#5G (Fifth Generation Network)
#فائیو_جی جس کے فائدے کم اور نقصانات زیادہ بتائے جاتے ہیں یا پھر یہ محض ایک سازشی پراپیگنڈہ ہے ۔۔۔!!
کیا ہوگا فائیو جی کا مستقبل ۔۔۔۔؟
_______________________________
تحریر پیشکش: - حسن خلیل چیمہ
________________________________________________
انٹرنیٹ آج ہماری زندگی کا ایک اہم حصہ بن چکا ہے بات چاہے ریسرچ کی ہو ،سپیس ایکسپلوریشن کی ہو یا پھر ٹیکنیکل ایڈوانسمنٹس کی ،بینکنگ سسٹم کی ہو یا پھر ذرایع مواصلات کی ۔انٹرنیٹ زندگی کے ہر میدان میں ایک اہم کردار ادا کر رہا ہے ۔
جیسے جیسے انٹرنیٹ نے زندگی کے ہر میدان میں اپنی جگہ بنائی ہے اسی طرح اس کا استعمال بڑھتا جا رہا ہے اور جیسے جیسے اس کا استعمال بڑھ رہا ہے ویسے ویسے ڈیٹا ٹرانسفر اور سپیڈ کے مسائل پیدا ہو رہے ہیں اس لیے ضروری ہوچکا ہے کہ بہترین کارکردگی کے لیے انٹرنیٹ کی سپیڈ کو بڑھا دیا جائے تاکہ اس سے منسلک بڑھتے ہوئے آلات اور صارفین اس سے ہمیشہ فائدہ اٹھاتے رہیں ۔
اس ضمن میں 5 جی ٹیکنالوجی کا تصور پیش کیا گیا ہے جس کی مدد سے نا صرف بڑھتی ہوئی انٹرنیٹ ٹریفک کو اعتدال میں لایا جا سکتا ہے بلکہ مستقبل میں انٹرنیٹ سے متعلق آنے والے مسائل کا بھی سدباب کیا جاسکے گا ۔
لیکن 5 جی کے جہاں بہت سے فائدے بیان کیے جاتے ہیں وہی اس کے نقصانات کی بھی ایک لمبی فہرست ہے
جیسا کہ
5 جی کے ٹاورز سے خارج ہونے والی ریڈی ایشنز انسانی جانوں اور پرندوں کے لیے دہی نقصان دہ ہیں کیا واقعی ایسا ہے ؟
یہ کیسے کام کرے گا ؟
اس کے لئے ہمیں کیا قیمت چکانا پڑے گی ؟
اور اس کا کیا مستقبل ہے ؟
ان سب سوالوں کے جوابات جانے گے ہم آج کی اپنی اس دلچسپ سے تحریر میں ۔۔۔!!!
تو چلیں شروع کرتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
________________________________________________
آخر یہ فائیو جی ہے کیا ؟
فائیوجی سے متعلق بات کرنے سے پہلے چلے جان لیتے ہیں کہ آخر یہ " جی " یعنی جنریشن سے کیا مراد ہیں ؟
جنریشن سے مراد موبائل فونز میں استعمال ہونے والے نیٹ ورک کہ مختلف مراحل ہیں جنہیں ہم ون جی ،ٹو جی، تھری جی اور فور جی کہتے ہیں ۔
اگر بات کریں "ون جی" کی تو اس سے مراد ایسا نیٹورک ہے جو ہمیں صرف بات کرنے اور بات سننے کی سہولت فراہم کرتا تھا
اس کے بعد ٹوجی سے مراد ایسا نیٹ ورک ہے جہاں ہمیں بات کرنے اور سننے کے علاوہ ڈیٹا اور میسجز کی بھی سہولت حاصل تھی
اس کے بعد آیا تھری جی نیٹ ورک جس میں ہمیں اوپر بیان کردہ تینوں سہولیات کے علاوہ ویڈیو کالنگ اور تیز ترین انٹرنیٹ کی سہولت فراہم کی گئی
جبکہ فور جی نیٹ ورک تھری جی نیٹ ورک کا جدید شکل کہوں تو غلط نہ ہوگا کیوں کہ یہاں آپ کو انٹرنیٹ سے متعلق درپیش مسائل کاحل مل گیا اور ویڈیو کالنگ اور سٹریمنگ سے متعلق جو مشکلات تھیں وہ بھی حل ہو گئی ۔
اب بات کریں بات کریں فائیو جی کی تو پچھلی تمام جنریششنز میں دی جانے والی سہولیات کے ساتھ میرے مطابق یہاں ربوٹک ٹیکنالوجی کا اضافہ کیا جائے گا اور ربوٹس کو مزید جدید اور قابل بنانے میں فائیو جی اہم کردار ادا کر سکتی ۔
فائیو جی کو لے کر یہاں پر آپ کے ذہن میں ایک سوال پیدا ہوگا کہ اگر فور جی بہترین کام کر رہا ہے تو پھر کیوں ایک ایسی ٹیکنالوجی کے لانے کی کوشش کی جا رہی ہے جس پر ایک طرف تو بے انتہا پیسہ خرچ ہوگا بلکہ دوسری طرف یہ انسانیت کے لئے ایک خطرہ بھی مانا جاتا ہے
تو اس کا جواب کچھ یوں ہے کہ جہاں انٹرنیٹ کی سپیڈ کو بڑھا دیا گیا ہے وہی اس سے متعلق آئے دن نئے آلات متعارف کروائے جاتے ہیں اور ان آلات کو استعمال کرنے والوں کی تعداد میں دن بدن اضافہ ہوتا جا رہا ہے جس کی وجہ سے انٹرنیٹ ٹریفک پر لگ گیا ہے جام کیونکہ ہمارے پاس جو انٹرنیٹ ہائی وے ہےوہ اتنا زیادہ ڈیٹا ٹرانسفر نہیں کر پا رہی کیونکہ اس میں لائنز محدود ہیں
اگر بات کریں لائنز کی تو آج کے دور میں آپ اسے ایسے سمجھ لو کہ اگر بات کریں وائی فائی کی، بلوتوتھ ،موبائل نیٹ ورکز کی یا عام استعمال ہونے والے مائکروویو اون کی تو یہاں ہم جو فریکوئنسی استعمال میں لیتے ہیں وہ زیادہ سے زیادہ ہوتی ہے 6 گیگا ہرٹز ۔
تو اس محدود فریکوئینسی کے ساتھ مسئلہ یہ ہے کہ ہم زیادہ ڈیٹا ٹرانسفر نہیں کر پا رہے ہیں کیونکہ بہت زیادہ آلات کے منسلک ہونے کی وجہ سے ڈیٹا ٹریفک پوری طرح سے جام ہو چکا ہے اور ڈیٹا ٹرانسفر کپیسٹی دن بدن کم ہو رہی ہے ۔
اگر یہاں بات کرو موبائل فون نیٹ ورکس کی تو اگر آپ کو ہمیشہ انٹرنیٹ تیز چلانا ہے اور تیز انٹرنیٹ کا مزہ لینا ہے اور آگے آپ کو اگر بہت سارے ڈوائسس چاہیے تو آپ کو اس کا متبادل تلاش کرنا پڑے گا یعنی یہاں آپ کو ایک دوسری فریکوئنسی کی طرف جانا پڑے گا جیسے ہم بولتے ہیں "ملی میٹر ویو" جو کہ ہوتی ہے 30 گیگا ہرٹز سے 300 گیگا ہرٹز کے درمیان تو اگر ہم کو مل جائے یہ فریکوئنسی تو کبھی بھی ڈیٹا ٹریفک میں جام نہیں لگے گا ۔
تو یہاں پر فائیوجی ٹیکنالوجی سے جو سب سے پہلا پوائنٹ نکل کے آتا ہے وہ ہے ملی میٹر ویو ٹیکنالوجی کا ۔
تو یہاں پر ہم اتنے مرضی آلات استعمال کریں اگر ہم اس ٹیکنالوجی کو استعمال میں لیتے ہیں تو ہمیں کبھی بھی کسی قسم کی دقت کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا ۔
________________
فائیو جی کام کیسے کرے گا ؟
فائیو جی ٹیکنالوجی کے بارے میں ابھی تک ہم یقین سے کچھ نہیں کہہ سکتے یہ مکمل طور پر کمپنیوں پر منحصر ہے لیکن جن کمپنیوں نے ابھی تک فائیو جی کی ٹیسٹنگ کی ہے آج ہم ان کو کمپنیوں کی بات کر سکتے ہیں ۔ملی میٹر ویوز یعنی 30 گیگا ہرٹز سے 300 گیگا ہرٹر یہ وہ بینڈوتھ ہے جو آج تک کسی بھی ٹیلی کام کمپنی نے استعمال نہیں کی اور فائیو جی ٹیکنالوجی میں اسی بینڈوتھ کا استعمال کیا جائے گا جس کا ذکر اوپر کر چکا ہوں زیادہ بینڈوتھ ہونے کی وجہ سے ہم زیادہ سے زیادہ ڈیوائسز کو ایک وقت میں کنیکٹ کر سکتے ہیں لیکن یہ ملی میٹر ویوز زیادہ فاصلے تک ٹریول نہیں کر سکتیں عمارتیں درخت یا کوئی بھی ٹھوس چیز ان کو جذب کر سکتی ہے جس سے معلومات ضائع ہونے کا خدشہ رہے گا اب اس مسئلے کو حل کرنے کے لئے چھوٹے چھوٹے سیل ٹاورز کو ایک دوسرے کے کافی نزدیک لگایا جائے گا اور یہ ایک سگنل کو ایک بیم کی شکل میں اپنے ٹارگٹڈ فون تک پہنچا پائے گا
2ملٹیپل ان پُٹ ملٹیپل آؤٹ پٹ:--
جو بھی ڈیٹا سیل ٹاورز ٹرانسمٹ یا رسیو کرتے ہیں اس میں بنیادی کام ٹاور میں لگے انٹینا کا ہوتا ہے آج ایک ٹاور میں تقریبا 10 سے 13 انٹینا لگے ہوتے ہیں لیکن فائیو جی کے ٹاور میں یہ بڑھ کر تقریبا سو کے برابر ہو جائیں گے
3--فل ڈوپلیکس :
پہلے موبائل فونز میں ایک وقت میں ایک ہی آدمی بول سکتا تھا اور دوسرا آدمی صرف اس کی باتوں کو سنتا تھا اسی لئے "اور این آؤٹ " جیسے کوڈ ورڈز کا استعمال کیا جاتا تھا تاکہ سامنے والے انسان کو پتہ چل جائے کہ اس نے اپنی بات مکمل کر لی ہے کیونکہ بیسک انٹینا ایک وقت میں ایک ہی کام کرسکتا تھا یا تو ٹرانسمیٹر کا یا پھر رسیور کا ۔اس کو آپ ریل ٹریک کی طرح بھی سمجھ سکتے ہیں یعنی اگر ایک ٹریک پر دو ٹرینیں آمنے سامنے سے آ جاتی ہیں تو وہ ایک وقت میں ایک ٹریک سے نہیں نکل پائیں گی لیکن فل ڈوپلیکس میں ہم ایک سرکلر بائی پاس بنا دیں گے اور وہ ٹکرانے کی بجائے الگ الگ ٹریک سے گزر جاۓ گیں۔ جس سے ڈیٹا ٹریفک کا مسئلہ حل ہوجائے گا اور یوں ڈیٹا ٹرانسفر اور انٹرنیٹ سپیڈ میں کبھی کمی نہیں آئے گی
_______________________________
فوائد :
ابھی تک ہمارے پاس تیز ترین نیٹ ورک 4G LET ہے جو ویب سرفنگ ،یو ٹیوب پر ویڈیو دیکھنے اور ایسے ہی لوکل سائٹس کو استعمال کرنے کے لیے بہت مفید ہے لیکن بہت سی ایسی انڈسٹریز ہیں جو فائیو جی کے آنے کے بعد پوری طرح سے بدل سکتی ہیں جیسے ہیلتھ کیئر انڈسٹری اور ایوی ایشن انڈسٹری اگر ہم دیہاتی علاقوں کی بات کرے تو وہاں پر ایک اچھا ڈاکٹر نہ ہونے کی وجہ سے کافی لوگوں کو اپنی جان گنوانی پڑ جاتی ہے اس لیے اگر فائیو جی ان جگہوں پر پہنچ جاتی ہے تو ڈاکٹر کلینکل ویری ایبل اور ہیلتھ مونیٹرنگ ڈیوائسز کی مدد سے اس مریض کو ریموٹلی چیک اپ کر سکتا ہے اور یہ بالکل حقیقی وقت real time میں ہو پائے گا آج اگر ہم فور جی کی مدد سے ایسا کچھ کرنے کی کوشش کریں گے تو فور جی کی لیٹنسی قریب 300 سے 400 ملی سیکنڈ کی ہے وہی فائیو جی کی لیٹنسی کم ہو کر 30 سے 40 ملی سیکنڈ ہو جاتی ہے جیسے اگر وہ ڈاکٹر امریکہ میں بیٹھ کے پاکستان کے گاؤں میں آپریشن کرنے کے لیے کٹ لگائے گا تو امریکہ میں کٹ لگانے کے 30 ملی سیکنڈ بعد ہیں یہاں پاکستان میں انٹرنیٹ سے جڑی مشین وہی موومنٹ 30 ملی سیکنڈ بعد پرفارم کر دے گی یعنی وہ مشین ڈاکٹر کی موومنٹ کو ٹھیک 30 ملی سیکنڈ بات کاپی کر پائے گی ۔
اس کے بعد یہ میں سہولت فراہم کرے گا ملٹی ٹاسکنگ کی یعنی اگر آپ کال کر رہے ہیں تو آپ ڈیٹا بھی استعمال کرسکتے ہیں اس کے ساتھ کچھ ڈاؤن لوڈ بھی کر سکتے ہیں اور کچھ اپلوڈ بھی اس کی وجہ سے آپ کا کوئی بھی کام خراب نہیں ہونے والا یا کوئی مسئلہ نہیں آنے والا سب کچھ ایک ساتھ کام کرے گا
اس کے علاوہ اس کی وجہ سے ہمیں انٹرنیٹ کی سپیڈ بہت زیادہ ملے گی جس میں کم سے کم 1 گیگا بائٹ سے لے کر دس گیگا بائیٹس تک ممکن ہے جو کہ بہت زیادہ ہیں
اس کے علاوہ بہت سی ایسی ڈیوائسز ہوگی انٹرنیٹ سے جڑی جائیگی اور آرام سے اپنا کام کرتی رہیں گی
اس کے علاوہ اس کے ذریعے ٹریفک کے نظام کو بہتر سے بہترین بنایا جا سکتا ہے
اس کے علاوہ خود کار کاریں اور دیگر ایسی مشینیں انٹرنیٹ کی تیز سپیڈ کی وجہ سے حقیقی وقت میں کنٹرول کی جا سکیں گی اور ان کی بدولت انسانوں کی ضرورت کو کم کیا جا سکے گا
_______________________________
نقصانات: --
فائیو جی نیٹ ورک آنے سے پہلے کافی ریسرچرز اور ڈاکٹرز انسانی صحت کو مدنظر رکھتے ہوئے کافی تنقید کا نشانہ بنا رہے ہیں اور اس کی کئی وجوہات ہیں ہماری جلد جو کہ ایک انٹینا کتنا کام کرتی ہے جو کہ سگنلز کو مسلسل ٹرانسٹ اور رسیو کرتی رہتی ہے تو اگر ان سگنلز کی فریکوئنسی زیادہ ہو جائے تو یہ ہمارے ڈی این اے اور سکین سیلز کو بھی نقصان پہنچا سکتی ہے
کچھ عرصہ پہلے ہی کچھ ڈاکٹرز ریسرچرز اور اور ماحولیات سے تعلق رکھنے والے افراد نے مل کر فائیو جی کے ڈپلیمنٹ کو روکنے کی بات کی تھی اور ان کا کہنا تھا کہ فائیو جی انسانیت کے ساتھ ایک تجربہ ہے اور یہ بین الاقوامی قوانین کے تحت ایک جرم ہے اور ان کا کہنا تھا کہ ایم ایم ویوز کا استعمال ہجوم کو بھگانے کے لیے کیا جاتا تھا ایم ایم ویوز سے لوگوں کی جلد میں ایک طرح کی جلن پیدا ہونے لگتی تھی جس کی وجہ سے ہجوم بکھر جاتا تھا۔
انسانی جسم میں ہمیشہ الیکٹرومیگنیٹک سگنلز کی مدد سے معلومات ٹرانسمنٹ اور رسیو ہوتی رہتی ہے اور جب تک اس کی فریکوئنسی بیلنس ہوتی ہے اب تک ہماری فزیکل اور مینٹل سٹیٹ نارمل رہتی ہے
یہ بات تو آپ سب کو پتہ ہوگا کہ ہمارے جسم اور ہمارے دماغ کی ایک نیچرل یا قدرتی فریکوئنسی ہوتی ہے جس میں وہ نارمل سٹیٹ میں رہتا ہے اگر ہم کسی کی مینٹل فریکوئنسی کو چینج کر دیں تو اس سے ہم اس کے رویے کو بدل سکتے ہیں اور سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ فائیو جی کی فریکوئنسی human electromagnetic electrical communication اس ٹیم کو ان بیلنس کر سکتی ہے اس طرح یہ ایک جذباتی اور ذہنی ،فزیکل یا سیکلوجیکل بیماری کا باعث بن سکتی ہے
ہمارا دماغ ایک فریکوئنسی بینڈوتھ کے اندر کام کرتا ہے اگر کسی ایکسٹرنل ویو فریکوینسی اس بینڈوڈتھ کے اندر چلی جاتی ہے تو اس سے کسی کی ذہنی حالت کو تبدیل کیا جا سکتا ہے اور لوگوں کو باہر سے کنٹرول کیا جا سکتا ہے
ایک ریسرچ کے مطابق فریکونسی اور ایموشنل سٹیٹ کے درمیان ایک تعلق ہوتا ہے
کچھ وقت پہلے ایک ریسرچ کی گئی تھی جس میں دو لوگوں کے گروپ کو الگ الگ رکھا گیا تھا ایک گروہ تھا جو کافی دکھی تھا مطلب ان کے اندر ہر چیز کو لیکرکافی غصہ تھا اور ایک ایسا گروپ تھا جس کے اندر ہر چیز کو لے کر خوشی اور پازیٹیویٹی تھی ۔جب ان دونوں کمروں کی فریکوئنسی کو مانیٹر کیا گیا تو پتہ چلا کہ ان دونوں کمروں کی فریکوئنسی ایک دوسرے سے کافی الگ ہے اس ریسرچ کے مطابق ان فریکوئنسی کو استعمال کرکے ہم کسی بھی انسان کی اموشنل سٹیٹ کو تبدیل کر سکتے ہیں
جس سے ہم کسی کو غصہ دلا سکتے ہیں اسے ڈپریشن میں ڈال سکتے ہیں اور لوگوں اس کا علم بھی نہیں ہوگا ۔
اگر یہ عمل کسی کمیونٹی پر کیا جائے تو ہو سکتا ہے کہ وہ جنگ کا روپ لے لیں ہوسکتا ہے کہ آپ کو یہ سب باتیں بکواس لگ رہی ہو ۔لیکن یقین کریں یہی ہمارا مستقبل ہے ہو سکتا ہے
۔۔۔۔۔۔
حرف آخر :
فائیو جی ٹیکنالوجی کو الگ الگ کمپنی الگ الگ طریقے سے استعمال کرنے والی ہیں اب دیکھنے کی بات ہے کہاں سے کون شروع کرتا ہے جہاں تک بات رہی اس کے ریٹ سے متعلق یا پھر یہ ہمیں کس قیمت پر میسر ہوگی تو یہ بھی کمپنیاں اپنی فریکوئنسی کے حساب سے آپ سے پیسہ وصول کریں گی ۔
جہاں تک بات اس کے استعمال کی ہے تو یہ پہلے براڈبینڈ سروس کے ذریعے مہیا کیا جائے گا اس کے بعد شاید موبائل فونز میں بھی اس کا استعمال کیا جائے لیکن یہ وقت بتائے گا کہنے والے تو ایسے ہی کہتے ہیں ۔
ہو سکتا ہے کہ فائیو جی کے اثرات ابھی ہم کو خود پر نظر نہ آئے لیکن یہ ہماری آنے والی نسلوں پر ایک برا اثر ڈال سکتی ہیں اور اسی وجہ سے فائیو جی موجودہ دور میں ایک موضوعِ بحث بنی ہوئی ٹیکنالوجی ہے ۔
#فائیو_جی جس کے فائدے کم اور نقصانات زیادہ بتائے جاتے ہیں یا پھر یہ محض ایک سازشی پراپیگنڈہ ہے ۔۔۔!!
کیا ہوگا فائیو جی کا مستقبل ۔۔۔۔؟
_______________________________
تحریر پیشکش: - حسن خلیل چیمہ
________________________________________________
انٹرنیٹ آج ہماری زندگی کا ایک اہم حصہ بن چکا ہے بات چاہے ریسرچ کی ہو ،سپیس ایکسپلوریشن کی ہو یا پھر ٹیکنیکل ایڈوانسمنٹس کی ،بینکنگ سسٹم کی ہو یا پھر ذرایع مواصلات کی ۔انٹرنیٹ زندگی کے ہر میدان میں ایک اہم کردار ادا کر رہا ہے ۔
جیسے جیسے انٹرنیٹ نے زندگی کے ہر میدان میں اپنی جگہ بنائی ہے اسی طرح اس کا استعمال بڑھتا جا رہا ہے اور جیسے جیسے اس کا استعمال بڑھ رہا ہے ویسے ویسے ڈیٹا ٹرانسفر اور سپیڈ کے مسائل پیدا ہو رہے ہیں اس لیے ضروری ہوچکا ہے کہ بہترین کارکردگی کے لیے انٹرنیٹ کی سپیڈ کو بڑھا دیا جائے تاکہ اس سے منسلک بڑھتے ہوئے آلات اور صارفین اس سے ہمیشہ فائدہ اٹھاتے رہیں ۔
اس ضمن میں 5 جی ٹیکنالوجی کا تصور پیش کیا گیا ہے جس کی مدد سے نا صرف بڑھتی ہوئی انٹرنیٹ ٹریفک کو اعتدال میں لایا جا سکتا ہے بلکہ مستقبل میں انٹرنیٹ سے متعلق آنے والے مسائل کا بھی سدباب کیا جاسکے گا ۔
لیکن 5 جی کے جہاں بہت سے فائدے بیان کیے جاتے ہیں وہی اس کے نقصانات کی بھی ایک لمبی فہرست ہے
جیسا کہ
5 جی کے ٹاورز سے خارج ہونے والی ریڈی ایشنز انسانی جانوں اور پرندوں کے لیے دہی نقصان دہ ہیں کیا واقعی ایسا ہے ؟
یہ کیسے کام کرے گا ؟
اس کے لئے ہمیں کیا قیمت چکانا پڑے گی ؟
اور اس کا کیا مستقبل ہے ؟
ان سب سوالوں کے جوابات جانے گے ہم آج کی اپنی اس دلچسپ سے تحریر میں ۔۔۔!!!
تو چلیں شروع کرتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
________________________________________________
آخر یہ فائیو جی ہے کیا ؟
فائیوجی سے متعلق بات کرنے سے پہلے چلے جان لیتے ہیں کہ آخر یہ " جی " یعنی جنریشن سے کیا مراد ہیں ؟
جنریشن سے مراد موبائل فونز میں استعمال ہونے والے نیٹ ورک کہ مختلف مراحل ہیں جنہیں ہم ون جی ،ٹو جی، تھری جی اور فور جی کہتے ہیں ۔
اگر بات کریں "ون جی" کی تو اس سے مراد ایسا نیٹورک ہے جو ہمیں صرف بات کرنے اور بات سننے کی سہولت فراہم کرتا تھا
اس کے بعد ٹوجی سے مراد ایسا نیٹ ورک ہے جہاں ہمیں بات کرنے اور سننے کے علاوہ ڈیٹا اور میسجز کی بھی سہولت حاصل تھی
اس کے بعد آیا تھری جی نیٹ ورک جس میں ہمیں اوپر بیان کردہ تینوں سہولیات کے علاوہ ویڈیو کالنگ اور تیز ترین انٹرنیٹ کی سہولت فراہم کی گئی
جبکہ فور جی نیٹ ورک تھری جی نیٹ ورک کا جدید شکل کہوں تو غلط نہ ہوگا کیوں کہ یہاں آپ کو انٹرنیٹ سے متعلق درپیش مسائل کاحل مل گیا اور ویڈیو کالنگ اور سٹریمنگ سے متعلق جو مشکلات تھیں وہ بھی حل ہو گئی ۔
اب بات کریں بات کریں فائیو جی کی تو پچھلی تمام جنریششنز میں دی جانے والی سہولیات کے ساتھ میرے مطابق یہاں ربوٹک ٹیکنالوجی کا اضافہ کیا جائے گا اور ربوٹس کو مزید جدید اور قابل بنانے میں فائیو جی اہم کردار ادا کر سکتی ۔
فائیو جی کو لے کر یہاں پر آپ کے ذہن میں ایک سوال پیدا ہوگا کہ اگر فور جی بہترین کام کر رہا ہے تو پھر کیوں ایک ایسی ٹیکنالوجی کے لانے کی کوشش کی جا رہی ہے جس پر ایک طرف تو بے انتہا پیسہ خرچ ہوگا بلکہ دوسری طرف یہ انسانیت کے لئے ایک خطرہ بھی مانا جاتا ہے
تو اس کا جواب کچھ یوں ہے کہ جہاں انٹرنیٹ کی سپیڈ کو بڑھا دیا گیا ہے وہی اس سے متعلق آئے دن نئے آلات متعارف کروائے جاتے ہیں اور ان آلات کو استعمال کرنے والوں کی تعداد میں دن بدن اضافہ ہوتا جا رہا ہے جس کی وجہ سے انٹرنیٹ ٹریفک پر لگ گیا ہے جام کیونکہ ہمارے پاس جو انٹرنیٹ ہائی وے ہےوہ اتنا زیادہ ڈیٹا ٹرانسفر نہیں کر پا رہی کیونکہ اس میں لائنز محدود ہیں
اگر بات کریں لائنز کی تو آج کے دور میں آپ اسے ایسے سمجھ لو کہ اگر بات کریں وائی فائی کی، بلوتوتھ ،موبائل نیٹ ورکز کی یا عام استعمال ہونے والے مائکروویو اون کی تو یہاں ہم جو فریکوئنسی استعمال میں لیتے ہیں وہ زیادہ سے زیادہ ہوتی ہے 6 گیگا ہرٹز ۔
تو اس محدود فریکوئینسی کے ساتھ مسئلہ یہ ہے کہ ہم زیادہ ڈیٹا ٹرانسفر نہیں کر پا رہے ہیں کیونکہ بہت زیادہ آلات کے منسلک ہونے کی وجہ سے ڈیٹا ٹریفک پوری طرح سے جام ہو چکا ہے اور ڈیٹا ٹرانسفر کپیسٹی دن بدن کم ہو رہی ہے ۔
اگر یہاں بات کرو موبائل فون نیٹ ورکس کی تو اگر آپ کو ہمیشہ انٹرنیٹ تیز چلانا ہے اور تیز انٹرنیٹ کا مزہ لینا ہے اور آگے آپ کو اگر بہت سارے ڈوائسس چاہیے تو آپ کو اس کا متبادل تلاش کرنا پڑے گا یعنی یہاں آپ کو ایک دوسری فریکوئنسی کی طرف جانا پڑے گا جیسے ہم بولتے ہیں "ملی میٹر ویو" جو کہ ہوتی ہے 30 گیگا ہرٹز سے 300 گیگا ہرٹز کے درمیان تو اگر ہم کو مل جائے یہ فریکوئنسی تو کبھی بھی ڈیٹا ٹریفک میں جام نہیں لگے گا ۔
تو یہاں پر فائیوجی ٹیکنالوجی سے جو سب سے پہلا پوائنٹ نکل کے آتا ہے وہ ہے ملی میٹر ویو ٹیکنالوجی کا ۔
تو یہاں پر ہم اتنے مرضی آلات استعمال کریں اگر ہم اس ٹیکنالوجی کو استعمال میں لیتے ہیں تو ہمیں کبھی بھی کسی قسم کی دقت کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا ۔
________________
فائیو جی کام کیسے کرے گا ؟
فائیو جی ٹیکنالوجی کے بارے میں ابھی تک ہم یقین سے کچھ نہیں کہہ سکتے یہ مکمل طور پر کمپنیوں پر منحصر ہے لیکن جن کمپنیوں نے ابھی تک فائیو جی کی ٹیسٹنگ کی ہے آج ہم ان کو کمپنیوں کی بات کر سکتے ہیں ۔ملی میٹر ویوز یعنی 30 گیگا ہرٹز سے 300 گیگا ہرٹر یہ وہ بینڈوتھ ہے جو آج تک کسی بھی ٹیلی کام کمپنی نے استعمال نہیں کی اور فائیو جی ٹیکنالوجی میں اسی بینڈوتھ کا استعمال کیا جائے گا جس کا ذکر اوپر کر چکا ہوں زیادہ بینڈوتھ ہونے کی وجہ سے ہم زیادہ سے زیادہ ڈیوائسز کو ایک وقت میں کنیکٹ کر سکتے ہیں لیکن یہ ملی میٹر ویوز زیادہ فاصلے تک ٹریول نہیں کر سکتیں عمارتیں درخت یا کوئی بھی ٹھوس چیز ان کو جذب کر سکتی ہے جس سے معلومات ضائع ہونے کا خدشہ رہے گا اب اس مسئلے کو حل کرنے کے لئے چھوٹے چھوٹے سیل ٹاورز کو ایک دوسرے کے کافی نزدیک لگایا جائے گا اور یہ ایک سگنل کو ایک بیم کی شکل میں اپنے ٹارگٹڈ فون تک پہنچا پائے گا
2ملٹیپل ان پُٹ ملٹیپل آؤٹ پٹ:--
جو بھی ڈیٹا سیل ٹاورز ٹرانسمٹ یا رسیو کرتے ہیں اس میں بنیادی کام ٹاور میں لگے انٹینا کا ہوتا ہے آج ایک ٹاور میں تقریبا 10 سے 13 انٹینا لگے ہوتے ہیں لیکن فائیو جی کے ٹاور میں یہ بڑھ کر تقریبا سو کے برابر ہو جائیں گے
3--فل ڈوپلیکس :
پہلے موبائل فونز میں ایک وقت میں ایک ہی آدمی بول سکتا تھا اور دوسرا آدمی صرف اس کی باتوں کو سنتا تھا اسی لئے "اور این آؤٹ " جیسے کوڈ ورڈز کا استعمال کیا جاتا تھا تاکہ سامنے والے انسان کو پتہ چل جائے کہ اس نے اپنی بات مکمل کر لی ہے کیونکہ بیسک انٹینا ایک وقت میں ایک ہی کام کرسکتا تھا یا تو ٹرانسمیٹر کا یا پھر رسیور کا ۔اس کو آپ ریل ٹریک کی طرح بھی سمجھ سکتے ہیں یعنی اگر ایک ٹریک پر دو ٹرینیں آمنے سامنے سے آ جاتی ہیں تو وہ ایک وقت میں ایک ٹریک سے نہیں نکل پائیں گی لیکن فل ڈوپلیکس میں ہم ایک سرکلر بائی پاس بنا دیں گے اور وہ ٹکرانے کی بجائے الگ الگ ٹریک سے گزر جاۓ گیں۔ جس سے ڈیٹا ٹریفک کا مسئلہ حل ہوجائے گا اور یوں ڈیٹا ٹرانسفر اور انٹرنیٹ سپیڈ میں کبھی کمی نہیں آئے گی
_______________________________
فوائد :
ابھی تک ہمارے پاس تیز ترین نیٹ ورک 4G LET ہے جو ویب سرفنگ ،یو ٹیوب پر ویڈیو دیکھنے اور ایسے ہی لوکل سائٹس کو استعمال کرنے کے لیے بہت مفید ہے لیکن بہت سی ایسی انڈسٹریز ہیں جو فائیو جی کے آنے کے بعد پوری طرح سے بدل سکتی ہیں جیسے ہیلتھ کیئر انڈسٹری اور ایوی ایشن انڈسٹری اگر ہم دیہاتی علاقوں کی بات کرے تو وہاں پر ایک اچھا ڈاکٹر نہ ہونے کی وجہ سے کافی لوگوں کو اپنی جان گنوانی پڑ جاتی ہے اس لیے اگر فائیو جی ان جگہوں پر پہنچ جاتی ہے تو ڈاکٹر کلینکل ویری ایبل اور ہیلتھ مونیٹرنگ ڈیوائسز کی مدد سے اس مریض کو ریموٹلی چیک اپ کر سکتا ہے اور یہ بالکل حقیقی وقت real time میں ہو پائے گا آج اگر ہم فور جی کی مدد سے ایسا کچھ کرنے کی کوشش کریں گے تو فور جی کی لیٹنسی قریب 300 سے 400 ملی سیکنڈ کی ہے وہی فائیو جی کی لیٹنسی کم ہو کر 30 سے 40 ملی سیکنڈ ہو جاتی ہے جیسے اگر وہ ڈاکٹر امریکہ میں بیٹھ کے پاکستان کے گاؤں میں آپریشن کرنے کے لیے کٹ لگائے گا تو امریکہ میں کٹ لگانے کے 30 ملی سیکنڈ بعد ہیں یہاں پاکستان میں انٹرنیٹ سے جڑی مشین وہی موومنٹ 30 ملی سیکنڈ بعد پرفارم کر دے گی یعنی وہ مشین ڈاکٹر کی موومنٹ کو ٹھیک 30 ملی سیکنڈ بات کاپی کر پائے گی ۔
اس کے بعد یہ میں سہولت فراہم کرے گا ملٹی ٹاسکنگ کی یعنی اگر آپ کال کر رہے ہیں تو آپ ڈیٹا بھی استعمال کرسکتے ہیں اس کے ساتھ کچھ ڈاؤن لوڈ بھی کر سکتے ہیں اور کچھ اپلوڈ بھی اس کی وجہ سے آپ کا کوئی بھی کام خراب نہیں ہونے والا یا کوئی مسئلہ نہیں آنے والا سب کچھ ایک ساتھ کام کرے گا
اس کے علاوہ اس کی وجہ سے ہمیں انٹرنیٹ کی سپیڈ بہت زیادہ ملے گی جس میں کم سے کم 1 گیگا بائٹ سے لے کر دس گیگا بائیٹس تک ممکن ہے جو کہ بہت زیادہ ہیں
اس کے علاوہ بہت سی ایسی ڈیوائسز ہوگی انٹرنیٹ سے جڑی جائیگی اور آرام سے اپنا کام کرتی رہیں گی
اس کے علاوہ اس کے ذریعے ٹریفک کے نظام کو بہتر سے بہترین بنایا جا سکتا ہے
اس کے علاوہ خود کار کاریں اور دیگر ایسی مشینیں انٹرنیٹ کی تیز سپیڈ کی وجہ سے حقیقی وقت میں کنٹرول کی جا سکیں گی اور ان کی بدولت انسانوں کی ضرورت کو کم کیا جا سکے گا
_______________________________
نقصانات: --
فائیو جی نیٹ ورک آنے سے پہلے کافی ریسرچرز اور ڈاکٹرز انسانی صحت کو مدنظر رکھتے ہوئے کافی تنقید کا نشانہ بنا رہے ہیں اور اس کی کئی وجوہات ہیں ہماری جلد جو کہ ایک انٹینا کتنا کام کرتی ہے جو کہ سگنلز کو مسلسل ٹرانسٹ اور رسیو کرتی رہتی ہے تو اگر ان سگنلز کی فریکوئنسی زیادہ ہو جائے تو یہ ہمارے ڈی این اے اور سکین سیلز کو بھی نقصان پہنچا سکتی ہے
کچھ عرصہ پہلے ہی کچھ ڈاکٹرز ریسرچرز اور اور ماحولیات سے تعلق رکھنے والے افراد نے مل کر فائیو جی کے ڈپلیمنٹ کو روکنے کی بات کی تھی اور ان کا کہنا تھا کہ فائیو جی انسانیت کے ساتھ ایک تجربہ ہے اور یہ بین الاقوامی قوانین کے تحت ایک جرم ہے اور ان کا کہنا تھا کہ ایم ایم ویوز کا استعمال ہجوم کو بھگانے کے لیے کیا جاتا تھا ایم ایم ویوز سے لوگوں کی جلد میں ایک طرح کی جلن پیدا ہونے لگتی تھی جس کی وجہ سے ہجوم بکھر جاتا تھا۔
انسانی جسم میں ہمیشہ الیکٹرومیگنیٹک سگنلز کی مدد سے معلومات ٹرانسمنٹ اور رسیو ہوتی رہتی ہے اور جب تک اس کی فریکوئنسی بیلنس ہوتی ہے اب تک ہماری فزیکل اور مینٹل سٹیٹ نارمل رہتی ہے
یہ بات تو آپ سب کو پتہ ہوگا کہ ہمارے جسم اور ہمارے دماغ کی ایک نیچرل یا قدرتی فریکوئنسی ہوتی ہے جس میں وہ نارمل سٹیٹ میں رہتا ہے اگر ہم کسی کی مینٹل فریکوئنسی کو چینج کر دیں تو اس سے ہم اس کے رویے کو بدل سکتے ہیں اور سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ فائیو جی کی فریکوئنسی human electromagnetic electrical communication اس ٹیم کو ان بیلنس کر سکتی ہے اس طرح یہ ایک جذباتی اور ذہنی ،فزیکل یا سیکلوجیکل بیماری کا باعث بن سکتی ہے
ہمارا دماغ ایک فریکوئنسی بینڈوتھ کے اندر کام کرتا ہے اگر کسی ایکسٹرنل ویو فریکوینسی اس بینڈوڈتھ کے اندر چلی جاتی ہے تو اس سے کسی کی ذہنی حالت کو تبدیل کیا جا سکتا ہے اور لوگوں کو باہر سے کنٹرول کیا جا سکتا ہے
ایک ریسرچ کے مطابق فریکونسی اور ایموشنل سٹیٹ کے درمیان ایک تعلق ہوتا ہے
کچھ وقت پہلے ایک ریسرچ کی گئی تھی جس میں دو لوگوں کے گروپ کو الگ الگ رکھا گیا تھا ایک گروہ تھا جو کافی دکھی تھا مطلب ان کے اندر ہر چیز کو لیکرکافی غصہ تھا اور ایک ایسا گروپ تھا جس کے اندر ہر چیز کو لے کر خوشی اور پازیٹیویٹی تھی ۔جب ان دونوں کمروں کی فریکوئنسی کو مانیٹر کیا گیا تو پتہ چلا کہ ان دونوں کمروں کی فریکوئنسی ایک دوسرے سے کافی الگ ہے اس ریسرچ کے مطابق ان فریکوئنسی کو استعمال کرکے ہم کسی بھی انسان کی اموشنل سٹیٹ کو تبدیل کر سکتے ہیں
جس سے ہم کسی کو غصہ دلا سکتے ہیں اسے ڈپریشن میں ڈال سکتے ہیں اور لوگوں اس کا علم بھی نہیں ہوگا ۔
اگر یہ عمل کسی کمیونٹی پر کیا جائے تو ہو سکتا ہے کہ وہ جنگ کا روپ لے لیں ہوسکتا ہے کہ آپ کو یہ سب باتیں بکواس لگ رہی ہو ۔لیکن یقین کریں یہی ہمارا مستقبل ہے ہو سکتا ہے
۔۔۔۔۔۔
حرف آخر :
فائیو جی ٹیکنالوجی کو الگ الگ کمپنی الگ الگ طریقے سے استعمال کرنے والی ہیں اب دیکھنے کی بات ہے کہاں سے کون شروع کرتا ہے جہاں تک بات رہی اس کے ریٹ سے متعلق یا پھر یہ ہمیں کس قیمت پر میسر ہوگی تو یہ بھی کمپنیاں اپنی فریکوئنسی کے حساب سے آپ سے پیسہ وصول کریں گی ۔
جہاں تک بات اس کے استعمال کی ہے تو یہ پہلے براڈبینڈ سروس کے ذریعے مہیا کیا جائے گا اس کے بعد شاید موبائل فونز میں بھی اس کا استعمال کیا جائے لیکن یہ وقت بتائے گا کہنے والے تو ایسے ہی کہتے ہیں ۔
ہو سکتا ہے کہ فائیو جی کے اثرات ابھی ہم کو خود پر نظر نہ آئے لیکن یہ ہماری آنے والی نسلوں پر ایک برا اثر ڈال سکتی ہیں اور اسی وجہ سے فائیو جی موجودہ دور میں ایک موضوعِ بحث بنی ہوئی ٹیکنالوجی ہے ۔

Comments
Post a Comment