جوڑوں کا درد (Arthritis)
تحریر: ڈاکٹر نثار احمد
جوڑوں کا دور آج کل ایک اہم بیماری ہے بالخصوص ادھیڑ عمر لوگوں میں اس کا تناسب بہت زیادہ ہے۔ مردوں کی نسبت عورتوں میں یہ بیماری زیادہ پائی جاتی ہے۔ جوڑوں کا درد کوئی ایک بیماری نہیں بلکہ جوڑوں کے درد کی مختلف اقسام ہیں۔ مختلف اقسام کے جوڑوں کے درد کی وجوہات بھی مختلف ہوتی ہیں۔ اس آرٹیکل میں ہم مختلف اقسام کے جوڑوں کے درد اور ان کی وجوہات کا جائزہ لیں گے۔
1۔ اوسٹیو آرتھرائیٹس
جوڑوں کے درد کی یہ قسم سب سے زیادہ پائی جاتی ہے۔ اس کی وجہ انسانی جوڑوں کی لمبی ہڈیوں پر موجود کارٹیلج کا کم ہو جانا ہے۔ یہ کارٹیلیج جوڑوں کو رگڑ سے بچاتی ہے اور اگر یہ کم یا ختم ہو جائے تو جوڑ کے اندر رگڑ سے انفیکشن ہو جاتی ہے۔ پہلے پہل اس بیماری کا کوئی علاج نہیں تھا لیکن اب اس کا علاج دریافت ہو چکا ہے اور بہت سے لوگ اس سے شفا یاب بھی ہو رہے ہیں۔ کارٹیلیج کی یہ کمی عام طور پر کیلشیم کی کمی سے ہوتی ہے۔ اس لئے خوراک میں کیلشیم کی موزوں مقدار کا موجود ہونا بہت ضروری ہے۔
2۔ رھیوماٹائیڈ آرتھرائیٹس
یہ ایک autoimmune disorder ہے۔ اس بیماری میں ہمارے جسم کا مدافعتی نظام جوڑوں میں موجود کارٹیلیج پر حملہ کردیتا ہے جس سے اس میں انفیکشن ہو جاتی ہے۔ اس بیماری میں چھوٹے بڑے تمام جوڑ متاثر ہو سکتے ہیں۔ بعض اوقات اس بیماری سے انسان معذور بھی ہوسکتا ہے۔ اس بیماری کا مکمل علاج ابھی دریافت نہیں ہوا لیکن ادویات کی بدولت مریض کی زندگی کی کوالٹی کو بہتر کیا جاسکتا ہے۔
3۔ سورائیٹک آرتھرائیٹس
یہ بھی رھیوماٹائید آرتھرائیٹس کی طرح ایک autoimmune disorder ہے۔ فرق صرف اتنا ہے کہ اس بیماری میں جوڑوں کے شدید درد کے ساتھ ساتھ جلد کے کچھ حصوں پر چھلکے بن جاتے ہیں جسے سورائسز Psorisis کہتے ہیں۔ اس کا بھی مکمل علاج دریافت نہیں ہوا۔
4۔ گوٹی آرتھرائیٹس
یہ بیماری خون میں یورک ایسڈ کے بڑھنے کی وجہ سے ہو سکتی ہے۔ اس میں بھی جسم کے کئی جوڑ متاثر ہوسکتے ہیں۔ یورک ایسڈ کی مقدار کو کنٹرول کرکے اس پر قابو پایا جاسکتا ہے۔
5۔ سیپٹک آرتھرائیٹس
یہ بیماری جوڑوں میں وائرس یا بیکٹیریا کی انفیکشن کی وجہ سے ہوتی ہے۔ اس کا علاج مختلف اینٹی بائیوٹکس سے کیا جا سکتا ہے۔
6۔ ری ایکٹیو آرتھرائیٹس
جوڑوں کے درد کی یہ قسم جسم میں موجود کسی دوسری انفیکشن کی وجہ سے ہو سکتی ہے۔ اس کا علاج بھی انفیکشن کا پتا لگا کر کیا جاتا ہے۔
7۔ جووینائیل اڈیوپیتھک آرتھرائیٹس
جوڑوں کا درد اگر 16 سال سے کم عمر میں شروع ہو جائے تو اس کی وجہ یہ بیماری ہوسکتی ہے۔ اس کو بچوں کی رھیوماٹائیڈ آرتھرائیٹس بھی کہا جاتا ہے۔ کچھ بچوں میں اس بیماری کی وجہ سے معذوری بھی بن سکتی ہے۔
جوڑوں کا درد مختلف وجوہات کی بنا پر ہو سکتا ہے اس لئے اس کے علاج کیلئے صحیح تشخیص بہت ضروری ہے۔ جوڑوں کے درد کے سپیشلسٹ ڈاکٹر کو rheumatalogist کہا جاتا ہے۔ اگر آپ کو جوڑوں کے درد کی شکایت ہو تو فورن کسی اچھے رھیوماٹالوجسٹ سے رجوع کریں۔
تحریر: ڈاکٹر نثار احمد
جوڑوں کا دور آج کل ایک اہم بیماری ہے بالخصوص ادھیڑ عمر لوگوں میں اس کا تناسب بہت زیادہ ہے۔ مردوں کی نسبت عورتوں میں یہ بیماری زیادہ پائی جاتی ہے۔ جوڑوں کا درد کوئی ایک بیماری نہیں بلکہ جوڑوں کے درد کی مختلف اقسام ہیں۔ مختلف اقسام کے جوڑوں کے درد کی وجوہات بھی مختلف ہوتی ہیں۔ اس آرٹیکل میں ہم مختلف اقسام کے جوڑوں کے درد اور ان کی وجوہات کا جائزہ لیں گے۔
1۔ اوسٹیو آرتھرائیٹس
جوڑوں کے درد کی یہ قسم سب سے زیادہ پائی جاتی ہے۔ اس کی وجہ انسانی جوڑوں کی لمبی ہڈیوں پر موجود کارٹیلج کا کم ہو جانا ہے۔ یہ کارٹیلیج جوڑوں کو رگڑ سے بچاتی ہے اور اگر یہ کم یا ختم ہو جائے تو جوڑ کے اندر رگڑ سے انفیکشن ہو جاتی ہے۔ پہلے پہل اس بیماری کا کوئی علاج نہیں تھا لیکن اب اس کا علاج دریافت ہو چکا ہے اور بہت سے لوگ اس سے شفا یاب بھی ہو رہے ہیں۔ کارٹیلیج کی یہ کمی عام طور پر کیلشیم کی کمی سے ہوتی ہے۔ اس لئے خوراک میں کیلشیم کی موزوں مقدار کا موجود ہونا بہت ضروری ہے۔
2۔ رھیوماٹائیڈ آرتھرائیٹس
یہ ایک autoimmune disorder ہے۔ اس بیماری میں ہمارے جسم کا مدافعتی نظام جوڑوں میں موجود کارٹیلیج پر حملہ کردیتا ہے جس سے اس میں انفیکشن ہو جاتی ہے۔ اس بیماری میں چھوٹے بڑے تمام جوڑ متاثر ہو سکتے ہیں۔ بعض اوقات اس بیماری سے انسان معذور بھی ہوسکتا ہے۔ اس بیماری کا مکمل علاج ابھی دریافت نہیں ہوا لیکن ادویات کی بدولت مریض کی زندگی کی کوالٹی کو بہتر کیا جاسکتا ہے۔
3۔ سورائیٹک آرتھرائیٹس
یہ بھی رھیوماٹائید آرتھرائیٹس کی طرح ایک autoimmune disorder ہے۔ فرق صرف اتنا ہے کہ اس بیماری میں جوڑوں کے شدید درد کے ساتھ ساتھ جلد کے کچھ حصوں پر چھلکے بن جاتے ہیں جسے سورائسز Psorisis کہتے ہیں۔ اس کا بھی مکمل علاج دریافت نہیں ہوا۔
4۔ گوٹی آرتھرائیٹس
یہ بیماری خون میں یورک ایسڈ کے بڑھنے کی وجہ سے ہو سکتی ہے۔ اس میں بھی جسم کے کئی جوڑ متاثر ہوسکتے ہیں۔ یورک ایسڈ کی مقدار کو کنٹرول کرکے اس پر قابو پایا جاسکتا ہے۔
5۔ سیپٹک آرتھرائیٹس
یہ بیماری جوڑوں میں وائرس یا بیکٹیریا کی انفیکشن کی وجہ سے ہوتی ہے۔ اس کا علاج مختلف اینٹی بائیوٹکس سے کیا جا سکتا ہے۔
6۔ ری ایکٹیو آرتھرائیٹس
جوڑوں کے درد کی یہ قسم جسم میں موجود کسی دوسری انفیکشن کی وجہ سے ہو سکتی ہے۔ اس کا علاج بھی انفیکشن کا پتا لگا کر کیا جاتا ہے۔
7۔ جووینائیل اڈیوپیتھک آرتھرائیٹس
جوڑوں کا درد اگر 16 سال سے کم عمر میں شروع ہو جائے تو اس کی وجہ یہ بیماری ہوسکتی ہے۔ اس کو بچوں کی رھیوماٹائیڈ آرتھرائیٹس بھی کہا جاتا ہے۔ کچھ بچوں میں اس بیماری کی وجہ سے معذوری بھی بن سکتی ہے۔
جوڑوں کا درد مختلف وجوہات کی بنا پر ہو سکتا ہے اس لئے اس کے علاج کیلئے صحیح تشخیص بہت ضروری ہے۔ جوڑوں کے درد کے سپیشلسٹ ڈاکٹر کو rheumatalogist کہا جاتا ہے۔ اگر آپ کو جوڑوں کے درد کی شکایت ہو تو فورن کسی اچھے رھیوماٹالوجسٹ سے رجوع کریں۔

Comments
Post a Comment