Skip to main content

کوانٹم ٹیلی پورٹیشن

#Quantum_teleportation
کوانٹم ٹیلی پورٹیشن
________________________________


 دور جدید میں جہاں سائنس ترقی کی بلندیوں کو چھو رہی ہے سائنسدانوں نے سفر کے ذرائع کو تیز کرنے کی بجائے ایسے تجربات شروع کر دیے ہیں جس کو دیکھ کر عقل دنگ رہ جاتی ہے سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ ایک جگہ سے دوسری جگہ سفر کرنے کے لئے  خواں کوئی بھی ذریعہ استعمال کیا جائے ان سب میں ایک نقص مشترک ہیں اور وہ یہ کہ ہمیں طبی طور پر فاصلہ ضرور طے کرنا پڑتا ہے جو چند منٹوں سے لے کر کئی گھنٹوں تک محیط ہو سکتا ہے  لیکن اب سائنسدانوں نے ایسے زرائع تلاش کرنے پر توجہ مرکوز کردی ہیں جس کے تحت آپ کو ایک مقام سے دوسرے مقام تک جانے کے لئے کار ،جہاز یا راکٹ یا پھر کسی اور سواری کی ضرورت نہیں رہے گی۔ اس ضمن میں ٹیلی کمیونیکیشن اور ٹرانسپورٹیشن کے باہمی امتزاج سے "  ٹیلی پورٹیشن " وضع کرنے کی سمت میں تجربات کیے جارہے ہیں سائنسدانوں نے ابتدائی طور پر فوٹان پر تجربات کیے ہیں جو کامیابی سے ہمکنار ہوئے ہیں ٹیلی پورٹیشن سے مراد ایک مادی چیز کو ایک مقام سے دوسرے مقام پر اس طرح سے منتقل کرنا ہے کہ جس کے ذریعے یہ چیز پہلے مقام سے غائب ہو جائے دوسرے معنوں میں یہ اس مقام سے فنا ہوجاتی ہے اور دوسرے مقام پر اس کا ظہور ہوتا ہے ٹیلی پورٹیشن کے ذریعے منتقل کی جانے والی چیز کی صحیح ایٹمی معلومات ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل کی جاتی ہے جہاں یک  جاں ہو کر ہوبہو  وہی چیز تشکیل دے دیتی ہے جو روانگی کے مقام پر فنا ہو چکی ہوتی ہے ۔اس طرح سفر کے دوران فضا اور وقت دونوں ہی آڑے نہیں آتے سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ انسانوں کو بھی ایک جگہ سے دوسری جگہ پلک جھپکنے سے پہلے ہی منتقل کیا جا سکے گا مسافر چاہے ایک میٹر سے ایک میل تک کی دوری پر ہی کیوں نہ ہو مسافر کو کوئی فاصلہ تہہ نہیں کرنا پڑے گا اس طرح کے ٹیلی پورٹیشن کو کلاسیکل ٹیلی پورٹیشن کا نام دیا گیا ہے ۔
کلاسیکل ٹیلی پورٹیشن کا نظریہ سب سے پہلے ٹی وی پر دکھائی جانے والی سیریل"سٹار ٹریک"  میں پیش کیا گیا
1993 میں  ٹیلی پورٹیشن کا نظریہ سائنسی تصورات سے نکل کر اس وقت حقیقت کی دنیا میں داخل ہوگیا جب ماہر طبیعیات چارلس بیلڈ اور ان کے ساتھی سائنسدانوں نے اس امر کی تصدیق کی کہ کوانٹم ٹیلی پورٹیشن ممکن ہے تاہم اسے عملی جامع اسی صورت بنایا جا سکتا ہے جب اصل شے کو ایک جگہ سے دوسری جگہ آن واحد میں منتقل کیا جانا ہے تباہ کر دی جائے چارلس بیلڈ نے اس امر  کا اعلان مارچ 1993 میں امریکی فزیکل  سوسائٹی کے سالانہ اجلاس میں کیا جس کے بعد 29 مارچ 1993 کو فزیکل رویو لیٹر میں بیلڈ کے اعلان پر  ایک رپورٹ شائع ہوئی اس وقت سے سائنسدانوں نے فوٹان پر تجربات شروع کیے اور یہ بات ثابت کی کہ کوانٹم ٹیلی پورٹیشن حقیقت میں ممکن ہے۔1998 میں کیلیفورنیا  انسٹیٹیوٹ آف ٹیکنالوجی  کے ماہرین طبیعیات نے یورپی ماہرین طبیعیات کے ساتھ مل کر تجربات کیے اور  فوٹان کو کامیابی سے ٹیلی پورٹیشن کے عمل سے گزارا
یاد رہے کہ فوٹان روشنی کا انتہائی چھوٹا ذرا ہے جس میں توانائی موجود ہوتی ہے
سائنسدانوں کی اس ٹیم نے فوٹان کی ایٹمی ساخت کا کامیابی سے مشاہدہ کیا اور اس کی معلومات ایک میل لمبی تار کے ذریعے روانہ کی اور فوٹان کی ایک نقل پیدا کی لیکن اصل فوٹان اب نہیں رہا تھا بلکہ اس کی جگہ اس کی ہوبہو نقل نے لے لی تھی
سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ سٹار ٹریک میں دکھائے جانے والی ٹرانسپورٹر مشین کی تشکیل میں فی الحال کئی برس لگ سکتے ہیں اس مشین کے ذریعے ہمارے جسم میں پائے جانے والے 1000 مہاسین ایٹم ایک مقام سے دوسرے مقام پر اس انداز میں منتقل ہوں گے کہ کہ کسی ایٹم جسم میں جگہ تبدیل نہ ہو اس مشین کے ذریعے ایٹموں کو ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل کرنے کے ساتھ ساتھ ایٹم میں پائے جانے والے خصوصیات و معلومات بھی روانہ کرنا پڑے گی
اور مطلوبہ مقام پر یہ ایٹم  ہو بہو یکجا ہو جائیں گے جس انداز میں یہ  جسم میں موجود تھے ان میں ذرا برابر تبدیلی جسمانی ساخت میں تغیر کا سبب بن سکتی ہے
اگر ٹیلی پورٹیشن کے لیے مذکورہ مشین یعنیی ٹرانسپورٹر تیار کر لی گئی تو ٹیلی پورٹیشن کا عمل کامیابی سے ہمکنار ہو سکے گا تاہم سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ اس عمل کی وضاحت ہم اس طرح سے کر سکتے ہیں کہ ٹیلی پورٹیشن میں جینیاتی کلوننگ اور ڈیجیٹلائزیشن مل کر کام کریں گے لہذا اسے بائیو ڈیجیٹل کلوننگ کہنا بےجا نہ ہوگا
ٹیلی پورٹیشن سے گزرنے والا شخص موجودہ مقام پر مر جائے گا جبکہ مطلوبہ مقام پر اس کی ہو بہو نقل کیا ہو جائے گی جس میں اس کی یادداشت خوبیاں خامیاں اور جذبات سب کچھ اس نقل میں موجود ہوگی ۔چناچہ ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ ٹیلی پوڈر اپنی منزل پر زندہ پہنچے گا لیکن یہ اس کا حقیقی جسم نہیں ہوگا ۔بہرحال اسے کلاسیکل ٹیلی پورٹیشن کہا جاتا ہے جو ابھی تک تو سائنس فکشن ہے ممکن ہے کہ مستقبل میں اس سے متعلق بھی کامیابی حاصل کرلی جائے کلاسیکل ٹیلی پورٹیشن کا ذکر قرآن پاک میں حضرت سلیمان علیہ السلام کے واقعے سے بھی ملتا ہے جسے ملحد ایک کہانی کہہ کر آج تک مذاق اڑاتے تھے لیکن آج ہم اس تحریر میں کلاسیکل ٹیلی پورٹیشن کے تصور کو جہاں تک سمجھ سکے ہیں اور مانتے ہیں کہ ٹیلی پورٹیشن ایک حقیقت ہے اسی حقیقت سے متعلق کوانٹم ٹیلی پورٹیشن کا ذکر کریں گے 

‏سال 2017 میں چینی سائنسدانوں نے یہ اعلان کیا  کہ انہوں نے ایک فوٹان  کو زمین کے لوئر آربٹ میں موجود سیٹلائٹ پر ٹیلی پورٹ کرنے میں کامیابی حاصل کر لی ہے اس وقت یہ خبر پوری دنیا میں آگ کی طرح پھیل گئی اور لوگوں کو لگا " سٹار ٹریک "فلم میں دکھایا جانے والا ٹیلی پورٹیشن اب ایک سچائی بن چکا ہے لیکن اصل میں ایسا نہیں تھا جب ہم ٹیلی پورٹیشن کی بات کرتے ہیں تو ہمارا مطلب ہوتا ہے کسی جسم کو ایک جگہ سے ڈی مٹیریلائز کر کے کسی دوسری جگہ ایک بار پھر سے مٹیریلائز کر دینا۔
یعنی کے کسی جسم کو ایک جگہ سے دوسری جگہ ٹرانسفر کرنا   ۔
جو چین نے حاصل کیا تھا وہ تھا کوانٹم ٹیلی پورٹیشن جس کا تصور کلاسیکل ٹیلی پورٹیشن سے بالکل مختلف ہوتا ہے ۔اس میں کسی جسم کو ایک جگہ سے دوسری جگہ فزیکلی ٹرانسفر کرنے کی بجائے ہم کوانٹم انفرمیشن کو ایک جگہ سے دوسری جگہ ٹیلی پورٹ کرتے ہیں یا پھر یہ کہیں کہ کوانٹم انفارمیشن کو بنا کسی میڈیم کا استعمال کئے ایک جگہ سے دوسری جگہ ٹرانسفر کرتے ہیں ۔
اور جو چین نے کیا وہ یہ تھا کہ انھوں نے  زمین کے ایک گھوبی ڈیزرٹ(جیبی صحرا)  سے ایک فوٹان کی کوانٹم انفرمیشن کو بنا کسی میڈیم کے خلاء موجود سیٹلائٹ پر رپورٹ کرنے میں کامیابی حاصل کی  ۔یہاں یہ بتانا ضروری ہے کہ یہ پہلا موقع نہیں تھا جب کوانٹم ٹیلی پورٹیشن کو کامیابی سے انجام دیا گیا ہو دراصل اس سے پہلے بھی کوانٹم ٹیلی پورٹیشن کو زمین پر کئی بار کامیابی سے انجام دیا جا چکا تھا ۔لیکن اس وقت کسی ملک نے اسے زمین سے خلاء تک انجام دینے کا تجربہ نہیں کیا تھا ۔
چین میں کوانٹم انفارمیشن کو جس سیٹلائٹ پر ٹیلی پورٹ کیا ۔وہ زمین سے پانچ سو کلو میٹر کی اونچائی پر چکر لگا رہا تھا یہ سب سے زیادہ دوری تھی جہاں کوانٹم ٹیلی پورٹیشن کو کامیابی سے سرانجام دیا گیا تھا یہی وجہ ہے کہ چین کا اس کام کی وجہ سے کافی نام بھی ہوا ۔

مجھے ذاتی طور پر ایسا لگتا ہے کہ کوانٹم ٹیلی پورٹیشن نام عام لوگوں کے لیے تھوڑا عجیب ہے کیونکہ انہیں لگتا ہے کہ اس میں کسی آبجیکٹ کو فزیکلی ٹرانسپورٹ کیا جاتا ہے جو کہ غلط ہے
کیونکہ اس میں کسی آبجیکٹ کو نہیں بلکہ کوانٹم انفارمیشن کو ٹیلی پورٹ یا ٹرانسفر کیا جاتا ہے اسے کوانٹم کمیونیکیشن کہنا بھی غلط نہیں ہوگا
کوانٹم ٹیلی پورٹیشن ہمارے لیے اہم اسلئے ہے کیونکہ یہ مستقبل کے کمیونیکیشن نیٹ ورک کو ہیکنگ روف بنا سکتا ہے
آج کی اس تحریر میں ہم جانے گے کہ
 کوانٹم ٹیلی پورٹیشن  کیا ہوتا ہے اور یہ کیسے کام کرتا ہے  ؟
اور مستقبل میں یہ کمیونیکیشن کو کیسے ہیکنگ پروف بنا سکتا ہے ؟
تو چلیں شروع کرتے ہیں آج کی اپنی دلچسپ تحریر ۔۔۔۔۔
_____________________________________

کوانٹم ٹیلی پورٹیشن کیا ہوتا ہے ؟
سب سے پہلے تو یہ جان لیتے ہیں کہ کوانٹم ٹیلی پورٹیشن کیا ہوتا ہے جیسا کہ میں نے پہلے ہی بتایا کہ کوانٹم ٹیلی پورٹیشن میں ایک ابجیکٹ کو ایک جگہ سے دوسری جگہ ٹیلی پورٹ نہیں کیا جاتا بلکہ ہم اس کی کوانٹم انفرمیشن کو ایک جگہ سے دوسری جگہ ٹیلی پورٹ کرتے ہیں اور وہ بھی بنا کسی میڈیم کے ۔یعنی کہ ہم کوانٹم ٹیلی پورٹیشن  کا استعمال کر کے کوانٹم انفارمیشن کو ایک جگہ سے دوسری جگہ بھیج سکتے ہیں اور وہ بھی فوراً۔
نو کلونینگ اور نو ڈلیٹنگ تھیورم ہمیں بتاتا ہے کہ کوانٹم انفارمیشن کو نہ ہی کاپی کیا جا سکتا ہے اور نہ ہی تباہ کیا جا سکتا ہے ۔
اس لیے جب کوانٹم انفارمیشن کو ایک جگہ سے دوسری جگہ کامیابی سے ٹرانسفر کیا جاتا ہے تو اصلی کوانٹم انفرمیشن کسی اور روپ میں تبدیل ہو جاتا ہے ۔  کیونکہ پہلی جگہ پر موجود پارٹیکل کا سارا کوانٹم انفارمیشن دوسری جگہ چلا جاتا ہے تو تو ایسا لگتا ہے کہ جیسے پہلی جگہ پر موجود پارٹیکل ٹیلی پورٹ ہو کر دوسری جگہ پر گیا ہوں یہی وجہ ہے کہ ہم اسے کوانٹم ٹیلی پورٹیشن کہتے ہیں 
_____________________
کوانٹم ٹیلی پورٹیشن کام کیسے کرتا ہے ؟
آئیے اب جانتے ہیں کہ کوانٹم ٹیلی پورٹیشن کام کیسے کرتا ہے ۔
کوانٹم ٹیلی پورٹیشن کے تصور کو اچھی طرح سمجھنے کے لیے آپ کو کوانٹم انٹینگلمنٹ کی سمجھ ہونی چاہیے
کچھ خاص حالات میں ایک پارٹیکل کو تقسیم کرکے ایک ہی ساتھ جب دو پارٹیکلز بنائے جاتے ہیں تو ان دو آرٹیکلز کی پراپرٹیز آپس میں کچھ اس طرح سے منسلک ہوجاتی ہیں تو وہ ایک کمبائنڈ سسٹم کی طرح کام کرنے لگتے ہیں یعنی کہ اگر ایک کا سپن اپ ہوگا تو دوسرے کا سپن ہر حال میں ڈاؤن ہی ہوگا اور اگر ایک سپن ڈاؤن ہے تو دوسرے کا سپن یقینی طور پر اپ ہوگا۔ایسے پارٹیکلز کو انٹینگل پارٹیکلز کہا جاتا ہے ۔ان پارٹیکلز کو ایک دوسرے سے چاہے جتنا بھی دور رکھا جائے یہ ایک دوسرے کو ہمیشہ متاثر کرتے ہیں اور وہ بھی بالکل اسی وقت ۔ایک دوسرے سے کافی دور ہونے کی وجہ سے ایک دوسرے کو متاثر کرنا کافی عجیب  لگتا ہے اس لئے آئن سٹائن نے اسے "سپوکی ایکشن ایٹ اے ڈیسٹنس " کہا تھا۔ امید کرتا ہوں کہ کوانٹم انٹینگلمنٹ کے تصور کو اب آپ تھوڑا تو سمجھ ہی گئے ہونگے ۔
چلئے آپ جانتے ہیں کہ کوانٹم ٹیلی پورٹیشن کیسے کام کرتا ہے۔ فرض کریں کہ علی اور احمد نام کے دو شخص ہیں جو ایک دوسرے سے کافی دور ہیں علی کے پاس ایک فوٹان  ہے جس کو وہ احمد کے پاس ٹیلی پورٹ کرنا چاہتا ہے ۔
اس سے پہلے کہ آگے بڑھے ہمارے لئے یہ جاننا ضروری ہے کہ جیسے کمپیوٹر میں کمپیوٹنگ کے لیے بیٹس کا استعمال ہوتا ہے کوانٹم کمپیوٹنگ اور کوانٹم ٹیلی پورٹیشن میں کیو بیٹس کا استعمال ہوتا ہے  جس کا فل فارم ہوتا ہے کوانٹم پینٹس ۔بیٹس اور کیو بیٹس میں کیا فرق ہوتا ہے یہ میں نے آپ کو کوانٹم کمپیوٹرز والی تحریر میں اچھی طرح سے سمجھایا ہوا ہے ۔لیکن پھر بھی تھوڑا سا بتا دیتا ہوں کہ ان دونوں میں فرق یہ ہوتا ہے کہ ایک بٹ کا سٹیٹ یا تو زیرو ہوسکتا ہے یا پھر ون  ۔جبکہ ایک کیو بٹ ان دونوں صورتوں میں ایک سا رہتا ہے یعنی وہ ایک ساتھ میں زیرو کی حالت میں بھی رہ سکتا ہے اور  و کی حالت میں بھی ۔جس کی وجہ سے کوانٹم کمپیوٹر کی سپیڈ ایک عام کمپیوٹر سے لاکھوں گنا بڑھ جاتی ہے کیو بیٹس کے بارے میں زیادہ جاننے کے لئے آپ میری کوانٹم کمپیوٹرز والی تحریر ضرور پڑھیں ۔
چلیں اب آگے بڑھتے ہیں تو ہم علی اور احمد کی بات کر رہے تھے فرض کریں کہ علی کے پاس ایک فوٹان ہے جسے ہم c  کہہ لیتے ہیں علی اس فوٹان کو ٹیلی  کرکے احمد تک پہنچانا چاہتا ہے تو وہ یہ کیسے کرے گا آئیے جانتے ہیں ۔اس کے لیے اسے ضرورت ہوگی آنٹینگل پارٹیکلز کے ایک جوڑے کی ۔ایک انٹینگل پارٹیکل  کو اپنے پاس رکھے گا جبکہ دوسرے انٹینگل پارٹیکل  کو وہ احمد کے پاس بھیج دے گا کیونکہ انٹینگل پارٹیکل ایک دوسرے کو متاثر کرتے ہیں موازنہ کرنے کے بعد اگر علی کے پاس موجود انٹینگل پارٹیکل کا سپن اگر ہمیں اپ ملتا ہے تو احمد کے پاس موجود اینٹینگل پارٹیکل کا سپن یقینی طور پر  ڈاؤن ہی ملے گا ۔اور موازنہ کرنے کے بعد علی کے پاس موجود انٹینگل پارٹیکل کا سپن اگر ہمیں ڈاؤن ملتا ہے تو احمد کے پاس موجود انٹینگل پارٹیکل کا سپن یقینی طور پر ہمیں اپ ملے گا ۔چونکہ یہاں بات ہو رہی ہے کوانٹم پارٹیکلز کی تو ہم سوپر پوزیشن پرنسیپل کو بھی نظر انداز نہیں کر سکتے ۔سوپر پوزیشن پرنسپل ہمیں بتاتا ہے کہ جب تک کوانٹم پارٹیکلز کو ابزرو یا مییر  observe or measure  نہیں کیا جاتا وہ اپنے سبھی پوسیبل سٹیٹس میں موجود رہتے ہیں جسے ہم سوپر پوزیشن سٹیٹ کہتے ہیں ۔لیکن جیسے ہی ہم انہیں ابزرو مییر کرتے ہیں ان کا ویو فنکشن کولیپس کو جاتا ہے اور آخر میں ان کے تمام پوسیبل سٹیٹس میں سے ہمیں ایک ہی اسٹیٹ ملتا ہے ۔
مثال کے طور پر اگر ہم سپن کی بات کریں تو جب تک ہم کوانٹم پارٹیکلز کو آبزرو نہیں کرتے تب تک وہ اپ سٹیٹ میں بھی ہوتے ہیں اور ڈاؤن سٹیٹ میں بھی ۔اور جیسے ہی ہم انہیں آبزرو کرتے ہیں ان کا ویو فنکشن کولیپس ہو جاتا ہے اور آخر میں ہمیں اپ سٹیٹ ملتا ہے یا ڈاون سٹیٹ۔
جب تک علی اپنے پاس موجود دونوں فوٹانز کو مییر نہیں کرتا  وہ سوپر پوزیشن سٹیٹ میں رہیں گے وہ جب علی اپنے پاس موجود فوٹانز کو علیحدہ علیحدہ مییر کرے تو دونوں کا ویو فنکشن کولیپس ہو جائے گا  اور دونوں فوٹانز ایک خاص اسٹیٹ میں چلیں جائیں گے  جس کی وجہ سے علی فوٹان c کو ٹیلی پورٹ نہیں کر پائے گا اس لیے وہ ان دونوں کو علیحدہ علیحدہ مییر کرنے  کی بجائے دونوں کی  سٹیٹ کو اکھٹی مییر کرے گا اس خاص طرح کی مییرمنٹ کو ہم بل میرمنٹ کہتے ہیں ۔اس سے ہمیں یہ تو پتہ نہیں چل پاتا کہ کون سا فوٹان کس اسٹیٹ میں ہے لیکن ہمیں یہ ضرور پتہ چل جاتا ہے کہ ان دونوں فوٹانز کے درمیان  آپسی تعلق  کیا ہے ۔بھائی مییر منٹ رول کے مطابق ہم نے دیکھا تھا کہ جیسے ہیں ہم کوانٹم پارٹیکلز کو مییر کرتے ہیں ان کا ویو فنکشن کولیپس ہو جاتا ہے اور اور وہ تمام ممکنہ خالتوں کی بجائے ایک خاص حالت میں چلے جاتے ہیں ۔اس لیے جیسے ہی علی اپنے پاس موجود دو فوٹانز کی مجموعی حالت کو مییر کرے گا تو علی کے پاس موجود دونوں فوٹانز  مجموعی معلومات ایک ساتھ احمد کے پاس موجود فوٹان میں چلی جائے گی اس لیے اب کیونکہ احمد کے پاس فوٹان A کے ساتھ فوٹان C کی بھی ساری کوانٹم انفارمیشن پہنچ چکی ہے تو ہم اسے  ترتیب دے کر فوٹان  c کا ایک نیا کلون بنا سکتے ہیں ۔لیکن دوسری طرف موجود احمد کو یہ نہیں پتا کہ اس کے پاس موجود ہوں فوٹان میں فوٹان "سی " کی ساری کون کوانٹم انفارمیشن آ چکی ہیں ۔جو علی اسے بیجھنا چاہتا تھا اس لئے ابھی بھی وہ اپنے پاس موجود فوٹان کو ترتیب دے کر فوٹان "سی" نہیں بنا سکتا دوسری بات یہ کہ اس کو نہیں پتا کہ وہ اپنے پاس موجود فوٹان پر کس طرح کا ایکشن لے۔یا پھر اسے کس طرح سے مینوپلیٹ کرے کے اسے فوٹان "سی "مل جائے ۔اس لیے علی کو اس ٹیلی پورٹیشن کو کامیاب بنانے کے لیے کلاسیکل ٹیلی پورٹیشن جیسے کہ فون، ٹیلی گرام، فیکس وغیرہ وغیرہ احمد کو ایک انفرمیشن بھیجنا ہو گی جس میں اس کو بتانا ہوگا کہ اس کے پاس موجود دونوں فوٹانز کو جب اس نے بل میرمنٹ کے ذریعے مییر کیا تھا تو اس کا نتیجہ کیا نکلا تھا یہ معلومات ہم دو کلاسیکل بیٹس کے ذریعے  بھیجتے ہیں ۔
بہرحال یہ معلومات جب احمد کو ملے گی تو اسے یہ پتہ چل  جائے گا کہ اسے اپنے پاس موجود فوٹان پہ کیسا ایکشن لینا ہے یا پھر یہ کہیں کہ اسے کس طرح سے ترتیب دینا ہے یاد توڑنا پھوڑنا ہے کہ اس کے پاس  فوٹان سی کے کوانٹم سٹیٹ   آ جائیں اس کے بعد وہ اس پر مطلوبہ ایکشن لے گا اس کے بعد وہ پائے گا کہ" اے " اور "بی " کے بیچ کا انٹینگلمنٹ ٹوٹ گیا ہے اور "بی"  میں فوٹان سی کے کوانٹم اسٹیٹس آگئے ہیں ایسا ہوتے ہیں ہم کہیں گے کہ فوٹان سی علی کے پاس سے ٹیلی پورٹ ہو کر احمد کے پاس چلا گیا ۔کیونکہ کوانٹم ٹیلی پورٹیشن کو کامیاب بنانے کے لیے ہمیں کلاسیکل کمیونیکیشن چینلز کی بھی ضرورت پڑتی ہے جو جو روشنی کی رفتار سے زیادہ تیزی پر پورا نہیں اترتا اور نہ ہی سپیشل تھیوری آف ریلیٹیوٹی کے قوانین کو توڑتا ہے لیکن روکئے ۔۔۔۔۔۔!!
علی کے پاس تو ابھی بھی فوٹان سی موجود ہے تو ہم کیسے کہہ سکتے ہیں کہ وہ ٹیلی پورٹ ہو کے احمد کے پاس چلا گیا دراصل نو کلوننگ اور نو ڈیلیٹنگ تھیورم ہمیں بتاتا ہے کہ کوانٹم انفارمیشن کونا تو پوری طرح کاپی کیا جا سکتا ہے اور نہ ہی پوری طرح ختم یا ڈیلیٹ کیا جا سکتا ہے کیونکہ کوانٹم انفارمیشن کو کاپی یا کلون نہیں کیا جا سکتا تو جیسے ہی احمد اپنے پاس موجود فوٹان  کو ترتیب دے کر اس میں موجود کوانٹم سٹیٹ کو تقسیم کرتا ہے   تو علی کے پاس موجود اصلی فوٹان سی کا کوانٹم سٹیٹ کسی اور سٹیٹ میں تبدیل ہو جائے گا یعنی کہ اب اس میں وہ پراپرٹیز نہیں رہیں جو اس میں پہلے تھیں پہلے اس میں جو بھی پراپرٹیز موجود تھیں اب وہ احمد کے پاس موجود فوٹان میں ٹرانسفر ہو چکی ہیں یہی وجہ ہے کہ ہم اس طریقہ کار کو ٹیلی پورٹیشن کہتے ہیں
 تو جیسا آپ نے دیکھا کہ کوانٹم ٹیلی پورٹیشن میں کسی آبجیکٹ کو فزیکلی ٹرانسپورٹ نہیں کیا جاتا بلکہ اس کی کوانٹم انفارمیشن کو ٹیلی پورٹ کیا جاتا ہے
ہو سکتا ہے کہ اب بھی سمجھائے گے طریقہ کار سے آپ اس کو ابھی نہ سمجھ سکے ہو تو اس لیے اسے ایک عام سی مثال سے سمجھتے ہیں ۔اور جانتے ہیں کہ اس سے کمیونیکیشن ممکن  ہو سکے گی اور ہم جانیں گے کہ کیسے کوانٹم ٹیلی پورٹیشن کمیونیکیشن کو ہیکنگ پروف بنا سکتی ہے ۔
فرض کریں کہ علی کے پاس کوئی خفیہ معلومات ہے جسے اس نے اپنے پاس موجود کوانٹم پارٹیکل کے سپن سٹیٹ میں انکوڈ کر رکھا ہے جیسے ہی اگر سپن اپ ہے تو انکوڈیڈ بائنری نمبر ہے 1 اور اگر سپن ڈاؤن ہے تو ان کوڈیڈ بائنری نمبر ہے 0 ۔فرض کریں کہ وہ خود سے دور احمد کو یہ بتانا چاہتا ہے کہ کہ اس کے پاس بائنری نمبر 1 ہے اور یہ بات وہ اسے فون کر کے، فیکس کرکے یا ای میل کرکے بتا سکتا ہے لیکن ان میں سے کوئی بھی کمیونیکیشن چینل محفوظ نہیں ہے کہنے کا مطلب یہ ہے کہ اس کے فون کو ٹیپ کرکے کوئی بھی اس کی بات سن سکتا ہے اگر وہ ای میل بھیجتا ہے تو کوئی اسے ہے کرکے اس کے بارے میں جان سکتا ہے یا پھر اگر وہ فیکس بھی کرے تو اس کی معلومات کو کوئی تیسرا شخص حاصل کر سکتا ہے لیکن کوانٹم ٹیلی پورٹیشن ایک ایسا طریقہ ہے جس کے ذریعے وہ اپنا پیغام بھی احمد تک پہنچا سکتا ہے اور اسے کوئی تیسرا آدمی حاصل بھی نہیں کر پائے گا ۔کیسے ؟
علی کے پاس پہلے سے ہی ایک کوانٹم پارٹیکل ہے جس میں اس کی طرف سے ان کوڈیڈ پیغام موجود ہے اس میسیج کو احمد تک حفاظت سے پہچانے کے لئے اس کو ضرورت ہو گی دو انٹینگل پارٹیکل کی ایک کو وہ اپنے پاس رکھے گا اور دوسرے انٹینگل پارٹیکل کو وہ احمد  کو دے دے گا اب وہ اپنے پاس موجود دونوں انٹینگل پارٹیکلز کی مجموعی حالت کو مییر کرے گا جسے ہم بل میرمنٹ کہتے ہیں اس میرمنٹ کے ذریعے اسے یہ پتہ نہیں چلے گا کہ اس کے پاس موجود کون سےکوانٹم پارٹیکل کا سٹیٹ کونسا ہے لیکن اسے دونوں کے بیچ کے ریلیشن  کا پتہ ضرور چل جائے گا مثال کے طور پر فرض کر لیتے ہیں کہ اسے پتہ چل جاتا ہے کہ اس کے پاس موجود دونوں کوانٹم پارٹیکلز کا اسٹیٹ دوسرے سے الٹا ہے تو اسے وہ نوٹ کر لیتا ہے جیسے ہی علی نے اپنے پاس موجود دونوں کوانٹم  پارٹیکلز کے سٹیٹی کو مییر کیا جس سے ایک آرٹیکل نے دوسرے پارٹی کلب متاثر کیا اور اس طرح سے دونوں کی کوانٹم سٹیٹ کا بھی ایک دوسرے پر اثر ہوا ۔اب علی کے پاس موجود دونوں پارٹیکلز کی مجموعی حالت ایک جیسی ہیں اور یہ دونوں پارٹی کل احمد کے پاس پڑے پارٹیکل سے متاثر ہیں کیونکہ علی کے پاس موجود وہ معلومات جو وہ احمد کو بیجھنا چاہتا تھا اس نے وہ بھی اس آرٹیکل میں ضم کرتی ہے اس طرح اس کا کوانٹم  سٹیٹ ٹرانسفر ہو کہ  احمد کے پاس موجود کوانٹم پارٹیکل میں پہنچ گیا لیکن ایسا ہوتے ہیں اب ان دونوں پارٹیکل کے درمیان کا انٹینگلمنٹ ٹوٹ چکا ہے  جبکہ علی کے پاس موجود دونوں پارٹیکاز آپس میں اینٹینگل ہو چکے ہیں  جس سے ہوا یہ کہ جو معلومات علی احمد کے پاس پہنچانا چاہتا تھا وہ احمد کے پاس پہنچ چکے ہے جبکہ علی کے پاس کھڑے ہوئے کوانٹم پارٹیکل کی اسٹیٹ اب بدل چکی ہیں اور علی جو احمد کو بھیجنا چاہتا تھا وہ اس کے پاس پہنچ چکا ہے اب بس اسے حاصل کرنے کی ضرورت ہے جبکہ احمد کو ابھی تک نہیں پتا کہ اس کے پاس موجود اس پارٹیکل میں کیا معلومات پہنچی ہے  اب علی ایک کلاسیکل انفارمیشن چینل کے ذریعے اسے معلومات دیتا ہے جس میں وہ بتاتا ہے کہ دونوں کا سٹیٹ ایک دوسرے کے الٹ ہے اس طرح اگر کوئی تیسرا شخص اس معلومات کو ہے کر بھی لے تو اسے بس اتنا ہی پتہ چلے گا کہ دونوں کا سٹیٹ ایک دوسرے کے الٹ  ہے اس لیے اس بات کی کوئی سمجھ نہیں آتی تو اس معلومات کو حاصل کرنے کے بعد وہ کچھ نہیں پائے گا بہرحال جب حامد کو یہ پتہ چلے گا تو وہ اپنے پاس موجود کوانٹم پارٹیکل کو مییر کرے گا کیونکہ یہ انٹینگل تھا اس لئے اس کا سٹیٹ اسی وقت بدل چکا تھا جب علی نے اس پر اپنے پاس موجود اس کے جڑواں پر آپریشن کیا تھا اگر احمدکو اس کا سٹیٹ اپ ملتا ہے تو  وہ سمجھ جائے گا کہ جب  علی نے اس کے پاس موجود پارٹیکل کا مشاہدہ کیا ہوگا تو اسکا اسٹیٹ ڈاؤن ہوگااب وہ ہے علی کی طرف سے بھیجی گئی معلومات پردہان دے گا جس میں اس نے کہا تھا کہ دونوں کا سپن ایک دوسرے کے الٹ ہے کیونکہ اسے اپنے پاس موجود جمعہ پارٹیکل کا سپن الٹا یعنی ڈاؤن ہوگا جبکہ دوسرے پارٹیکل جس کی معلومات علی احمد کے پاس بھیجنا چاہتا تھا اس کا سپن اپ ہوگا اس معلومات کی بنا پر اگر احمد اپنے پاس موجود پارٹیکل کی توڑ پھوڑ کرے تو اسے اس پارٹیکل کا سٹیٹ مل جائے گا جس کی معلومات اسے بھیجی گئی تھی یعنی معلومات اس کے پاس حفاظت سے پہنچ چکی ہیں کیونکہ علی کے پاس موجود اصلی پارٹیکل کا سٹیٹ اب بدل چکا ہے اس لیے اب وہ اصلی معلومات ٹیلی پورٹ ہوکر  احمد کے پاس پہنچ چکی ہے
کیونکہ اس طرح کی کمیونیکیشن میں بیٹس کی جگہ کیو بیٹس اور نارمل کمپیوٹر کی جگہ کوانٹم کمپیوٹر کا استعمال ہوگا یہ موجودہ کمیونیکیشن سسٹم سے  تیز بھی ہوگا اور محفوظ بھی ۔لیکن اس طرح کے کمیونیکیشن سسٹم کو کامیاب بنانے کے لئے ہمیں ایک نہیں بلکہ کئی اینٹینگل پارٹیکلز کی ضرورت ہوگی کیونکہ ایک اینٹینگل جوڑے کے ذریعے ہم صرف ایک کیو بیٹ کو ہی ٹیلی پورٹ کر سکتے ہیں
اس تحریر میں میں نے کل ٹیلی فوڈیشن کو ایک آسان زبان میں سمجھانے کی کوشش کی ہے لیکن اس کے پیچھے ایک پچیدہ میں بھی ہے جس کو سمجھنے کے لئے آپ کو بل انٹینگلمنٹ اور اس سے جڑے باقی تصورات کو سمجھنے کی ضرورت ہے جو کہ بہت ہی پیچیدہ ہو سکتے ہیں
اس کے علاوہ میں لنک دے رہا ہوں اس پر جاکر آپ کونٹنگ ٹیلی پٹیشن کو ویجولائزیشن سے مزید سمجھ سکتے ہیں
https://sites.google.com/view/quantum-kit/
آج کی تحریر کافی مشکل ہے لیکن یہ مضمون کا تقاضہ  تھا کہ اسے ایسے ہی بیان کیا جاتا اس لیے اسے سمجھنے والے ضرور سمجھ جائیں گے ۔۔!!
شکریہ


Comments

Popular posts from this blog

کیا سائنسدانوں نے مصنوعی خلیہ بنا لیا ؟

کیا سائنس دانوں نے مصنوعی خلیہ بنا لیا؟ تحریر: ڈاکٹر نثار احمد پچھلے کچھ دنوں سے کچھ فورمز پر یہ بحث چھڑی ہوئی ہے کہ کچھ حیاتیات دانوں نے تجربہ گاہ میں مصنوعی خلیے تیار کر لئے ہیں۔ تفصیلات اس لنک میں۔ https://www.sciencemag.org/news/2018/11/biologists-create-most-lifelike-artificial-cells-yet اس تمام بحث سے پہلے آپ کو یہ جاننا ہوگا کہ خلیہ دراصل ہوتا کیا ہے۔ خلیے کی تعریف ہم یوں کرسکتے ہیں کہ یہ زندگی کی ساختی اور فعلیاتی اکائی ہے۔ ایک خلیے کے اندر سینکڑوں مختلف عضویے ہوتے ہیں جو مل جل کر فیکٹری کی طرح کام کرتے ہیں۔ اس کے علاوہ متعدد اینزائمز بھی موجود ہوتے ہیں جو کیمیائی تعاملات میں عمل انگیز کے طور پر کام کرتے ہیں۔ اس کے علاوہ یہ خلیہ تقسیم در تقسیم ہو کر اپنے جیسے مزید خلیے بنا سکتا ہے۔ کچھ جاندار ایسے بھی پائے جاتے ہیں جو صرف ایک خلیے پر مشتمل ہوتے ہیں۔ انہیں ہم یک خلوی جاندار بھی کہتے ہیں۔ اوپر دئیے گئے آرٹیکل میں جو کہ سائنس جریدے میں پبلش ہوا کوئی بہت زیادہ نیا کارنامہ نہیں کیا گیا۔ اس پیپر میں بتایا گیا کہ کہ تجربہ گاہ میں کچھ خلیوں سے ملتی جلتی ساختیں بنائی گئیں جن م...

سانڈے کا تیل میڈیکل سائنس کی نظر میں !

سانڈے کا تیل میڈیکل سائنس کی نظر میں ! جنسی و نفسیاتی بیماریاں اور جانوروں کا قتل عام ۔۔۔! (18+ تحریر) __________________ تحقیق و تحریر : حسن خلیل چیمہ ______________________________________________ نوٹ : ( یہ تحریر عوامی آگاہی اور معصوم جانوروں کے بے جا قتل عام کو روکنے کے لئے اور عوام تک جدید میڈیکل سائنس کی رخ سے درست معلومات پہنچانے کی ایک کوشش ہے سانڈے کے تیل کے بارے میں اپنی رائے اور تجربے کو ایک طرف رکھ کہ اس تحریر کا مکمل مطالعہ کرنے کے بعد ہی اختلاف کریں شکریہ ) (خواتین اس تحریر کو پڑھنے سے اجتناب کریں ) ہمیشہ سے یہ دیکھ کر دکھ ہوتا ہے کہ جہاں دنیا سائنس و ٹیکنالوجی میں ترقی کرتی جا رہی ہے وہی ہم پاکستانی آج بھی اسی زمانہ قدیم میں جی رہیں ہیں جس میں انسانی سائنسی انقلاب سے پہلے ہمارے اجداد نے زندگی  گزاری  آج بھی ہم اسی طریقہ کار پر چل رہیں ہیں جہاں بیمار ہونے پر  اندازے سے دوا دینے والا کوئی حکیم ہوتا تھا جو مختلف جڑی بوٹیوں کو ملا کر کوئی ایسی دوا دے دیتا تھا جو وقتی طور ریلیف فراہم کرتی تھی کیونکہ ان وقتوں میں لوگوں کی خوارک میں زیادہ ملاوٹ نہ تھ...

قرآن اور سرن لیبارٹری

سورة انبیاء کی آیت نمبر 30 اور سرن لیبارٹری ۔۔۔!!! ____________________ سورۃ الانبیاء آیت نمبر 30 میں ربِ کائنات فرماتا ہے کہ اَوَلَمۡ يَرَ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡۤا اَنَّ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضَ كَانَتَا رَتۡقًا فَفَتَقۡنٰهُمَا‌ؕ وَجَعَلۡنَا مِنَ الۡمَآءِ كُلَّ شَىۡءٍ حَىٍّ‌ؕ اَفَلَا يُؤۡمِنُوۡنَ‏ ﴿۳۰﴾ کیا کافروں نے نہیں دیکھا کہ آسمان اور زمین دونوں ملے ہوئے تھے تو ہم نے جدا جدا کردیا۔ اور تمام جاندار چیزیں ہم نے پانی سے بنائیں۔ پھر یہ لوگ ایمان کیوں نہیں لاتے؟  ﴿۳۰﴾ معزز قارئین علماء کے نزدیک یہ آیت بگ بینگ سے متعلق ہے کہ ایک عظیم الشان دھماکہ ہوا جس سے اربوں میل دور تک دھواں پھیل گیا پھر اس دھوئیں میں سے  ٹھوس اجسام ستارے ،سیارے اور کومینٹس وغیرہ بننے کا عمل شروع ہوا ایک اور جگہ  ارشاد ہے کہ ثُمَّ اسۡتَوٰىۤ اِلَى السَّمَآءِ وَهِىَ دُخَانٌ فَقَالَ لَهَا وَلِلۡاَرۡضِ ائۡتِيَا طَوۡعًا اَوۡ كَرۡهًاؕ قَالَتَاۤ اَتَيۡنَا طَآٮِٕعِيۡنَ‏ ﴿۱۱﴾ پھر آسمان کی طرف متوجہ ہوا اور وہ دھواں تھا تو اس نے اس سے اور زمین سے فرمایا کہ دونوں آؤ (خواہ) خوشی سے خواہ ناخوشی سے۔ انہوں...