Skip to main content

"Biological Big Bang" Model (Failure of Neo-Darwinian Model)

"Biological Big Bang" Model
(Failure of Neo-Darwinian Model)
---------------------------------------------

نیوڈارونزم (Neo-Darwinism) نہ تو مشاہدہ ہے نہ حقیقت ہے اور نہ سچائی ہے۔ یہ مشاہدات کی وضاحت کرنے کا ایک ماڈل ہے جسے تھیوری کہتے ہیں۔ اس کے اپنے قیاسات (Assumptions) اور پیشن گوئیاں (Predictions) ہیں۔
مثال کے طور پہ اس ماڈل کے کچھ قیاسات یہ ہیں کہ مجموعی طور پہ فطری چناؤ تمام تر ارتقاء کا زمہ دار ہے اور مائیکرو (Micro) اڈاپٹیشنز جو پاپولیشن جینیٹکس میں دیکھنے کو ملتی ہیں یہی لمبے عرصے میں آہستہ آہستہ (Gradualism) اکٹھی ہو کر نیا پیچیدہ جاندار بنا دیتی ہیں یہاں "آہستہ آہستہ" اہم ہے۔
اس ماڈل کی ایک اہم پیشنگوئی کے مطابق ایک مسلسل زندگی کا درخت (Tree of Life) ہے جو ایک خلیے سے شروع ہوتا ہے۔ یہ خلیہ صرف ایک دفعہ ماضی میں کسی طرح وجود میں آ گیا اور پھر اس کی نسلیں کبھی بھی مکمل طور پہ ختم نہیں ہوئیں۔ ہر معدومیت میں اس خلیہ کی نسل سے کوئی نہ کوئی جاندار بچ جاتا جو پھر ارتقاء کر جاتا۔ لہذا ایک مسلسل زندگی کا درخت موجود ہے۔
نیو ڈارونین ماڈل کے مطابق پوری ارتقائی تاریخ میں اس پہلے خلیے کے سوا کوئی دوسرا خلیہ کبھی وجود میں نہیں آیا جس سے ایک مختلف نسل چلی ہو۔ نیو ڈارونین ماڈل کے مطابق درخت، جراثیم، پرندے اور ممالیہ جاندار بھی ایک ہی ابتدائی خلیہ سے وجود میں آئے۔ مشہور سائنسدان کارل ووز Carl Woese کے مطابق اس کو عقیدہ مشترکہ اجداد کہتے ہیں۔

نئی تحقیقات اور نئے شواہد نیو ڈارونین ماڈل کے ان تمام اہم ترین اور بنیادی دعویٰ جات کو یا تو غلط ثابت کر چکے ہیں یا ان کا بہتر متبادل ا چکا ہے۔ انہی باتوں کی وضاحت کے لئے آپ حضرات کے ساتھ ایک خوبصورت اور اہم Peer Reviewed سائنسی پیپر شئیر کرنا چاہوں گا۔
یہ NCBI ڈیٹا بیس پہ بھی موجود ہے:
https://pubmed.ncbi.nlm.nih.gov/17708768/
اور Biomedical Central پہ بھی موجود ہے:
https://biologydirect.biomedcentral.com/articles/10.1186/1745-6150-2-21

پیراگراف 1:
اس سائنسی پیپر کا پہلا جملہ اتنا زبردست ہے کہ شاید پورے موضوع کی وضاحت کے لئے یہی کافی ہے۔ اس میں یہ کہا جا رہا ہے کہ آہستہ آہستہ تدریجی ارتقاء کا کوئی مشاہدہ اور ثبوت موجود نہیں بلکہ اہم بائیولوجیکل تبدیلیاں یا میکرو ارتقاء کا پیٹرن یہ ہے کہ جاندار اچانک مکمل طور پہ پیچیدہ حالت میں اور مختلف اقسام کی نئی جسمانی ساخت کے ساتھ ظاہر ہوتے ہیں۔
"Major transitions in biological evolution show the same pattern of sudden emergence of diverse forms at a new level of complexity."
https://biologydirect.biomedcentral.com/articles/10.1186/1745-6150-2-21

پیراگراف 2:
آجتک بائیولوجی کی فیلڈ میں 170 سال پرانے زندگی کے درخت کی سوچ رائج ہے۔ یہ تمام جانداروں کو ایک دوسرے کی تبدیل شدہ اور ارتقاء یافتہ شکل قرار دیتا ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ ٹیکسامک درجے پہ کلاس لیول کے جانداروں کا آپسی تعلق زندگی کے درخت کے پیٹرن پہ پورا نہیں اترتا اور اس تعلق کو سمجھنا یا ڈھونڈ پانا آج بھی بہت مشکل بنا ہے۔
"The relationships between major groups within an emergent new class of biological entities are hard to decipher and do not seem to fit the tree pattern that, following Darwin's original proposal, remains the dominant description of biological evolution."
https://biologydirect.biomedcentral.com/articles/10.1186/1745-6150-2-21

پیراگراف 3:
تمام اقسام کے جاندار ہر سطح پہ اپنی بنیادی ساخت اور خاص بائیولوجیکل شناخت کے ساتھ نہایت تیزی سے ظاہر ہوتے ہیں اور ان کے درمیان کسی "درمیانی کڑی" کے ذریعے آہستہ آہستہ ارتقاء کا کوئی ثبوت موجود نہیں ہوتا۔ مثال کے طور پہ جانداروں کے فائلم، سپر گروپس، پروکیریوٹس، پروٹین کی ساخت، آر این اے مالیکولز، وائرس اور ایسی بہت سی بنیادی تبدیلیاں بغیر کسی درمیانی کڑی کے نہایت تیز رفتاری کے ساتھ مکمل طور پہ اپنی اصلی حالت میں ظاہر ہوتیں ہیں۔
"In each of these pivotal nexuses in life's history, the principal "types" seem to appear rapidly and fully equipped with the signature features of the respective new level of biological organization. No intermediate "grades" or intermediate forms between different types are detectable."
https://biologydirect.biomedcentral.com/articles/10.1186/1745-6150-2-21

پیراگراف 4:
اوپر بیان کیے گئے سائنسی شواہد کو مد نظر رکھ کر ایک نیا وضاحتی ماڈل پیش کیا گیا جسے بائیولوجیکل بگ بینگ (BBB) کا نام دیا گیا۔ اس کے مطابق نئے پیچیدہ جانداروں کے وجود میں آنے کا پروسیس دو حصوں پہ مشتمل ہے۔
پہلے حصہ نہایت تیز رفتار ہوتا ہے جس کے دوران جنیاتی انفارمیشن کے فیوژن، فشن اور دیگر پروسیسز سے جانداروں کی بنیادی ساخت وجود میں آتی ہے جو ٹیکسانامک درجے پہ عمومآ کلاس سطح کی ہوتی ہے۔ ایسے بائیولوجیکل بگ بینگ خلیاتی سطح سے لے کر جانداروں کے میکرو ارتقاء (Macro-evolution) تک ہر سطح پہ عمومی پیٹرن کے طور پہ وقوع پذیر ہوتے ہیں۔ اس حصہ پہ زندگی کے درخت کا شاخوں والا پیٹرن لاگو نہیں ہوتا۔ کوئی بھی درمیانی کڑی ظاہر نہیں ہوتی۔ ایسے تیز رفتار بائیولوجیکل بگ بینگ علیحدہ علیحدہ (Independently) وقوع پزیر ہوتے ہیں لہذا مسلسل مشترکہ اجداد کا سلسلہ ٹوٹ جاتا ہے اور نئی نسل علیحدہ سے ظاہر ہوتی ہے۔
اسے Inflationary Phase کا نام دیا گیا۔
اس ماڈل کے مطابق وائرس اور بیکٹیریا آزادنہ طور پہ علیحدہ علیحدہ ظہور پزیر ہوئے جبکہ یوکیریوٹس کے 6 سپر گروپس جو ثیکسانامک کنگڈم کے قریب ہیں یہ بھی علیحدہ علیحدہ متعدد اینڈوسیمبائیوٹک (Endosymbiotic) واقعات کے ساتھ ظہور پزیر ہوئے۔ مثال کے طور پہ اس ماڈل کے مطابق جانوروں اور پودوں کے اجداد مشترک نہیں ہیں۔ یہ تیز رفتار پہلا حصہ بلکل ایسے ہی ہوتا ہے جیسے بگ بینگ کے فوراً بعد کائنات کا پھیلاؤ ایک سیکنڈ کے کھربویں حصہ میں ناقابل یقین تیزی کے ساتھ ہوا۔ ارتقائی بائیولوجی کے BBB ماڈل اور کائنات کی شروعات کے Big Bang ماڈل میں بہت مماثلت ہے۔
جانداروں کی بنیادی ساخت میں آنے کے بعد دوسرا حصہ شروع ہوتا ہے۔ تبدیلی کی رفتار کم ہو جاتی ہے۔ اس کے بعد ان کی مختلف نسلیں یا سپیشیز بنتی رہتی ہیں۔ اسی دوران درخت نما پیٹرن بھی بننا شروع ہوتا ہے اور فطری چناؤ سے اڈاپٹیشنز ہوتیں ہیں۔
"A Biological Big Bang (BBB) model is proposed for the major transitions in life's evolution. According to this model, each transition is a BBB such that new classes of biological entities emerge at the end of a rapid phase of evolution (inflation) that is characterized by extensive exchange of genetic information which takes distinct forms for different BBBs. The major types of new forms emerge independently, via a sampling process"
https://biologydirect.biomedcentral.com/articles/10.1186/1745-6150-2-21

پیراگراف 5:
یہاں ایک اہم نکتہ کو واضح کیا جا رہا ہے۔ بائیولوجیکل بگ بینگ ماڈل میں تبدیلی (Transition) کا مطلب یہ نہیں کہ ایک قسم کا جاندار دوسری قسم کے جاندار میں تبدیل ہوجاتا ہے۔ بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ نئی اقسام کے جانداروں جو نہایت تیز رفتار Inflationary Phase سے وجود میں آتے ہیں وہ ماضی کے جانداروں کے ساتھ موجود رہتے ہیں۔ یعنی پرانے اور نئے جاندار ایک ہی وقت میں موجود ہوتے ہیں۔ جبکہ نیو ڈارونین ماڈل کا قیاس یہ ہے کہ پرانے جاندار اپنی ساخت میں تبدیلی کے بعد نئے اقسام کے جانداروں میں ارتقاء کرتے ہیں۔ یعنی پرانے جاندار آہستہ آہستہ ارتقاء کر کے نئے جاندار بن جاتے ہیں۔
"The term "transition" might not be the most precise descriptor of the pivotal events in life's evolution because the emerging new forms do not necessarily (or, even, typically) replace pre-existing ones"
https://biologydirect.biomedcentral.com/articles/10.1186/1745-6150-2-21

پیراگراف 6:
جو زندگی کا درخت عمومی طور پہ بنایا جاتا ہے اور ڈارونین ارتقاء سے اخذ کیا جاتا ہے مختصر طور پہ کہا جائے تو وہ غیر مستند ہے۔ اس کی چند وجوہات یہ ہیں۔ مختلف جینز کا استعمال کریں تو مختلف زندگی کے درخت سامنے آتے ہیں۔
زندگی کے درخت میں اندرونی شاخیں (Internal Branches) مستند نہیں۔ اندرونی شاخوں کا مطلب  یہ ہے کہ دو یا دو سے زیادہ پاپولیشنز جب مشترکہ پاپولیشن سے علیحدہ ہوکر مختلف سمت میں ارتقاء کرتی ہیں اور نئے جاندار وجود میں آتے ہیں۔ اس سارے پروسیس کو اندرونی شاخوں اور نوڈ (Node) سے ظاہر کیا جاتا ہے۔ نوڈ کا مطلب مشترکہ جد ہے اور اندرونی شاخوں کا مطلب مختلف سمت میں میکرو ارتقاء یا بنیادی تبدیلیاں یا Major Transitions ہے۔
زندگی کے درخت کی شاخوں کا باہری حصہ (Terminals)  مختلف سپیشیز کو ظاہر کرتا ہے اور شاخوں کا اندرونی حصہ بنیادی تبدیلیوں اور نوڈ مشترک جد کو ظاہر کرتا ہے۔ یہی حصہ غیر مستند اور قیاسات پہ مبنی ہے۔
"Whatever trees have been constructed for these stages of life's history, have extremely short, most often, unreliable internal branches, and the tree topology tends to differ for different genes"
https://biologydirect.biomedcentral.com/articles/10.1186/1745-6150-2-21

پیراگراف 7:
اس ماڈل کے مطابق ایک مسلسل ذندگی کا درخت وجود نہیں رکھتا کیونکہ جیولوجیکل تاریخ میں مختلف اوقات پہ علیحدہ علیحدہ نہایت تیز رفتار بائیولوجیکل بگ بینگ وقوع پذیر ہوتے ہیں جو خلیاتی سطح سے لے کر جانداروں کے میکرو ارتقاء کے زمہ دار ہیں۔ اس کی وجہ سے ایک مسلسل ذندگی کے درخت کا سلسلہ ٹوٹ جاتا ہے اور ظاہری بات ہے مسلسل مشترکہ اجداد کا سلسلہ بھی ٹوٹ جاتا ہے۔
"Here, I argue for a fundamentally different solution, i.e., that a single, uninterrupted TOL does not exist....."
https://biologydirect.biomedcentral.com/articles/10.1186/1745-6150-2-21

پیراگراف 8:
ملحد ارتقائی سائنسدان کیمبرین دھماکے کو آہستہ آہستہ ہونے والے ڈارونین ارتقاء کی دلدل میں لانے کی بہت کوشش کرتے ہیں لیکن حقائق یہ ہیں کہ یہ تمام کوششیں متنازع اور غیر حتمی ہیں۔ جانداروں کے فائلا (Phyla) کا جیولوجیکل سطح پہ لمحاتی تیزی کے ساتھ ظاہر ہونا عمومی حقائق پہ مبنی ہے اور ڈارونین ماڈل کے لئے ایک پہیلی ہے۔
"The Cambrian explosion in animal evolution during which all the diverse body plans appear to have emerged almost in a geological instant is a highly publicized enigma.......In an already familiar pattern, the relationship between the animal phyla remains controversial and elusive."
https://biologydirect.biomedcentral.com/articles/10.1186/1745-6150-2-21

نیو ڈارونین ماڈل کہتا ہے ارتقاء آہستہ آہستہ ہوتا ہے۔ بائیولوجیکل بگ بینگ ماڈل کہتا ہے کہ یہ غلط ہے۔ بنیادی ساخت اور بنیادی تبدیلیاں نہایت تیز رفتاری سے ہوتیں ہیں۔
نیو ڈارونین ماڈل کہتا ہے درمیانی کڑیاں ملنی چاہیں۔
بائیولوجیکل بگ بینگ ماڈل کہتا ہے کہ نہ تو درمیانی کڑیاں بنتی ہیں اور نہ ہی ان کا ملنا ممکن ہے۔ مشاہدات اور حقائق بھی اسی کو سپورٹ کرتے ہیں۔
نیو ڈارونین ماڈل کہتا ہے کہ ایک مسلسل زندگی کا درخت موجود ہے جو ایک خلیہ سے شروع ہوتا ہے۔
بائیولوجیکل بگ بینگ ماڈل کہتا ہے کہ تمام بنیادی خلیات علیحدہ علیحدہ وجود میں ائے۔ ذندگی کا درخت مسلسل نہیں اور نہ ہی بنیادی تبدیلیاں پہ لاگو ہوتا ہے۔
نیو ڈارونین ماڈل کہتا ہے کہ اجداد مشترک ہیں جو ماضی کے ایک پہلے خلیہ تک جاتے ہیں۔
بائیولوجیکل بگ بینگ ماڈل کہتا ہے کہ مشترکہ اجداد کا سلسلہ ٹوٹ جاتا ہے کیونکہ بنیادی تبدیلیاں اور میکرو ارتقاء علیحدہ علیحدہ وقوع پذیر ہوتا ہے۔
یہ تو نیو ڈارونین ماڈل کے قیاسات اور دعوؤں کے بلکل الٹ ہے اس کے باجود بھی عوام کو سائنس میڈیا اور دیگر ذرائع یہی یقین دہانی کراتے ہیں کہ ڈارونین ارتقاء کا کوئی متبادل نہیں لہذا اس کو سچائی ماننا لازم ہے۔

نیو ڈارونین ماڈل کی ناکامی کے شواہد بھی ہیں اور اس کے متبادل وضاحتی ماڈل بھی موجود ہیں۔ لیکن مسئلہ ارتقائی بائیولوجی کی فیلڈ میں موجود ملحد ڈارون پرستوں کا گروہ ہے جو ایسے ماڈلز کی راہ میں روکاوٹ بنتے ہیں اور بنتے رہینگے۔ وقت ا چکا ہے کہ بوسیدہ اور ناکام نیو ڈادونین ماڈل کو ترک کیا جائے اور نئے وضاحتی ماڈلز کو چانس دیا جائے۔ سائنس اسی کا نام ہے کہ نئے شواہد اور نئے ڈیٹا کو مد نظر رکھ کر نئے وضاحتی ماڈلز کی طرف توجہ دی جاتی ہے۔ سائنسی ترقی اور سائنسی خوبصورتی اسی میں ہے کہ بہتر سے بہتر وضاحتی ماڈلز کو تلاش کیا جائے اور ان کی طرف توجہ دی جائے۔

---------------------------------------------
Written and Researched by
Sohaib Zobair

Comments

Popular posts from this blog

کیا سائنسدانوں نے مصنوعی خلیہ بنا لیا ؟

کیا سائنس دانوں نے مصنوعی خلیہ بنا لیا؟ تحریر: ڈاکٹر نثار احمد پچھلے کچھ دنوں سے کچھ فورمز پر یہ بحث چھڑی ہوئی ہے کہ کچھ حیاتیات دانوں نے تجربہ گاہ میں مصنوعی خلیے تیار کر لئے ہیں۔ تفصیلات اس لنک میں۔ https://www.sciencemag.org/news/2018/11/biologists-create-most-lifelike-artificial-cells-yet اس تمام بحث سے پہلے آپ کو یہ جاننا ہوگا کہ خلیہ دراصل ہوتا کیا ہے۔ خلیے کی تعریف ہم یوں کرسکتے ہیں کہ یہ زندگی کی ساختی اور فعلیاتی اکائی ہے۔ ایک خلیے کے اندر سینکڑوں مختلف عضویے ہوتے ہیں جو مل جل کر فیکٹری کی طرح کام کرتے ہیں۔ اس کے علاوہ متعدد اینزائمز بھی موجود ہوتے ہیں جو کیمیائی تعاملات میں عمل انگیز کے طور پر کام کرتے ہیں۔ اس کے علاوہ یہ خلیہ تقسیم در تقسیم ہو کر اپنے جیسے مزید خلیے بنا سکتا ہے۔ کچھ جاندار ایسے بھی پائے جاتے ہیں جو صرف ایک خلیے پر مشتمل ہوتے ہیں۔ انہیں ہم یک خلوی جاندار بھی کہتے ہیں۔ اوپر دئیے گئے آرٹیکل میں جو کہ سائنس جریدے میں پبلش ہوا کوئی بہت زیادہ نیا کارنامہ نہیں کیا گیا۔ اس پیپر میں بتایا گیا کہ کہ تجربہ گاہ میں کچھ خلیوں سے ملتی جلتی ساختیں بنائی گئیں جن م...

سانڈے کا تیل میڈیکل سائنس کی نظر میں !

سانڈے کا تیل میڈیکل سائنس کی نظر میں ! جنسی و نفسیاتی بیماریاں اور جانوروں کا قتل عام ۔۔۔! (18+ تحریر) __________________ تحقیق و تحریر : حسن خلیل چیمہ ______________________________________________ نوٹ : ( یہ تحریر عوامی آگاہی اور معصوم جانوروں کے بے جا قتل عام کو روکنے کے لئے اور عوام تک جدید میڈیکل سائنس کی رخ سے درست معلومات پہنچانے کی ایک کوشش ہے سانڈے کے تیل کے بارے میں اپنی رائے اور تجربے کو ایک طرف رکھ کہ اس تحریر کا مکمل مطالعہ کرنے کے بعد ہی اختلاف کریں شکریہ ) (خواتین اس تحریر کو پڑھنے سے اجتناب کریں ) ہمیشہ سے یہ دیکھ کر دکھ ہوتا ہے کہ جہاں دنیا سائنس و ٹیکنالوجی میں ترقی کرتی جا رہی ہے وہی ہم پاکستانی آج بھی اسی زمانہ قدیم میں جی رہیں ہیں جس میں انسانی سائنسی انقلاب سے پہلے ہمارے اجداد نے زندگی  گزاری  آج بھی ہم اسی طریقہ کار پر چل رہیں ہیں جہاں بیمار ہونے پر  اندازے سے دوا دینے والا کوئی حکیم ہوتا تھا جو مختلف جڑی بوٹیوں کو ملا کر کوئی ایسی دوا دے دیتا تھا جو وقتی طور ریلیف فراہم کرتی تھی کیونکہ ان وقتوں میں لوگوں کی خوارک میں زیادہ ملاوٹ نہ تھ...

قرآن اور سرن لیبارٹری

سورة انبیاء کی آیت نمبر 30 اور سرن لیبارٹری ۔۔۔!!! ____________________ سورۃ الانبیاء آیت نمبر 30 میں ربِ کائنات فرماتا ہے کہ اَوَلَمۡ يَرَ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡۤا اَنَّ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضَ كَانَتَا رَتۡقًا فَفَتَقۡنٰهُمَا‌ؕ وَجَعَلۡنَا مِنَ الۡمَآءِ كُلَّ شَىۡءٍ حَىٍّ‌ؕ اَفَلَا يُؤۡمِنُوۡنَ‏ ﴿۳۰﴾ کیا کافروں نے نہیں دیکھا کہ آسمان اور زمین دونوں ملے ہوئے تھے تو ہم نے جدا جدا کردیا۔ اور تمام جاندار چیزیں ہم نے پانی سے بنائیں۔ پھر یہ لوگ ایمان کیوں نہیں لاتے؟  ﴿۳۰﴾ معزز قارئین علماء کے نزدیک یہ آیت بگ بینگ سے متعلق ہے کہ ایک عظیم الشان دھماکہ ہوا جس سے اربوں میل دور تک دھواں پھیل گیا پھر اس دھوئیں میں سے  ٹھوس اجسام ستارے ،سیارے اور کومینٹس وغیرہ بننے کا عمل شروع ہوا ایک اور جگہ  ارشاد ہے کہ ثُمَّ اسۡتَوٰىۤ اِلَى السَّمَآءِ وَهِىَ دُخَانٌ فَقَالَ لَهَا وَلِلۡاَرۡضِ ائۡتِيَا طَوۡعًا اَوۡ كَرۡهًاؕ قَالَتَاۤ اَتَيۡنَا طَآٮِٕعِيۡنَ‏ ﴿۱۱﴾ پھر آسمان کی طرف متوجہ ہوا اور وہ دھواں تھا تو اس نے اس سے اور زمین سے فرمایا کہ دونوں آؤ (خواہ) خوشی سے خواہ ناخوشی سے۔ انہوں...