Skip to main content

نیورالنک Neuralink

#NEURALINK
نیورالنک
A journey from human to Terminator
_________________________________

ایک دور تھا جب ہم فلموں ڈراموں میں جادوئی کردار دیکھا کرتے تھے ۔جن کی طاقتیں انسان کی سوچ سے پرے اور بے انتہا ہوا کرتی تھیں جن کے بارے میں صرف انسان سوچ سکتا تھا ۔ لیکن آج ہم ایک سائنسی دنیا میں جی رہے ہیں جہاں تجربات اور مشاہدات پر یقین رکھا جاتا ہے اور سائنس کی بات کو حتمی مانا جاتا ہے اسی لیے  آج ساری دنیا سائنس کی اندھی مقلد بنی پڑی ہے یہی وجہ ہے کہ ان طاقتور اور عجیب و غریب کرداروں نے بھی سائنسی روپ دھاڑ  لیے ہیں اور ہالی وڈ کی بہت سی فلموں میں آپ کو ایسے انسان نظر آئیں گے جن کے پاس غیر معمولی طاقتیں ہوتی ہیں اور دنیا انہیں سپرہیروز کا نام دیتی ہیں یہی وجہ ہے کہ بہت سے لوگوں کے ذہنوں میں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ آخر یہ لوگ ہیں کون ؟ اور حقیقت سے ان کا کیا تعلق ہے ؟ اور کیا حقیقت میں ایسے انسان ممکن ہیں ؟
اگر آپ بھی ایسا سوچ رہے ہیں تو برحال یہ ایک سائنس فکشن ہے اس سے زیادہ کچھ نہیں لیکن اس پر کام ضرور  ہو رہا ہے
آپ لوگوں نے کبھی نہ کبھی انٹرنیٹ پر ٹرانس ہیومنزم کے بارے میں سنا ہوگا اب ٹرانس ہیومنز کیا ہیں یہ ایک لمبی بحث ہے اور نہ ہی آج کی ہماری تحریر کا یہ موضوع ہے بلکہ اس تحریر میں ٹرانس ہیومینزم کے ایک ایجنڈا نیو رالنک کی بات کی جائے گی لیکن پھر بھی تمہید کے طور پر یہاں سرسری سا ذکر کرنا مقصود سمجھوں گا
__________________
ٹرانس ہیومنزم
کسی ایک جاندار کے جینز کی کسی دوسرے جاندار میں منتقل کے طریقے کو ٹرانزینک کہا جاتا ہے ایسی انواع کا آپس میں کسی قسم کا تعلق ہونا ضروری نہیں یعنی کسی جاندار کے جینز تک کسی پودے میں بھی منتقل کیا جاسکتا ہے
ٹرانس ہیومن ازم کیا ہے ؟
اس پس منظر سے مناسب واقفیت حاصل کرنے کے بعد اب میں آپ کو اصل نکتے کی طرف لانا چاہوں گا ٹرانس ہیومن ازم کیا ہے ۔ ٹرانس ہیومن ازم ایک علمی تمدنی تحریک ہے جس کا نصب العین ٹرانس ہیومنز پیدا کرنا ہے یعنی یہ دنیا کی توجہ اس طرف مبذول کروانا چاہتے ہیں کہ سائنس کے مختلف شعبہ جات کے ملاپ سے ایک نیا انسان یا انواع پیدا کی جا سکتی ہیں اور ان کے مطابق ہم جلد سے جلد یعنی 20 سال میں اس قابل ہو جائیں گے کہ لفظ انسان کی بنیادی تعریف اور تصور کو ہمیشہ کے لئے تبدیل کرسکیں ۔اب ہم اپنی جینیاتی ترکیب کو بدل کر زیادہ ارتقاء یافتہ نوع میں تبدیل ہو سکتے ہیں یعنی ہم انسانوں کا دوسرا ورژن ہوموسیئپنز تخلیق کرنے پر قادر ہو چکے ہیں اس تحریک کو عام طلبہ یا استاتذہ میں apes  Plus کے نام سے جانا جاتا ہے ۔جس کے معنی ہیں ہیومنز پلس ۔ارتقائی زبان میں بات کی جائے تو ٹرانس ہیومنز انسانوں کی ایسی نوع ہوگی جو بڑی تیزی سے ارتقائی مراحل طے کرے گی
________

نیورالنک

اب آتے ہیں اپنے اصل نقطہ یعنی نیورالنک ٹرانس ہیومنزم ایجنڈا کی طرف جسے عام طور پر نیورالنک Neauralink ہی کہا جاتا ہے
ہر وہ انسان جو آج کے دور میں نارمل ہے اور اپنے آپ کو تیز تراز سمجھتا ہے وہ ان ٹرانس ہیومنزم کے سامنے ایسا ہی ہوگا جیسے ہمارے مقابلے میں بدمانس یا چمپینزی ہے
لیکن ایسا کیسے ہوگا ؟
نیورالنک ایک ایسی تکنیک ہے جس سے انسانوں کے دماغ کو سپر کمپیوٹر سے جوڑا جائے گا تاکہ ہم انسانوں کی سوچنے سمجھنے کی طاقت کو بڑھایا جاسکے ساتھ ہی ساتھ اس کے استعمال سے آپ کے دماغ کو ریموٹلی کنٹرول بھی کیا جا سکتا ہے اور آپ کے دماغ کو پڑھا بھی جاسکتا ہے کہ آپ کب اور کیا سوچ رہے ہو ۔
اب پہلا سوال جواب کے دماغ میں ہوگا وہ یہ کے کیا ایسا ممکن ہے ؟ اور اگر ہے تو کیسے ؟
سب سے پہلے آپ یہ جان لے کے جی ہاں مستقبل میں ایسا ممکن ہو سکتا ہے
ایلون مسک ( Elon musk ) کوتو سب لوگ جانتے ہی ہوں گے جو کہ ایک بہت ہی مشہور انجینئر اور سرمایہ کار ہونے کے ساتھ ساتھ ایک ارب پتی کاروباری بھی ہے
انہوں نے حال ہی میں ایک کمپنی Neuralink کے نام سے شروع کی ہے جس کا مقصد ایسا آلہ تیار کرنا ہے جس کی مدد سے انسانی دماغ کو کمپیوٹر یا مشین سے جوڑا جا سکے ۔
ایلون مسک  کے مطابق اگر انسانی دماغ کو اس تکنیک کے ساتھ مشینی دماغ سے نہ جوڑا گیا تو بہت جلد ہماری سوچنے کی طاقت مشینوں کے مقابلے میں بہت کمزور ہوجائے گی
نیورالنک نے اس تکنیک کا نام  Neural-Lac رکھا ہے
اس طرح نیورا کمپیوٹر استعمال کرکے saibort جسے عام زبان میں Terminator یعنی مشینی انسان کہا جاتا ہے بھی بن سکتے ہیں سائی بورٹ سے مراد ایسے انسان ہیں جو جسم میں الیکٹروڈ جیسے کئی مشینوں کا استعمال کرکے اپنی طاقت کو بڑھا سکتے ہیں ۔جسم میں ڈالے جانے والے ان چھوٹی مشینوں کو ہم نیورالیس کہتے ہیں ۔
اگر ہم انسانی دماغ کو ایک ایسی ڈوائس کی طرح دیکھیں جو input لیتا ہے ۔پروسیس کرتا ہے اور بعد میں  out put دیتا ہے تو اس کی سب سے کمزور کڑی ہوگی سپیڈ ۔جیساکہ ایلون مسک کا ماننا ہے کہ ہماری انفارمیشن کا input کافی اچھا ہے جیسا کہ ہمارے پاس ہائی سپیڈ وجوئل  انٹرفیس ہے جو ہمارے دماغ سے جڑا ہوا ہے ۔ہماری آنکھیں کافی زیادہ انفارمیشن اکٹھا کر سکتی ہیں اور دماغ جو out put کہتا ہے وہ input کے مقابلے میں کافی کم ہوتی ہے یعنی اس کی پراسیسنگ کافی دھیمی ہوتی ہے ۔
ایلون مسک کے مطابق اگر دماغ کے بنائے ڈیجیٹل  انٹرفیس کو ایک سم بائیو ٹیک سسٹم میں انٹی گریڈ کر دیا جائے تو ایک انٹرفیس کے ذریعہ ہم سیدھے سبررل پورٹکس تک پہنچ پائیں گے جس سے دماغ کے input,out put کو کافی حد تک کم کیا جا سکے گا ۔
نیورال انٹرفیس دماغ  کے سبھی نیوران کے ساتھ ایک ساتھ کام کرے گا جس سے اس کی طاقت کافی بڑھ جائے گی
لیکن یہاں مسئلہ یہ ہے کہ خون کی نالیوں کے ذریعہ ہیں نیو ڈانس تک پہنچا جا سکتا ہے کیونکہ ہر بار مہنگے اور خطرناک آپریشن کو انجام نہیں دیا جاسکتا
کہنے کا مطلب یہ ہے کہ اگر کوئی انسان اپنی طاقت کو بڑھانے کے لئے ہر بار آپریشن کروائے تو ایسا ممکن نہیں کیونکہ یہ کافی خطرناک ہونے کے ساتھ مہنگا بھی ہوتا ہے ۔
ایک بہتر آئیڈیا جس پر کمپنی کام کر رہی ہے کے مطابق منیچر چیپ کو ہماری گردن کی اور فری میں ڈال دیا جائے گا جو خون کے بہاؤ سے دماغ تک پہنچ جائے گی ۔
اس تکنیک پر پہلے سے ہی کام جاری ہے ۔اس کے علاوہ نیورالیس کو انجکشن کے ذریعے دماغ کے اندر منتقل کیا جا سکتا ہے جبکہ اس کی ایک اور شکل نیورا ڈسٹ ہے جو ریت کے دانے کے برابر ہوتی ہے اسے بھی خون کے بہاؤ کے ساتھ ہی دماغ تک منتقل کیا  جاتا ہے ۔
پچھلے سال امریکا اور چین کے سائنسدانوں نے اس کا استعمال کرکے 4.4 بٹ فی سیکنڈ سے 5.5 بٹ فی سیکنڈ تک سپیڈ کو حاصل کیا تھا ۔
اس قسم کمپیوٹر پر صرف اپنے خیالات کا استعمال کرکے تحریر لکھائی گئی تھی ۔اس کے بعد اس کی سپیڈ کو ریکارڈ کیا گیا تھا جو ایک لفظ فی سیکنڈ آیا تھا ۔
دوسرے لفظوں میں کہہ تو جو دماغ میں سوچا جا رہا تھا وہ کمپیوٹر پر اپنے آپ ہی ٹائپ ہو رہا تھا
________
فوائد
آنے والے چار سے پانچ سالوں میں ان لوگوں کے لئے مینیچر چیپس آنے شروع ہو جائیں گے جو دماغی بیماریوں کا شکار ہیں ۔ان منیچر چپس کی مدد سے ہم کی طرح کئی دماغی بیماریوں ،گونگا پن اور اندھے پن اور کم دکھائی دینے سے نکل سکتے ہیں ۔اس کے علاوہ سائنس دانوں کی مانے تو موٹر فنکشن کی طرح میموری کو بھی بحال کیا جاسکے گا اور مستقبل میں ان کے جدید ماڈل سے ہم اپنے خیالات کو بھی ایک دوسرے کے اندر منتقل کر پائیں گے ۔اس وقت اس تکنیک کا استعمال صرف اپاہج لوگوں کو دنیا سے جوڑنے کے مقصد سے کیا جا رہا ہے
___________
نقصانات
اس کے نقصانات کی بات کی جائے تو اس کے بہت سے نقصانات بھی ہیں جیسا کہ جب آپ کا دماغ کسی کمپیوٹر سے منسلک ہوگا تو آپ کی سوچ کو پڑھا جا سکتا ہے اور آپ کے دماغ کو قابو میں کیا جا سکتا ہے ۔
نیورا لیس ہوں یا نیورا ڈسٹ یہ دونوں ہی وائرلیس نیٹ ورک کا استعمال کرتے ہیں اور دنیا کی کوئی بھی وائرلس ٹکنالوجی ایسی نہیں ہے جس کو ہیک نہیں کیا جاسکتا ہو یا وائرس اپ لوڈ نہ کیا جا سکتا ہوں ۔
آج جس طرح ہیکرز  کمپیوٹر کو ہیک کرتے ہیں اسی طرح کل کو ایسی ٹیکنالوجی کی مدد سے آپ کے دماغ کو بھی ہے کرسکیں گے ۔

Comments

Popular posts from this blog

کیا سائنسدانوں نے مصنوعی خلیہ بنا لیا ؟

کیا سائنس دانوں نے مصنوعی خلیہ بنا لیا؟ تحریر: ڈاکٹر نثار احمد پچھلے کچھ دنوں سے کچھ فورمز پر یہ بحث چھڑی ہوئی ہے کہ کچھ حیاتیات دانوں نے تجربہ گاہ میں مصنوعی خلیے تیار کر لئے ہیں۔ تفصیلات اس لنک میں۔ https://www.sciencemag.org/news/2018/11/biologists-create-most-lifelike-artificial-cells-yet اس تمام بحث سے پہلے آپ کو یہ جاننا ہوگا کہ خلیہ دراصل ہوتا کیا ہے۔ خلیے کی تعریف ہم یوں کرسکتے ہیں کہ یہ زندگی کی ساختی اور فعلیاتی اکائی ہے۔ ایک خلیے کے اندر سینکڑوں مختلف عضویے ہوتے ہیں جو مل جل کر فیکٹری کی طرح کام کرتے ہیں۔ اس کے علاوہ متعدد اینزائمز بھی موجود ہوتے ہیں جو کیمیائی تعاملات میں عمل انگیز کے طور پر کام کرتے ہیں۔ اس کے علاوہ یہ خلیہ تقسیم در تقسیم ہو کر اپنے جیسے مزید خلیے بنا سکتا ہے۔ کچھ جاندار ایسے بھی پائے جاتے ہیں جو صرف ایک خلیے پر مشتمل ہوتے ہیں۔ انہیں ہم یک خلوی جاندار بھی کہتے ہیں۔ اوپر دئیے گئے آرٹیکل میں جو کہ سائنس جریدے میں پبلش ہوا کوئی بہت زیادہ نیا کارنامہ نہیں کیا گیا۔ اس پیپر میں بتایا گیا کہ کہ تجربہ گاہ میں کچھ خلیوں سے ملتی جلتی ساختیں بنائی گئیں جن م...

سانڈے کا تیل میڈیکل سائنس کی نظر میں !

سانڈے کا تیل میڈیکل سائنس کی نظر میں ! جنسی و نفسیاتی بیماریاں اور جانوروں کا قتل عام ۔۔۔! (18+ تحریر) __________________ تحقیق و تحریر : حسن خلیل چیمہ ______________________________________________ نوٹ : ( یہ تحریر عوامی آگاہی اور معصوم جانوروں کے بے جا قتل عام کو روکنے کے لئے اور عوام تک جدید میڈیکل سائنس کی رخ سے درست معلومات پہنچانے کی ایک کوشش ہے سانڈے کے تیل کے بارے میں اپنی رائے اور تجربے کو ایک طرف رکھ کہ اس تحریر کا مکمل مطالعہ کرنے کے بعد ہی اختلاف کریں شکریہ ) (خواتین اس تحریر کو پڑھنے سے اجتناب کریں ) ہمیشہ سے یہ دیکھ کر دکھ ہوتا ہے کہ جہاں دنیا سائنس و ٹیکنالوجی میں ترقی کرتی جا رہی ہے وہی ہم پاکستانی آج بھی اسی زمانہ قدیم میں جی رہیں ہیں جس میں انسانی سائنسی انقلاب سے پہلے ہمارے اجداد نے زندگی  گزاری  آج بھی ہم اسی طریقہ کار پر چل رہیں ہیں جہاں بیمار ہونے پر  اندازے سے دوا دینے والا کوئی حکیم ہوتا تھا جو مختلف جڑی بوٹیوں کو ملا کر کوئی ایسی دوا دے دیتا تھا جو وقتی طور ریلیف فراہم کرتی تھی کیونکہ ان وقتوں میں لوگوں کی خوارک میں زیادہ ملاوٹ نہ تھ...

قرآن اور سرن لیبارٹری

سورة انبیاء کی آیت نمبر 30 اور سرن لیبارٹری ۔۔۔!!! ____________________ سورۃ الانبیاء آیت نمبر 30 میں ربِ کائنات فرماتا ہے کہ اَوَلَمۡ يَرَ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡۤا اَنَّ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضَ كَانَتَا رَتۡقًا فَفَتَقۡنٰهُمَا‌ؕ وَجَعَلۡنَا مِنَ الۡمَآءِ كُلَّ شَىۡءٍ حَىٍّ‌ؕ اَفَلَا يُؤۡمِنُوۡنَ‏ ﴿۳۰﴾ کیا کافروں نے نہیں دیکھا کہ آسمان اور زمین دونوں ملے ہوئے تھے تو ہم نے جدا جدا کردیا۔ اور تمام جاندار چیزیں ہم نے پانی سے بنائیں۔ پھر یہ لوگ ایمان کیوں نہیں لاتے؟  ﴿۳۰﴾ معزز قارئین علماء کے نزدیک یہ آیت بگ بینگ سے متعلق ہے کہ ایک عظیم الشان دھماکہ ہوا جس سے اربوں میل دور تک دھواں پھیل گیا پھر اس دھوئیں میں سے  ٹھوس اجسام ستارے ،سیارے اور کومینٹس وغیرہ بننے کا عمل شروع ہوا ایک اور جگہ  ارشاد ہے کہ ثُمَّ اسۡتَوٰىۤ اِلَى السَّمَآءِ وَهِىَ دُخَانٌ فَقَالَ لَهَا وَلِلۡاَرۡضِ ائۡتِيَا طَوۡعًا اَوۡ كَرۡهًاؕ قَالَتَاۤ اَتَيۡنَا طَآٮِٕعِيۡنَ‏ ﴿۱۱﴾ پھر آسمان کی طرف متوجہ ہوا اور وہ دھواں تھا تو اس نے اس سے اور زمین سے فرمایا کہ دونوں آؤ (خواہ) خوشی سے خواہ ناخوشی سے۔ انہوں...