Skip to main content

|انسانی ساخت قرآن vs ارتقاء|



یہ بات ہر عام انسان اور ڈاکٹر پہ واضح ہے کہ انسانی جسم کی ایک خاص ساخت\structure ہے۔ جس سے کوئی بھی انکاری نہیں۔ اگر کوئی وقت نکال کر انسانی جسم کی پیچیدگی اور اعضاء کے نیٹورک کو پڑھے تو بلا شبہ حیران رہ جائے کہ انسانی جسم، دماغ، آنکھیں، دل، مسلز، نظام انہضام، سیلز ٹشوز، نروس سسٹم، ہاتھ، کان، پاؤں، جلد، ہڈیاں معدہ، دانت، زبان کے interdependent network کا شاہکار ہے۔ انسانی اعضاء کی symmetry اور proportion ایک
مشاہداتی سچائی ہے۔
انسانی ساخت کے بہترین ہونے پہ قرآن پاک کی کچھ آیات بھی ہیں جو ہمارے اس مشاہدے کی سچائی کو اور مضبوط کرتی ہے،
وَالتِّيْنِ وَالزَّيْتُوْنِ
"قسم ہے انجیر اور زیتون کی"
وَطُوْرِ سِيْنِيْنَ
"اور طور سینا کی"
وَهٰذَا الْبَلَدِ الْاَمِيْنِ
"اور اِس پرامن شہر (مکہ) کی"
لَقَدْ خَلَقْنَا الْاِنْسَانَ فِيْۤ اَحْسَنِ تَقْوِيْمٍ
"ہم نے انسان کو بہترین ساخت پر پیدا کیا"
(At-Tin 95:1-4)
قرآن پاک نے قسمیں اٹھا کر اس بات پہ مہر ثبت کر دی کہ انسان کو اللہ پاک نے بہترین ساخت پہ پیدا کیا۔ لہذا ایک مسلمان کے لئے کوئی دوسرا آپشن ختم ہے سوائے انسانی ساخت کے بہترین ہونے کی مشاہداتی اور قرآنی سچائی کو قبول کرنے کے علاؤہ!

اب اگر ارتقاء کے حوالے سے انسانی جسم کی ساخت کو دیکھیں تو ارتقائی تھیوری اور ارتقائی سائنسدان مکمل طور پہ اس بہترین ساخت کو جھٹلاتے نظر آتے ہیں۔ ان کے مطابق انسانی ساخت میں کافی کمزوریاں اور ناکامیاں ابھی بھی موجود ہیں۔ جو کہ ہمارے ماضی میں ہونے والے ارتقاء کی وجہ سے ہیں۔ حال ہی میں ان خامیوں کو بہتر ساخت اور اعضاء سے تبدیل کرنے کا پروجیکٹ science museum group نے ایک anatomist کو دیا جس کا نام Alice Roberts ہے۔
"The project originated as a three-month challenge issued to Roberts by the director of the Science Museum Group in London, Roger Highfield, to "iron out" problematic details in human anatomy shaped by our evolutionary past and replace them with structures that were more durable, more efficient or less "untidy," Roberts wrote"
https://www.google.com.au/amp/s/amp.livescience.com/62895-building-the-perfect-body.html

اس نے اپنے جسم کا تھری ڈی ماڈل بنایا جسے Alice Roberts 2.0 کا نام دیا اور انسانی اعضاء کو مختلف جانوروں کے اعضاءسے تبدیل کیا گیا جو انسانی ساخت سے بہتر تھے ارتقائی کانسیپٹ مطابق۔ اس تھری ماڈل کے اعضاء کو بہت سے جانوروں کے اعضاء سے تبدیل کیا گیا اور ارتقائی کانسیپٹ کے مطابق ایک Perfect Human Body بنائی گئی جس میں کتے، بلی، بغلے، مچھلی، بندر، شتر مرغ، آکٹوپس اور دیگر جانوروں کے اعضاء شامل کیے گئے۔ ایک تھری ڈی ماڈل انسانی قد کے برابر بنایا گیا جس کی تصویر یہاں نہیں لگائی جا سکتی اس لئے کوئی بھی لنک کھول کر ملاحظہ کریں۔
اس کے بارے تفصیل اپ ان لنکس سے پڑھ سکتے ہیں۔
سائنس ویب سائٹ لنک،
https://www.google.com.au/amp/s/amp.livescience.com/62895-building-the-perfect-body.html
نیوز لنک،
https://www.google.com.au/amp/s/metro.co.uk/2018/06/11/scientists-reveal-perfect-human-body-if-we-borrowed-the-best-bits-of-animals-7619393/amp/
یوٹیوب لنک،
https://youtu.be/y1LdcagaqMc

ماڈرن مسلمان جو ارتقاء کا پانی بھرتے ہیں اس کے بارے وضاحت دیں قرآن پاک غلط ہے یا ارتقائی تھیوری غلط کہ رہی ہے؟؟
جب ارتقائی تھیوری کی ساری باتیں ٹھیک ہیں آپ کی نظر میں تو پھر اس کو غلط یا سہی کس بنیاد پہ کہیں گے؟؟
اس پہ اور بھی بہت کچھ لکھا جا سکتا ہے لیکن فلحال اتنا کافی ہے!!!
----------------------------
------------
Sohaib Zobair

Comments

Popular posts from this blog

کیا سائنسدانوں نے مصنوعی خلیہ بنا لیا ؟

کیا سائنس دانوں نے مصنوعی خلیہ بنا لیا؟ تحریر: ڈاکٹر نثار احمد پچھلے کچھ دنوں سے کچھ فورمز پر یہ بحث چھڑی ہوئی ہے کہ کچھ حیاتیات دانوں نے تجربہ گاہ میں مصنوعی خلیے تیار کر لئے ہیں۔ تفصیلات اس لنک میں۔ https://www.sciencemag.org/news/2018/11/biologists-create-most-lifelike-artificial-cells-yet اس تمام بحث سے پہلے آپ کو یہ جاننا ہوگا کہ خلیہ دراصل ہوتا کیا ہے۔ خلیے کی تعریف ہم یوں کرسکتے ہیں کہ یہ زندگی کی ساختی اور فعلیاتی اکائی ہے۔ ایک خلیے کے اندر سینکڑوں مختلف عضویے ہوتے ہیں جو مل جل کر فیکٹری کی طرح کام کرتے ہیں۔ اس کے علاوہ متعدد اینزائمز بھی موجود ہوتے ہیں جو کیمیائی تعاملات میں عمل انگیز کے طور پر کام کرتے ہیں۔ اس کے علاوہ یہ خلیہ تقسیم در تقسیم ہو کر اپنے جیسے مزید خلیے بنا سکتا ہے۔ کچھ جاندار ایسے بھی پائے جاتے ہیں جو صرف ایک خلیے پر مشتمل ہوتے ہیں۔ انہیں ہم یک خلوی جاندار بھی کہتے ہیں۔ اوپر دئیے گئے آرٹیکل میں جو کہ سائنس جریدے میں پبلش ہوا کوئی بہت زیادہ نیا کارنامہ نہیں کیا گیا۔ اس پیپر میں بتایا گیا کہ کہ تجربہ گاہ میں کچھ خلیوں سے ملتی جلتی ساختیں بنائی گئیں جن م...

سانڈے کا تیل میڈیکل سائنس کی نظر میں !

سانڈے کا تیل میڈیکل سائنس کی نظر میں ! جنسی و نفسیاتی بیماریاں اور جانوروں کا قتل عام ۔۔۔! (18+ تحریر) __________________ تحقیق و تحریر : حسن خلیل چیمہ ______________________________________________ نوٹ : ( یہ تحریر عوامی آگاہی اور معصوم جانوروں کے بے جا قتل عام کو روکنے کے لئے اور عوام تک جدید میڈیکل سائنس کی رخ سے درست معلومات پہنچانے کی ایک کوشش ہے سانڈے کے تیل کے بارے میں اپنی رائے اور تجربے کو ایک طرف رکھ کہ اس تحریر کا مکمل مطالعہ کرنے کے بعد ہی اختلاف کریں شکریہ ) (خواتین اس تحریر کو پڑھنے سے اجتناب کریں ) ہمیشہ سے یہ دیکھ کر دکھ ہوتا ہے کہ جہاں دنیا سائنس و ٹیکنالوجی میں ترقی کرتی جا رہی ہے وہی ہم پاکستانی آج بھی اسی زمانہ قدیم میں جی رہیں ہیں جس میں انسانی سائنسی انقلاب سے پہلے ہمارے اجداد نے زندگی  گزاری  آج بھی ہم اسی طریقہ کار پر چل رہیں ہیں جہاں بیمار ہونے پر  اندازے سے دوا دینے والا کوئی حکیم ہوتا تھا جو مختلف جڑی بوٹیوں کو ملا کر کوئی ایسی دوا دے دیتا تھا جو وقتی طور ریلیف فراہم کرتی تھی کیونکہ ان وقتوں میں لوگوں کی خوارک میں زیادہ ملاوٹ نہ تھ...

قرآن اور سرن لیبارٹری

سورة انبیاء کی آیت نمبر 30 اور سرن لیبارٹری ۔۔۔!!! ____________________ سورۃ الانبیاء آیت نمبر 30 میں ربِ کائنات فرماتا ہے کہ اَوَلَمۡ يَرَ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡۤا اَنَّ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضَ كَانَتَا رَتۡقًا فَفَتَقۡنٰهُمَا‌ؕ وَجَعَلۡنَا مِنَ الۡمَآءِ كُلَّ شَىۡءٍ حَىٍّ‌ؕ اَفَلَا يُؤۡمِنُوۡنَ‏ ﴿۳۰﴾ کیا کافروں نے نہیں دیکھا کہ آسمان اور زمین دونوں ملے ہوئے تھے تو ہم نے جدا جدا کردیا۔ اور تمام جاندار چیزیں ہم نے پانی سے بنائیں۔ پھر یہ لوگ ایمان کیوں نہیں لاتے؟  ﴿۳۰﴾ معزز قارئین علماء کے نزدیک یہ آیت بگ بینگ سے متعلق ہے کہ ایک عظیم الشان دھماکہ ہوا جس سے اربوں میل دور تک دھواں پھیل گیا پھر اس دھوئیں میں سے  ٹھوس اجسام ستارے ،سیارے اور کومینٹس وغیرہ بننے کا عمل شروع ہوا ایک اور جگہ  ارشاد ہے کہ ثُمَّ اسۡتَوٰىۤ اِلَى السَّمَآءِ وَهِىَ دُخَانٌ فَقَالَ لَهَا وَلِلۡاَرۡضِ ائۡتِيَا طَوۡعًا اَوۡ كَرۡهًاؕ قَالَتَاۤ اَتَيۡنَا طَآٮِٕعِيۡنَ‏ ﴿۱۱﴾ پھر آسمان کی طرف متوجہ ہوا اور وہ دھواں تھا تو اس نے اس سے اور زمین سے فرمایا کہ دونوں آؤ (خواہ) خوشی سے خواہ ناخوشی سے۔ انہوں...