#برائلر_مرغی ( broiler chicken )
تعارف :--
ہمارے ملک میں ٹیکسٹائل کے بعد دوسری بڑی صنعت پولٹری فارمز کی ہے جس میں اب تک 300 ارب سرمایہ کاری سے تقریبا اٹھائیس ہزار پولٹری فارم بن چکے ہیں اور تقریبا 23 لاکھ افراد کا براہ راست روزگار پولٹری انڈسٹری سے وابستہ ہے ۔
1953 میں جب پٹرول 15 پیسے فی لیٹر تھا اس وقت بکرے کا گوشت سوا روپے کلو اور مرغی کا گوشت 4 روپے کلو تھا اس وقت مرغی کا گوشت کھانا امیروں کی شان سمجھا جاتا تھا ۔
اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ پولٹری کی صنعت کسی بھی ملک کی معیشت میں اہم کردار ادا کرتی ہے اس کے برعکس یہ اس ملک کے باشندوں پر بہت سے منفی اثرات بھی مرتب کرتی ہے
مرغی کا گوشت تو آج کل ہر امیر غریب چھوٹے بڑے ہر فرد کی پسندیدہ غذا ہے کیا آپ نے کبھی سوچا کہ یہ برائلر مرغی کیسے تیار ہو تی ہے اور خود کے پاؤں پر کھڑا نہ ہوسکنے والی فارمی مرغی کا گوشت مارے صحت کے لیے کتنا فائدہ مند ہے ؟؟
آئیے مندرجہ بالا نکات کی مدد سے اس بات کا جائزہ لیتے ہیں ۔
________________________________________________
1_مرغی کی خوراک میں اینٹی بائیوٹکس کا استعمال :--
_____________________
ذرا اندازہ لگائیں اگر آپ کے جسم میں اینٹی بائیوٹکس کا اثر ہونا بند ہو جائے تو کیا ہوسکتا ہے؟؟؟
میں آپ کو بتاتا ہوں کہ اگر جسم پر اینٹی بائیوٹکس کا اثر نہ ہو تو ایک چھوٹی سی بیماری بھی ٹھیک نہیں ہوگی ایک چھوٹے سے حادثے میں جان بھی جا سکتی ہے کیونکہ ہوسکتا ہے آپ کو جو دوائی دی جا رہی ہو اس کا اثر جسم پر ہوگا ہی نہیں یعنی ہمارے ملک میں انسانی جان سے کتنا بڑا کھلواڑ ہو رہا ہے کوئی سوچ بھی نہیں سکتا ۔۔۔!!!
اگر آپ چکن کھاتے ہیں تو آج یہ پوسٹ آپ کے لئے ہے کیونکہ یہ چکن آپ کو کمزور کردے گا۔۔۔!!!
چکن کھانے والے لوگ ایک بار سوچ سے لیں کہ کہیں ایسا تو نہیں کہ جو چکن آپ کھا رہے ہیں اس کے ساتھ کہیں بلاوجہ اینٹی بائیوٹک دوائیں بھی تو نہیں کھا رہے ایسا میں کیوں کہہ رہا ہوں ؟؟
ریسرچ سے یہ بات ثابت ہوئی ہے کہ چکن کو بڑا کرنے کے لیے بڑی مقدار میں اینٹی بائیوٹک ادویات کا استعمال کیا جاتا ہے جس کا اثر ہمارے جسم پر پڑتا ہے چکن کو بڑا کرنے کے لئے پہلے دن سے ہی اینٹی بائیوٹکس ادویات کا استعمال شروع کر دیا جاتا ہے جس کا استعمال ہمارے ملک میں ڈالے سے ہورہا ہے اور کوئی روکنے والا نہیں جبکہ یورپی ممالک میں جانوروں کو اینٹی بائیوٹکس دینے پر پوری طرح پابندی ہے ۔
اگر دونوں دیسی اور فارمی مرغی کا موازنہ کیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ ایک فارمی چوزے کو مکمل مرغی کی شکل اختیار کرنے تک سات سے آٹھ ہفتے لگتے ہیں جبکہ دیسی چوزے کو مکمل مرغی بننے کے لئے ایک سال تک کا وقت درکار ہوتا ہے
ان فارمی مرغیوں کو جوراک دی جاتی ہے اس میں ہائی پوٹینسی میڈیسن اور دیگر کیمیکل موجود ہوتے ہیں جو خطوں میں ہیں مری کو غیر فطری طور پر بڑھا دیتے ہیں ۔
مرغے کو اینٹی بائیوٹک دینے کے دو مقاصد ہیں ایک تو کم کھانا دینے کے باوجود ان کا وزن بڑھ جاتا ہے اور دوسرا کسی بیماری سے پیشگی بچاؤ سے بچنے کے لئے انہیں یہ دوائی دی جاتی ہے ۔جس سے وہ ہماری اس پر حملہ نہیں کر سکتی اس عمل کو پرونیشن کہا جاتا ہے ۔
جب یہ چکن ہم کھاتے ہیں تو چکن کے ساتھ یہ اینٹی بائیوٹک بھی ہمارے جسم میں آجاتے ہیں جس سے ہمارا جسم ان اینٹی بائیوٹکس کا عادی ہوجاتا ہے ایسا ہونے سے بیمار ہونے پر جسم پر اینٹی بائیوٹکس کا اثر ہونا بند ہو جاتا ہے جو کہ جان لیوا بھی ہو سکتا ہے
رپورٹ کے مطابق پولٹری نظم سٹی میں سپرو فروسکسن نامی اینٹی بائیوٹیک استعمال دھڑلے سے کیا جارہا ہے
ہمارے ملک میں یہ دوائیاں سرعام بکتی ہیں جس پر کوئی روک ٹوک نہیں کیونکہ ہمارے ملک میں کوئی رولز اور ریگولیشن نہیں ہے تو جہاں سے چاہے اینٹی پر ٹکٹ خرید سکتے ہیں اور مرغے کو کھلا سکتے ہیں کوئی پوچھ گیس نہیں کہ چکن میں کتنا اینڈرائڈ ٹھیک ہونا چاہیے
یہ کام آج سے نہیں انیس سو پچاس سے ہورہا ہے لیکن بیرونی ممالک میں اب اس کو ریگولیٹ کیا جاتا ہے لیکن ہمارے ملک میں ایسا کوئی نظام نہیں
مرغیوں کو جو خوراک دی جاتی ہے اس کی مقدار 50_2 گرام فی ٹن ہوتی ہے لیکن یہاں اس کی مقدار کو 200_50 گرام فی ٹن تک بڑھایا جاتا ہے
"اور یہ سب صرف منافع بڑھانے کے لیے کیا جاتا ہے "
https://india.curejoy.com/content/side-effects-of-eating-broiler-chicken/
________________________________________
2۔آرسینک
_____________
گزشتہ کئی سالوں سے یہ خدشات ساحل کیے جارہے تھے کہ
بازار میں بکنے والے برائلر مرغی کے گوشت میں کینسر پیدا کرنے والی دھات آرسینک پائی جاتی ہے اور اب آحرکار امریکی ادارہ خوراک نے بھی اس بات کی تصدیق کردی ہے کہ بازار میں دستیاب مرغی کے گوشت میں آرسینیک بڑی مقدار میں پائی جاتی ہے
ماہرین صحت اس بات پر متفق ہے کہ آرسینک کینسر پیدا کرتی ہے اور ذہنی بیماریوں کا باعث بنتی ہے
یونیورسٹی آف ساؤتھ کیرولینا کی ایک رپورٹ کے مطابق آرسینک پارے سے بھی چار گنا زیادہ زہریلی ہے اور کینسر کے علاوہ حاملہ خواتین کے پیٹ میں موجود بچے میں خطرناک ذہنی بیماریاں پیدا کرتی ہے ۔
پاکستان میں برائلر مرغی کے گوشت میں آرسینک کی مقدار سے متعلق ڈاؤن نیوز کی یہ رپورٹ پڑھیں 👇
https://www.dawn.com/news/1300669
_________________
خواتین و حضرات اس ہائی پروٹین والے گوشت کے اور بھی بہت سے نقصانات ہے جن میں "جوڑوں کا درد ،ہڈیوں کا بھر بھرا پن ،موٹاپا ،جسم پر چربی ،خاص طور پر گردوں اور جگر پر اثرات ،بچوں اور بچیوں میں جلد بلوغت کے اثرات پیدا ہونا شامل ہے
اس کے علاوہ ان مرغیوں کا مسلسل استعمال انسانی قوت مدافعت کمزور کرتا ہے جس سے انسان بیماری میں مبتلا رہتا ہے
___________________________
برائلر مرغی کے ہماری زندگی پر مضر اثرات سے متعلق لکھا جا سکتا ہے لیکن کافی سوالات آنے کی وجہ سے آج اتنا ہی لکھنا مقصود ہے اگر کسی کا کوئی مزید سوال ہے تو وہ کمنٹ کر دیں انشاء اللہ اس پر بھی لکھ دیا جائے گا !!!
تعارف :--
ہمارے ملک میں ٹیکسٹائل کے بعد دوسری بڑی صنعت پولٹری فارمز کی ہے جس میں اب تک 300 ارب سرمایہ کاری سے تقریبا اٹھائیس ہزار پولٹری فارم بن چکے ہیں اور تقریبا 23 لاکھ افراد کا براہ راست روزگار پولٹری انڈسٹری سے وابستہ ہے ۔
1953 میں جب پٹرول 15 پیسے فی لیٹر تھا اس وقت بکرے کا گوشت سوا روپے کلو اور مرغی کا گوشت 4 روپے کلو تھا اس وقت مرغی کا گوشت کھانا امیروں کی شان سمجھا جاتا تھا ۔
اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ پولٹری کی صنعت کسی بھی ملک کی معیشت میں اہم کردار ادا کرتی ہے اس کے برعکس یہ اس ملک کے باشندوں پر بہت سے منفی اثرات بھی مرتب کرتی ہے
مرغی کا گوشت تو آج کل ہر امیر غریب چھوٹے بڑے ہر فرد کی پسندیدہ غذا ہے کیا آپ نے کبھی سوچا کہ یہ برائلر مرغی کیسے تیار ہو تی ہے اور خود کے پاؤں پر کھڑا نہ ہوسکنے والی فارمی مرغی کا گوشت مارے صحت کے لیے کتنا فائدہ مند ہے ؟؟
آئیے مندرجہ بالا نکات کی مدد سے اس بات کا جائزہ لیتے ہیں ۔
________________________________________________
1_مرغی کی خوراک میں اینٹی بائیوٹکس کا استعمال :--
_____________________
ذرا اندازہ لگائیں اگر آپ کے جسم میں اینٹی بائیوٹکس کا اثر ہونا بند ہو جائے تو کیا ہوسکتا ہے؟؟؟
میں آپ کو بتاتا ہوں کہ اگر جسم پر اینٹی بائیوٹکس کا اثر نہ ہو تو ایک چھوٹی سی بیماری بھی ٹھیک نہیں ہوگی ایک چھوٹے سے حادثے میں جان بھی جا سکتی ہے کیونکہ ہوسکتا ہے آپ کو جو دوائی دی جا رہی ہو اس کا اثر جسم پر ہوگا ہی نہیں یعنی ہمارے ملک میں انسانی جان سے کتنا بڑا کھلواڑ ہو رہا ہے کوئی سوچ بھی نہیں سکتا ۔۔۔!!!
اگر آپ چکن کھاتے ہیں تو آج یہ پوسٹ آپ کے لئے ہے کیونکہ یہ چکن آپ کو کمزور کردے گا۔۔۔!!!
چکن کھانے والے لوگ ایک بار سوچ سے لیں کہ کہیں ایسا تو نہیں کہ جو چکن آپ کھا رہے ہیں اس کے ساتھ کہیں بلاوجہ اینٹی بائیوٹک دوائیں بھی تو نہیں کھا رہے ایسا میں کیوں کہہ رہا ہوں ؟؟
ریسرچ سے یہ بات ثابت ہوئی ہے کہ چکن کو بڑا کرنے کے لیے بڑی مقدار میں اینٹی بائیوٹک ادویات کا استعمال کیا جاتا ہے جس کا اثر ہمارے جسم پر پڑتا ہے چکن کو بڑا کرنے کے لئے پہلے دن سے ہی اینٹی بائیوٹکس ادویات کا استعمال شروع کر دیا جاتا ہے جس کا استعمال ہمارے ملک میں ڈالے سے ہورہا ہے اور کوئی روکنے والا نہیں جبکہ یورپی ممالک میں جانوروں کو اینٹی بائیوٹکس دینے پر پوری طرح پابندی ہے ۔
اگر دونوں دیسی اور فارمی مرغی کا موازنہ کیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ ایک فارمی چوزے کو مکمل مرغی کی شکل اختیار کرنے تک سات سے آٹھ ہفتے لگتے ہیں جبکہ دیسی چوزے کو مکمل مرغی بننے کے لئے ایک سال تک کا وقت درکار ہوتا ہے
ان فارمی مرغیوں کو جوراک دی جاتی ہے اس میں ہائی پوٹینسی میڈیسن اور دیگر کیمیکل موجود ہوتے ہیں جو خطوں میں ہیں مری کو غیر فطری طور پر بڑھا دیتے ہیں ۔
مرغے کو اینٹی بائیوٹک دینے کے دو مقاصد ہیں ایک تو کم کھانا دینے کے باوجود ان کا وزن بڑھ جاتا ہے اور دوسرا کسی بیماری سے پیشگی بچاؤ سے بچنے کے لئے انہیں یہ دوائی دی جاتی ہے ۔جس سے وہ ہماری اس پر حملہ نہیں کر سکتی اس عمل کو پرونیشن کہا جاتا ہے ۔
جب یہ چکن ہم کھاتے ہیں تو چکن کے ساتھ یہ اینٹی بائیوٹک بھی ہمارے جسم میں آجاتے ہیں جس سے ہمارا جسم ان اینٹی بائیوٹکس کا عادی ہوجاتا ہے ایسا ہونے سے بیمار ہونے پر جسم پر اینٹی بائیوٹکس کا اثر ہونا بند ہو جاتا ہے جو کہ جان لیوا بھی ہو سکتا ہے
رپورٹ کے مطابق پولٹری نظم سٹی میں سپرو فروسکسن نامی اینٹی بائیوٹیک استعمال دھڑلے سے کیا جارہا ہے
ہمارے ملک میں یہ دوائیاں سرعام بکتی ہیں جس پر کوئی روک ٹوک نہیں کیونکہ ہمارے ملک میں کوئی رولز اور ریگولیشن نہیں ہے تو جہاں سے چاہے اینٹی پر ٹکٹ خرید سکتے ہیں اور مرغے کو کھلا سکتے ہیں کوئی پوچھ گیس نہیں کہ چکن میں کتنا اینڈرائڈ ٹھیک ہونا چاہیے
یہ کام آج سے نہیں انیس سو پچاس سے ہورہا ہے لیکن بیرونی ممالک میں اب اس کو ریگولیٹ کیا جاتا ہے لیکن ہمارے ملک میں ایسا کوئی نظام نہیں
مرغیوں کو جو خوراک دی جاتی ہے اس کی مقدار 50_2 گرام فی ٹن ہوتی ہے لیکن یہاں اس کی مقدار کو 200_50 گرام فی ٹن تک بڑھایا جاتا ہے
"اور یہ سب صرف منافع بڑھانے کے لیے کیا جاتا ہے "
https://india.curejoy.com/content/side-effects-of-eating-broiler-chicken/
________________________________________
2۔آرسینک
_____________
گزشتہ کئی سالوں سے یہ خدشات ساحل کیے جارہے تھے کہ
بازار میں بکنے والے برائلر مرغی کے گوشت میں کینسر پیدا کرنے والی دھات آرسینک پائی جاتی ہے اور اب آحرکار امریکی ادارہ خوراک نے بھی اس بات کی تصدیق کردی ہے کہ بازار میں دستیاب مرغی کے گوشت میں آرسینیک بڑی مقدار میں پائی جاتی ہے
ماہرین صحت اس بات پر متفق ہے کہ آرسینک کینسر پیدا کرتی ہے اور ذہنی بیماریوں کا باعث بنتی ہے
یونیورسٹی آف ساؤتھ کیرولینا کی ایک رپورٹ کے مطابق آرسینک پارے سے بھی چار گنا زیادہ زہریلی ہے اور کینسر کے علاوہ حاملہ خواتین کے پیٹ میں موجود بچے میں خطرناک ذہنی بیماریاں پیدا کرتی ہے ۔
پاکستان میں برائلر مرغی کے گوشت میں آرسینک کی مقدار سے متعلق ڈاؤن نیوز کی یہ رپورٹ پڑھیں 👇
https://www.dawn.com/news/1300669
_________________
خواتین و حضرات اس ہائی پروٹین والے گوشت کے اور بھی بہت سے نقصانات ہے جن میں "جوڑوں کا درد ،ہڈیوں کا بھر بھرا پن ،موٹاپا ،جسم پر چربی ،خاص طور پر گردوں اور جگر پر اثرات ،بچوں اور بچیوں میں جلد بلوغت کے اثرات پیدا ہونا شامل ہے
اس کے علاوہ ان مرغیوں کا مسلسل استعمال انسانی قوت مدافعت کمزور کرتا ہے جس سے انسان بیماری میں مبتلا رہتا ہے
___________________________
برائلر مرغی کے ہماری زندگی پر مضر اثرات سے متعلق لکھا جا سکتا ہے لیکن کافی سوالات آنے کی وجہ سے آج اتنا ہی لکھنا مقصود ہے اگر کسی کا کوئی مزید سوال ہے تو وہ کمنٹ کر دیں انشاء اللہ اس پر بھی لکھ دیا جائے گا !!!

Comments
Post a Comment