Skip to main content

|300 Million years Old Octopus Fossil|

|300 Million years Old Octopus Fossil|

آکٹوپس (Order: Octopoda) بہت دلچسپ اور منفرد سمندری جاندار ہے۔ یہ ذہین ترین جانداروں میں شمار کیے جاتے ہیں۔ ان کے جسم میں تقریباً 500 ملین نیورونز ہوتے ہیں اور تین دماغ ہوتے ہیں۔ نیورونز کا دو تہائی حصہ ان کے آٹھ بازؤں میں پھیلا ہوتا ہے جس کی وجہ سے ان کے بازو خود سے فیصلہ کرنے اور حرکت کرنے کے قابل ہوتے ہیں.
نیچر کی ایک پبلیکیشن کے مطابق آکٹوپس کے جینوم کا سائز 2.7 بلین بیس پئیرز ہے اور جینز کی تعداد 33,638 ہے۔ ان کے پورے جسم میں کوئی ڈھانچہ یا ہڈی نہیں ہوتی سوائے ایک سخت چونچ کے جو منہ کا کام کرتی ہے۔ آکٹوپس کی موجودہ وقت میں 300 کے قریب رجسٹرڈ اقسام یا سپیشیز ہیں۔  ان کا خون نیلے رنگ کا ہوتا ہے کیونکہ ہیموگلوبن کی جگہ ایک مختلف پروٹین ہیموسائینن (Hemocyanin) آکسیجن کو ٹشوز اور مختلف اعضاء تک پہنچاتا ہے۔ ہیموسائینن میں آئرن (Iron) کی جگہ کاپر (Copper) مالیکولز آکسیجن کو لے کر جسم کے مختلف حصوں تک پہنچاتے ہیں۔ ڈی آکسیجینیٹڈ حالات میں ہیموسائینن بے رنگ ہوتا ہے اور آکسیجن سے جڑنے کے بعد نیلا رنگ ظاہر کرتا ہے۔
آکٹوپس اپنی جلد کا رنگ اردگرد ماحول کے مطابق چند ملی سیکنڈز میں بدلنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ یہ صلاحیت ان کی جلد میں Chromatophores کہے جانے والے آرگنز (Organs) کی وجہ ہوتی ہے۔ ان میں مختلف رنگوں کی ایک چھوٹی سی تھیلی (Pigment Sac) ہوتی ہے جس کو نروس سسٹم اور مسلز کے ذریعے پھیلا کر یا سکیڑ کر رنگ کو ہلکا یا گہرا کیا جاتا ہے اور مختلف رنگ پیدا کیے جاتے ہیں۔ اس کے علاوہ آکٹوپس میں Iridophores خلیات ہوتے ہیں جو اردگرد سے روشنی کو مختلف ویولینتھ پہ ریفلیکٹ کرتے ہیں۔ آکٹوپس اپنی جلد کو کھینچ کر اس پہ ابھار پیدا کر سکتے ہیں جن کو Papillae کہتے ہیں اس سے یہ ماحول میں موجود کورلز (Corals) کے ساتھ گھل مل جاتے ہیں۔ کسی جاندار کی ماحول میں ایسے چھپ جانی والی صلاحیت کو Crypsis کہتے ہیں۔

اب بات کرتے ہیں آکٹوپس فاسل کی جو سینکڑوں ملین سال پرانا ہے اور تب سے لے کر آج تک آکٹوپس ہی ہے۔ آکٹوپس کا ایک فاسل امریکہ میں دریافت ہوا جو بہت اچھی حالت میں تھا اس کو Pohlsepia mazonensis نام دیا گیا۔ یہ کاربونیفیرس (Carboniferous) دور کا تھا جو 299 ملین سال سے لے کر 359 ملین سال کا دور مانا جاتا ہے۔
اس کی ساخت کا تجزیہ کرنے کے بعد سائنسدانوں نے نہ صرف اس کو آکٹوپس کا فاسل قرار دیا بلکہ موجودہ دور کے آکٹوپس گروپ کا رکن بھی کہا۔
"Given its sac‐like body, lack of a well‐defined head and presence of fins, Pohlsepia can be safely compared with modern cirrate octopods."
https://onlinelibrary.wiley.com/doi/abs/10.1111/1475-4983.00155

ایک مزہد فاسل آکٹوپس پہ 2016 میں سائنسی پیپر پبلش ہوا یہ فاسل 165 ملین سال پرانا ہے۔ نہ تو یہ پانی سے نکل کر ڈائنوسار بنا اور نہ یہ سمندر کے اندر ڈارونین ارتقاء کر کے وہیل مچھلی میں تبدیل ہوا۔ آکٹوپس آج بھی آکٹوپس ہی ہے۔۔۔!
اس پہ Scientific American کا ایک عمدہ آرٹیکل:
https://www.scientificamerican.com/article/see-the-best-fossil-octopus-ever-found/
سائنسی پیپر:
https://onlinelibrary.wiley.com/doi/full/10.1111/pala.12265

سیل Cell جریدے میں پبلش ایک سائنسی پیپر کے مطابق آکٹوپس ماحول سے مطابقت یا اڈاپٹیشنز کے لیے RNA Editing کا استعمال کثرت سے کرتے ہیں۔ اس طریقہ کار میں ایک جین سے میسنجر آر این اے بنتا ہے جس کے نیوکلیوٹائڈز میں ADAR نامی انزائمز تبدیلی کر کے ایک مختلف میسنجر آر این اے بناتے ہیں جس سے ایک مختلف پروٹین بنتا اور اس کے فنکشنز مکمل طور پہ مختلف ہوتے ہیں۔ ماحول میں ہوئی تبدیلی کا ڈائریکٹ اثر آکٹوپس کے RNA Editing پروسیس پہ پڑتا ہے اور یہ اس کی اڈاپٹیشنز میں بنیادی کردار ادا کرتا ہے۔
یہ طریقہ کار ڈاونین ارتقاء کے دعوؤں سے الٹ ہے جن کے مطابق رینڈم میوٹیشن سے اڈاپٹیشنز ہوتی ہیں اور رینڈم میوٹیشنز کا ماحول سے کوئی تعلق نہیں ہوتا۔
اس موضوع کی وضاحت کے لئے نیچر آرٹیکل:
https://www.nature.com/articles/d41586-017-00612-y

آکٹوپس کلاس سیفلوپاڈ (Class: Cephalopod) سے تعلق رکھتے ہیں۔ اس کلاس کے مشہور جاندار  آکٹوپس (octopus)، کٹل فش (cuttlefish)، سکوئڈ (squid)اور ناٹیلس (nautilus) وغیرہ ہیں۔ نیچر کے ایک سائنسی پیپر کے مطابق ان کی موجودہ وقت میں 800 کے قریب رجسٹرڈ سپیشیز ہیں۔ ان مختلف جانداروں کی ساخت میں بہت مماثلت پائی جاتی اور دیکھنے والا یہ قیاس کیے بغیر نہیں رہ سکتا کہ یہ ساختی مماثلت ضرور ایک مشترکہ جد سے ہوتی ہوئی ان سب میں پہنچی ہے۔
ساختی مماثلت دیکھ کر فوراً مشترکہ جد کا قیاس کرنا عمومی ارتقائی مغالطہ ہے جو کہ اس صورت میں بھی غلط ہے۔
ایک سائنسی پیپر میں کلاس سیفلوپاڈ کے اہم ارکان کی ساختی مماثلت پہ تحقیق سے یہ بات سامنے آئی کہ زیر تحقیق تمام کی تمام اڈپٹیشنز اور ساخت میں مماثلت کنورجنٹ ارتقاء (Convergent Evolution) کا نتیجہ ہیں۔ یعنی ان مختلف جانداروں میں یہ ساختی مماثلت ایک مشترکہ جد سے ہو کر نہیں آئی بلکہ آزادنہ طور پہ علیحدہ علیحدہ ظہور پزیر ہوئی۔
یہ سیفلوپاڈ پہ ہوئے اب تک کا سب سے مکمل اور بڑا تحقیقی پروجیکٹ تھا۔ اس میں کلاس سیفلوپاڈ کی 47 فیملیز میں سے 42 فیملیز کا جینیاتی ڈیٹا شامل کیا گیا۔
سائنسی پیپر:
https://bmcevolbiol.biomedcentral.com/articles/10.1186/1471-2148-12-129

تمام فاسل شواہد اور سائنسی تحقیقات آپ کے سامنے ہیں۔ ڈارونین ارتقاء کی جادوئی اشکال فاسل ریکارڈ میں کہیں نظر نہیں آتیں اور آکٹوپس اپنی بنیادی ساخت میں سینکڑوں ملین سال بعد بھی ڈارونین ارتقاء نہیں کرتے۔ جانداروں کی ساختی مماثلت اور اڈاپٹیشنز علیحدہ علیحدہ کنورجنٹ ارتقاء کا نتیجہ ہیں نہ کہ مشترکہ جد سے ہو کر آئیں اور اڈاپٹیشنز ایک مکمل طور پہ مختلف طریقہ کار سے ہو رہی ہیں۔
ڈارونین ارتقاء کو آئے روز زلت آمیز ناکامی کا سامنا ہے۔ ہر نئی تحقیق ڈارونین دعوؤں، قیاسات اور مفروضات کے الٹ ہوتی ہے۔ لیکن ڈارون پرست سائنسدانوں کا گروہ بہت ڈھیٹ ہے وہ بسترِ مرگ پہ پڑی اس کمزور اور بوسیدہ ڈارونین تھیوری سے چپکے رہنا چاہتے ہیں کیونکہ یہ سائنس نہیں بلکہ ملحد اور سیکولر معاشرے کی ضد ہے۔

---------------------------------------------
Sohaib Zobair


Comments

Popular posts from this blog

کیا سائنسدانوں نے مصنوعی خلیہ بنا لیا ؟

کیا سائنس دانوں نے مصنوعی خلیہ بنا لیا؟ تحریر: ڈاکٹر نثار احمد پچھلے کچھ دنوں سے کچھ فورمز پر یہ بحث چھڑی ہوئی ہے کہ کچھ حیاتیات دانوں نے تجربہ گاہ میں مصنوعی خلیے تیار کر لئے ہیں۔ تفصیلات اس لنک میں۔ https://www.sciencemag.org/news/2018/11/biologists-create-most-lifelike-artificial-cells-yet اس تمام بحث سے پہلے آپ کو یہ جاننا ہوگا کہ خلیہ دراصل ہوتا کیا ہے۔ خلیے کی تعریف ہم یوں کرسکتے ہیں کہ یہ زندگی کی ساختی اور فعلیاتی اکائی ہے۔ ایک خلیے کے اندر سینکڑوں مختلف عضویے ہوتے ہیں جو مل جل کر فیکٹری کی طرح کام کرتے ہیں۔ اس کے علاوہ متعدد اینزائمز بھی موجود ہوتے ہیں جو کیمیائی تعاملات میں عمل انگیز کے طور پر کام کرتے ہیں۔ اس کے علاوہ یہ خلیہ تقسیم در تقسیم ہو کر اپنے جیسے مزید خلیے بنا سکتا ہے۔ کچھ جاندار ایسے بھی پائے جاتے ہیں جو صرف ایک خلیے پر مشتمل ہوتے ہیں۔ انہیں ہم یک خلوی جاندار بھی کہتے ہیں۔ اوپر دئیے گئے آرٹیکل میں جو کہ سائنس جریدے میں پبلش ہوا کوئی بہت زیادہ نیا کارنامہ نہیں کیا گیا۔ اس پیپر میں بتایا گیا کہ کہ تجربہ گاہ میں کچھ خلیوں سے ملتی جلتی ساختیں بنائی گئیں جن م...

سانڈے کا تیل میڈیکل سائنس کی نظر میں !

سانڈے کا تیل میڈیکل سائنس کی نظر میں ! جنسی و نفسیاتی بیماریاں اور جانوروں کا قتل عام ۔۔۔! (18+ تحریر) __________________ تحقیق و تحریر : حسن خلیل چیمہ ______________________________________________ نوٹ : ( یہ تحریر عوامی آگاہی اور معصوم جانوروں کے بے جا قتل عام کو روکنے کے لئے اور عوام تک جدید میڈیکل سائنس کی رخ سے درست معلومات پہنچانے کی ایک کوشش ہے سانڈے کے تیل کے بارے میں اپنی رائے اور تجربے کو ایک طرف رکھ کہ اس تحریر کا مکمل مطالعہ کرنے کے بعد ہی اختلاف کریں شکریہ ) (خواتین اس تحریر کو پڑھنے سے اجتناب کریں ) ہمیشہ سے یہ دیکھ کر دکھ ہوتا ہے کہ جہاں دنیا سائنس و ٹیکنالوجی میں ترقی کرتی جا رہی ہے وہی ہم پاکستانی آج بھی اسی زمانہ قدیم میں جی رہیں ہیں جس میں انسانی سائنسی انقلاب سے پہلے ہمارے اجداد نے زندگی  گزاری  آج بھی ہم اسی طریقہ کار پر چل رہیں ہیں جہاں بیمار ہونے پر  اندازے سے دوا دینے والا کوئی حکیم ہوتا تھا جو مختلف جڑی بوٹیوں کو ملا کر کوئی ایسی دوا دے دیتا تھا جو وقتی طور ریلیف فراہم کرتی تھی کیونکہ ان وقتوں میں لوگوں کی خوارک میں زیادہ ملاوٹ نہ تھ...

قرآن اور سرن لیبارٹری

سورة انبیاء کی آیت نمبر 30 اور سرن لیبارٹری ۔۔۔!!! ____________________ سورۃ الانبیاء آیت نمبر 30 میں ربِ کائنات فرماتا ہے کہ اَوَلَمۡ يَرَ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡۤا اَنَّ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضَ كَانَتَا رَتۡقًا فَفَتَقۡنٰهُمَا‌ؕ وَجَعَلۡنَا مِنَ الۡمَآءِ كُلَّ شَىۡءٍ حَىٍّ‌ؕ اَفَلَا يُؤۡمِنُوۡنَ‏ ﴿۳۰﴾ کیا کافروں نے نہیں دیکھا کہ آسمان اور زمین دونوں ملے ہوئے تھے تو ہم نے جدا جدا کردیا۔ اور تمام جاندار چیزیں ہم نے پانی سے بنائیں۔ پھر یہ لوگ ایمان کیوں نہیں لاتے؟  ﴿۳۰﴾ معزز قارئین علماء کے نزدیک یہ آیت بگ بینگ سے متعلق ہے کہ ایک عظیم الشان دھماکہ ہوا جس سے اربوں میل دور تک دھواں پھیل گیا پھر اس دھوئیں میں سے  ٹھوس اجسام ستارے ،سیارے اور کومینٹس وغیرہ بننے کا عمل شروع ہوا ایک اور جگہ  ارشاد ہے کہ ثُمَّ اسۡتَوٰىۤ اِلَى السَّمَآءِ وَهِىَ دُخَانٌ فَقَالَ لَهَا وَلِلۡاَرۡضِ ائۡتِيَا طَوۡعًا اَوۡ كَرۡهًاؕ قَالَتَاۤ اَتَيۡنَا طَآٮِٕعِيۡنَ‏ ﴿۱۱﴾ پھر آسمان کی طرف متوجہ ہوا اور وہ دھواں تھا تو اس نے اس سے اور زمین سے فرمایا کہ دونوں آؤ (خواہ) خوشی سے خواہ ناخوشی سے۔ انہوں...