Skip to main content

کوانٹم کمپیوٹرز Quantum computer

#Quantum_Computer
#کوانٹم_کمپیوٹرز
______________________
تخقیق و تحریر :- حسن خلیل چیمہ 
تعارف :-
کمپیوٹرز آج ہماری زندگی کا ایک اہم حصہ بن چکے ہیں ۔بات چاہے ریسرچ کی ہو ، سپیس ایکسپلوریشن کی ہو یا پھر ٹیکنیکل ایڈوانس منٹس کی ۔بنا کمپیوٹر کہ کچھ بھی ممکن نہیں ہے ۔
پچھلی کچھ دہائیوں سے ہم نے نا صرف  کمپیوٹر کے سائز کو کافی چھوٹا کر دیا ہے بلکہ اس کی کمپیوٹیشن پاور کو بھی کافی بڑھا دیا ہے ایک مثال کے طور پر اگر بات کریں ایک سمارٹ فون کے کمپیوٹیشن پاور کی تو یہ بہتر ہوتے ہیں آج سے پچاس سال پہلے کے ان  ملٹری کمپیوٹر سے جو سائز میں ایک کمرے کے برابر ہوتے تھے اس سب کے باوجود ہمارے آج کل کے کمپیوٹرز کئی معنوں  میں پرفیکٹ نہیں ہیں  اگر ان کے سب سے کامن لمیٹیشن کی بات کرو تو وہ ہوگی ان کی سپیڈ کیوں کہ کمپلیکس میتھمیٹکل ایکویشنز کو حل کرنے میں یہ بہت زیادہ وقت لگا دیتے ہیں اس کے علاوہ سٹوریج اسپیس ایشو اور انرجی کنزمپشن کا مسئلہ شامل ہے اس لیے اب ہمیں ایسے کمپیوٹرز کی ضرورت ہے جو ہر فیلڈ میں آج کل کے کمپیوٹرز کے مقابلے میں کئی  گنا بہتر ہو ۔
گوگل ،اِنٹل  اور آئی بی ایم جیسی کمپنیاں کوانٹم فزکس کے قوانین کا استعمال کر کے ایسے کمپیوٹر بنانے میں لگی ہوئی ہیں جنہیں ہم مستقبل کے کمپیوٹرز کہہ سکتے ہیں ان کمپیوٹرز کو کوانٹم کمپیوٹر کہا گیا ہے ۔
ایسے کمپیوٹرز کا سمپل ورکنگ ماڈل ناصرف کامیابی سے بنا لیا گیا ہے بلکہ چھوٹی کلکولیشنز میں ان کا استعمال کر کے ان کا کامیاب ٹیسٹ بھی لے لیا گیا ہے ۔
اب یہ کمپنیاں ان کمپیوٹرز کو بڑے لیول پر بنانے کی تیاری کر رہی ہیں گھر بڑے لیول پر کوانٹم کمپیوٹرز کی پیداوار شروع ہو گئی تو یہ یقینی طور پر آجکل کے کمپیوٹرز کی جگہ لے لیں گے ۔
اب ہم جانیں گے کہ کوانٹم کمپیوٹر کیسے کام کرتے ہیں اور یہ ہمارے لیے کیوں ضروری ہے ۔!
_______________________________
کوانٹم کمپیوٹر کیسے کام کرتے ہیں ؟
__
کوانٹم کمپیوٹرز ایسے کمپیوٹر ہوتے ہیں جو کمپیوٹیشن کرنے کے لئے کوانٹم بیٹس یا کیو بیٹس کا استعمال کرتے ہیں۔
 آگے بڑھنے سے پہلے چلیے یہ جان لیتے ہیں کہ یہ کیو بیٹس کیا ہوتے ہیں ؟
عام طور پر آپ جو کمپیوٹر استعمال کرتے ہیں جیسا کہ ڈیکس ٹاپ ،لیپ ٹاپ ،ٹیبلٹ یا سمارٹ فون انہیں ہم بائنری کمپیوٹر  بھی کہتے ہیں کیونکہ ان میں جو بھی فنکشنلٹی ہوتی ہیں وہ -0 1 پر مشتمل ہوتی ہیں ایک بائنری کمپیوٹر میں کسی بھی قسم کے کیلکولیشن  کو پرفارم کرنے کے لئے پروسیسر ٹرانزسٹر کا استعمال کرتا ہے  ہر ٹرانزسٹر یا تو آن سٹیٹ میں ہو سکتا ہے یا آف اسٹیٹ میں ۔یعنی yes یا No فارم میں ۔یہاں 1 ان سٹیٹ کو دکھاتا ہے  جبکہ 0 آف سٹیٹ  کو دکھاتا ہے ۔ایک پروگرام یا الگوریدھم میں اگلی سٹیٹ میں کیا پرفارم کرنا ہے اس کا فیصلہ 0 اور 1 میں ہی  ہوتا ہے ۔
کمپیوٹر پروگرامرز کے بارے میں دلچسپ بات یہ ہوتی ہے کہ وہ صرف if, this , Then سنیریو کا استعمال کر کے مائیکروسافٹ جیسے کمپلیکس سافٹ ویئر بنا دیتے ہیں 
ویسے تو بائنری کمپیوٹر کے بارے میں جاننے کے لیے کافی کچھ ہے لیکن یہاں صرف یہ جاننے کی ضرورت ہے کہ یہ کمپیوٹر  کمپیوٹ کرنے کے لیے جن 0 اور 1 کا استعمال کرتے ہیں انھیں ہم بیٹس Bits کہتے ہیں ۔
اب اگر کوانٹم کمپیوٹرز کی بات کریں تو یہاں بیٹس  نہیں بلکہ کیو بیٹس  کا استعمال کیا جاتا ہے  جنہیں ہم کوانٹم بیٹس بھی کہتے ہیں ۔ان کیوبیٹس میں  ایک ایکسٹرا فنکشن ہوتا ہے جو بیٹس میں نہیں ہوتا ۔دراصل بیٹس کے کیس میں انفرمیشن صرف دو سٹیٹس  میں ایگزیسٹ کرتا ہے یعنی 0 یا 1 ۔یعنی لوجک  تیار کرتے وقت ایک ڈویلپر کے پاس صرف if,this,then ,that. کا کیس ہی ہوتا ہے اب اگر کیو بیٹس کی بات کرے تو یہ ایک وقت میں 0 بھی ہو سکتے ہیں اور 1 ایک بھی اس کے علاوہ یہ 0۔1 دونوں صورتوں میں بھی ہو سکتے ہیں ۔یعنی لاجک تیار کرتے وقت ڈویلپر if ,this,then,that کے ساتھ ساتھ if both کے کیسز کو بھی چیک کر سکتا ہے ۔جو کہ کمپیوٹیشن سپیڈ کو کافی بڑھا دے گا جب تک ان کیو بیٹس کو ابزرو نہیں کیا جاتا وہ ایک ہی ساتھ سبھی پوسیبل سٹیٹس میں ہوتے ہیں جسے سپیننگ سٹیٹ spining stat کہا جاتا ہے  ان کیو سپیلنگ سٹیٹس کو 0 اور 1 میں مییر کرنے کی بجائے up ,down اور  Both نام  کے تین  سٹیٹس سے مییر کیا جاتا ہے
ان کیو بیٹس کی فنکشنلٹی کوانٹم فزکس کے سوپر پوزیشن فنینم پر مشتمل ہوتی ہے یہ کیو بیٹس ایک دوسرے کو کوانٹم انٹینگلمنٹ کا استعمال کر کے اس وقت بھی موثر ہو سکتے ہیں جب وہ ایک دوسرے سے فزیکلی کونکٹڈ نہ بھی ہوں ۔
اب سوپر پوزیشن فنینم کیا ہے ؟
کوانٹم فزکس میں ہم دیکھتے ہیں کہ یہ دنیا جتنی سادہ سی دیکھتی ہے اتنی ہے نہیں کیونکہ کوانٹم آرٹیکلز اس وقت الگ طرح سے برتاؤ کرتے ہیں جب انہیں  مشاہدے سے گزارہ جاتا ہے اور اس وقت الگ برتاؤ کرتے ہیں جب ان کو کسی مشاہدے سے نہیں گزارا جاتا ۔ڈبل سلپ ایکسپیریمنٹ اس کی سب سے بہترین مثال ہے یہ ہمیں بتاتا ہے کہ جب کوانٹم پارٹیکلز کو کسی مشاہدے سے گزارا جاتا ہے تو ان کا رویہ ایک پارٹیکل  کی طرح  ہوتا ہے اور جب انہیں کسی مشاہدے سے نہیں گزارہ جا رہا ہو تو ایک لہر کی طرح ۔ایسا ہونے کی وجہ یہ ہوتی ہے کہ اوریجنلی یہ کوانٹم   پارٹیکلز نہ تو کوئی پارٹیکل ہوتے ہیں اور نہ ہی کوئی لہر ۔دراصل جی  اپنی ہر مکمن سٹیٹ کی پرویگرٹیز کسی شکل میں موجود ہوتے ہیں جنہیں ہم ویو فنکشن کہتے ہیں یعنی ایک ہی وقت میں یہ پارٹیکل بھی ہوتے ہیں اور ویو بھی ۔پر جیسے ہی ہمارے مشاہدے سے گزارتے ہیں تو یہ ویو فنکشن کولیپس ہو جاتا ہے اور ان میں سے کسی ایک سٹیٹ کا چناو ہوتا ہے اور  آخر میں ہم یوں ہی ملتا ہے ۔
کوانٹم کمپیوٹر کیوں بیٹس کا استعمال کر کے نیچر میں موجود کوانٹم پارٹیکلز کے اسی رویہ کو سیمولیٹ کرتے ہیں جس سے ان کی طاقت اور سپیڈ کئی گنا بڑھ جاتی ہے ایسا کیسے ہوتا ہے آئےاسے ایک سادہ سی مثال سے سمجھتے ہیں 
 جب ہم ایک سکے کو اچھالتے ہیں تو رکنے پر ہمیں ہیڈ ملتا ہے یا ٹیل ۔ہمہارے آج کل کے بائنری کمپیوٹر بھی ایسے ہی ہوتے ہیں جہاں ہمارے پاس 0 ہوتا ہے یا 1۔ایسے کیسز کو حل کرنے میں کافی وقت لگتا ہے جس میں کئی جوابات آنے کے کافی زیادہ چانسز ہوتے ہیں کیونکہ یہ ہر پانچ پاسبیلٹی کو باری باری چیک کرتا ہے ۔
کوانٹم کمپیوٹر کی بات کریں تو یہ الگ طریقے سے کام کرتا ہے جب تک ہمارا سکہ گھوم رہا ہوتا ہے ہمیں نہیں معلوم ہوتا کون سا سٹیٹ آئے گا یعنی کے ہیڈ آئے گا یا ٹیل ۔کہنے کا مطلب یہ ہے کہ جب تک کسی کا گھوم رہا ہے وہ ایک ہی وقت میں دونوں سٹیٹس میں ہے کیوبیٹس کو جب تک آبزرو نہیں کیا جاتا  وہ بھی بالکل ایسی ہی حالت میں ہوتے ہیں یعنی وہ ایک ہی وقت میں کئی پاسیبلیٹیز کی جانچ کر سکتے ہیں ۔کہنے کا مطلب یہ ہے کہ جب تک ایک بائنری کمپیوٹر ایسے پرابلم پر کام کرنا شروع کرے گا اب تک ایک کوانٹم کمپیوٹر ہمیں اس کا رزلٹ بھی دے دے گا۔اگر مقابلے کی نظر سے دیکھیں تو گوگل کا کوانٹم کمپیوٹر آپ کے نارمل کمپیوٹر سے کئی گنا زیادہ تیز ہے  ۔
کوانٹم کمپیوٹر کی لاجواب طاقت اور سپیڈ ایک کئی کمپنیوں  کو اپنی طرف متوجہ کر رہی ہے لیکن انہیں بنانا اور ان کے ساتھ کام کرنا فی الحال اتنا آسان نہیں ہے کیونکہ آبزرو کرنے پر کیو بیٹس کا سٹیٹس تبدیل ہو جاتا ہے وہ ان کا استعمال کرنے سے کافی زیادہ آواز پیدا ہوتی ہے ۔یعنی کہ جتنا زیادہ کیوبیٹس کا استعمال ہوگا اتنے زیادہ ایرر یعنی یعنی غلطیوں کے چانس بڑھ جائیں گے۔
دوسرا پرابلم یہ ہے کہ کوانٹم کمپیوٹر کو  پرفیکٹ  0 کے درجہ حرارت پر رکھنے کی ضرورت ہوتی ہے جو کہ سپیس سے بھی ٹھنڈا ہوتا ہے ۔
انہیں اچھی طرح کام کرنے کے لیے کافی زیادہ پاور کی ضرورت ہوتی ہے یعنی کہ ایک کوانٹم کمپیوٹر کو آپریشنل بنانے میں کافی زیادہ خرچ آتا ہے اس لیے فی الحال ان کا عام استعمال ممکن نہیں ہے ۔
گوگل ،انٹل اور آئی بی ایم جیسی گنی چنی کمپنیاں ہی ابھی کوانٹم کمپیوٹر بنا رہی ہیں اور ان کو بہتر بنانے کی کوشش کر رہی ہیں پر اتنا تو تہہ ہے کہ مستقبل میں کوانٹم  کمپیوٹر ہی راج کریں گے ۔
اگر کوانٹم سپرمیسی کی بات کریں تو گوگل نے کچھ وقت پہلے Google bristlecone نامی کوانٹم کمپیوٹنگ چپ کا اعلان کیا ہے جس میں 72 کوانٹم بیٹس یا کیو بیٹس کا استعمال کیا گیا ہے ۔جو کہ کوانٹم کمپیوٹنگ کی فیلڈ میں سب سے زیادہ کیو بیٹس استعمال کرنے والا کمپیوٹنگ چپ بن گیا ہے ۔اس سے پہلے یہ ریکارڈ آئی بی ایم کے کوانٹم پروسیسر کے نام تھا جسے کمپنی نے 2017 میں  بنایا تھا جس میں 50 کیو بیٹس کا استعمال کیا گیا تھا ۔گوگل نے کہا ہے کہ وہ ابھی بھی اپنے اس نئے چپ کا ٹیسٹ کر رہے ہیں اور ان کو امید ہے کہ ان کا یہ نیا چپ بہت جلد کوانٹم سپرمیسی حاصل کر لے گا یعنی کہ اس سے بنا کمپیوٹر کمپیوٹنگ سپیڈ میں سب سے تیز موجودہ سپر کمپیوٹر کو بھی پیچھے چھوڑ دے گا امید کرتا ہوں کہ اب آپ کوانٹم  کمپیوٹر کو سمجھ گئے ہوں گے ۔
چلیں یہ جان لیتے ہیں کہ یہ کوانٹم کمپیوٹر کیا کر سکتے ہیں جو کہ آجکل کے ہمارے بائنری کمپیوٹر کے  بس کی بات نہیں !
کیونکہ کوانٹم کمپیوٹر کیو بیٹس کا استعمال کرتے ہیں جو ایک ہی وقت میں کئی کام کر سکتے ہیں  یہ ایک ہی وقت میں ایک پرابلم کے فوراً کی حل نکال سکتے ہیں انہیں بائنری کمپیوٹر کی طرح ایک پرابلم کو بار بار یہ  دیکھ کر کیلکولیٹ کرنے کی ضرورت نہیں پڑے گی اگر ایسا ہوگا تو یہ رزلٹ آئے گا اور اگر ایسا نہیں ہوا تو یہ رزلٹ آئے گا ۔ کوانٹم کمپیوٹر ایک ہی وقت میں ان دونوں صورتوں کی جانچ کرلیں گے اور ہمیں ایسی پرابلم کا جواب فوراً مل جائے گا ۔حالانکہ کوانٹم کمپیوٹر کے اس کپیسٹی سسٹم سے ہماری آج کی سکیورٹی سسٹم کو بھی خطرہ ہے کیونکہ ایسے کمپیوٹر کی مدد سے ہمارے موجودہ سکیورٹی سسٹم کو ہے کرنے میں دقت نہیں آئے گی اس خطرے کو مدنظر رکھتے ہوئے ریسرچرز ایسی ٹکنیک پیدا کرنے کی کوشش کر رہے ہیں جو کوانٹم ہیکنگ پروف ہو ۔
مستقبل میں جب ہمارے پاس کوانٹم بیس کرپٹوگرافک سسٹم موجود ہوں گے تو یہ کافی زیادہ محفوظ ہوں گے جس کی وجہ سے انہیں ہیک  کرنا تقریباً ناممکن ہوگا
ریسرچرز کوانٹم کمپیوٹرز کو لے کر اس لیے بھی پرجوش ہیں کیونکہ اس کی مدد سے وہ کمپلیکیٹڈ کیمیکل ری ایکشنز پیدا کرسکیں گے آج کل کے بائنری کمپیوٹر کی مدد سے ایسا کرنا بہت مشکل ہوتا ہے جولائی 2016 میں گوگل کے انجینئرز نے کوانٹم ڈیوائس کا استعمال پہلی بار کر کے ہائیڈروجن مالیکیول کو سیمولیٹ کیا اس کے بعد سے آج تک آئی بی ایم کئی کمپلیکس مالیکیولز کوسیمولیٹ کر چکا ہے ۔اگر سب کچھ سہی چلتا رہا اور ہم کوانٹم کمپیوٹنگ کو مزید سہی کرنے میں کامیاب رہے تو مستقبل میں ہمیں کئی ایسے نئے مالیکیولز ملے گے  جن کا استعمال ہم دوائی بنانے سے لے کر مختلف فیڈز میں کر سکیں گے ۔
چاہے بات سپیس ایکسپلوریشن کی ہو نئی تحقیق کی ہو یا پھر آرٹیفیشل انٹیلیجنس  کو ڈویلپ کرنے کی کوانٹم کمپیوٹر ان فیلڈ میں کافی مدد فراہم کر سکتے ہیں ۔
کوانٹم کمپیوٹر ز ہمارے مستقبل کو کتنا بہتر بناتے ہیں یہ تو آنے والا وقت ہی بتائے گا لیکن اس بات سے انکار نہیں کیا جاسکتا کہ اگر ہم کوانٹم کمپیوٹر ز کا صحیح استعمال کرنے میں کامیاب ہو گئے تو یہ ہماری ترقی کرنے کی رفتار کو بہت تیز کردے گا ۔

Comments

Popular posts from this blog

کیا سائنسدانوں نے مصنوعی خلیہ بنا لیا ؟

کیا سائنس دانوں نے مصنوعی خلیہ بنا لیا؟ تحریر: ڈاکٹر نثار احمد پچھلے کچھ دنوں سے کچھ فورمز پر یہ بحث چھڑی ہوئی ہے کہ کچھ حیاتیات دانوں نے تجربہ گاہ میں مصنوعی خلیے تیار کر لئے ہیں۔ تفصیلات اس لنک میں۔ https://www.sciencemag.org/news/2018/11/biologists-create-most-lifelike-artificial-cells-yet اس تمام بحث سے پہلے آپ کو یہ جاننا ہوگا کہ خلیہ دراصل ہوتا کیا ہے۔ خلیے کی تعریف ہم یوں کرسکتے ہیں کہ یہ زندگی کی ساختی اور فعلیاتی اکائی ہے۔ ایک خلیے کے اندر سینکڑوں مختلف عضویے ہوتے ہیں جو مل جل کر فیکٹری کی طرح کام کرتے ہیں۔ اس کے علاوہ متعدد اینزائمز بھی موجود ہوتے ہیں جو کیمیائی تعاملات میں عمل انگیز کے طور پر کام کرتے ہیں۔ اس کے علاوہ یہ خلیہ تقسیم در تقسیم ہو کر اپنے جیسے مزید خلیے بنا سکتا ہے۔ کچھ جاندار ایسے بھی پائے جاتے ہیں جو صرف ایک خلیے پر مشتمل ہوتے ہیں۔ انہیں ہم یک خلوی جاندار بھی کہتے ہیں۔ اوپر دئیے گئے آرٹیکل میں جو کہ سائنس جریدے میں پبلش ہوا کوئی بہت زیادہ نیا کارنامہ نہیں کیا گیا۔ اس پیپر میں بتایا گیا کہ کہ تجربہ گاہ میں کچھ خلیوں سے ملتی جلتی ساختیں بنائی گئیں جن م...

سانڈے کا تیل میڈیکل سائنس کی نظر میں !

سانڈے کا تیل میڈیکل سائنس کی نظر میں ! جنسی و نفسیاتی بیماریاں اور جانوروں کا قتل عام ۔۔۔! (18+ تحریر) __________________ تحقیق و تحریر : حسن خلیل چیمہ ______________________________________________ نوٹ : ( یہ تحریر عوامی آگاہی اور معصوم جانوروں کے بے جا قتل عام کو روکنے کے لئے اور عوام تک جدید میڈیکل سائنس کی رخ سے درست معلومات پہنچانے کی ایک کوشش ہے سانڈے کے تیل کے بارے میں اپنی رائے اور تجربے کو ایک طرف رکھ کہ اس تحریر کا مکمل مطالعہ کرنے کے بعد ہی اختلاف کریں شکریہ ) (خواتین اس تحریر کو پڑھنے سے اجتناب کریں ) ہمیشہ سے یہ دیکھ کر دکھ ہوتا ہے کہ جہاں دنیا سائنس و ٹیکنالوجی میں ترقی کرتی جا رہی ہے وہی ہم پاکستانی آج بھی اسی زمانہ قدیم میں جی رہیں ہیں جس میں انسانی سائنسی انقلاب سے پہلے ہمارے اجداد نے زندگی  گزاری  آج بھی ہم اسی طریقہ کار پر چل رہیں ہیں جہاں بیمار ہونے پر  اندازے سے دوا دینے والا کوئی حکیم ہوتا تھا جو مختلف جڑی بوٹیوں کو ملا کر کوئی ایسی دوا دے دیتا تھا جو وقتی طور ریلیف فراہم کرتی تھی کیونکہ ان وقتوں میں لوگوں کی خوارک میں زیادہ ملاوٹ نہ تھ...

قرآن اور سرن لیبارٹری

سورة انبیاء کی آیت نمبر 30 اور سرن لیبارٹری ۔۔۔!!! ____________________ سورۃ الانبیاء آیت نمبر 30 میں ربِ کائنات فرماتا ہے کہ اَوَلَمۡ يَرَ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡۤا اَنَّ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضَ كَانَتَا رَتۡقًا فَفَتَقۡنٰهُمَا‌ؕ وَجَعَلۡنَا مِنَ الۡمَآءِ كُلَّ شَىۡءٍ حَىٍّ‌ؕ اَفَلَا يُؤۡمِنُوۡنَ‏ ﴿۳۰﴾ کیا کافروں نے نہیں دیکھا کہ آسمان اور زمین دونوں ملے ہوئے تھے تو ہم نے جدا جدا کردیا۔ اور تمام جاندار چیزیں ہم نے پانی سے بنائیں۔ پھر یہ لوگ ایمان کیوں نہیں لاتے؟  ﴿۳۰﴾ معزز قارئین علماء کے نزدیک یہ آیت بگ بینگ سے متعلق ہے کہ ایک عظیم الشان دھماکہ ہوا جس سے اربوں میل دور تک دھواں پھیل گیا پھر اس دھوئیں میں سے  ٹھوس اجسام ستارے ،سیارے اور کومینٹس وغیرہ بننے کا عمل شروع ہوا ایک اور جگہ  ارشاد ہے کہ ثُمَّ اسۡتَوٰىۤ اِلَى السَّمَآءِ وَهِىَ دُخَانٌ فَقَالَ لَهَا وَلِلۡاَرۡضِ ائۡتِيَا طَوۡعًا اَوۡ كَرۡهًاؕ قَالَتَاۤ اَتَيۡنَا طَآٮِٕعِيۡنَ‏ ﴿۱۱﴾ پھر آسمان کی طرف متوجہ ہوا اور وہ دھواں تھا تو اس نے اس سے اور زمین سے فرمایا کہ دونوں آؤ (خواہ) خوشی سے خواہ ناخوشی سے۔ انہوں...