Skip to main content

#vitamins



#Vitamins
(پہلا حصہ)

زندگی کو برقرار رکھنے میں مدد دینے والے نامیاتی مرکبات کو وٹامنز کہا جاتا ہے۔ انسانی جسم میں توڑ پھوڑ (metabolism) کے عوامل اور صحیح طریقہ سے کام کرنے کے لئے وٹامنز کی ضرورت پڑتی ہے۔ انسان زیادہ تر وٹامنز کو مختلف غذاؤں سے حاصل کرتا ہے ، کیونکہ انسانی جسم کے اندر صرف کچھ وٹامنز کے علاوہ وٹامنز پیدا نہیں ہوتی۔ اور اب تو وٹامنز میڈیکل اسٹورز پر بھی مل جاتی ہیں۔ وٹامنز کو کئی اقسام میں تقسیم گیا ہے ۔ جن پر تفصیلی بات ہوگی۔۔۔!
•Vitamin A
وٹامن A ، گروتھ ، نشونما ، قوت مدافعت ، نظر ، اور ریپروڈکش کے لئے ضروری  ہے۔ وٹامن اے ایک طاقتور Antioxidant اور ہارمون کی طرح کام کرتا ہے جو Gene expression( جین ایکسپریشن کے دوراں ڈی این اے میں موجود ہدایات ، ایک فنکشنل پراڈکٹ یعنی پروٹین میں بدل جاتی ہیں) پر اثرانداز ہوتا ہے۔ ترقی پذیر ممالک میں حاملہ عورتیں وٹامن اے کی کمی کا شکار ہوتی ہیں۔ کمی تو ٹھیک ، لیکن وٹامن اے کی زیادتی بھی (hypervitaminosis) نامی بیماری کا باعث بنتی ہے۔
وٹامن اے کی کمی ، بالوں کے گرنے ، چمڑی کے پرابلمز ، dry eyes اور رات کو نا دیکھ پانے جیسی علامات کا باعث بنتی ہے۔ وٹامن اے کی کمی کو متوازن غذا سے پورا کیا جاسکتا ہے ، جن میں ، جگر کا تیل ، انڈے ، اناج ، دودھ ، سبزیاں ،  فروٹ اور خاص کر پتوں والی سبزیاں شامل ہیں۔
•Vitamin D
وٹامن ڈی انسانی جسم کے لئے انتہائی اہمیت کی حامل ہے۔ انسانی جسم کا ہر خلیہ اس وٹامن کا ضرورت مند ہوتا ہے۔
اس وٹامن کا سب سے اہم ذریعہ سورج ہے۔جب آپ دھوپ میں کھڑے ہوتے ہیں تب سورج کی الٹراوایولٹ شعاعیں چمڑی میں موجود خلیوں کے کولیسٹرول کو ہٹ کرتی ہیں اور (vitamin D synthesis) کے لئے توانائی فراہم کرتی ہیں ۔ اسی مناسبت سے اس کو سن شائن وٹامن بھی کہا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ مچھلی ، انڈے اور اناج سے بھی وٹامن ڈی حاصل کی جا سکتی ہے۔
وٹامن ڈی کیلشیم کو توازن میں رکھنے اور خون میں فاسفورس لیول کو مستحکم رکھنے میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔ یہ عناصر ہڈیوں کی مضبوطی کے لئے انتہائی اہم ہیں۔
وٹامن ڈی کی کمی ،  کئی انتہائی خطرناک بیماریوں کا باعث بنتی ہے ، جن میں (Rickets) (بچوں میں ہڈیوں کی نرمی اور کمزوری) بھی شامل ہے ۔
•Vitamin C
وٹامن سی کو ایسکاربک ایسڈ بھی کہا جاتا ہے۔ یہ پورے جسم کے بافتوں(ٹشوز) کی مرمت میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔ اس کے علاوہ آئرن کا انجذاب ، زخموں کا بھرنے ، ہڈیوں ، دانتوں اور کارٹیلج کی دیکھ بھال میں بھی اہم ہے۔ انسانی جسم اندرونی طور پر وٹامن سی کو نہیں بناتا بلکہ وٹامن سی کو کئی اقسام کی غذائوں سے حاصل کیا جاتا ہے۔ خاص طور پر پھل یعنی لیموں ، انگور ، اورینج ، امرود ، پپیتہ ، اسٹرابیری ، خربوزے وغیرہ قدرتی طور پر وٹامن سی خزانہ ہیں۔ اس کے علاوہ گوبی ، شملہ مرچ وغیرہ جیسی کچھ سبزیاں بھی وٹامن سی کا مسکن ہیں۔
وٹامن سی کی کمی کی صورت میں زخم دیر سے بھرتے ہیں ، قوت مدافعت کی کمزوری ، مسوڑھوں سے خون آتا ہے ، چمڑی میں جھرریاں،  وزن کا بڑھنا اور (scurvy) نامی خطرناک بیماری کا باعث ہے۔
ایک نارمل عورت کو روانہ پچھتر ملی گرام وٹامن سی کی ضرورت ہوتی ہے ، جبکہ مرد کو 90 ملی گرام وٹامن سی روانہ چاہئے ہوتی ہے۔

•Vitamin E
وٹامن E بھی ایک اینٹی آکسیڈنٹ ہے۔
وٹامن سی دراصل آٹھ مرکبات پر مشتمل ہے ،  جن کے نام ترتیبوار الفا ، بیٹا ، گاما ، ڈیلٹا ٹوکوفیرول اور الفا ، بیٹا ، گاما ، ڈیلٹا ٹوکوٹرینول ہیں۔
ان میں سے الفا ٹوکوفیرول انسانی جسم کی اہم ضروریات پوری کرتا ہے.
وٹامن ای کو کئی قدرتی غذاؤں سے حاصل کیا جاسکتا ہے ، خاص طور خشک میوہ جات یعنی  اخروٹ ، بادام  وغیرہ سے حاصل کی جاتی ہے۔ اس کے علاوہ ، مختلف ویجیٹبل آئلز یعنی سن فلاور ، سویابین ، کنولا سے بھی حاصل کی جاتی ہے۔
انسانی جسم میں وٹامن ای کی کمی ، کمزور نظر اور مشکوں کی کمزوری کا باعث بنتی ہے۔


 آفتاب ہالیپوٹہ

Comments

Popular posts from this blog

کیا سائنسدانوں نے مصنوعی خلیہ بنا لیا ؟

کیا سائنس دانوں نے مصنوعی خلیہ بنا لیا؟ تحریر: ڈاکٹر نثار احمد پچھلے کچھ دنوں سے کچھ فورمز پر یہ بحث چھڑی ہوئی ہے کہ کچھ حیاتیات دانوں نے تجربہ گاہ میں مصنوعی خلیے تیار کر لئے ہیں۔ تفصیلات اس لنک میں۔ https://www.sciencemag.org/news/2018/11/biologists-create-most-lifelike-artificial-cells-yet اس تمام بحث سے پہلے آپ کو یہ جاننا ہوگا کہ خلیہ دراصل ہوتا کیا ہے۔ خلیے کی تعریف ہم یوں کرسکتے ہیں کہ یہ زندگی کی ساختی اور فعلیاتی اکائی ہے۔ ایک خلیے کے اندر سینکڑوں مختلف عضویے ہوتے ہیں جو مل جل کر فیکٹری کی طرح کام کرتے ہیں۔ اس کے علاوہ متعدد اینزائمز بھی موجود ہوتے ہیں جو کیمیائی تعاملات میں عمل انگیز کے طور پر کام کرتے ہیں۔ اس کے علاوہ یہ خلیہ تقسیم در تقسیم ہو کر اپنے جیسے مزید خلیے بنا سکتا ہے۔ کچھ جاندار ایسے بھی پائے جاتے ہیں جو صرف ایک خلیے پر مشتمل ہوتے ہیں۔ انہیں ہم یک خلوی جاندار بھی کہتے ہیں۔ اوپر دئیے گئے آرٹیکل میں جو کہ سائنس جریدے میں پبلش ہوا کوئی بہت زیادہ نیا کارنامہ نہیں کیا گیا۔ اس پیپر میں بتایا گیا کہ کہ تجربہ گاہ میں کچھ خلیوں سے ملتی جلتی ساختیں بنائی گئیں جن م...

سانڈے کا تیل میڈیکل سائنس کی نظر میں !

سانڈے کا تیل میڈیکل سائنس کی نظر میں ! جنسی و نفسیاتی بیماریاں اور جانوروں کا قتل عام ۔۔۔! (18+ تحریر) __________________ تحقیق و تحریر : حسن خلیل چیمہ ______________________________________________ نوٹ : ( یہ تحریر عوامی آگاہی اور معصوم جانوروں کے بے جا قتل عام کو روکنے کے لئے اور عوام تک جدید میڈیکل سائنس کی رخ سے درست معلومات پہنچانے کی ایک کوشش ہے سانڈے کے تیل کے بارے میں اپنی رائے اور تجربے کو ایک طرف رکھ کہ اس تحریر کا مکمل مطالعہ کرنے کے بعد ہی اختلاف کریں شکریہ ) (خواتین اس تحریر کو پڑھنے سے اجتناب کریں ) ہمیشہ سے یہ دیکھ کر دکھ ہوتا ہے کہ جہاں دنیا سائنس و ٹیکنالوجی میں ترقی کرتی جا رہی ہے وہی ہم پاکستانی آج بھی اسی زمانہ قدیم میں جی رہیں ہیں جس میں انسانی سائنسی انقلاب سے پہلے ہمارے اجداد نے زندگی  گزاری  آج بھی ہم اسی طریقہ کار پر چل رہیں ہیں جہاں بیمار ہونے پر  اندازے سے دوا دینے والا کوئی حکیم ہوتا تھا جو مختلف جڑی بوٹیوں کو ملا کر کوئی ایسی دوا دے دیتا تھا جو وقتی طور ریلیف فراہم کرتی تھی کیونکہ ان وقتوں میں لوگوں کی خوارک میں زیادہ ملاوٹ نہ تھ...

قرآن اور سرن لیبارٹری

سورة انبیاء کی آیت نمبر 30 اور سرن لیبارٹری ۔۔۔!!! ____________________ سورۃ الانبیاء آیت نمبر 30 میں ربِ کائنات فرماتا ہے کہ اَوَلَمۡ يَرَ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡۤا اَنَّ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضَ كَانَتَا رَتۡقًا فَفَتَقۡنٰهُمَا‌ؕ وَجَعَلۡنَا مِنَ الۡمَآءِ كُلَّ شَىۡءٍ حَىٍّ‌ؕ اَفَلَا يُؤۡمِنُوۡنَ‏ ﴿۳۰﴾ کیا کافروں نے نہیں دیکھا کہ آسمان اور زمین دونوں ملے ہوئے تھے تو ہم نے جدا جدا کردیا۔ اور تمام جاندار چیزیں ہم نے پانی سے بنائیں۔ پھر یہ لوگ ایمان کیوں نہیں لاتے؟  ﴿۳۰﴾ معزز قارئین علماء کے نزدیک یہ آیت بگ بینگ سے متعلق ہے کہ ایک عظیم الشان دھماکہ ہوا جس سے اربوں میل دور تک دھواں پھیل گیا پھر اس دھوئیں میں سے  ٹھوس اجسام ستارے ،سیارے اور کومینٹس وغیرہ بننے کا عمل شروع ہوا ایک اور جگہ  ارشاد ہے کہ ثُمَّ اسۡتَوٰىۤ اِلَى السَّمَآءِ وَهِىَ دُخَانٌ فَقَالَ لَهَا وَلِلۡاَرۡضِ ائۡتِيَا طَوۡعًا اَوۡ كَرۡهًاؕ قَالَتَاۤ اَتَيۡنَا طَآٮِٕعِيۡنَ‏ ﴿۱۱﴾ پھر آسمان کی طرف متوجہ ہوا اور وہ دھواں تھا تو اس نے اس سے اور زمین سے فرمایا کہ دونوں آؤ (خواہ) خوشی سے خواہ ناخوشی سے۔ انہوں...