا جو کہ بعد میں ایک فلیئر ثابت ہوا تھا اس کے بعد ڈیوڈہنس نے صوفیہ روبوٹ کو بنایا جس کا چہرہ ایک انگلش اداکارہ Audrey Hepburn کی طرح ڈیزائن کیا گیا حالانکہ صوفیہ روبوٹ بھی ایک عام سا چیٹ باٹ ہی تھی لیکن اس کا چہرہ ایک انگلش اداکارہ کی تیرا ہونے کی وجہ سے اسے میڈیا کی توجہ ملنے لگی سچائی یہ ہے کہ صوفیہ ربورٹ اتنی ذہین اور جدید ہے ہی نہیں جتنا اسے دکھانے کی کوشش کی جا رہی ہے 2017 میں جب یہ ربورٹ کافی مشہور ہو رہی تھی تو اسی سال دسمبر میں ایک امریکی نیوز چینل CNBc نے اس کا انٹرویو لیا تھا جس کہ کچھ مہینوں بعد 5 جون 2018 کو اس ٹی وی چینل نے اس انٹرویو کا خلاصہ کرتے ہوئے بتایا کہ جب ہم اس ربورٹ کا انٹرویو لے رہے تھے تو کمپنی کی طرف سے پہلے ہمیں ایک تحریر بھیج دی گئی تھی کہ آپ کو اس تحریر کے مطابق سٹیج پر سوالات پوچھ رہے ہیں جیو نیوز چینل میں بات لے پبلک بھی کر دیے تھے ۔صوفیہ روبوٹ ایک فراڈ ہے اور وہ سے کچھ نہیں بول سکتی جس کا اظہار اسے بنانے والے کو اپنی چیف انجینئر نے بھی کیا تھا ۔صوفیہ روبوٹ کو بنانے کا مقصد صرف کمپنی کا خود کو میڈیا میں رکھنے اور غلط فہمیاں پھیلانے کا ایک مقصد ہے اور یہی وجہ ہے کہ ان کو مشہور کرنے کے لئے میں نے اس ربورٹ کو سعودی عرب کی شہریت بھی دلوائی پہلا ایک رپورٹ کو شہریت کیسے مل سکتی ہے ؟ جان بوجھ کر ڈیوڈ ہسن ٹی وی شوز میں آکر اس سے ایسے سوالات پوچھتے ہیں جس سے سنسنی پھیل لے جیسا کہ تم دنیا کو تباہ کرنے والی ہوں اور وہ جواب دیتی ہے کیا کام میں دنیا کو تباہ کرنے والی ہیں !
جبکہ حقیقت یہ ہے کہ وہ خود سے بول بھی نہیں سکتی
اور تو اور فیس بک کے آرٹیفیشل انٹیلیجنس کے ہیڈ یان لیکین میں فیس بک پر یہ پوسٹ کیا گیا "صوفیاء ایک بے کار اور پالتو ربوٹ ہے بہت سے لوگ سوچتے ہیں کہ یہ بہت ہی ذہین ربورٹ ہے جبکہ ایسا نہیں ہے جب کہ اس کے سمجھنے کی طاقت بلکل زیرو ہے "
صوفیہ ربورٹ ایک کچرا ہے اس کے سوا کچھ نہیں میں صرف اتنا کہنا چاہوں گا ۔
ایسا کیوں میں کہہ رہا ہوں چلیے اس کا ایک سائنٹفک ریزن دیتا ہوں ۔صوفیہ ربوٹ بنیادی طور پر تین کنٹرول سسٹم پر کام کرتی ہے
1- timeline editor
2-scs
3-openCOG
ٹائم لائن ایڈیٹر پوری طرح سے پہلے سے لکھے ہوئے سکرپٹ پر کام کرتا ہے اگر صوفیہ کو کہیں تقریر کرنی ہوتی ہے تو اس کا ڈویلپر پر اس کے اندر وہ سکریپ اپلوڈ کر دیتا ہے تب جا کر یہ ربورٹ اس سک ریٹ کو صرف سٹیج پر پڑھ دیتی ہے
دوسرا کنٹرول سسٹم یعنsophisticated chat system اس وقت کام آتا ہے جب صوفیہ کو کہیں انٹرویو دینا ہوتا ہے اس کا استعمال کرتے ہوئے ڈویلپر وہ سارے سوالات اس کے اندر اپلوڈ کر دیتا ہے جو انٹرویو دوران اس سے پوچھے جانے ہوتے ہیں
تیسرا ہے اوپن کاگ جیسے آرٹیفیشل جنرل انٹیلیجنس بھی کہا جاتا ہے اس کا استعمال کرکے کسی ربوٹ کے اندر صحت و جذبات ڈالے جاتے ہیں یہ وہ ٹیکنالوجی جیسے ہم آج تک حاصل نہیں کر پائے
آپ لوگ کی افواہوں پر دھیان مت دیا کریں اگر آپ سچ میں جاننا چاہتے ہیں کہ اصل میں آرٹیفیشل انٹیلیجنس ربوٹ کیسا ہوتا ہے تو چلئے آپ کو بتاتے ہیں
8 مئی 2018 کو گوگل نے اپنے آئی او میں ایک اعلان کیا تھا ایک نئی ٹیکنالوجی کے بارے میں جس کا نام ہے Google duplex گوگل ڈیوپلیکس ایک ایسا آرٹیفیشل انٹیلیجنس بیسڈ سافٹ ویئر ہے جو بہت جلد آپ کے اینڈرائیڈ فون میں موجود ہوگا یہ سافٹ وئیر اتنا طاقتور ہے کہ بالوں کے آپ کو ایک ہوٹل میں کال کرکے اپنے لیے ایک ٹیبل بک کرنی ہے اور آپ مصروف ہیں اور آپ کے پاس ٹائم نہیں ہے تو اپنے موبائل میں موجود آپ کے پاس گوگل ڈیوپلیکس کو آن کردیں گے جس سے یہ سافٹ ویئر اسے آرٹیفیشل انٹیلیجنس کا استعمال کر کے اس ہوٹل میں کال کرے گا اور ایک انسان کی طرح انسان کی آواز میں دوسرے انسان سے بات کرکے اس ہوٹل میں آپ کے لئے ٹیبل بک کروا دیگا اب آپ کو ہوں گے کہ بات تو صوفیہ ربورٹ بھی کر سکتی ہیں تو بھائی سو ٹی ربورٹ کو بات کرتے ہوئے آپ پہچان سکتے ہو کہ یہ ایک ربورٹ بات کر رہا ہے جبکہ اگر آپ گوگل ڈیوپلیکس کو بات کرتے ہوئے سنو گے تو آپ پہچان بھی نہیں پاؤ گے کہ یہ ایک ربورٹ کی آواز ہےکیونکہ اس کے بولنے کا لہجہ اور طریقہ بالکل انسان کے جیسا ہے اب بات کرتے ہوئے کبھی ہم انسان کبھی ٹیڑہ بولتے ہیں کبھی دیمہ بولتے ہیں اور کبھی ٹیڑے سوال کرتے ہیں جس کا جواب دینا ایک رپورٹ کے لیے ناممکن ہوتا ہے
لیکن یہ پروگرام اتنا طاقتور ہے کہ ہر سوال کا جواب دینے کی طاقت رکھتا ہے میرے پاس گوگل کے اس اعلان کی ایک ویڈیو ہے جسے میں کمنٹ باکس میں ڈال رہا ہوں وہاں سے دیکھ لیجئے گا --
اس ویڈیو میں یہ پروگرام ایک ہوٹل میں کال کرتا ہے اور اس انسان کو پتہ بھی نہیں چلتا کہ وہ ایک رپورٹ سے بات کر رہا ہے
آپ جاننا چاہتے ہیں کہ اگر گوگل ڈوپلیکس کام کیسے کرتا ہے تو اس کو میں اوپر بیان کر چکا ہوں لیکن یہاں بھی تھوڑا سا بیان کر دیتا ہوں تو یہ ایک ڈیپ نیورل سسٹم ہے جو ویونیٹ کا استعمال کرتا ہے
اور بے ویو نیٹ ایک سپیچ سنتھسز پروگرام ہے جسے گوگل نے 2016 میں بنایا تھا ۔اگر آپ سوچ رہے ہیں کہ یہ پروگرام اتنی آسانی سے کیسے انسانی آواز کو پروسیس سکتا اور سمجھ سکتا ہے تو پروگرام ری کرنٹ نیورل نیٹ ورک کا استعمال کرتا ہے
اگر آپ یہ جاننا چاہتے ہیں کہ ایک نیورل نیٹ ورک کیا ہوتا ہے تو یہ بنیادی طور پر میٹرکس کا ایک بہت بڑا ملٹی پلیکیشنل فنکشن ہے جس میں میٹریکس کا ہر حصہ آرٹیفیشل نیوران سے بنا ہوتا ہے جیسے نائیڈ کہتے ہیں ان نائیڈز میں ایک میتھمیٹیکل فارمولا ہوتا ہے جو لیئر وائز ترتیب سے موجود ہوتے ہیں اور ہر نائیڈ میں ایک ان پٹ اور ایک آؤٹ پٹ ہوتا ہے جب ان نائیڈز کو ان پٹ وصول ہوتی ہے تو اس پورے میٹرکس کا کام پہلا کام اس ان پٹ سے غلطیوں کو ختم کرنا ہوتا ہے اور اس کے سائز کو کم کرنا ہوتا ہے اس کے بعد جا کہ یہ آوٹ پٹ دے پاتے ہیں ۔
وقت کے ساتھ ساتھ مختلف یہ ٹیکنالوجی اور بھی زیادہ جدید ہوتی جائے گی اور آج نہیں تو کل اس پروگرام کو ربوٹس میں استعمال کیا جائے گا اور تب ربورٹس واقعی میں انسانوں کی سوچنے سمجھنے اور فیصلہ کرنے میں برابری کرنے لگے ۔ایک طرف یہ چیز بہت اچھے ہیں جبکہ دوسری طرف یہ چیز بہت زیادہ خطرناک بھی ہے کیوں اس کی وجہ سے انسانوں کی معاملہ فہمی کم پڑ جائے گی اور نوکریوں کی کمی ہوگی کیونکہ اگر آپ روبوٹ استعمال کر رہے ہیں تو جہاں آپ جائیں گے وہاں بھی بورڈ استعمال کیا جائے گا جوکہ آسانی کے لئے بہت خطرناک ہے یہ میں مانتا ہوں جبکہ میرا ماننا ہے کہ واقعی بہت سے انسانوں سے زیادہ ذہین اور طاقتور ہوں گے اور ایسا مستقبل میں ہونے والا ہے بے شک کسی کو صیحیح لگے
گایا غلط لیکن یہ حقیقت ہے جس سے منہ نہیں موڑا جا سکتا ۔۔!!


Comments

Popular posts from this blog

کیا سائنسدانوں نے مصنوعی خلیہ بنا لیا ؟

کیا سائنس دانوں نے مصنوعی خلیہ بنا لیا؟ تحریر: ڈاکٹر نثار احمد پچھلے کچھ دنوں سے کچھ فورمز پر یہ بحث چھڑی ہوئی ہے کہ کچھ حیاتیات دانوں نے تجربہ گاہ میں مصنوعی خلیے تیار کر لئے ہیں۔ تفصیلات اس لنک میں۔ https://www.sciencemag.org/news/2018/11/biologists-create-most-lifelike-artificial-cells-yet اس تمام بحث سے پہلے آپ کو یہ جاننا ہوگا کہ خلیہ دراصل ہوتا کیا ہے۔ خلیے کی تعریف ہم یوں کرسکتے ہیں کہ یہ زندگی کی ساختی اور فعلیاتی اکائی ہے۔ ایک خلیے کے اندر سینکڑوں مختلف عضویے ہوتے ہیں جو مل جل کر فیکٹری کی طرح کام کرتے ہیں۔ اس کے علاوہ متعدد اینزائمز بھی موجود ہوتے ہیں جو کیمیائی تعاملات میں عمل انگیز کے طور پر کام کرتے ہیں۔ اس کے علاوہ یہ خلیہ تقسیم در تقسیم ہو کر اپنے جیسے مزید خلیے بنا سکتا ہے۔ کچھ جاندار ایسے بھی پائے جاتے ہیں جو صرف ایک خلیے پر مشتمل ہوتے ہیں۔ انہیں ہم یک خلوی جاندار بھی کہتے ہیں۔ اوپر دئیے گئے آرٹیکل میں جو کہ سائنس جریدے میں پبلش ہوا کوئی بہت زیادہ نیا کارنامہ نہیں کیا گیا۔ اس پیپر میں بتایا گیا کہ کہ تجربہ گاہ میں کچھ خلیوں سے ملتی جلتی ساختیں بنائی گئیں جن م...

سانڈے کا تیل میڈیکل سائنس کی نظر میں !

سانڈے کا تیل میڈیکل سائنس کی نظر میں ! جنسی و نفسیاتی بیماریاں اور جانوروں کا قتل عام ۔۔۔! (18+ تحریر) __________________ تحقیق و تحریر : حسن خلیل چیمہ ______________________________________________ نوٹ : ( یہ تحریر عوامی آگاہی اور معصوم جانوروں کے بے جا قتل عام کو روکنے کے لئے اور عوام تک جدید میڈیکل سائنس کی رخ سے درست معلومات پہنچانے کی ایک کوشش ہے سانڈے کے تیل کے بارے میں اپنی رائے اور تجربے کو ایک طرف رکھ کہ اس تحریر کا مکمل مطالعہ کرنے کے بعد ہی اختلاف کریں شکریہ ) (خواتین اس تحریر کو پڑھنے سے اجتناب کریں ) ہمیشہ سے یہ دیکھ کر دکھ ہوتا ہے کہ جہاں دنیا سائنس و ٹیکنالوجی میں ترقی کرتی جا رہی ہے وہی ہم پاکستانی آج بھی اسی زمانہ قدیم میں جی رہیں ہیں جس میں انسانی سائنسی انقلاب سے پہلے ہمارے اجداد نے زندگی  گزاری  آج بھی ہم اسی طریقہ کار پر چل رہیں ہیں جہاں بیمار ہونے پر  اندازے سے دوا دینے والا کوئی حکیم ہوتا تھا جو مختلف جڑی بوٹیوں کو ملا کر کوئی ایسی دوا دے دیتا تھا جو وقتی طور ریلیف فراہم کرتی تھی کیونکہ ان وقتوں میں لوگوں کی خوارک میں زیادہ ملاوٹ نہ تھ...

قرآن اور سرن لیبارٹری

سورة انبیاء کی آیت نمبر 30 اور سرن لیبارٹری ۔۔۔!!! ____________________ سورۃ الانبیاء آیت نمبر 30 میں ربِ کائنات فرماتا ہے کہ اَوَلَمۡ يَرَ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡۤا اَنَّ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضَ كَانَتَا رَتۡقًا فَفَتَقۡنٰهُمَا‌ؕ وَجَعَلۡنَا مِنَ الۡمَآءِ كُلَّ شَىۡءٍ حَىٍّ‌ؕ اَفَلَا يُؤۡمِنُوۡنَ‏ ﴿۳۰﴾ کیا کافروں نے نہیں دیکھا کہ آسمان اور زمین دونوں ملے ہوئے تھے تو ہم نے جدا جدا کردیا۔ اور تمام جاندار چیزیں ہم نے پانی سے بنائیں۔ پھر یہ لوگ ایمان کیوں نہیں لاتے؟  ﴿۳۰﴾ معزز قارئین علماء کے نزدیک یہ آیت بگ بینگ سے متعلق ہے کہ ایک عظیم الشان دھماکہ ہوا جس سے اربوں میل دور تک دھواں پھیل گیا پھر اس دھوئیں میں سے  ٹھوس اجسام ستارے ،سیارے اور کومینٹس وغیرہ بننے کا عمل شروع ہوا ایک اور جگہ  ارشاد ہے کہ ثُمَّ اسۡتَوٰىۤ اِلَى السَّمَآءِ وَهِىَ دُخَانٌ فَقَالَ لَهَا وَلِلۡاَرۡضِ ائۡتِيَا طَوۡعًا اَوۡ كَرۡهًاؕ قَالَتَاۤ اَتَيۡنَا طَآٮِٕعِيۡنَ‏ ﴿۱۱﴾ پھر آسمان کی طرف متوجہ ہوا اور وہ دھواں تھا تو اس نے اس سے اور زمین سے فرمایا کہ دونوں آؤ (خواہ) خوشی سے خواہ ناخوشی سے۔ انہوں...