#Uranium 235
یورینیئم 235
ایٹم بم میں استعمال ہونے والا ایندھن۔۔۔!
____________________________
تحریر: حسن خلیل چیمہ
ایٹم بم کے بارے میں تو سب لوگ جانتے ہی ہیں کیا آپ نے کبھی ایٹم بم میں استعمال ہونے والی دھات کے بارے میں جانا ؟ اگر نہیں تو چلئے جانتے ہیں۔۔۔!!
دنیا میں کچھ بہت خطرناک دھاتیں ہے جن میں سے ایک دھات یورینیئم بھی ہے ۔
دوسری جنگ عظیم کے بعد جب ہیروشیما اور ناگاساکی پر ایٹمی حملہ ہوا تھا تب تقریباً 64 کلو یورینیئم کا استعمال کیا گیا تھا جس میں سے صرف 0.002 جتنی ہی ایٹمی انرجی پیدا ہو پائی تھی اس میں سے اگر 20 کلو گرام یورینیئم بھی انرجی میں تبدیل ہو جاتی تو آج ہم زندہ نہیں ہوتے ۔ اس سے آپ اندازہ لگا سکتے ہیں کہ یورینیئم کا چھوٹا سا آسوٹوپ کتنا خطرناک ہو سکتا ہے ۔
یورینیئم 235 ایک خطرناک ،چمکیلی سفید رنگ کی دھات ہے جس کا ایٹمی نمبر 92 ہے اور اسے metal of Hobb بھی کہا جاتا ہے ۔
اس خطرناک ایلیمنٹ کی دریافت 1789 میں مارٹن ہینریچ نے کی اس نئی دھات کا نام سیارہ یورینس کے نام پر یورینیئم رکھا گیا زمین کی اوپری سطح پر یورینیئم کی مقدار 45 ٹریلین ٹن ہے اور یہ دھات سب سے زیادہ آسٹریلیا میں پائی جاتی ہے پاکستان میں بھی یورینیئم پایا جاتا ہے لیکن یہ بہت ہی ناقص کوالٹی کا ہے ۔ یورینیئم سمندری چٹانوں اور گہرائی سے ملتا ہے اور شروعات میں یہ ہملاوٹ زدہ ہوتا ہے بعد میں اس کو نکال کر کیمیکلز کے ذریعے خالص یورینیئم کو علیحدہ کر لیا جاتا ہے ۔
1 کلو یورینیئم (235) 80 terrazzo جتنی انرجی پیدا کرتی ہے۔
____________________________
یورینیم کی تاریخ کی بات کریں تو
قریب 79 AD سے ہی رومن امپائر یورینیئم آکسائیڈ کا استعمال چیزوں کو سجانے کے لئے کرتے تھے جو انہیں پیلا رنگ دیتا تھا حالانکہ رومنز کو اس چیز کا اندازہ نہیں تھا کہ یہ یورینیئم آکسائیڈ ہے اور تقریباً 1800 تک یورینیئم کا بنیادی کام شیشے کو سجانے اور سرامکس میں کیا جاتا تھا کیونکہ یورینیئم پیلا اور ہرا رنگ دیتا تھا سال1789میں ایک جرمن کیمسٹ مارٹن ہنریچ نے جب سلور مائن سے لئے گے کچھ منرلز کا جائزہ لیا تو تب انہیں ایک نیا ایلمنٹ دکھا جس کا نام یورینس سیارے سے لیا گیا اور اس کا نام یورینیئم رکھا گیا ۔یورینیم کی ریڈیو ایکٹیو پراپرٹی کو 1896 تک سٹڈی نہیں کیا گیا تھا ۔ ہینری ویٹیریل نے اس پر پہلی بار سٹڈی کی لیکن وہ اس کی مکمل خصوصیات نہیں بتا پائے تھے لیکن انھی کی ایک سٹوڈنٹ "میری کیوری " نے اس پر مکمل ریسرچ کی اور پھر انھوں نے اس کا نام ریڈیو ایکٹیویٹی رکھ دیا پھر سال 1898 میں میری کیوری نے ایک نئے ایلیمنٹ کی دریافت کی جس کا نام ریڈیم رکھا گیا اس ایلمنٹ کو بنانے کے لئے میری کیوری کو کئی ٹن یورینئم اور کی ضرورت ہوتی تھی جس سے صرف کچھ گرام ریڈیم ہی بنتا تھا اس وقت ریڈیم کینسر کے علاج میں ایک معجزہ ثابت ہو رہا تھا جس کی وجہ سے ریڈیم کی قیمت کافی زیادہ بڑھ گئی ایک اونس ریڈیم کی قیمت تقریباً 75 ہزار ڈالر تھی لیکن 1930 میں اس کی مارکیٹ گر گئی لیکن ریڈیم کی وجہ سے یورینیئم کو کافی پزیرائی ملی اور کافی ملکوں میں اس پر الگ الگ ریسرچرز ہونے لگیں لیکن میری کیوری کے ریڈیو ایکٹیو میٹریل پر کئے گے کام نے کافی سائنسدانوں کو اپنی طرف متوجہ کیا اور سب سائنسدان یورینیئم پر تجربات کرنے لگے ۔ دراصل ریڈیو ایکٹیویٹی میں ایک فینامنہ یا عمل ہوتا ہے جیسے ہم نیوکلیئر فشن کہتے ہیں جس میں ایک پیرنٹ نیوکلیس دو حصوں میں بٹ جاتا ہے جس سے کافی زیادہ انرجی پیدا ہوتی ہے
سال 1889 میں جرمنی کے اوٹو ہین نے نیوکلیئر فشن کا عمل سر انجام دیا اس وقت پوری دنیا میں جنگ جاری تھی یعنی ورلڈ وار چل رہی تھی اس کے بعد اینڈریو فرمی اور ان کی ٹیم نے پہلی بار نیوکلیئر ری ایکٹر بنایا جس کو ایٹمی پائل بھی کہا جاتا تھا اور اس ایٹامیک پائل نے 1942 میں پہلی بار کنٹرولڈ نیوکلیئر فیوژن حاصل کی ۔لیکن اس وقت امریکہ اس بات سے ڈرا ہوا تھا کہ کہیں جرمنی ہم سے پہلے ایٹمی ہتھیار نہ بنا لے اس لئے امریکہ نے کافی سارے ملکوں کے نیوکلیئر سائنسدان اکٹھا کر کے ایک ٹیم بنائی اور اس ٹیم کا کیا گیا کام مین ہیڈن ورک کے نام سے جانا جاتا ہے اور اس ٹیم نے جولائی 1945 میں کامیابی سے نیوکلیئر ایکسپلوین کو ٹیسٹ کیا اور پھر اس کے ایک مہینے بعد یعنی اگست 1945 میں ہیروشیما اور ناگاساکی پر ایٹم بم گرایا گیا جس سے پوری دنیا اس ایٹمی ہتھیار کی تباہ کن طاقت کو جان گئی۔
یورینیئم کی تباہ کن طاقت کو دیکھنے کے بعد جب جنگ ختم ہوئی تو نیوکلیئر انرجی کا استعمال انسانی بہبود کےئے کیا جانے لگا ۔
سال 1951 میں پہلی بار نیوکلیئر پاور یا بجلی کا پریکٹیکل استعمال کیا گیا ۔لوس ریسرچ سینٹر کے ایکپریمنٹل نیوکلیئر ری ایکٹر میں ایک بلب کو نیوکلیئر ری ایکٹر سے چلایا گیا پھر سال 1957 میں اسی پاور پلانٹ سے 60 میگا واٹ بجلی پیدا کی گئی اور یوں یورینیئم بجلی پیدا کرنے کے کام آنے لگا
___________________________
یورینیئم کے استعمال کی بات کی جائے تو ایٹمی گھروں میں اس کا استعمال بجلی بنانے کے لئے کیا جاتا ہے 1 کلو یورینیئم سے 24 ہزار میگا واٹ جتنی بجلی پیدا ہوتی ہے۔
یورینیم کے نائٹریٹ اور ایسیڈیٹ کا استعمال فوٹوگرافی میں بھی ہوتا ہے ۔
اور جیسے کہ ہم سب جانتے ہیں کہ یورینیئم 235 کا استعمال ایٹم بم بنانے کے لئے بھی کیا جاتا ہے ۔انہی وجوہات کی بنا پر ایسے ایک بےحد قیمتی دھات کہا جاتا ہے ۔
چلئے جانتے ہیں دنیا میں سب سے زیادہ یورینیئم جس کے پاس ہے ۔
دنیا میں سب سے زیادہ 39 فیصد یورینیئم آسٹریلیا سے ملتا ہے جو 17 لاکھ ٹن ہے
دوسرے نمبر پہ 6.1 لاکھ ٹن کے ساتھ قازقستان ہے جبکہ 5 لاکھ ٹن کے ساتھ روس تیسرے نمبر پہ ہے یورینیئم کا چوتھا بڑا ذخیرہ کینیڈا کے پاس جبکہ نائزر پانچویں نمبر پر ہے
جبکہ دنیا کو یورینیئم فراہم کرنے میں پہلا نمبر قازقستان اور دوسرا کینیڈا کا ہے ۔
کیا ہو گا اگر کوئی یورینیئم کے پاس چلا جائے یا چھو لے تو ؟
اگر کوئی بندہ یورینیئم کے پاس چلا جائے تو اس کا جسم خراب ہونے لگے گا کیونکہ یورینیئم سے بیٹا اور گامیا ریڈیشنز نکلتی رہتی ہیں
آج کی اس تحریر میں اتنا ہی اگر آپ کے پاس کچھ مزید بتانے کو ہے تو کمنٹ میں راہنمائی فرمائیں شکریہ
اللہ نگہبان
یورینیئم 235
ایٹم بم میں استعمال ہونے والا ایندھن۔۔۔!
____________________________
تحریر: حسن خلیل چیمہ
ایٹم بم کے بارے میں تو سب لوگ جانتے ہی ہیں کیا آپ نے کبھی ایٹم بم میں استعمال ہونے والی دھات کے بارے میں جانا ؟ اگر نہیں تو چلئے جانتے ہیں۔۔۔!!
دنیا میں کچھ بہت خطرناک دھاتیں ہے جن میں سے ایک دھات یورینیئم بھی ہے ۔
دوسری جنگ عظیم کے بعد جب ہیروشیما اور ناگاساکی پر ایٹمی حملہ ہوا تھا تب تقریباً 64 کلو یورینیئم کا استعمال کیا گیا تھا جس میں سے صرف 0.002 جتنی ہی ایٹمی انرجی پیدا ہو پائی تھی اس میں سے اگر 20 کلو گرام یورینیئم بھی انرجی میں تبدیل ہو جاتی تو آج ہم زندہ نہیں ہوتے ۔ اس سے آپ اندازہ لگا سکتے ہیں کہ یورینیئم کا چھوٹا سا آسوٹوپ کتنا خطرناک ہو سکتا ہے ۔
یورینیئم 235 ایک خطرناک ،چمکیلی سفید رنگ کی دھات ہے جس کا ایٹمی نمبر 92 ہے اور اسے metal of Hobb بھی کہا جاتا ہے ۔
اس خطرناک ایلیمنٹ کی دریافت 1789 میں مارٹن ہینریچ نے کی اس نئی دھات کا نام سیارہ یورینس کے نام پر یورینیئم رکھا گیا زمین کی اوپری سطح پر یورینیئم کی مقدار 45 ٹریلین ٹن ہے اور یہ دھات سب سے زیادہ آسٹریلیا میں پائی جاتی ہے پاکستان میں بھی یورینیئم پایا جاتا ہے لیکن یہ بہت ہی ناقص کوالٹی کا ہے ۔ یورینیئم سمندری چٹانوں اور گہرائی سے ملتا ہے اور شروعات میں یہ ہملاوٹ زدہ ہوتا ہے بعد میں اس کو نکال کر کیمیکلز کے ذریعے خالص یورینیئم کو علیحدہ کر لیا جاتا ہے ۔
1 کلو یورینیئم (235) 80 terrazzo جتنی انرجی پیدا کرتی ہے۔
____________________________
یورینیم کی تاریخ کی بات کریں تو
قریب 79 AD سے ہی رومن امپائر یورینیئم آکسائیڈ کا استعمال چیزوں کو سجانے کے لئے کرتے تھے جو انہیں پیلا رنگ دیتا تھا حالانکہ رومنز کو اس چیز کا اندازہ نہیں تھا کہ یہ یورینیئم آکسائیڈ ہے اور تقریباً 1800 تک یورینیئم کا بنیادی کام شیشے کو سجانے اور سرامکس میں کیا جاتا تھا کیونکہ یورینیئم پیلا اور ہرا رنگ دیتا تھا سال1789میں ایک جرمن کیمسٹ مارٹن ہنریچ نے جب سلور مائن سے لئے گے کچھ منرلز کا جائزہ لیا تو تب انہیں ایک نیا ایلمنٹ دکھا جس کا نام یورینس سیارے سے لیا گیا اور اس کا نام یورینیئم رکھا گیا ۔یورینیم کی ریڈیو ایکٹیو پراپرٹی کو 1896 تک سٹڈی نہیں کیا گیا تھا ۔ ہینری ویٹیریل نے اس پر پہلی بار سٹڈی کی لیکن وہ اس کی مکمل خصوصیات نہیں بتا پائے تھے لیکن انھی کی ایک سٹوڈنٹ "میری کیوری " نے اس پر مکمل ریسرچ کی اور پھر انھوں نے اس کا نام ریڈیو ایکٹیویٹی رکھ دیا پھر سال 1898 میں میری کیوری نے ایک نئے ایلیمنٹ کی دریافت کی جس کا نام ریڈیم رکھا گیا اس ایلمنٹ کو بنانے کے لئے میری کیوری کو کئی ٹن یورینئم اور کی ضرورت ہوتی تھی جس سے صرف کچھ گرام ریڈیم ہی بنتا تھا اس وقت ریڈیم کینسر کے علاج میں ایک معجزہ ثابت ہو رہا تھا جس کی وجہ سے ریڈیم کی قیمت کافی زیادہ بڑھ گئی ایک اونس ریڈیم کی قیمت تقریباً 75 ہزار ڈالر تھی لیکن 1930 میں اس کی مارکیٹ گر گئی لیکن ریڈیم کی وجہ سے یورینیئم کو کافی پزیرائی ملی اور کافی ملکوں میں اس پر الگ الگ ریسرچرز ہونے لگیں لیکن میری کیوری کے ریڈیو ایکٹیو میٹریل پر کئے گے کام نے کافی سائنسدانوں کو اپنی طرف متوجہ کیا اور سب سائنسدان یورینیئم پر تجربات کرنے لگے ۔ دراصل ریڈیو ایکٹیویٹی میں ایک فینامنہ یا عمل ہوتا ہے جیسے ہم نیوکلیئر فشن کہتے ہیں جس میں ایک پیرنٹ نیوکلیس دو حصوں میں بٹ جاتا ہے جس سے کافی زیادہ انرجی پیدا ہوتی ہے
سال 1889 میں جرمنی کے اوٹو ہین نے نیوکلیئر فشن کا عمل سر انجام دیا اس وقت پوری دنیا میں جنگ جاری تھی یعنی ورلڈ وار چل رہی تھی اس کے بعد اینڈریو فرمی اور ان کی ٹیم نے پہلی بار نیوکلیئر ری ایکٹر بنایا جس کو ایٹمی پائل بھی کہا جاتا تھا اور اس ایٹامیک پائل نے 1942 میں پہلی بار کنٹرولڈ نیوکلیئر فیوژن حاصل کی ۔لیکن اس وقت امریکہ اس بات سے ڈرا ہوا تھا کہ کہیں جرمنی ہم سے پہلے ایٹمی ہتھیار نہ بنا لے اس لئے امریکہ نے کافی سارے ملکوں کے نیوکلیئر سائنسدان اکٹھا کر کے ایک ٹیم بنائی اور اس ٹیم کا کیا گیا کام مین ہیڈن ورک کے نام سے جانا جاتا ہے اور اس ٹیم نے جولائی 1945 میں کامیابی سے نیوکلیئر ایکسپلوین کو ٹیسٹ کیا اور پھر اس کے ایک مہینے بعد یعنی اگست 1945 میں ہیروشیما اور ناگاساکی پر ایٹم بم گرایا گیا جس سے پوری دنیا اس ایٹمی ہتھیار کی تباہ کن طاقت کو جان گئی۔
یورینیئم کی تباہ کن طاقت کو دیکھنے کے بعد جب جنگ ختم ہوئی تو نیوکلیئر انرجی کا استعمال انسانی بہبود کےئے کیا جانے لگا ۔
سال 1951 میں پہلی بار نیوکلیئر پاور یا بجلی کا پریکٹیکل استعمال کیا گیا ۔لوس ریسرچ سینٹر کے ایکپریمنٹل نیوکلیئر ری ایکٹر میں ایک بلب کو نیوکلیئر ری ایکٹر سے چلایا گیا پھر سال 1957 میں اسی پاور پلانٹ سے 60 میگا واٹ بجلی پیدا کی گئی اور یوں یورینیئم بجلی پیدا کرنے کے کام آنے لگا
___________________________
یورینیئم کے استعمال کی بات کی جائے تو ایٹمی گھروں میں اس کا استعمال بجلی بنانے کے لئے کیا جاتا ہے 1 کلو یورینیئم سے 24 ہزار میگا واٹ جتنی بجلی پیدا ہوتی ہے۔
یورینیم کے نائٹریٹ اور ایسیڈیٹ کا استعمال فوٹوگرافی میں بھی ہوتا ہے ۔
اور جیسے کہ ہم سب جانتے ہیں کہ یورینیئم 235 کا استعمال ایٹم بم بنانے کے لئے بھی کیا جاتا ہے ۔انہی وجوہات کی بنا پر ایسے ایک بےحد قیمتی دھات کہا جاتا ہے ۔
چلئے جانتے ہیں دنیا میں سب سے زیادہ یورینیئم جس کے پاس ہے ۔
دنیا میں سب سے زیادہ 39 فیصد یورینیئم آسٹریلیا سے ملتا ہے جو 17 لاکھ ٹن ہے
دوسرے نمبر پہ 6.1 لاکھ ٹن کے ساتھ قازقستان ہے جبکہ 5 لاکھ ٹن کے ساتھ روس تیسرے نمبر پہ ہے یورینیئم کا چوتھا بڑا ذخیرہ کینیڈا کے پاس جبکہ نائزر پانچویں نمبر پر ہے
جبکہ دنیا کو یورینیئم فراہم کرنے میں پہلا نمبر قازقستان اور دوسرا کینیڈا کا ہے ۔
کیا ہو گا اگر کوئی یورینیئم کے پاس چلا جائے یا چھو لے تو ؟
اگر کوئی بندہ یورینیئم کے پاس چلا جائے تو اس کا جسم خراب ہونے لگے گا کیونکہ یورینیئم سے بیٹا اور گامیا ریڈیشنز نکلتی رہتی ہیں
آج کی اس تحریر میں اتنا ہی اگر آپ کے پاس کچھ مزید بتانے کو ہے تو کمنٹ میں راہنمائی فرمائیں شکریہ
اللہ نگہبان

Comments
Post a Comment