Skip to main content

مارس پر ایٹم بم برسانے کا مشن (نیوک مارک پروجیکٹ)

#Nukemars
ایلون مسک کا  "نیوک مارس پروجیکٹ " !
_____________________________



ابھی کچھ ہی دن پہلے کی بات ہے" ایلون مسک "Elon musk  ایک کھرب پتی شخص جنھیں فیوچریسٹک مائنڈ سیٹ  والا انٹرپنیور بھی مانا جاتا ہے انھوں نے ایک ٹویٹ کیا بہت ہی پاپولر ٹویٹ جس میں انھوں نے لکھا Nukemars ۔
سپیس ایکس اور ٹیسلا جیسی فیوچریسٹک کمپنیز کے مالک کی حیثیت سے مجھے ایلون مسک سے ایسے الفاظ کی امید نہ تھی۔ ان کے مطابق ماس پر ایٹم بم گرائے جائیں وہ بھی ایک نہیں دو نہیں بلکہ اتنے کہ اس کی تپش سے  مارس پر جمی پولر آئس یا سطح پر جمی برف پگھل جائے اور اس میں سے ٹریپڈ یا پھنسی ہوئی کاربن ڈائی آکسائیڈ مارس کو ایک نیا اٹموسفیر یا ایک نیا ماحول فراہم کرے جس سے کاربن ڈائی آکسائیڈ میں اضافہ ہو اور اس سے ہو گا یہ کہ کیونکہ کاربن ڈائی آکسائیڈ ایک  گرین ہاؤس گیس ہے تو وہ سورج کی روشنی کو گزرنے دے گی جس سے مارس کی سطح پر جمی برف پگھل جائے گی اور برف پانی میں تبدیل ہو کر دوبارہ مارس کی سطح پر بہنے لگے گی ۔ اب جن کو یہ نہیں معلوم تو ان کو پتا دیں کہ مارس کی سطح پر کبھی پانی موجود تھا کیونکہ ہمارے پاس مارس کی جو تصاویر موجود ہیں ان میں ندی نالوں کے نشانات واضح دیکھے جا سکتے ہیں ۔
ایلون مسک کے مطابق ایسا کرنے سے مارس کو پتلا ہے سہی لیکن کرہ ہوائی ضرور ملے گا جو ابھی نہیں ہے اس کے پاس اور ساتھ میں  ساتھ میں پانی بھی مائع حالت میں آ جائے گا ۔
اب ایلون مسک چاہتے ہیں کہ انسان جلد سے جلد ایک انٹر پیلنٹری  سیولایزیشن بن جائیں ۔ سوچ تو ٹھیک ہے لیکن طریقہ ذرا برا نہیں لگ رہا ؟  ملک ہم انسان کسی چیز کو بنا توڑے پھوڑے بنا نہیں سکتے کیا ؟ یا کسی چیز کو بنانے کے لئے پہلے توڑنا ضروری ہے کیا ؟
دیکھئے ہم نے ابھی تک زمین کو ٹھیک سے نہیں جانا ہے دوستو !  ناجانے کتنی اور سپیشیز ہیں زمین کے انچھوئے کونوں میں زمین کی تہہ میں جن کے بارے میں ہمیں نہیں معلوم لیکن ہم ایک ایسے سیارے پر نیوکلیئر بم گرانے اور اسے رہنے کے قابل بنانے کے بارے میں سوچ رہیں ہیں جس کو ہم بلکل نہیں جانتے ! کیا ہو گا اگر مارس کی نچلی سطح پر کہیں زندگی موجود ہو اور کیا پتا وہاں پہلے موجود کسی جاندار کے فاسلز کہی محفوظ ہوں ؟ کیا ہم زندگی سے متعلق کھوج کو ہمیشہ کے لئے کھو نہیں دیں گے ؟ سوچ کے دیکھیے
برحال ناسا کے سائنسدانوں نے ایلون مسک کی کمپنی سپیس ایکس کی طرف سے بنائے گے   سٹار ہاپر نامی پروٹو ٹائپ خلائی جہاز کو منظوری دے دی ہے اس پروٹو ٹائپ کے کچھ ٹیسٹ بھی اچھے گئے ہیں اور جب یہ خلائی جہاز مکمل ہو جائے گا تو ایسے نام دیا جائے گا "سٹار شپ ".
ایلون مسک اور ناسا ایک جوائنٹ وینجر کے تحت  سٹروناڈز کا ایک بڑا وفد مارس پر بھیجنے  کی تیاری کر رہے ہیں ۔

اور جہاں تک بات رہی مارس پر نیوکلیئر بموں سے وار کرنے کی تو آپ کو بتا دیں کہ یونیورسٹیز  آف کلیریڈو اینڈ ناردن ایروزونا  کے ریسرچرز نے اس بات کی تصدیق کی ہے اور بتا دیا ہے کہ مارس پر کاربن ڈائی آکسائیڈ کا استعمال کر کے ٹرافارمنگ کرنا ابھی ممکن نہیں ہے  اور نہ ہی ہمارے پاس ابھی اتنی جدید ٹیکنالوجی ہے ۔
رہی بات نیوکلیئر بموں سے مارس کی پولر آئس کو پگھلانے کی تو آپ کو بتا دیں کہ ابھی مارس پر زمین کے مقابلے میں صرف 0.6٪ ہی کاربن ڈائی آکسائیڈ ہے  اور جب یہ نیوکلیئر اٹیک ہو گا مارس پر تو کیلکولیشن کے حساب سے مارس کے ایٹماسفیر میں صرف 0.1٪ ہی اضافہ ہو گا جو کہ بلکل بھی فائدہ مند نہیں ہے مارس کو گرم کرنے کے لئے اور ساتھ میں کیونکہ مارس پر گریوٹیشنل فورس بہت کم ہے تو یہ بھی ممکن ہے کہ دھماکوں سے پیدا ہوئی گیس بہت جلد خلا میں اڑ جائے گی ۔
اس لئے ایلون مسک کا حال ہی میں چلایا گیا نیوک مارس والا کمپین ناہی پریکٹیکل لگ رہا ہے اور نہ ہی ممکن اور سب سے بڑی بات یہ ہے کہ بنا کسی سیارے کے بارے میں جانے سمجھے اس پر بم گرانا کہاں کی سمجھ بوجھ ہے !
اپنی رائے اور معلومات کمنٹ میں شئیر کریے گا
اپنا قیمتی وقت دینے کا شکریہ 🖤
اللہ نگہبان

Comments

Popular posts from this blog

کیا سائنسدانوں نے مصنوعی خلیہ بنا لیا ؟

کیا سائنس دانوں نے مصنوعی خلیہ بنا لیا؟ تحریر: ڈاکٹر نثار احمد پچھلے کچھ دنوں سے کچھ فورمز پر یہ بحث چھڑی ہوئی ہے کہ کچھ حیاتیات دانوں نے تجربہ گاہ میں مصنوعی خلیے تیار کر لئے ہیں۔ تفصیلات اس لنک میں۔ https://www.sciencemag.org/news/2018/11/biologists-create-most-lifelike-artificial-cells-yet اس تمام بحث سے پہلے آپ کو یہ جاننا ہوگا کہ خلیہ دراصل ہوتا کیا ہے۔ خلیے کی تعریف ہم یوں کرسکتے ہیں کہ یہ زندگی کی ساختی اور فعلیاتی اکائی ہے۔ ایک خلیے کے اندر سینکڑوں مختلف عضویے ہوتے ہیں جو مل جل کر فیکٹری کی طرح کام کرتے ہیں۔ اس کے علاوہ متعدد اینزائمز بھی موجود ہوتے ہیں جو کیمیائی تعاملات میں عمل انگیز کے طور پر کام کرتے ہیں۔ اس کے علاوہ یہ خلیہ تقسیم در تقسیم ہو کر اپنے جیسے مزید خلیے بنا سکتا ہے۔ کچھ جاندار ایسے بھی پائے جاتے ہیں جو صرف ایک خلیے پر مشتمل ہوتے ہیں۔ انہیں ہم یک خلوی جاندار بھی کہتے ہیں۔ اوپر دئیے گئے آرٹیکل میں جو کہ سائنس جریدے میں پبلش ہوا کوئی بہت زیادہ نیا کارنامہ نہیں کیا گیا۔ اس پیپر میں بتایا گیا کہ کہ تجربہ گاہ میں کچھ خلیوں سے ملتی جلتی ساختیں بنائی گئیں جن م...

سانڈے کا تیل میڈیکل سائنس کی نظر میں !

سانڈے کا تیل میڈیکل سائنس کی نظر میں ! جنسی و نفسیاتی بیماریاں اور جانوروں کا قتل عام ۔۔۔! (18+ تحریر) __________________ تحقیق و تحریر : حسن خلیل چیمہ ______________________________________________ نوٹ : ( یہ تحریر عوامی آگاہی اور معصوم جانوروں کے بے جا قتل عام کو روکنے کے لئے اور عوام تک جدید میڈیکل سائنس کی رخ سے درست معلومات پہنچانے کی ایک کوشش ہے سانڈے کے تیل کے بارے میں اپنی رائے اور تجربے کو ایک طرف رکھ کہ اس تحریر کا مکمل مطالعہ کرنے کے بعد ہی اختلاف کریں شکریہ ) (خواتین اس تحریر کو پڑھنے سے اجتناب کریں ) ہمیشہ سے یہ دیکھ کر دکھ ہوتا ہے کہ جہاں دنیا سائنس و ٹیکنالوجی میں ترقی کرتی جا رہی ہے وہی ہم پاکستانی آج بھی اسی زمانہ قدیم میں جی رہیں ہیں جس میں انسانی سائنسی انقلاب سے پہلے ہمارے اجداد نے زندگی  گزاری  آج بھی ہم اسی طریقہ کار پر چل رہیں ہیں جہاں بیمار ہونے پر  اندازے سے دوا دینے والا کوئی حکیم ہوتا تھا جو مختلف جڑی بوٹیوں کو ملا کر کوئی ایسی دوا دے دیتا تھا جو وقتی طور ریلیف فراہم کرتی تھی کیونکہ ان وقتوں میں لوگوں کی خوارک میں زیادہ ملاوٹ نہ تھ...

قرآن اور سرن لیبارٹری

سورة انبیاء کی آیت نمبر 30 اور سرن لیبارٹری ۔۔۔!!! ____________________ سورۃ الانبیاء آیت نمبر 30 میں ربِ کائنات فرماتا ہے کہ اَوَلَمۡ يَرَ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡۤا اَنَّ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضَ كَانَتَا رَتۡقًا فَفَتَقۡنٰهُمَا‌ؕ وَجَعَلۡنَا مِنَ الۡمَآءِ كُلَّ شَىۡءٍ حَىٍّ‌ؕ اَفَلَا يُؤۡمِنُوۡنَ‏ ﴿۳۰﴾ کیا کافروں نے نہیں دیکھا کہ آسمان اور زمین دونوں ملے ہوئے تھے تو ہم نے جدا جدا کردیا۔ اور تمام جاندار چیزیں ہم نے پانی سے بنائیں۔ پھر یہ لوگ ایمان کیوں نہیں لاتے؟  ﴿۳۰﴾ معزز قارئین علماء کے نزدیک یہ آیت بگ بینگ سے متعلق ہے کہ ایک عظیم الشان دھماکہ ہوا جس سے اربوں میل دور تک دھواں پھیل گیا پھر اس دھوئیں میں سے  ٹھوس اجسام ستارے ،سیارے اور کومینٹس وغیرہ بننے کا عمل شروع ہوا ایک اور جگہ  ارشاد ہے کہ ثُمَّ اسۡتَوٰىۤ اِلَى السَّمَآءِ وَهِىَ دُخَانٌ فَقَالَ لَهَا وَلِلۡاَرۡضِ ائۡتِيَا طَوۡعًا اَوۡ كَرۡهًاؕ قَالَتَاۤ اَتَيۡنَا طَآٮِٕعِيۡنَ‏ ﴿۱۱﴾ پھر آسمان کی طرف متوجہ ہوا اور وہ دھواں تھا تو اس نے اس سے اور زمین سے فرمایا کہ دونوں آؤ (خواہ) خوشی سے خواہ ناخوشی سے۔ انہوں...