What was before big bang according to science ....??
تخلیق ِ کائنات (بگ بینگ) سے پہلے کیا تھا ایک سائنسی جائزہ ۔۔!!
_______________________________
تحریر :- حسن خلیل چیمہ (ابنِ آدم)
________________________________________________
1929 میں ایڈون ہبل پہلے انسان تھے جنہوں نے یہ محسوس کیا کہ ہماری کائنات پھیل رہی ہے تب سے لے کر آج تک ہمارے مشاہدے اور تکنیک میں کافی سدھار آیا ہے آج ہم یقین سے یہ کہہ سکتے ہیں کہ ہماری کائنات کی شروعات 13.8 ارب سال پہلے ہوئی ۔کاسمیک مائیکرویو بگراونڈ cosmic microwave background کو ڈیٹیکٹ کرکے ہم بگ بینگ ہونے کے تین لاکھ سال بعد کی کائنات کو دیکھنے میں بھی کامیاب ہوئے ہیں ۔
اس سے پہلے ہم کائنات کو سمجھنے کے لئے مائیکرو سکوپک لیول پر لارج ہیڈرو کولائیڈر کی مدد سے بگ بینگ جیسی صورتحال بنانے کی کوشش بھی کر چکے ہیں
آج ہماری کائنات پھیل رہی ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ کبھی نہ کبھی ایک وقت ایسا ضرور رہا ہوگا جب ہماری کائنات کا سارا مادہ ایک جگہ پر اکٹھا تھا جو دھماکے کے بعد پھیل گیا ۔
اگر ہم وقت میں واپس جائیں تو ہم اس نقطے پر پہنچ جائیں گیں جب یہ کافی گرم تھا اس نقطے کو پوائنٹ آف سنگولیرٹی بھی کہتے ہیں ۔اسی میں ایک بڑا دھماکہ ہوا جس سے کائنات پیدا ہوئی اور اسی دھماکے کو ہم بگ بینگ کہتے ہیں ۔
لیکن ایک سوال ہمیشہ دماغ میں اٹھتا رہتا ہے کہ بگ بینگ ہونے سے پہلے کیا تھا ؟؟
آج کی اس تحریر میں ہم اس دلچسپ سوال کا جواب ڈھونڈنے کی کوشش کریں گے تو چلئے شروع کرتے ہیں آج کی دلچسپ تحریر۔۔!!
_________________________________
کچھ سائنسدان مانتے ہیں کہ بگ بینگ تخلیق کا پہلا قدم تھا جس سے نہ صرف اس کائنات کی تخلیق ہوئی بلکہ وقت کی بھی ۔جس کا مطلب ہے کہ بگ بینگ سے پہلے نہ کوئی کائنات تھی ،نہ فزکس کے قوانین اور نہ ہی وقت ۔ایسے میں یہ سوال ہی غلط ہے کہ بگ بینگ سے پہلے کیا تھا کیونکہ جب اس سے پہلے وقت کا ہی موجود نہیں تھا تو اس سے پہلے کی بات کرنا ہی غلط ہے اس تھیوری کے مطابق بگ بینگ سے پہلے کچھ بھی نہیں تھا جو کچھ آج موجود ہے اس کی شروعات بگ بینگ سے ہوئی ہے لیکن یہ تھیوری ہمیں مطمئن نہیں کرتی کیونکہ تھرموڈائنامکس کا دوسرا قانون کہتا ہے کہ
Something can't comes from nothing
جس کا مطلب یہ ہے کہ بنا کسی مادے کے کسی دوسرے مادے کی تخلیق نہیں ہوسکتی۔ جس کا مطلب یہ ہے کہ بگ بینگ سے پہلے کسی نہ کسی مادے کا وجود ضرور تھا جس کی وجہ سے بگ بینگ کا دھماکہ ہوا ۔
اس تھیوری کی مانیں تو اس کے مطابق کائنات ہمیشہ سے موجود ہے تو جو بھی آج تک ہوا ہے اور ہونے والا ہے وہ ہمیشہ سے ہوتا رہا ہے ۔
اگر اس تھیوری کو سچ مانیں تو کائنات کو آج اس سٹیج پر پہنچ جانا چاہیے تھا جب سارے فزیکل پروسیس مکمل ہو جاتے لیکن ہم جانتے ہیں کہ اصل میں ایسا نہیں ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ یہ تھیوری صحیح نہیں ہو سکتی
ہم جانتے ہیں کہ بلیک ہول کا حجم کافی زیادہ ہوتا ہے کیونکہ بگ بینگ ایک بے انتہائی حجم رکھنے والے نقطے میں ہوا تھا تو کچھ سائنسدان مانتے ہیں کہ یہ نقطہ جیسے پوائنٹ آف سنگولیرٹی بھی کہتے ہیں پہلے موجود کائنات کے بلیک ہول بننے سے بنا ہوگا ۔
ہماری کائنات پھیل رہی ہے جس کی وجہ سے کچھ لوگ کہتے ہیں کہ ایک وقت آئے گا جب اس میں ایک زوردار دھماکہ ہوگا جس سے ایک نئی کائنات کی شروعات ہوگئی شاید ایسے ہی ہماری کائنات کی شروعات ہوئی ہو یہ شروعات اور خاتمے کا عمل ہمیشہ چلتا رہتا ہے ۔لیکن اس تھیوری کے ساتھ بھی ایک دقت ہے ۔یہ اس سوال کا جواب نہیں دیتی قسم سے پہلے جو کائنات بنی ہوگی وہ کیسے بنی ہوگی ؟
مطلب کے ہم پھر سے وہی پر پہنچ گئے جہاں سے ہم چلے تھے
ایک اور تھیوری ہے ملٹی ورس ببل تھیوری۔ اس تھیوری کے مطابق بہت سی کائناتیں موجود ہیں جو الگ الگ ببلز کے اندر موجود ہیں یا تو وہ آپس میں ٹکراتے ہیں یا پھر کئی ٹکڑوں میں بٹ جاتے ہیں جب بھی ایسا ہوتا ہے تو ایک زوردار دھماکہ ہوتا ہے جس سے ایک نئی کائنات بنتی ہے شاید بگ بینگ بھی ایسے ہی کسی ٹکراؤ کا نتیجہ ہے ۔
اگر اس تھیوری کو ٹھیک ملے تو ہمیں کاسمیک مائیکروویو بگراونڈ میں ایک انوکھا سرکلر پیٹرن دیکھنے کو ملنا چاہیے لیکن ابھی تک کہ میں ایسا کچھ بھی نہیں ملا ہے
ملٹی ورس کی طرح ایک اور تھیوری ہے جو سٹرنگ تھیوری سے نکل آتی ہے ۔سٹرنگ تھیوری کو کسی اور دن ہم تفصیل سے سمجھے گے یہاں صرف آپ اتنا ہی سمجھیں کہ یہ کہتا ہے کہ سب سے چھوٹے لیول پر سٹرنگز یاممبرین کی طرح دکھنے والے پارٹیکلز موجود ہوتے ہیں جو ہمیشہ وائبریٹ کرتے رہتے ہیں ان کے وائبریٹ کرنے کے پیٹرن سے الگ الگ پارٹیکلز جنم لیتے ہیں جیسے الیکٹرونز، نیوٹرانز ،پروٹانز ،گریویٹانز وغیرہ وغیرہ۔
سٹرنگ تھیوری کے مطابق کئی ڈومینشنز موجود ہوتی ہیں جن میں یہ سٹرنگز یا میمبرینز کام کرتی ہیں ان کے الگ الگ برتاو سے کئی کائناتیں بنتی ہیں جو کہ آپس میں گریویٹی یا کشش ثقل کے ذریعے انٹریکٹ کرتی ہیں
ڈارک انرجی جوکہ آج بھی ہمارے لیے ایک معمہ ہے سٹرنگ تھیوری کے مطابق یہ ایک ایسی توانائی ہے جو دوسری کائنات کی کشش ثقل کے متعلق بتاتی ہے جب دو کائناتیں آپس میں ٹکراتی ہیں تو بگ بینگ ہوتا ہے جس سے ایک نئی کائنات کی تخلیق ہوتی ہے
سٹرنگ تھیوری تقریبا ہمارے سارے سوالات کے جوابات دیتی ہے لیکن پریشانی یہ ہے کہ بہت سے سائنسدان اسے ایک سائنٹفک تھیوری نہیں بلکہ فلسفانہ نظریہ مانتے ہیں کیونکہ یہ ڈمنشنز اور کچھ ایسے مادوں کی بات کرتی ہے جن کی موجودگی فزکس کے قوانین کے مطابق ناممکن ہے
ایسے میں اس سوال کا جواب دینا کہ بگ بینگ سے پہلے کیا تھا ابھی تک ناممکن ہے
جلد ہی جیمز ویب نامی ٹیلی سکوپ چھوڑا جائے گا جس کو اکتوبر 2018 میں چھوڑنے کا اعلان کیا گیا تھا جو نئے سیاروں کو ڈھونڈنے کے ساتھ ساتھ بگ بینگ کے بعد سب سے پہلے بننے والی کہکشاؤں کو ڈھونڈ کر ان سے متعلق معلومات فراہم کرے گا جس سے ہمیں بگ بینگ سے متعلق مختلف سوالات کے جوابات جاننے کا موقع ملے گا ۔
دراصل یہ سوال کہ بگ بینگ سے پہلے کیا تھا کافی دلچسپ اور مشکل ہے اس کا سائنسی جواب جاننے کے لیئے یہاں تو ہم مشاہدات کا سہارا لے سکتے ہیں یا پھر میتھمیٹکل تھیوریز کا ۔
لیکن یہاں پریشانی یہ ہے کہ جو میتھمیٹیکل لاز یا قوانین جنرل ورلڈ میں کام کرتے ہیں وہ کوانٹم ورلڈ میں نہیں کرتے تو جب تک کوئی ایسی تھی نہ ڈھونڈنے جو جنرل اور کوانٹم دونوں ورلڈ پر لاگو ہو میتھمیٹیکل تھیوریز ہمیں اس سوال کا جواب نہیں دے سکتی ہم نے یہ بھی دیکھا ہے بلیک ہولز میں فزکس کے قوانین کام نہیں کرتے بگ بینگ سے پہلے بھی فزکس کے قوانین کا کوئی وجود نہیں تھا
تو اگر ہم یہ جان سکے کے قوانین کن حالات میں ٹوٹتے ہیں اور کیا ہوتا ہے جب فزکس کے قوانین ٹوٹتے ہیں تو ہم اس سوال کا جواب دینے کے کافی قریب پہنچ جائیں گے جس کی تلاش ہم کر رہے ہیں ۔
یہ تو تھا سائنس کا اس سوال کے جواب میں ردعمل ۔۔۔!!
یعنی سائنس ابھی تک ان سوالوں کے جواب جاننے سے قاصر ہے لیکن اگر اسی سوال کا جواب مذہب سے پوچھے تو ۔۔۔؟
_______________________
مذہب کا جواب :-
تو اگر مذہب سے پوچھے تو مذہب ہمیں یہ بتاتا ہے کہ اس کاینات کا پیدا کرنے والا کوئ ہے کیونکہ اس کاینات میں توازن اور ہم آہنگی موجود ہے جو اتفاقات کا نتیجہ نہیں ہو سکتی بلکہ شعور کا خاصہ ہے اگر تمام تھیوریز کو دیکھا جائے تو ایک بات تو صاف معلوم ہوتی ہے کہ اس میں شعور کی کارفرمای موجود ہے باقی ساینسی لحاظ سے یہ معلوم کرنا کہ بگ بینگ سے پہلے کیا تھا یہ ساینسدانوں کے لیے درد سر سے کم نہیں کیونکہ اس سے پہلے زمان و مکان کا تصور موجود نہیں تھا جب زمان و مکان ہی نہیں تھے تو پھر مادہ کیسے موجود ہو سکتا ہے اور جب مادہ موجود نہیں تھا تو ساینس کیسے ایک غیر مادی چیز کا وجود ثابت کرے گی ۔ لیکن عقل اس بارے میں ہمیشہ یہ کہتی نظر آئے گی کہ اس کے پیچھے کسی باشعور خالق کا ہاتھ ہے
قران یہاں پہ ہماری رہنمائ کرتا نظر آتا ہے اور ہمیں بتاتا ہے کہ تخلیق کاینات سے پہلے خدا کی ذات موجود تھی اور اس نے کلمہ کن سے کاینات کی تخلیق کی ابتداء کر دی کچھ بھی موجود نہیں تھا اور کلمہ کن کہنے سے خود بخود مادہ بھی موجود ہوا اور خود بخود حکم کی تعمیل کرتے ہوے فطری قوانین نے اپنے اپنے امور سنبھال لیے

Comments
Post a Comment