#Artificial_sun_and_Artificial_moon
چین کا مصنوعی سورج اور مصنوعی چاند ۔۔۔!!
_______________
تحقیق و تحریر :- حسن خلیل چیمہ (ابن آدم )
________________________________________________
کچھ مہینوں سے ایک خبر موضوع بحث بنی ہوئی ہے کہ چین نے ایک مصنوعی سورج بنا لیا ہے جس کا درجہ حرارت ہمارے سورج سے بھی چھ گنا زیادہ ہے ۔اس کو دنیا کے تقریبا تمام خبر رساں اداروں نے اپنے نیوز پیپرز میں چھاپا ۔کیا واقعی چین نے ایک ایسا مصنوعی سورج تیار کرلیا ہے ؟
کیا یہ ہمارے موجودہ سورج کا متبادل ہوگا ؟
اور چین نے ایسا کیا کیسے ؟
ان سب سوالوں کے جواب اور ساتھ ہی ساتھ میں ہم چین کی طرف سے مصنوعی چاند کے لانچ کرنے کے اعلان سے متعلق بھی بحث کریں گے
تو چلیں شروع کرتے ہیں آج کی اپنی اس دلچسپ تحریر کو۔۔😉
_______________________
مصنوعی سورج :--
سب سے پہلے تو میں آپ کو یہ بتانا چاہوں گا کہ اس تناظر میں نیوز پیپرز کا "مصنوعی سورج " کا لفظ استعمال کرنا غلط فہمی پھیلانے کے برابر ہے ۔
کیونکہ چین نے ایسا کچھ نہیں کیا جو ہمارے اصلی سورج کی جگہ لینے والا ہو تو آخر چین نے ایسا کیا کیا آئیے جانتے ہیں ۔
دراصل آج جتنے بھی قسم کے انرجی یا پاور حاصل کرنے کے ذرائع اس زمین پر موجود ہیں یا تو وہ ماحول کو آلودہ کرتے ہیں یا پھر ان سے نقصان دہ ریڈیشنز کے خارج ہونے کا خطرہ رہتا ہے مثال کے طور پر ہم تھرمل پاور پلانٹ میں بجلی پیدا کرنے کے لیے کوئلے کا استعمال کرتے ہیں جس سے کافی آلودگی پیدا ہوتی ہے
اسی طرح اس وقت موجود نیوکلیئر فیژن ری ایکٹرز سے اب انرجی حاصل کرتے ہیں لیکن اس میں بھی ریڈیو ایکٹیو ویسٹ ملتا ہے جو ہمارے لئے کافی نقصان دہ ہے
کیونکہ انسانی بقا کے لیے آج ہم تکنیکی طور پر کافی ترقی کر رہے ہیں تو ممکن ہے کہ مستقبل میں ہمیں انرجی کرائسز کا مسئلہ درپیش آئے ۔کیونکہ جیسے جیسے ہم جدت اختیار کر رہے ہیں ہم انرجی کا زیادہ استعمال کر رہے ہیں۔
مستقبل میں انرجی کرائسز کی پریشانی نہ آئے سائنسدان اس بات کو یقینی بنانے کے لئے آج انرجی کے نئے ذرائعے تلاش کر رہے ہیں۔
ہمارے پاس اس وقت انرجی حاصل کرنے کے لئے جو ذرائع موجود ہیں وہ کافی زیادہ آلودگی پھیلاتے ہیں جس سے ہماری زمین کا ماحول بہت زیادہ متاثر ہو رہا ہے اس لیے اس بات کا خیال بھی رکھا جا رہا ہے کہ ہم جو انرجی حاصل کرنے کے لیے نئے ذرائع تلاش کر رہے ہیں وہ ماحول دوست بھی ہو اور ان سے ہمارے محفل پر کوئی برا اثر نہ پڑے
آج ہر فیلڈ میں الیکٹریسٹی اور سولر پاور پلانٹس کا استعمال اس بات کی گواہی دیتا ہے کہ ہم انرجی حاصل کرنے کے لیے ماحول دوست ذرائع تلاش کر رہے ہیں کیونکہ ایسی ترقی کا کوئی مطلب نہیں بنتا جس سے ہماری زمین کا پورا ماحول متاثر ہو ۔
چین نے کیا حاصل کیا ہے اس کو سمجھنے کے لئے آپ کو نیوکلیئر فیژن اور نیوکلیئر فیوژن سے متعلق بنیادی معلومات ہونا ضروری ہے ۔سکول کے دنوں میں آپ نے ان کے بارے میں پڑھا ہوگا چلئے پھر سے ان کے بارے میں تھوڑا جان لیتے ہیں
___________________
فیژن: --
سب سے پہلے بات کرتے ہیں نیوکلیئر فیژن کی ۔اگر عام لفظوں میں کہوں تو نیوکلیئر فیژن وہ عمل ہوتا ہے جس میں ایک آئٹم کا نیوکلیس ٹوٹ کر کئی چھوٹے لائٹر نیوکلیائی میں تبدیل ہوجاتے ہیں ۔
زمین پر موجود تمام نیوکلیئر ری ایکٹرز میں نیوکلیئر فیژن کا طریقہ استعمال ہوتا ہے ان ری ایکٹرز میں عام طور پر یورینیم 235 اور پلوٹونیئم 239 کا استعمال ہوتا ہے کیونکہ یہ فیضائل fissile میٹریل ہوتے ہیں یعنی کہ یہ ایسے مٹیریل ہوتے ہیں جو نیوکلیئر فیژن چین ری ایکشن کو برقرار رکھنے کے قابل ہوتے ہیں ۔ان کے ہیوی نیوکلیئس ٹوٹ کر جب چھوٹے نیوکلیائی میں تبدیل ہوتے ہیں تو وہاں گاما ریڈی ایشن اور نیوٹرانز کے ساتھ کافی حرارت بھی پیدا ہوتی ہے اس حرارت کا استعمال کیا جاتا ہے سٹیم ٹربائن کو چلانے کے لیے جس سے بجلی پیدا ہوتی ہے
لیکن نیوکلیئر فیژن کے ساتھ پریشانی یہ ہے کہ ہمیں اس کے ساتھ کافی مقدار میں ریڈیو ایکٹیو ویسٹ بھی ملتا ہے جو ہمارے ماحول کے لیے بہت نقصان دہ ہوتا ہے ساتھ ہی ساتھ اس سے جڑے اور بھی بہت سے خطرے ہوتے ہیں
سال 2011 میں جاپان میں ہوا فوکوشیمہ دائچی نیوکلیئر ڈزاسٹر اس کی ایک بڑی مثال ہے جس میں زلزلہ اور سونامی سے متاثر ہونے کی وجہ سے فوکوشیمہ دائچی پاور پلانٹ کے کئی یونٹس سے ریڈیو ایکٹیو میٹیریلز ریلیز ہو گئے تھے جس سے کافی تباہی پھیلی تھی
______________
نیوکلیئر فیوژن :--
اب اگر نیوکلیئر فیوژن کی بات کریں تو یہ الٹا ہوتا ہے نیوکلیئر فیژن سے ۔یہ ایسا عمل ہوتا ہے جس میں بہت سے چھوٹے لائٹر نیوکلیائی مل کر ایک بڑے نیوکلیس کی تعمیر کرتے ہیں جس سے کافی مقدار نہیں ہیٹ اور انرجی پیدا ہوتی ہے ۔
ہمارے سورج کی لائٹ اور ہیڈ کا دریا بھی نیوکلیئر فیوژن ہی ہے کیوں کہ اس کے اندر ہیڈروجن نیوکلیائی فیوز وہ کر حلیم نیوکلیائی کی تعمیر کرتے ہیں۔
نیوکلیئر فیژن کے مقابلے میں نیوکلیئر فیوژن کا بڑا فائدہ یہ ہے کہ نیوکلیئر فیوژن کے بعد ہمیں کوئی ریڈیو ایکٹیو ویسٹ نہیں ملتا یعنی زمین پر اگر ہم نیوکلیئر فیوژن کے عمل کو کرنے میں کامیاب رہتے ہیں تو ہمیں نا صرف کافی مقدار میں انرجی حاصل ہوگی بلکہ کسی قسم کا کوئی ریڈیو ایکٹیو ویسٹ بھی نہیں ملے گا یعنی کہ یہ ایک ماحول دوست اور صاف ستھرا طریقہ ہوگا انرجی حاصل کرنے کا ۔
یہی وجہ ہے کہ سائنس دان کافی عرصے سے زمین پر نیوکلیئر فیوژن کو کامیاب بنانے میں لگے ہوئے تھے اسی تناظر میں چین نے بہت بڑی کامیابی حاصل کرنی ہے جوکہ آج کل موضوع بحث بنا ہوا ہے ۔ان کا کہنا ہے کہ وہ پلازمہ میں دس سیکنڈ تک 100 ملین ڈگری سینٹی گریڈ کے درجہ حرارت کو قابو کرنے میں کامیاب رہے ۔یہ درجہ حرارت کتنا زیادہ ہے اس کا اندازہ آپ اس بات سے لگا سکتے ہیں کہ ہمارے سورج کا درجہ حرارت 15 ملین ڈگری سینٹی گریڈ تک ہے اور جو درجہ حرارت چین حاصل کیا ہے وہ سورج کے کور کا بھی تقریبا 6 گنا ہے ۔
اب آپ سوچ رہے ہوں گے کہ زمین پر کوئی بھی ایسی دھات نہیں ہے جو اس قدر زیادہ درجہ حرارت کو برداشت کر سکے تو چین نے ایسا کیا کیسے ؟ اور اگر اتنے زیادہ درجہ حرارت کو ہم براتا کر بھی لیتے ہیں تو اس سے ہوگا کیا ؟
چلیے جانتے ہیں ان سوالوں کے جواب ۔تو پہلے سوال پر آتے ہیں کہ چین نے ایسا کیا کیسے ؟
ہم جانتے ہیں کہ نیوکلیئر فیوژن سورج جیسے ستاروں میں ہوتا ہے جو کہ ان کی روشنی اور حرارت کا ذریعہ بھی ہوتا ہے لیکن زمین پر نیوکلیئر فیوژن کو انجام دینے کے لئے tokamak reactor نامی ڈیوائس کو استعمال کیا جاتا ہے یہ ایک خاص طرح کا ڈیوائس ہوتا ہے جو میگنیٹک فیلڈ کا استعمال کرکے گرم پلازمہ کو ایک خاص ایریا کے اندر ہی سمیٹے رکھتا ہے تاکہ کسی بھی طرح سے یہ اس کے کنٹینر کو ٹچ نہ کر سکے کیوں کہ اگر گرم پلازمہ کنٹینر کی دیوار کو چھو جائے تو وہ اسے تباہ و برباد کر دے گا کیونکہ زمین پر کوئی بھی ایسی شے نہیں جو گرم پلازمہ کے درجہ حرارت کو برداشت کر سکے
چین جس ٹوکامک پر کام کر رہا تھا اس کا نام ہے experimental advanced superconducting tokamak. اسے مختصر EAST بھی کہا جاتا ہے سلنڈر کی شکل کے اس چمبر کی لمبائی 11 میٹر ہے اس کا ڈایامیٹر آٹھ میٹر ہے جبکہ اس کا وزن 360 ٹن ہے
آئیے جانتے ہیں اس کے اندر کے پروسیس کو کس طرح انجام دیا جاتا ہے ۔
سب سے پہلے اس کے اندر ڈونلڈ شیپ رنگ کے اندر ڈوٹیلیم اور ٹریٹیم جیسے ہائیڈروجن کے ہیوی اور سپر ہیوی آئسوٹوپس ڈالے جاتے ہیں اس کے بعد ٹوکامک کے اندر ہی پاورفل الیکٹرک کرنٹ کے ذریعے ان آئسوٹوپس کو گرم کیا جاتا ہے جس کی وجہ سے الیکٹرونز اپنے ایٹم سے الگ ہو جاتے ہیں اور وہاں ہائیڈروجن آئن کے چارجڈ پلازمہ کی پیدائش ہوتی ہے ٹوکامک کے اندر موجود پاورفل میگنیٹس وہاں ایک پاورفل میگنیٹک فیلڈ بناتے ہیں جو اس ایڈروجن آئن کے چارج پلازمہ وہ ایک چھوٹے سے ایریا میں کنفائن کر دیتا ہے جس سے کہ ان کے آپس میں فیوز کرنے کے چانسز بڑھ جائیں جب یہ آئنز آپس میں فیوز کرتے ہیں تو وہاں بہت بڑی مقدار میں انرجی پیدا ہوتی ہے جس کا استعمال پاور پلانٹ کو چلانے جیسا کہ بجلی پیدا کرنے کے لیے کیا جا سکتا ہے
چائنیز سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ انہوں نے کچھ نئے ہیٹنگ تکنیکس کا استعمال کیا آئسوٹوپس کو گرم کرنے کے لیے اور گرم پلازمہ کو کنٹرول کرنے کے لئے ۔جس کے بعد وہ ٹوکامک کے اندر گرم پلازمہ کی وجہ سے پیدا ہونے والے درجہ حرارت کو دس سیکنڈ تک 100 ملین سینٹی گریڈ تک برقرار رکھنے میں کامیاب رہے جو کہ ایک بہت بڑی کامیابی ہے یہ ہمارے لئے فائدہ مند اس لئے ہے کیونکہ زیادہ درجہ حرارت کو برقرار رکھنے کا مطلب ہے کہ زیادہ انرجی حاصل کرنا فلحال چینا شطرج حرارت کو صرف دس سیکنڈ تک ہی برقرار رکھنے میں کامیاب رہا لیکن مستقبل میں اس کو زیادہ دیر تک برقرار رکھنے کے امکانات ہیں اگر ہم یو ٹیل فیوژن کے ذریعے انرجی پیدا کرنے میں کامیاب ہوگئے تو یہ نہ صرف ماحولیاتی آلودگی سے نجات ہو گی بلکہ زمین پر سے انرجی کرائسز کا بھی خاتمہ ہو جائے گا آگے کیا ہوگا یہ تو وقت ہی بتائے گا لیکن چین کی اس کامیابی نے ہمیں ایک ترقی کی نئی کرن دکھائی ہے
_______ ۔
مصنوعی چاند :--
چین سے جڑی ہوئی دوسری خبر یہ ہے کہ اس نے اعلان کیا ہے کہ یہ 2020 تک ایک مصنوعی چاند لانچ کرے گا جس کی روشنی اتنی ہوگی کہ یہ چینگڑو شہر میں موجود سٹریٹ لائٹس کے متبادل کے طور پر کام کرے گا اگر صاف صاف بتاؤ تو یہ ہمارے اصلی چاند سے آٹھ گنا زیادہ روشن ہوگا چین نے اگلے چار سالوں کے اندر ایسے تین مصنوعی چاند لانچ کرنے کی پلاننگ کی ہے اب آپ سوچ رہے ہوں گے کہ یہ مصنوعی چاند کیسے کام کریں گے ؟
تو چلیے جانتے ہیں اس کا جواب۔۔۔!!
ہم جانتے ہیں کہ چاند کی اپنی کوئی روشنی نہیں ہوتی یہ ہم کو روشن دکھائی دیتا ہے کیونکہ یہ اپنی سطح پر پڑنے والے سورج کی روشنی کو ریفلیکٹ کر دیتا ہے
چین بالکل اسی قانون کا استعمال کرنے والا ہے اپنے آرٹیفیشل مون پرجیکٹ میں ۔دراصل یہ ایک ایسا سیٹلائٹ چھوڑے گا جس کی سطح ہایلی ریفلیکٹو ہوگی جیسا کہ ایک شیشہ ۔اس سیٹلائیٹ کو جیوسٹیشنری آربٹ زمین کی سطح سے 500 کلومیٹر اوپر کے آربٹ میں کچھ اس طرح سے سیٹ کیا جائے گا اس کی روشنی صرف اسی شہر پر ہی پڑے جس کے لیے اس کو سیٹ کیا گیا ہے جیو سٹیشنری آربٹ ہونے کی وجہ سے اس کی پوزیشن زمین سے ریلیٹو کبھی تبدیل نہیں ہوگی دن میں تو سورج کی روشنی کا مقابلہ نہ کر سکنے کی وجہ سے یہ نظر نہیں آئے گا لیکن رات کو اس کی روشنی جس شہر پر پڑے گی یہ اس شہر سے آسمان میں چمکتا ہوا نظر آئے گا امید کی جارہی ہے کہ اس کی روشنی 10 سے 80 کلومیٹر کے ایریا کو روشن کرے گی چین کا کہنا ہے کہ وہ ایسے تین سیٹلائٹ چھوڑے گا جو کہ الٹرنیٹولی کام کریں گے
اب آپ کے ذہن میں یہ سوال اٹھ رہا ہو گا کہ اس کا فائدہ کیا ہے ؟
تو اس کا جواب یہ ہے کہ رات میں یہ بھی ایک قدرتی روشنی کا ذریعہ ہوگا جس کے لیے نہ بجلی خرچ کرنا پڑے گی اور نہ ہی کوئی بلب ۔چاہے بجلی رہے نہ رہے لیکن رات میں اس مصنوعی چاند کی وجہ سے اجالا بنا رہے گا یہ سونامی اور زلزلے میں کافی مددگار ثابت ہوسکتا ہے کیونکہ ایسے وقت میں جب سب کچھ برباد ہو جاتا ہے تو یہ کام آ سکتا ہے
چین کا مصنوعی سورج اور مصنوعی چاند ۔۔۔!!
_______________
تحقیق و تحریر :- حسن خلیل چیمہ (ابن آدم )
________________________________________________
کچھ مہینوں سے ایک خبر موضوع بحث بنی ہوئی ہے کہ چین نے ایک مصنوعی سورج بنا لیا ہے جس کا درجہ حرارت ہمارے سورج سے بھی چھ گنا زیادہ ہے ۔اس کو دنیا کے تقریبا تمام خبر رساں اداروں نے اپنے نیوز پیپرز میں چھاپا ۔کیا واقعی چین نے ایک ایسا مصنوعی سورج تیار کرلیا ہے ؟
کیا یہ ہمارے موجودہ سورج کا متبادل ہوگا ؟
اور چین نے ایسا کیا کیسے ؟
ان سب سوالوں کے جواب اور ساتھ ہی ساتھ میں ہم چین کی طرف سے مصنوعی چاند کے لانچ کرنے کے اعلان سے متعلق بھی بحث کریں گے
تو چلیں شروع کرتے ہیں آج کی اپنی اس دلچسپ تحریر کو۔۔😉
_______________________
مصنوعی سورج :--
سب سے پہلے تو میں آپ کو یہ بتانا چاہوں گا کہ اس تناظر میں نیوز پیپرز کا "مصنوعی سورج " کا لفظ استعمال کرنا غلط فہمی پھیلانے کے برابر ہے ۔
کیونکہ چین نے ایسا کچھ نہیں کیا جو ہمارے اصلی سورج کی جگہ لینے والا ہو تو آخر چین نے ایسا کیا کیا آئیے جانتے ہیں ۔
دراصل آج جتنے بھی قسم کے انرجی یا پاور حاصل کرنے کے ذرائع اس زمین پر موجود ہیں یا تو وہ ماحول کو آلودہ کرتے ہیں یا پھر ان سے نقصان دہ ریڈیشنز کے خارج ہونے کا خطرہ رہتا ہے مثال کے طور پر ہم تھرمل پاور پلانٹ میں بجلی پیدا کرنے کے لیے کوئلے کا استعمال کرتے ہیں جس سے کافی آلودگی پیدا ہوتی ہے
اسی طرح اس وقت موجود نیوکلیئر فیژن ری ایکٹرز سے اب انرجی حاصل کرتے ہیں لیکن اس میں بھی ریڈیو ایکٹیو ویسٹ ملتا ہے جو ہمارے لئے کافی نقصان دہ ہے
کیونکہ انسانی بقا کے لیے آج ہم تکنیکی طور پر کافی ترقی کر رہے ہیں تو ممکن ہے کہ مستقبل میں ہمیں انرجی کرائسز کا مسئلہ درپیش آئے ۔کیونکہ جیسے جیسے ہم جدت اختیار کر رہے ہیں ہم انرجی کا زیادہ استعمال کر رہے ہیں۔
مستقبل میں انرجی کرائسز کی پریشانی نہ آئے سائنسدان اس بات کو یقینی بنانے کے لئے آج انرجی کے نئے ذرائعے تلاش کر رہے ہیں۔
ہمارے پاس اس وقت انرجی حاصل کرنے کے لئے جو ذرائع موجود ہیں وہ کافی زیادہ آلودگی پھیلاتے ہیں جس سے ہماری زمین کا ماحول بہت زیادہ متاثر ہو رہا ہے اس لیے اس بات کا خیال بھی رکھا جا رہا ہے کہ ہم جو انرجی حاصل کرنے کے لیے نئے ذرائع تلاش کر رہے ہیں وہ ماحول دوست بھی ہو اور ان سے ہمارے محفل پر کوئی برا اثر نہ پڑے
آج ہر فیلڈ میں الیکٹریسٹی اور سولر پاور پلانٹس کا استعمال اس بات کی گواہی دیتا ہے کہ ہم انرجی حاصل کرنے کے لیے ماحول دوست ذرائع تلاش کر رہے ہیں کیونکہ ایسی ترقی کا کوئی مطلب نہیں بنتا جس سے ہماری زمین کا پورا ماحول متاثر ہو ۔
چین نے کیا حاصل کیا ہے اس کو سمجھنے کے لئے آپ کو نیوکلیئر فیژن اور نیوکلیئر فیوژن سے متعلق بنیادی معلومات ہونا ضروری ہے ۔سکول کے دنوں میں آپ نے ان کے بارے میں پڑھا ہوگا چلئے پھر سے ان کے بارے میں تھوڑا جان لیتے ہیں
___________________
فیژن: --
سب سے پہلے بات کرتے ہیں نیوکلیئر فیژن کی ۔اگر عام لفظوں میں کہوں تو نیوکلیئر فیژن وہ عمل ہوتا ہے جس میں ایک آئٹم کا نیوکلیس ٹوٹ کر کئی چھوٹے لائٹر نیوکلیائی میں تبدیل ہوجاتے ہیں ۔
زمین پر موجود تمام نیوکلیئر ری ایکٹرز میں نیوکلیئر فیژن کا طریقہ استعمال ہوتا ہے ان ری ایکٹرز میں عام طور پر یورینیم 235 اور پلوٹونیئم 239 کا استعمال ہوتا ہے کیونکہ یہ فیضائل fissile میٹریل ہوتے ہیں یعنی کہ یہ ایسے مٹیریل ہوتے ہیں جو نیوکلیئر فیژن چین ری ایکشن کو برقرار رکھنے کے قابل ہوتے ہیں ۔ان کے ہیوی نیوکلیئس ٹوٹ کر جب چھوٹے نیوکلیائی میں تبدیل ہوتے ہیں تو وہاں گاما ریڈی ایشن اور نیوٹرانز کے ساتھ کافی حرارت بھی پیدا ہوتی ہے اس حرارت کا استعمال کیا جاتا ہے سٹیم ٹربائن کو چلانے کے لیے جس سے بجلی پیدا ہوتی ہے
لیکن نیوکلیئر فیژن کے ساتھ پریشانی یہ ہے کہ ہمیں اس کے ساتھ کافی مقدار میں ریڈیو ایکٹیو ویسٹ بھی ملتا ہے جو ہمارے ماحول کے لیے بہت نقصان دہ ہوتا ہے ساتھ ہی ساتھ اس سے جڑے اور بھی بہت سے خطرے ہوتے ہیں
سال 2011 میں جاپان میں ہوا فوکوشیمہ دائچی نیوکلیئر ڈزاسٹر اس کی ایک بڑی مثال ہے جس میں زلزلہ اور سونامی سے متاثر ہونے کی وجہ سے فوکوشیمہ دائچی پاور پلانٹ کے کئی یونٹس سے ریڈیو ایکٹیو میٹیریلز ریلیز ہو گئے تھے جس سے کافی تباہی پھیلی تھی
______________
نیوکلیئر فیوژن :--
اب اگر نیوکلیئر فیوژن کی بات کریں تو یہ الٹا ہوتا ہے نیوکلیئر فیژن سے ۔یہ ایسا عمل ہوتا ہے جس میں بہت سے چھوٹے لائٹر نیوکلیائی مل کر ایک بڑے نیوکلیس کی تعمیر کرتے ہیں جس سے کافی مقدار نہیں ہیٹ اور انرجی پیدا ہوتی ہے ۔
ہمارے سورج کی لائٹ اور ہیڈ کا دریا بھی نیوکلیئر فیوژن ہی ہے کیوں کہ اس کے اندر ہیڈروجن نیوکلیائی فیوز وہ کر حلیم نیوکلیائی کی تعمیر کرتے ہیں۔
نیوکلیئر فیژن کے مقابلے میں نیوکلیئر فیوژن کا بڑا فائدہ یہ ہے کہ نیوکلیئر فیوژن کے بعد ہمیں کوئی ریڈیو ایکٹیو ویسٹ نہیں ملتا یعنی زمین پر اگر ہم نیوکلیئر فیوژن کے عمل کو کرنے میں کامیاب رہتے ہیں تو ہمیں نا صرف کافی مقدار میں انرجی حاصل ہوگی بلکہ کسی قسم کا کوئی ریڈیو ایکٹیو ویسٹ بھی نہیں ملے گا یعنی کہ یہ ایک ماحول دوست اور صاف ستھرا طریقہ ہوگا انرجی حاصل کرنے کا ۔
یہی وجہ ہے کہ سائنس دان کافی عرصے سے زمین پر نیوکلیئر فیوژن کو کامیاب بنانے میں لگے ہوئے تھے اسی تناظر میں چین نے بہت بڑی کامیابی حاصل کرنی ہے جوکہ آج کل موضوع بحث بنا ہوا ہے ۔ان کا کہنا ہے کہ وہ پلازمہ میں دس سیکنڈ تک 100 ملین ڈگری سینٹی گریڈ کے درجہ حرارت کو قابو کرنے میں کامیاب رہے ۔یہ درجہ حرارت کتنا زیادہ ہے اس کا اندازہ آپ اس بات سے لگا سکتے ہیں کہ ہمارے سورج کا درجہ حرارت 15 ملین ڈگری سینٹی گریڈ تک ہے اور جو درجہ حرارت چین حاصل کیا ہے وہ سورج کے کور کا بھی تقریبا 6 گنا ہے ۔
اب آپ سوچ رہے ہوں گے کہ زمین پر کوئی بھی ایسی دھات نہیں ہے جو اس قدر زیادہ درجہ حرارت کو برداشت کر سکے تو چین نے ایسا کیا کیسے ؟ اور اگر اتنے زیادہ درجہ حرارت کو ہم براتا کر بھی لیتے ہیں تو اس سے ہوگا کیا ؟
چلیے جانتے ہیں ان سوالوں کے جواب ۔تو پہلے سوال پر آتے ہیں کہ چین نے ایسا کیا کیسے ؟
ہم جانتے ہیں کہ نیوکلیئر فیوژن سورج جیسے ستاروں میں ہوتا ہے جو کہ ان کی روشنی اور حرارت کا ذریعہ بھی ہوتا ہے لیکن زمین پر نیوکلیئر فیوژن کو انجام دینے کے لئے tokamak reactor نامی ڈیوائس کو استعمال کیا جاتا ہے یہ ایک خاص طرح کا ڈیوائس ہوتا ہے جو میگنیٹک فیلڈ کا استعمال کرکے گرم پلازمہ کو ایک خاص ایریا کے اندر ہی سمیٹے رکھتا ہے تاکہ کسی بھی طرح سے یہ اس کے کنٹینر کو ٹچ نہ کر سکے کیوں کہ اگر گرم پلازمہ کنٹینر کی دیوار کو چھو جائے تو وہ اسے تباہ و برباد کر دے گا کیونکہ زمین پر کوئی بھی ایسی شے نہیں جو گرم پلازمہ کے درجہ حرارت کو برداشت کر سکے
چین جس ٹوکامک پر کام کر رہا تھا اس کا نام ہے experimental advanced superconducting tokamak. اسے مختصر EAST بھی کہا جاتا ہے سلنڈر کی شکل کے اس چمبر کی لمبائی 11 میٹر ہے اس کا ڈایامیٹر آٹھ میٹر ہے جبکہ اس کا وزن 360 ٹن ہے
آئیے جانتے ہیں اس کے اندر کے پروسیس کو کس طرح انجام دیا جاتا ہے ۔
سب سے پہلے اس کے اندر ڈونلڈ شیپ رنگ کے اندر ڈوٹیلیم اور ٹریٹیم جیسے ہائیڈروجن کے ہیوی اور سپر ہیوی آئسوٹوپس ڈالے جاتے ہیں اس کے بعد ٹوکامک کے اندر ہی پاورفل الیکٹرک کرنٹ کے ذریعے ان آئسوٹوپس کو گرم کیا جاتا ہے جس کی وجہ سے الیکٹرونز اپنے ایٹم سے الگ ہو جاتے ہیں اور وہاں ہائیڈروجن آئن کے چارجڈ پلازمہ کی پیدائش ہوتی ہے ٹوکامک کے اندر موجود پاورفل میگنیٹس وہاں ایک پاورفل میگنیٹک فیلڈ بناتے ہیں جو اس ایڈروجن آئن کے چارج پلازمہ وہ ایک چھوٹے سے ایریا میں کنفائن کر دیتا ہے جس سے کہ ان کے آپس میں فیوز کرنے کے چانسز بڑھ جائیں جب یہ آئنز آپس میں فیوز کرتے ہیں تو وہاں بہت بڑی مقدار میں انرجی پیدا ہوتی ہے جس کا استعمال پاور پلانٹ کو چلانے جیسا کہ بجلی پیدا کرنے کے لیے کیا جا سکتا ہے
چائنیز سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ انہوں نے کچھ نئے ہیٹنگ تکنیکس کا استعمال کیا آئسوٹوپس کو گرم کرنے کے لیے اور گرم پلازمہ کو کنٹرول کرنے کے لئے ۔جس کے بعد وہ ٹوکامک کے اندر گرم پلازمہ کی وجہ سے پیدا ہونے والے درجہ حرارت کو دس سیکنڈ تک 100 ملین سینٹی گریڈ تک برقرار رکھنے میں کامیاب رہے جو کہ ایک بہت بڑی کامیابی ہے یہ ہمارے لئے فائدہ مند اس لئے ہے کیونکہ زیادہ درجہ حرارت کو برقرار رکھنے کا مطلب ہے کہ زیادہ انرجی حاصل کرنا فلحال چینا شطرج حرارت کو صرف دس سیکنڈ تک ہی برقرار رکھنے میں کامیاب رہا لیکن مستقبل میں اس کو زیادہ دیر تک برقرار رکھنے کے امکانات ہیں اگر ہم یو ٹیل فیوژن کے ذریعے انرجی پیدا کرنے میں کامیاب ہوگئے تو یہ نہ صرف ماحولیاتی آلودگی سے نجات ہو گی بلکہ زمین پر سے انرجی کرائسز کا بھی خاتمہ ہو جائے گا آگے کیا ہوگا یہ تو وقت ہی بتائے گا لیکن چین کی اس کامیابی نے ہمیں ایک ترقی کی نئی کرن دکھائی ہے
_______ ۔
مصنوعی چاند :--
چین سے جڑی ہوئی دوسری خبر یہ ہے کہ اس نے اعلان کیا ہے کہ یہ 2020 تک ایک مصنوعی چاند لانچ کرے گا جس کی روشنی اتنی ہوگی کہ یہ چینگڑو شہر میں موجود سٹریٹ لائٹس کے متبادل کے طور پر کام کرے گا اگر صاف صاف بتاؤ تو یہ ہمارے اصلی چاند سے آٹھ گنا زیادہ روشن ہوگا چین نے اگلے چار سالوں کے اندر ایسے تین مصنوعی چاند لانچ کرنے کی پلاننگ کی ہے اب آپ سوچ رہے ہوں گے کہ یہ مصنوعی چاند کیسے کام کریں گے ؟
تو چلیے جانتے ہیں اس کا جواب۔۔۔!!
ہم جانتے ہیں کہ چاند کی اپنی کوئی روشنی نہیں ہوتی یہ ہم کو روشن دکھائی دیتا ہے کیونکہ یہ اپنی سطح پر پڑنے والے سورج کی روشنی کو ریفلیکٹ کر دیتا ہے
چین بالکل اسی قانون کا استعمال کرنے والا ہے اپنے آرٹیفیشل مون پرجیکٹ میں ۔دراصل یہ ایک ایسا سیٹلائٹ چھوڑے گا جس کی سطح ہایلی ریفلیکٹو ہوگی جیسا کہ ایک شیشہ ۔اس سیٹلائیٹ کو جیوسٹیشنری آربٹ زمین کی سطح سے 500 کلومیٹر اوپر کے آربٹ میں کچھ اس طرح سے سیٹ کیا جائے گا اس کی روشنی صرف اسی شہر پر ہی پڑے جس کے لیے اس کو سیٹ کیا گیا ہے جیو سٹیشنری آربٹ ہونے کی وجہ سے اس کی پوزیشن زمین سے ریلیٹو کبھی تبدیل نہیں ہوگی دن میں تو سورج کی روشنی کا مقابلہ نہ کر سکنے کی وجہ سے یہ نظر نہیں آئے گا لیکن رات کو اس کی روشنی جس شہر پر پڑے گی یہ اس شہر سے آسمان میں چمکتا ہوا نظر آئے گا امید کی جارہی ہے کہ اس کی روشنی 10 سے 80 کلومیٹر کے ایریا کو روشن کرے گی چین کا کہنا ہے کہ وہ ایسے تین سیٹلائٹ چھوڑے گا جو کہ الٹرنیٹولی کام کریں گے
اب آپ کے ذہن میں یہ سوال اٹھ رہا ہو گا کہ اس کا فائدہ کیا ہے ؟
تو اس کا جواب یہ ہے کہ رات میں یہ بھی ایک قدرتی روشنی کا ذریعہ ہوگا جس کے لیے نہ بجلی خرچ کرنا پڑے گی اور نہ ہی کوئی بلب ۔چاہے بجلی رہے نہ رہے لیکن رات میں اس مصنوعی چاند کی وجہ سے اجالا بنا رہے گا یہ سونامی اور زلزلے میں کافی مددگار ثابت ہوسکتا ہے کیونکہ ایسے وقت میں جب سب کچھ برباد ہو جاتا ہے تو یہ کام آ سکتا ہے

Comments
Post a Comment