Difference b/w conscious & subconscious mind ....!!
دماغ کا شعوری اور لاشعوری حصہ
_____________________________________
میں زیادہ فلمیں ڈرامے دیکھنے کا شوقین تو نہیں لیکن کبھی کبھار کوئی اچھی فلم دیکھنے کو مل جائے تو ضرور دیکھ لیتا ہوں اور کوشش کرتا ہوں کہ فلم سبق آموز یا سائنس فکشن ہو ۔
ایسے ہی پیچھے دنوں ایک ہالی وڈ سائنس فکشن فلم "لوسی "دیکھنے کا اتفاق ہوا جس میں انسانی دماغ کی طاقت کے بارے میں دیکھایا گیا تھا کہ کیا ہو گا اگر انسان اپنے دماغ کا صحیح اور پورا استعمال کرنے کے قابل ہو جائے ۔
خیر یہ تو ایک سائنس فکشن فلم تھی اور ممکن نہیں کہ ایسا کبھی ہو پائے لیکن یہاں بات سوچنے والی یہ ہے کہ کیسے کیوں صرف ہم اپنے دماغ کا صرف دس فیصد حصہ ہی استعمال کر پاتے ہیں باقی کا 90 فیصد حصہ کیا ہے اور کیوں ہم اس 90 فیصد حصے کو استعمال نہیں کر پاتے ۔
اس چیز کو سمجھنے کے لئے ضروری ہے کہ پہلے آپ subconscious mind کیا ہوتا ہے یہ سمجھ لیں ۔
جیسا کہ ہر ساکالوجیکل سٹوڈنٹ کو پتا ہو گا کہ ہمارے دماغ کے دو حصے ہوتے ہیں
1- conscious Brain
2- subconscious Brain
اب فرض کریں کہ دماغ ایک مالٹے کی طرح ہے جس کا چھلکا conscious Brain ہے جبکہ اندر کا حصہ Sub conscious Brin کہلائے گا ۔
اب دیکھیئے Conscious Brain آپ کا ایکٹیو برین ہے جس کو استعمال کر کے آپ اپنے دن بھر کا کام کرتے ہیں جیسا کہ آپ کیا دیکھ رہے ہو ،کیا سونگ رہے ہو کیا کھا رہے ہو کیا پڑھ رہے ہو کیا کر رہے ہو کیا سوچ رہے ہیں وغیرہ وغیرہ یہ سب کچھ آپ اپنے کنیشس برین یا شعوری دماغ سے کرتے ہو ۔
اب بات کرتے ہیں لاشعوری دماغ کی تو subconscious mind دماغ کا وہ حصہ ہے جہاں پر چیزیں سٹور ہوتی ہیں جیسا کہ میں نے آج کیا کیا وہ آپ کے دماغ کے لاشعوری حصے میں مخفوظ ہو جائے گا یا میری کیا عادات ہیں وہ بھی آپ کے دماغ کے لاشعوری حصے میں مخفوظ ہوتا ہے
اس کے علاوہ آپ کی یاداشت ، آپ کا تجربہ ، آپ کا ریلیجیس بیلیف یعنی آپ کا مذہبی عقیدہ کہ آپ مسلمان ہو اور کیوں ہو اور مسلمان کیا کرتا ہے یہ سب آپ کے دماغ کے لاشعوری حصے میں مخفوظ ہوتا ہے ۔
آپ کے دماغ کا لاشعوری حصہ آپ کے دماغ کے شعوری حصے سے 90٪ زیادہ ذہین ہوتا ہے لیکن ایک عام انسان اپنے دماغ کے لاشعوری حصے کو سوچنے سمجھنے کے لئے استعمال نہیں کر سکتا اور اگر آپ نے لوگوں کو یہ کہتے ہوئے سنا ہے کہ ایک انسان اپنے دماغ کا صرف 10 فیصد حصہ ہی استعمال کر پاتا ہے تو وہ اسی وجہ سے ہی کہا جاتا ہے ۔
اب شعوری دماغ اور لاشعوری دماغ کے سوچنے سمجھنے کا طریقہ الگ الگ ہوتا ہے آپ کے دماغ کا شعوری حصہ آپ کی قوت سماعت اور دیکھنے کے عمل کو بروئے کار لا کر معلومات اکھٹی کرتا ہے جبکہ لاشعوری حصہ کے سوچنے سمجھنے کا طریقہ الگ ہے جس کو میں آپ کو ایک مثال سے سمجھانا پسند کروں گا ۔
آج بہت سے ایسے گروپ ہیں جہاں مذہب مخالف کا کیا جا رہا ہے اور مسلمان بھی ایسے گروپ میں ایڈ ہیں جو ایسے لوگوں کو وہاں جواب دیتے ہیں جب وہ گستاخی کرتے ، طنز یا مذہب پر سوال اٹھاتے ہیں تو پھر آج کل ایسے سائنس گروپس بھی ہیں جہاں دھکے چھپے الفاظ میں سائنس کی آڑ میں الحاد کی بات کی جاتی ہے جیسے بہت سے لوگ نہیں سمجھ پاتے اور نارمل سمجھتے ہیں جبکہ وہ لوگ ایسا کیوں کرتے ہیں ؟ وہ سرعام بھی تو مذہب کا انکار کر سکتے ہیں لیکن وہ ایسا کیوں نہیں کرتے ایسا کیوں ؟
بلکہ وہ اپنی تحریروں میں ،کمنٹسں میں ایسی باتیں کرتے ہیں جو مذہبی نقطہء نظر کے خلاف ہوتی ہیں ایسا کیوں ؟
ایسا اس لئے کیا جاتا ہے کیونکہ اس کی ایک سائنٹفک وجہ ہے وہ اس طرح کہ ہمارا لاشعوری دماغ صرف ان چیزوں پر براہ راست دھیان دیتا ہے جو ہمارے سامنے ہوں لیکن ہم ان پر غور نہ کر رہے ہوں اور ایسا تب ہو گا جب کوئی چیز ہمارے سامنے رکھ کر بھی چھپائی جائے گی جیسا کہ الحاد سائنسی گروپ ہمیشہ سے کرتے آئے ہیں مثال کے طور پر کبھی سائنس کی آڑ میں کہنا روح کوئی چیز نہیں سائنس کے ہاں روح نہیں تو روح نام کی کوئی چیز نہیں کبھی جنات کے وجود کا سائنس کی آڑ میں انکار تو کبھی خدا اور فرشتوں کا انکار اور کہنا کہ سائنس ایسا کہتی ہے جبکہ سائنس کا ایسا کوئی نقطہء نظر نہیں جب کوئی پوچھے ایسا کیوں کہا تو کہنے لگتے ہیں ہم نے تو سائنسی جواب دیا جبکہ اگر آپ غور کریں گے تو یہ نہ سائنسی جواب ہے اور نہ ہی پورا جواب کیونکہ اس کا دوسرا پہلو بھی ہے جو ساتھ میں بیان ہی نہیں کیا جاتا کیونکہ ایسا کرنا سے ان کے الحادی نظریات میں شامل نہیں اور ایسا کرے کے ہمارے دماغ میں وسوسے ڈالے جا رہے ہیں ، اپنی بات بنا کہے ہمارے دماغ میں ڈالی جا رہی ہے اور روز ہمارا مذہبی عقیدہ اور خدا پر سے یقین کو کمزور کیا جا رہا ہے اور اگر آپ اپنے اندر ایک لمحے کے لئے جھانک کے دیکھوں تو کیا آپ مذہب کی پیروی اسی طرح سے کرتے ہو جس طرح آپ کے والدین کرتے ہیں ؟
آپ میں سے زیادہ تر لوگوں کا جواب ہو گا ۔۔۔۔نہیں !!!!
اس کی ایک وجہ ہے ہم لوگ ٹی وی دیکھتے ہیں گانے سنتے ہیں ۔ ان سب چیزوں سے ہمارے دماغ کو ٹارگٹ کیا جا رہا ہے اور ہمارے اندر نفسیاتی خواہشات کو بڑھایا جا رہا ہے تو دوسری طرف جدت کے نام پر ہمیں بے شرم بنایا جا رہا ہے پھر ایسے لوگ ہمارے ذہن تک سائنس کی آڑ میں خدا کے وجود کا انکار کر کے ہمارے دماغ کو ہیجیک کر لیتے ہیں اس کے بعد ہم بے شک خدا کا اور مذہبی اعشار کا انکار نہ کریں لیکن منتشر ہو جانے کے ساتھ ہم خدا سے باغی ضرور ہو جائیں گے اور ہمیں کوئی گناہ بڑا اور برا نہیں لگے گا کیونکہ ہمیں ہمارا دماغ اور لاشعوری ذہانت یہ کہے گی کہ چلتا ہے ۔۔۔!!!
اس لئے اپنے دیکھنے اور سننے کو بہتر بنائے جیسا کہ واصف علی واصف صاحب کا مشہور قول ہے "اپنے دل کے دروازے پر دریبان بن کے بیٹھو اور دیکھو کیا اور کون آتا جاتا ہے "
ایسے ہی اپنے دماغ کی بھی نگرانی کریں کہ آپ کے دماغ میں کیا ڈالا جا رہا ہے اور اچھی اور بری سوچ میں فرق کرنا سیکھیں۔ اس کے ساتھ ساتھ اپنے لاشعوری دماغی طاقت کا صحیح استعمال کرنا سیکھیں کیونکہ اس کا استعمال آپ کو بنا بھی سکتا ہے اور غلط استعمال آپ کو گرا بھی سکتا ہے
اپنا قیمتی وقت دینے کا شکریہ
اللہ نگہبان
دماغ کا شعوری اور لاشعوری حصہ
_____________________________________
میں زیادہ فلمیں ڈرامے دیکھنے کا شوقین تو نہیں لیکن کبھی کبھار کوئی اچھی فلم دیکھنے کو مل جائے تو ضرور دیکھ لیتا ہوں اور کوشش کرتا ہوں کہ فلم سبق آموز یا سائنس فکشن ہو ۔
ایسے ہی پیچھے دنوں ایک ہالی وڈ سائنس فکشن فلم "لوسی "دیکھنے کا اتفاق ہوا جس میں انسانی دماغ کی طاقت کے بارے میں دیکھایا گیا تھا کہ کیا ہو گا اگر انسان اپنے دماغ کا صحیح اور پورا استعمال کرنے کے قابل ہو جائے ۔
خیر یہ تو ایک سائنس فکشن فلم تھی اور ممکن نہیں کہ ایسا کبھی ہو پائے لیکن یہاں بات سوچنے والی یہ ہے کہ کیسے کیوں صرف ہم اپنے دماغ کا صرف دس فیصد حصہ ہی استعمال کر پاتے ہیں باقی کا 90 فیصد حصہ کیا ہے اور کیوں ہم اس 90 فیصد حصے کو استعمال نہیں کر پاتے ۔
اس چیز کو سمجھنے کے لئے ضروری ہے کہ پہلے آپ subconscious mind کیا ہوتا ہے یہ سمجھ لیں ۔
جیسا کہ ہر ساکالوجیکل سٹوڈنٹ کو پتا ہو گا کہ ہمارے دماغ کے دو حصے ہوتے ہیں
1- conscious Brain
2- subconscious Brain
اب فرض کریں کہ دماغ ایک مالٹے کی طرح ہے جس کا چھلکا conscious Brain ہے جبکہ اندر کا حصہ Sub conscious Brin کہلائے گا ۔
اب دیکھیئے Conscious Brain آپ کا ایکٹیو برین ہے جس کو استعمال کر کے آپ اپنے دن بھر کا کام کرتے ہیں جیسا کہ آپ کیا دیکھ رہے ہو ،کیا سونگ رہے ہو کیا کھا رہے ہو کیا پڑھ رہے ہو کیا کر رہے ہو کیا سوچ رہے ہیں وغیرہ وغیرہ یہ سب کچھ آپ اپنے کنیشس برین یا شعوری دماغ سے کرتے ہو ۔
اب بات کرتے ہیں لاشعوری دماغ کی تو subconscious mind دماغ کا وہ حصہ ہے جہاں پر چیزیں سٹور ہوتی ہیں جیسا کہ میں نے آج کیا کیا وہ آپ کے دماغ کے لاشعوری حصے میں مخفوظ ہو جائے گا یا میری کیا عادات ہیں وہ بھی آپ کے دماغ کے لاشعوری حصے میں مخفوظ ہوتا ہے
اس کے علاوہ آپ کی یاداشت ، آپ کا تجربہ ، آپ کا ریلیجیس بیلیف یعنی آپ کا مذہبی عقیدہ کہ آپ مسلمان ہو اور کیوں ہو اور مسلمان کیا کرتا ہے یہ سب آپ کے دماغ کے لاشعوری حصے میں مخفوظ ہوتا ہے ۔
آپ کے دماغ کا لاشعوری حصہ آپ کے دماغ کے شعوری حصے سے 90٪ زیادہ ذہین ہوتا ہے لیکن ایک عام انسان اپنے دماغ کے لاشعوری حصے کو سوچنے سمجھنے کے لئے استعمال نہیں کر سکتا اور اگر آپ نے لوگوں کو یہ کہتے ہوئے سنا ہے کہ ایک انسان اپنے دماغ کا صرف 10 فیصد حصہ ہی استعمال کر پاتا ہے تو وہ اسی وجہ سے ہی کہا جاتا ہے ۔
اب شعوری دماغ اور لاشعوری دماغ کے سوچنے سمجھنے کا طریقہ الگ الگ ہوتا ہے آپ کے دماغ کا شعوری حصہ آپ کی قوت سماعت اور دیکھنے کے عمل کو بروئے کار لا کر معلومات اکھٹی کرتا ہے جبکہ لاشعوری حصہ کے سوچنے سمجھنے کا طریقہ الگ ہے جس کو میں آپ کو ایک مثال سے سمجھانا پسند کروں گا ۔
آج بہت سے ایسے گروپ ہیں جہاں مذہب مخالف کا کیا جا رہا ہے اور مسلمان بھی ایسے گروپ میں ایڈ ہیں جو ایسے لوگوں کو وہاں جواب دیتے ہیں جب وہ گستاخی کرتے ، طنز یا مذہب پر سوال اٹھاتے ہیں تو پھر آج کل ایسے سائنس گروپس بھی ہیں جہاں دھکے چھپے الفاظ میں سائنس کی آڑ میں الحاد کی بات کی جاتی ہے جیسے بہت سے لوگ نہیں سمجھ پاتے اور نارمل سمجھتے ہیں جبکہ وہ لوگ ایسا کیوں کرتے ہیں ؟ وہ سرعام بھی تو مذہب کا انکار کر سکتے ہیں لیکن وہ ایسا کیوں نہیں کرتے ایسا کیوں ؟
بلکہ وہ اپنی تحریروں میں ،کمنٹسں میں ایسی باتیں کرتے ہیں جو مذہبی نقطہء نظر کے خلاف ہوتی ہیں ایسا کیوں ؟
ایسا اس لئے کیا جاتا ہے کیونکہ اس کی ایک سائنٹفک وجہ ہے وہ اس طرح کہ ہمارا لاشعوری دماغ صرف ان چیزوں پر براہ راست دھیان دیتا ہے جو ہمارے سامنے ہوں لیکن ہم ان پر غور نہ کر رہے ہوں اور ایسا تب ہو گا جب کوئی چیز ہمارے سامنے رکھ کر بھی چھپائی جائے گی جیسا کہ الحاد سائنسی گروپ ہمیشہ سے کرتے آئے ہیں مثال کے طور پر کبھی سائنس کی آڑ میں کہنا روح کوئی چیز نہیں سائنس کے ہاں روح نہیں تو روح نام کی کوئی چیز نہیں کبھی جنات کے وجود کا سائنس کی آڑ میں انکار تو کبھی خدا اور فرشتوں کا انکار اور کہنا کہ سائنس ایسا کہتی ہے جبکہ سائنس کا ایسا کوئی نقطہء نظر نہیں جب کوئی پوچھے ایسا کیوں کہا تو کہنے لگتے ہیں ہم نے تو سائنسی جواب دیا جبکہ اگر آپ غور کریں گے تو یہ نہ سائنسی جواب ہے اور نہ ہی پورا جواب کیونکہ اس کا دوسرا پہلو بھی ہے جو ساتھ میں بیان ہی نہیں کیا جاتا کیونکہ ایسا کرنا سے ان کے الحادی نظریات میں شامل نہیں اور ایسا کرے کے ہمارے دماغ میں وسوسے ڈالے جا رہے ہیں ، اپنی بات بنا کہے ہمارے دماغ میں ڈالی جا رہی ہے اور روز ہمارا مذہبی عقیدہ اور خدا پر سے یقین کو کمزور کیا جا رہا ہے اور اگر آپ اپنے اندر ایک لمحے کے لئے جھانک کے دیکھوں تو کیا آپ مذہب کی پیروی اسی طرح سے کرتے ہو جس طرح آپ کے والدین کرتے ہیں ؟
آپ میں سے زیادہ تر لوگوں کا جواب ہو گا ۔۔۔۔نہیں !!!!
اس کی ایک وجہ ہے ہم لوگ ٹی وی دیکھتے ہیں گانے سنتے ہیں ۔ ان سب چیزوں سے ہمارے دماغ کو ٹارگٹ کیا جا رہا ہے اور ہمارے اندر نفسیاتی خواہشات کو بڑھایا جا رہا ہے تو دوسری طرف جدت کے نام پر ہمیں بے شرم بنایا جا رہا ہے پھر ایسے لوگ ہمارے ذہن تک سائنس کی آڑ میں خدا کے وجود کا انکار کر کے ہمارے دماغ کو ہیجیک کر لیتے ہیں اس کے بعد ہم بے شک خدا کا اور مذہبی اعشار کا انکار نہ کریں لیکن منتشر ہو جانے کے ساتھ ہم خدا سے باغی ضرور ہو جائیں گے اور ہمیں کوئی گناہ بڑا اور برا نہیں لگے گا کیونکہ ہمیں ہمارا دماغ اور لاشعوری ذہانت یہ کہے گی کہ چلتا ہے ۔۔۔!!!
اس لئے اپنے دیکھنے اور سننے کو بہتر بنائے جیسا کہ واصف علی واصف صاحب کا مشہور قول ہے "اپنے دل کے دروازے پر دریبان بن کے بیٹھو اور دیکھو کیا اور کون آتا جاتا ہے "
ایسے ہی اپنے دماغ کی بھی نگرانی کریں کہ آپ کے دماغ میں کیا ڈالا جا رہا ہے اور اچھی اور بری سوچ میں فرق کرنا سیکھیں۔ اس کے ساتھ ساتھ اپنے لاشعوری دماغی طاقت کا صحیح استعمال کرنا سیکھیں کیونکہ اس کا استعمال آپ کو بنا بھی سکتا ہے اور غلط استعمال آپ کو گرا بھی سکتا ہے
اپنا قیمتی وقت دینے کا شکریہ
اللہ نگہبان

Comments
Post a Comment