#ٹیکیونز ( Tachyons )
_____________________
تحریروتحقیق:--حسن خلیل چیمہ ( ابن آدم )
____________________________________
جب لائٹ سپیڈ سے تیز سفر کرنے کی بات کی جاتی ہے تو ٹیکیونز کا ذکر آتا ہے ۔کچھ لوگ سمجھتے ہیں کہ ٹیکیونز نہ صرف روشنی کی رفتار سے تیز سفر کرتے ہیں بلکہ ان کو ڈھونڈ بھی لیا گیا ہے ۔
اور کچھ لوگ سمجھتے ہیں کیونکہ ٹیکیونز کو ڈھونڈ لیا گیا ہے تو جلد ہی ٹائم ٹریول ممکن ہونے والا ہے ۔
لیکن سچائی یہ ہے کہ ٹیکیونز پارٹیکلز ابھی تک تھیوریز میں ہی ایگزسٹ کرتے ہیں جس کا مطلب یہ ہے کہ انہیں ابھی تک کہیں بھی ڈیٹیکٹ نہیں کیا گیا ۔
اور زیادہ تر سائنسدان یہ بھی سمجھتے ہیں کہ ان کے حقیقت میں ہونے کے بھی بہت کم چانسیز ہیں ۔
میری کوشش یہی رہتی ہے کہ آپ کو ہمیشہ صحیح معلومات دی جائے اور اس تحریر کا اصلی مقصد یہی ہے کہ آپ کو ٹیکیونز کے بارے میں صحیح معلومات دی جائے اس کے لئے آج کی اس تحریر میں ہم جانے گی کہ ٹیکیونز اصل میں ہے کیا ؟
ان کے پیچھے کی تھیوری کیا ہے ؟
اور ان کے اصل میں ہونے کے کتنے چانسیز ہیں ؟
_______________
یوں تو ٹیکیونز کے کنسیپٹ کو سمجھنے کے لئے کچھ ایکویشنز اور کنسیپٹس کو سمجھنے کی ضرورت ہوتی ہے لیکن کیونکہ یہ تحریر عام لوگوں کے لیے ہے ٹیکیون سے متعلق غلط فہمی کو مٹانے کے لیے اس لئے اس میں کسی بھی قسم کی کمپلیکس میتھ کا استعمال نہیں کیا جائے گا
اگر آپ ٹیکیون سے متعلق میتھمیٹیکل ایکویشن اور کنسیپٹس میں دلچسپی رکھتے ہیں تو نیچے ریسرچ پیپرز کا لنک دے دیا گیا ہے آپ کی پیپرز کو پڑھ کر اس کے بارے میں مزید جہان سکتے ہیں
--------------------------------------------------------------
Research Paper links on Tachyons
-------------------------------------------------------------
(1) http://quest.ph.utexas.edu/Reviews/Ta...
(2)https://www.rand.org/content/dam/rand...
-------------------------------------------------------------------------
سب سے پہلے ہمارے لیے یہ جاننا ضروری ہے کہ ٹیکیونز اصل میں ہے کیا ۔تو آئیے جانتے ہیں کہ یہ ہیں کیا
تعارف :--
دراصل ٹیکیونز ایسے ہائپو تھٹیکل آرٹیکلز ہیں جو اگر اس کائنات میں کہیں پائے جاتے ہیں تو ہمیشہ روشنی سے تیز رفتار میں سفر کریں گے ۔
یہاں ہائپو تھیٹیکل کا لفظ استعمال کرنے کا مقصد آپ کو یہ بتلانہ ہے کہ ابھی تک ٹیکیون صرف تھیوری میں ہی اپنا وجود رکھتے ہیں ۔اصل زندگی میں ابھی انہیں کہیں بھی دیکھا نہیں گیا یعنی جب بھی آپ کو کوئی یہ بولے کہ ٹیکیونز کو ڈھونڈا جاچکا ہے تو آپ کو غلط معلومات دے رہا ہوگا ۔
سب سے پہلے تین بھارتی سائنسدانوں
1- O.M.P.BILIUK
2-V.k.deshpande
3-E.c.G.sudarshan
نے 1962 میں روشنی سے بھی تیزچل سکنے والے پارٹیکلز کے بارے میں بات کی تھی ۔
لیکن اس وقت انہوں نے اس پارٹیکل کو میٹا پارٹیکل کا نام دیا تھا ۔اس کے کچھ سالوں بعد 1967 میں Gerald feiubeg نام کے دوسرے سائنسدان اسی طرح کا آئیڈیا لے کر سامنے آئے ۔جسے انہوں نے اپنے
Possibility of faster than light particles
نام کے سائنسی پیپر کی شکل میں دنیا کے سامنے رکھا ۔
اس پیپر میں انہوں نے روشنی سے بھی تیز چل سکنے والے ان ہائپوتھیٹیکل پارٹیکلز کو "ٹیکیونز " کہا تھا
جس کا مطلب ہوتا ہے تیزرفتار پارٹیکلز اس وقت سے ہم ایسے پارٹیکلز کو ٹیکیونز کے نام سے ہی جانتے ہیں ۔
چلیے جانتے ہیں کہ روشنی سے بھی تیز سفر کرنے والے پارٹیکلز کا آئیڈیا آخر آیا کہاں سے ؟
عام طور پر ہمیں یہی بتایا جاتا ہے کہ سپیشل تھیوری آف ریلیٹیویٹی کے مطابق روشنی کی رفتار کائنات میں زیادہ سے زیادہ رفتار ہوتی ہے ۔جس کی وجہ سے کوئی بھی چیز اس سے تیز رفتاری سے نہیں چل سکتی لیکن یہ پورا سچ نہیں ہے ۔
دراصل یہ تھیوری ہمیں یہ بتلاتی ہے کہ کوئی بھی چیز جس کی اوریجنل سپیڈ روشنی سے کم ہے وہ کبھی بھی روشنی کو مات نہیں دے سکتی ۔دوسرے لفظوں میں کہوں تو کسی جسم کی رفتار اگر روشنی سے کم رہی ہے تو اس کی سپیڈ ہمیشہ روشنی سے کم ہی رہے گی ۔
اسی طرح اگر کسی قسم کی سپیڈ روشنی کی سپیڈ کے برابر رہی ہے تو ہمیشہ برابر ہی رہے گی ۔اور اگر پہلے سے ہی کسی جسم کی سپیڈ روشنی کی سپیڈ سے زیادہ ہے تو اس کی سپیڈ ہمیشہ ہی روشنی کی سپیڈ سے زیادہ رہے گی ۔
اگر کسی پارٹیکل کی اوریجنل سپیڈ روشنی کی سپیڈ سے کم ہو اور آگے جاکر وہ کسی طرح روشنی کی سپیڈ سے زیادہ تیز چلنے لگے تو ہم کہیں گے کہ سپیشل ریلیٹیوٹی کا قانون بریک ہوگیا ۔
پر اس کیس میں ہم دیکھ رہے ہیں کہ ایسا کوئی بھی پارٹیکل نہیں ہے جو ایسا کر رہا ہے تو ہم کہہ سکتے ہیں کہ یہ اسپیشل ریلیٹیویٹی کے مطابق لگائے گئے روشنی کی سپیڈ کے بیریئر کو نہیں توڑا جا رہا ۔
اگر عمومی بات کریں تو اس کائنات میں پائے جانے والے تمام پرٹیکلز کی رفتار روشنی کی رفتار سے کم ہی ہوتی ہے اس لیے یہ پارٹیکلز روشنی کی سپیڈ یا اس سے زیادہ سپیڈ سے سفر نہیں کر سکتے ۔
دوسری طرف اگر فوٹونز جیسے ماس لس پارٹیکلز کی بات کی جائے تو ان کی سپیڈ لائٹ کی سپیڈ کے برابر ہوتی ہیں ۔اس لیے یہ ہمیشہ اسی رفتار سے سفر کرتے رہتے ہیں ۔
اب اگر امیجن کریں ایسے پارٹیکلز کی جن کی سپیڈ شروع سے ہی روشنی کی سپیڈ سے زیادہ ہے تو یہ ہمیشہ ہی لائٹ کی سپیڈ سے زیادہ سپیڈ سے ٹریول کریں گے انہی ہائپوتھیٹیکل پارٹیکلز کو ہم ٹیکیونز کہتے ہیں ۔
چونکہ یہ سپیشل ریلیٹیوٹی کو وائلیٹ نہیں کرتے اٹھی اس لئے تھیراٹیکلی۔ کا وجود ممکن ہے ۔
پر بات یہاں ختم نہیں ہوتی کیونکہ ایسے پارٹیکلز کے ساتھ اور بھی کئی طرح کے مسائل ہوتے ہیں ان مسائل کے بارے میں جانے سے پہلے چلئے یہ جان لیتے ہیں کہ اگر ٹیکیونز کبھی ملتے ہیں تو انکی مین پراپرٹیز کیا ہوگی !
1-ان کا ریسٹ ماس ،پراپر لائف ٹائم اور پراپر لینتھ امیجنری ہوگا
2 -ٹیکیونز کی انرجی جتنی زیادہ خرچ ہوگئی ان کی سپیڈ اتنی ہی زیادہ بٹتی جائے گی
3- ٹیکیون سکوں اگر انرجی دی جائے تو ان کی سپیڈ گھٹے گی -۔
یوں تو ٹیکیونز روشنی کی رفتار سے تیز سفر کریں گے لیکن اگر ان کو باہر سے پازیٹیو انرجی دی جائے تو ان کی سپیڈ گھٹے گی
4-کیونکہ ٹیکیونز لائٹ کی سپیڈ سے زیادہ سپیڈ سے چلیں گے تو ان کے ذریعہ ہم اپنے گزرے وقت یعنی ماضی میں میسجز بھیج سکیں گے
_____________
امید کرتا ہوں کہ اب تک آپ ٹیکیونز پارٹیکلز کے بارے میں کافی کچھ جان چکے ہوں گے ۔
چلیے جانتے ہیں کہ ان کا حقیقت میں ہونا کے ساتھ تک ممکن ہے !
اگر تھیرٹیکلی یا میتھمیٹیکل ایکویشنز کے نظریے سے دیکھیں تو ایسی کوئی وجہ نہیں ہے جس کی وجہ سے ان کا حقیقت میں موجود ہونا ممکن نہ ہو ۔
انکی اسپیکٹڈ پراپرٹیز چاہے کتنی ہی عجیب کیوں نہ ہو لیکن جب تک میتھمیٹیکل ایکویشنز ایسے آرٹیکلز کو ممکن بناتے ہیں تب تک ہم ان کے حقیقت میں موجود نہ ہونے کا انکار نہیں کرسکتے ۔
لیکن اگر بات کریں زیادہ تر سائنسدانوں کی تو وہ یہی مانتے ہیں کہ ٹیکیونز کا وجود ممکن نہیں ۔کیوں کہ اگر کوئی ایسے پارٹیکل ہوئے تو کا وہ کازیلٹی یہ پرنسپل کو توڑیں گے اور کئی طرح کے ٹائم ٹریول پیراڈاکس کو جنم دیں گے ۔
مثال کے طور پر مان لیں گے کل کو ہم کو ٹیکیونز پارٹیکل مل جاتے ہیں اور ہم ان سے ایک ٹیکیونک اینٹی ٹیلیفون بی بنا لیتے ہیں جس کی مدد سے کوئی بھی انسان اپنے ماضی میں موجود لوگوں کو اپنے پیغامات میں سکتا ہے کیا ہوگا اگر آپ اس ڈیوائس کو استعمال کرکے کوئی ایسا میسج بھیجیں جس سے اس وقت میں موجود کوئی دوسرا آدمی آپ کے دادا کا ہی قتل کردے وہ بھی اس وقت جب تک انہوں نے شادی بھی نہیں کی ہوگی اگر آپ کے دادا اس وقت مر گئے تو پھر نہ تو آپ کے ابا کا جنم ممکن ہے اور نہ ہی آپ کا تو تو پھر آپ کے لیے ایسے میسج کو بیج بنا کیسے ممکن ہوا ۔اسے گرینڈ فادر پیراڈاکس کہتے ہیں ۔
کچھ لوگ اس پیراڈاکس کا سلیوشن پیرالل یونیورسٹی تھیوری سے دیتے ہیں جس کے مطابق جس ریائلٹی میں آپ جی رہے ہیں وہ ایک الگ یونیورس ہے جب کہ جس ریالٹی میں آپ نے اپنے دادا کا قتل کروایا وہ ایک الگ ریائلٹی ہے جو کہ کسی اور پیرلل یونیورس میں وقوع پذیر ہو رہی ہے ۔اس لیے آپ اپنے ماضی میں جا کر جو بھی تبدیلیاں کریں گے ان سے آپ کی زندگی پر کوئی فرق نہیں پڑے گا کیونکہ آپ جس ریائلٹی میں ہیں وہ بالکل الگ یونیورس میں وقوع پذیر ہو رہی ہے ۔
حالانکہ اس سلیوشن کے ساتھ پریشانی یہ ہے کہ ہمیں ابھی تک یہ نہیں پتا کہ پیرالل یونیورس ہوتے بھی ہیں کہ نہیں ۔
اگر کنسسٹنٹ بوسونیک سٹرنگ تھیوری کی بات کریں تو اس کا میتھامٹیکل فارمولا بھی ٹیکیونز کے ہونے کی پیشں گوئی کرتا ہے لیکن جب ہم ٹیکیونز کو اس تھیوری میں ایڈ کرتے ہیں تو اس تھیوری میں ایک فنڈامنٹل انسٹیبلٹی پیدا ہوجاتی ہے اس کا سلیوشن ہم کو بتاتا ہے کہ ٹیکیونز ڈی-کے ہوکرہمیشہ دوسرے لور انرجی سلوشن میں تبدیل ہوتے رہیں گے اور یہ سائیکل ہمیشہ چلتا رہے گا
اس وجہ سے سائنسدان ٹیکیونز کے حقیقت میں ہونے پر ہمیشہ سوال کھڑا کرتے ہیں
سائنسدان ٹیکیونز کی حقیقت پر سوال اس لئے بھی کھڑا کرتے ہیں کہ انہیں کسی بھی تجربے میں دکھائی نہیں دیے
2011 میں سی ای آر سرن کہ کچھ سائنسدانوں نے یہ اعلان کیا تھا کہ انہوں نے ایسے نیوٹرینو کو محسوس کیا ہے جن کی رفتار روشنی سے کہیں زیادہ ہے اس وقت سب کو لگا کہ ہمیں ٹیکیونز مل گئے ہیں لیکن بعد میں پتہ چلا کہ یہ سب ان کے مطابق کی گئی غلط کیلکولیشن کا نتیجہ تھا ۔
اگر بات کریں موجودہ وقت کی تو اب ٹیکیونز کی بحث شایدہی کہیں ہوتی ہے
اگر مستقبل میں ہمیں ٹیکیونز کسی طرح مل جاتے ہیں تو ہمارے لئے یہ ایک بڑی دریافت ہو گئی جو ہماری اس کائنات سے متعلق سوچ کو مکمل طور پر جھنجوڑ دے گی
جب تک ٹیکیونز ہمیں مکمل طور پر نہیں مل جاتے تو یہ تھیرٹیکل اور ہائپو تھیٹیکل پارٹیکلز کے روپ میں ہی جانے جائیں گے جس کا مطلب یہ ہوگا کہ یہ صرف تھیوریز میں ہی ایگزسٹ کرتے ہیں
_____________________
تحریروتحقیق:--حسن خلیل چیمہ ( ابن آدم )
____________________________________
جب لائٹ سپیڈ سے تیز سفر کرنے کی بات کی جاتی ہے تو ٹیکیونز کا ذکر آتا ہے ۔کچھ لوگ سمجھتے ہیں کہ ٹیکیونز نہ صرف روشنی کی رفتار سے تیز سفر کرتے ہیں بلکہ ان کو ڈھونڈ بھی لیا گیا ہے ۔
اور کچھ لوگ سمجھتے ہیں کیونکہ ٹیکیونز کو ڈھونڈ لیا گیا ہے تو جلد ہی ٹائم ٹریول ممکن ہونے والا ہے ۔
لیکن سچائی یہ ہے کہ ٹیکیونز پارٹیکلز ابھی تک تھیوریز میں ہی ایگزسٹ کرتے ہیں جس کا مطلب یہ ہے کہ انہیں ابھی تک کہیں بھی ڈیٹیکٹ نہیں کیا گیا ۔
اور زیادہ تر سائنسدان یہ بھی سمجھتے ہیں کہ ان کے حقیقت میں ہونے کے بھی بہت کم چانسیز ہیں ۔
میری کوشش یہی رہتی ہے کہ آپ کو ہمیشہ صحیح معلومات دی جائے اور اس تحریر کا اصلی مقصد یہی ہے کہ آپ کو ٹیکیونز کے بارے میں صحیح معلومات دی جائے اس کے لئے آج کی اس تحریر میں ہم جانے گی کہ ٹیکیونز اصل میں ہے کیا ؟
ان کے پیچھے کی تھیوری کیا ہے ؟
اور ان کے اصل میں ہونے کے کتنے چانسیز ہیں ؟
_______________
یوں تو ٹیکیونز کے کنسیپٹ کو سمجھنے کے لئے کچھ ایکویشنز اور کنسیپٹس کو سمجھنے کی ضرورت ہوتی ہے لیکن کیونکہ یہ تحریر عام لوگوں کے لیے ہے ٹیکیون سے متعلق غلط فہمی کو مٹانے کے لیے اس لئے اس میں کسی بھی قسم کی کمپلیکس میتھ کا استعمال نہیں کیا جائے گا
اگر آپ ٹیکیون سے متعلق میتھمیٹیکل ایکویشن اور کنسیپٹس میں دلچسپی رکھتے ہیں تو نیچے ریسرچ پیپرز کا لنک دے دیا گیا ہے آپ کی پیپرز کو پڑھ کر اس کے بارے میں مزید جہان سکتے ہیں
--------------------------------------------------------------
Research Paper links on Tachyons
-------------------------------------------------------------
(1) http://quest.ph.utexas.edu/Reviews/Ta...
(2)https://www.rand.org/content/dam/rand...
-------------------------------------------------------------------------
سب سے پہلے ہمارے لیے یہ جاننا ضروری ہے کہ ٹیکیونز اصل میں ہے کیا ۔تو آئیے جانتے ہیں کہ یہ ہیں کیا
تعارف :--
دراصل ٹیکیونز ایسے ہائپو تھٹیکل آرٹیکلز ہیں جو اگر اس کائنات میں کہیں پائے جاتے ہیں تو ہمیشہ روشنی سے تیز رفتار میں سفر کریں گے ۔
یہاں ہائپو تھیٹیکل کا لفظ استعمال کرنے کا مقصد آپ کو یہ بتلانہ ہے کہ ابھی تک ٹیکیون صرف تھیوری میں ہی اپنا وجود رکھتے ہیں ۔اصل زندگی میں ابھی انہیں کہیں بھی دیکھا نہیں گیا یعنی جب بھی آپ کو کوئی یہ بولے کہ ٹیکیونز کو ڈھونڈا جاچکا ہے تو آپ کو غلط معلومات دے رہا ہوگا ۔
سب سے پہلے تین بھارتی سائنسدانوں
1- O.M.P.BILIUK
2-V.k.deshpande
3-E.c.G.sudarshan
نے 1962 میں روشنی سے بھی تیزچل سکنے والے پارٹیکلز کے بارے میں بات کی تھی ۔
لیکن اس وقت انہوں نے اس پارٹیکل کو میٹا پارٹیکل کا نام دیا تھا ۔اس کے کچھ سالوں بعد 1967 میں Gerald feiubeg نام کے دوسرے سائنسدان اسی طرح کا آئیڈیا لے کر سامنے آئے ۔جسے انہوں نے اپنے
Possibility of faster than light particles
نام کے سائنسی پیپر کی شکل میں دنیا کے سامنے رکھا ۔
اس پیپر میں انہوں نے روشنی سے بھی تیز چل سکنے والے ان ہائپوتھیٹیکل پارٹیکلز کو "ٹیکیونز " کہا تھا
جس کا مطلب ہوتا ہے تیزرفتار پارٹیکلز اس وقت سے ہم ایسے پارٹیکلز کو ٹیکیونز کے نام سے ہی جانتے ہیں ۔
چلیے جانتے ہیں کہ روشنی سے بھی تیز سفر کرنے والے پارٹیکلز کا آئیڈیا آخر آیا کہاں سے ؟
عام طور پر ہمیں یہی بتایا جاتا ہے کہ سپیشل تھیوری آف ریلیٹیویٹی کے مطابق روشنی کی رفتار کائنات میں زیادہ سے زیادہ رفتار ہوتی ہے ۔جس کی وجہ سے کوئی بھی چیز اس سے تیز رفتاری سے نہیں چل سکتی لیکن یہ پورا سچ نہیں ہے ۔
دراصل یہ تھیوری ہمیں یہ بتلاتی ہے کہ کوئی بھی چیز جس کی اوریجنل سپیڈ روشنی سے کم ہے وہ کبھی بھی روشنی کو مات نہیں دے سکتی ۔دوسرے لفظوں میں کہوں تو کسی جسم کی رفتار اگر روشنی سے کم رہی ہے تو اس کی سپیڈ ہمیشہ روشنی سے کم ہی رہے گی ۔
اسی طرح اگر کسی قسم کی سپیڈ روشنی کی سپیڈ کے برابر رہی ہے تو ہمیشہ برابر ہی رہے گی ۔اور اگر پہلے سے ہی کسی جسم کی سپیڈ روشنی کی سپیڈ سے زیادہ ہے تو اس کی سپیڈ ہمیشہ ہی روشنی کی سپیڈ سے زیادہ رہے گی ۔
اگر کسی پارٹیکل کی اوریجنل سپیڈ روشنی کی سپیڈ سے کم ہو اور آگے جاکر وہ کسی طرح روشنی کی سپیڈ سے زیادہ تیز چلنے لگے تو ہم کہیں گے کہ سپیشل ریلیٹیوٹی کا قانون بریک ہوگیا ۔
پر اس کیس میں ہم دیکھ رہے ہیں کہ ایسا کوئی بھی پارٹیکل نہیں ہے جو ایسا کر رہا ہے تو ہم کہہ سکتے ہیں کہ یہ اسپیشل ریلیٹیویٹی کے مطابق لگائے گئے روشنی کی سپیڈ کے بیریئر کو نہیں توڑا جا رہا ۔
اگر عمومی بات کریں تو اس کائنات میں پائے جانے والے تمام پرٹیکلز کی رفتار روشنی کی رفتار سے کم ہی ہوتی ہے اس لیے یہ پارٹیکلز روشنی کی سپیڈ یا اس سے زیادہ سپیڈ سے سفر نہیں کر سکتے ۔
دوسری طرف اگر فوٹونز جیسے ماس لس پارٹیکلز کی بات کی جائے تو ان کی سپیڈ لائٹ کی سپیڈ کے برابر ہوتی ہیں ۔اس لیے یہ ہمیشہ اسی رفتار سے سفر کرتے رہتے ہیں ۔
اب اگر امیجن کریں ایسے پارٹیکلز کی جن کی سپیڈ شروع سے ہی روشنی کی سپیڈ سے زیادہ ہے تو یہ ہمیشہ ہی لائٹ کی سپیڈ سے زیادہ سپیڈ سے ٹریول کریں گے انہی ہائپوتھیٹیکل پارٹیکلز کو ہم ٹیکیونز کہتے ہیں ۔
چونکہ یہ سپیشل ریلیٹیوٹی کو وائلیٹ نہیں کرتے اٹھی اس لئے تھیراٹیکلی۔ کا وجود ممکن ہے ۔
پر بات یہاں ختم نہیں ہوتی کیونکہ ایسے پارٹیکلز کے ساتھ اور بھی کئی طرح کے مسائل ہوتے ہیں ان مسائل کے بارے میں جانے سے پہلے چلئے یہ جان لیتے ہیں کہ اگر ٹیکیونز کبھی ملتے ہیں تو انکی مین پراپرٹیز کیا ہوگی !
1-ان کا ریسٹ ماس ،پراپر لائف ٹائم اور پراپر لینتھ امیجنری ہوگا
2 -ٹیکیونز کی انرجی جتنی زیادہ خرچ ہوگئی ان کی سپیڈ اتنی ہی زیادہ بٹتی جائے گی
3- ٹیکیون سکوں اگر انرجی دی جائے تو ان کی سپیڈ گھٹے گی -۔
یوں تو ٹیکیونز روشنی کی رفتار سے تیز سفر کریں گے لیکن اگر ان کو باہر سے پازیٹیو انرجی دی جائے تو ان کی سپیڈ گھٹے گی
4-کیونکہ ٹیکیونز لائٹ کی سپیڈ سے زیادہ سپیڈ سے چلیں گے تو ان کے ذریعہ ہم اپنے گزرے وقت یعنی ماضی میں میسجز بھیج سکیں گے
_____________
امید کرتا ہوں کہ اب تک آپ ٹیکیونز پارٹیکلز کے بارے میں کافی کچھ جان چکے ہوں گے ۔
چلیے جانتے ہیں کہ ان کا حقیقت میں ہونا کے ساتھ تک ممکن ہے !
اگر تھیرٹیکلی یا میتھمیٹیکل ایکویشنز کے نظریے سے دیکھیں تو ایسی کوئی وجہ نہیں ہے جس کی وجہ سے ان کا حقیقت میں موجود ہونا ممکن نہ ہو ۔
انکی اسپیکٹڈ پراپرٹیز چاہے کتنی ہی عجیب کیوں نہ ہو لیکن جب تک میتھمیٹیکل ایکویشنز ایسے آرٹیکلز کو ممکن بناتے ہیں تب تک ہم ان کے حقیقت میں موجود نہ ہونے کا انکار نہیں کرسکتے ۔
لیکن اگر بات کریں زیادہ تر سائنسدانوں کی تو وہ یہی مانتے ہیں کہ ٹیکیونز کا وجود ممکن نہیں ۔کیوں کہ اگر کوئی ایسے پارٹیکل ہوئے تو کا وہ کازیلٹی یہ پرنسپل کو توڑیں گے اور کئی طرح کے ٹائم ٹریول پیراڈاکس کو جنم دیں گے ۔
مثال کے طور پر مان لیں گے کل کو ہم کو ٹیکیونز پارٹیکل مل جاتے ہیں اور ہم ان سے ایک ٹیکیونک اینٹی ٹیلیفون بی بنا لیتے ہیں جس کی مدد سے کوئی بھی انسان اپنے ماضی میں موجود لوگوں کو اپنے پیغامات میں سکتا ہے کیا ہوگا اگر آپ اس ڈیوائس کو استعمال کرکے کوئی ایسا میسج بھیجیں جس سے اس وقت میں موجود کوئی دوسرا آدمی آپ کے دادا کا ہی قتل کردے وہ بھی اس وقت جب تک انہوں نے شادی بھی نہیں کی ہوگی اگر آپ کے دادا اس وقت مر گئے تو پھر نہ تو آپ کے ابا کا جنم ممکن ہے اور نہ ہی آپ کا تو تو پھر آپ کے لیے ایسے میسج کو بیج بنا کیسے ممکن ہوا ۔اسے گرینڈ فادر پیراڈاکس کہتے ہیں ۔
کچھ لوگ اس پیراڈاکس کا سلیوشن پیرالل یونیورسٹی تھیوری سے دیتے ہیں جس کے مطابق جس ریائلٹی میں آپ جی رہے ہیں وہ ایک الگ یونیورس ہے جب کہ جس ریالٹی میں آپ نے اپنے دادا کا قتل کروایا وہ ایک الگ ریائلٹی ہے جو کہ کسی اور پیرلل یونیورس میں وقوع پذیر ہو رہی ہے ۔اس لیے آپ اپنے ماضی میں جا کر جو بھی تبدیلیاں کریں گے ان سے آپ کی زندگی پر کوئی فرق نہیں پڑے گا کیونکہ آپ جس ریائلٹی میں ہیں وہ بالکل الگ یونیورس میں وقوع پذیر ہو رہی ہے ۔
حالانکہ اس سلیوشن کے ساتھ پریشانی یہ ہے کہ ہمیں ابھی تک یہ نہیں پتا کہ پیرالل یونیورس ہوتے بھی ہیں کہ نہیں ۔
اگر کنسسٹنٹ بوسونیک سٹرنگ تھیوری کی بات کریں تو اس کا میتھامٹیکل فارمولا بھی ٹیکیونز کے ہونے کی پیشں گوئی کرتا ہے لیکن جب ہم ٹیکیونز کو اس تھیوری میں ایڈ کرتے ہیں تو اس تھیوری میں ایک فنڈامنٹل انسٹیبلٹی پیدا ہوجاتی ہے اس کا سلیوشن ہم کو بتاتا ہے کہ ٹیکیونز ڈی-کے ہوکرہمیشہ دوسرے لور انرجی سلوشن میں تبدیل ہوتے رہیں گے اور یہ سائیکل ہمیشہ چلتا رہے گا
اس وجہ سے سائنسدان ٹیکیونز کے حقیقت میں ہونے پر ہمیشہ سوال کھڑا کرتے ہیں
سائنسدان ٹیکیونز کی حقیقت پر سوال اس لئے بھی کھڑا کرتے ہیں کہ انہیں کسی بھی تجربے میں دکھائی نہیں دیے
2011 میں سی ای آر سرن کہ کچھ سائنسدانوں نے یہ اعلان کیا تھا کہ انہوں نے ایسے نیوٹرینو کو محسوس کیا ہے جن کی رفتار روشنی سے کہیں زیادہ ہے اس وقت سب کو لگا کہ ہمیں ٹیکیونز مل گئے ہیں لیکن بعد میں پتہ چلا کہ یہ سب ان کے مطابق کی گئی غلط کیلکولیشن کا نتیجہ تھا ۔
اگر بات کریں موجودہ وقت کی تو اب ٹیکیونز کی بحث شایدہی کہیں ہوتی ہے
اگر مستقبل میں ہمیں ٹیکیونز کسی طرح مل جاتے ہیں تو ہمارے لئے یہ ایک بڑی دریافت ہو گئی جو ہماری اس کائنات سے متعلق سوچ کو مکمل طور پر جھنجوڑ دے گی
جب تک ٹیکیونز ہمیں مکمل طور پر نہیں مل جاتے تو یہ تھیرٹیکل اور ہائپو تھیٹیکل پارٹیکلز کے روپ میں ہی جانے جائیں گے جس کا مطلب یہ ہوگا کہ یہ صرف تھیوریز میں ہی ایگزسٹ کرتے ہیں

Comments
Post a Comment