Skip to main content

چمگادڑ کے 53 ملین سال پرانے فاسلز

|Sudden Appearance of Bat Fossils 53 Myr ago|

چمگادڑ (Chiroptera) ایک اڑنے والا ممالیہ جاندار ہے۔ جو دنیا کے تقریباً ہر کونے میں پائی جاتی ہے۔ ان کو عام طور پہ دو گروپس میں بانٹا جاتا ہے ایک Megabats اور دوسرا Microbats یعنی چھوٹی چمگادڑیں اور بڑی چمگادڑیں۔ بڑی چمگادڑوں کے پروں کا پھیلاؤ چھ فٹ تک ہو سکتا ہے اور یہ عام طور پہ درختوں کے پھل اور پتے وغیرہ کھاتی ہیں جبکہ چھوٹی چمگادڑ کیڑے مکوڑے اور چھوٹے جانداروں کو خوراک بناتی ہیں۔ ان کے بارے بہت سی افسانوں داستانیں بھی موجود ہیں۔ ڈریکولا سے لے کر Batman تک انکو افسانوں کرداروں سے جوڑا گیا ہے ایک اور افسانوی کہانی نیو ڈارنین ارتقاء کی ہے جس کے مطابق چمگادڑوں کا چوہے جیسے جاندار سے ارتقاء ہوا۔ ہمیشہ کی طرح اس قیاس آرائی کا کوئی بھی ثبوت موجود نہیں۔ چاہے جتنا مرضی پرانا فاسل دریافت ہو جائے وہ واضح طور پہ چمگادڑ ہی ہوتا ہے۔
چمگادڑ (Chiroptera) کی 1300 مختلف اقسام یا سپیشیز ہیں اور یہ تمام ممالیہ جانداروں کی سپیشیز کا 20 فیصد حصہ بنتا ہے۔ یہ ممالیہ جانداروں کا دوسرا سب سے زیادہ species rich آرڈر (order) ہے۔

میں PLOS جریدے میں 2017 کے سائنسی پیپر سے شروعات کرنا چاہوں گا کیونکہ اس میں بہت حیرت انگیز حقائق بیان کیے گئے ہیں۔
ہمیشہ کی طرح چمگادڑوں کے بھی تدریجی (Gradual) ارتقاء کا کوئی ثبوت میسر نہیں اس کے برعکس سائنسی پیپر فاسل ریکارڈ سے حاصل شدہ حقائق کو مد نظر رکھتے ہوئے یہ نتیجہ اخذ کرتا ہے کہ چمگاڈر اپنی تمام تر بنیادی خصوصیات کے ساتھ اچانک فاسل ریکارڈ میں ظہور پزیر ہوئے۔ یہ Eocene دور میں ہوا جو کہ 56 ملین سال سے شروع ہو کر 34 ملین سال تک جاتا ہے۔
یہاں "Instantaneous" کا لفظ استعمال ہوا ہے یعنی لمحاتی تیزی کے ساتھ چمگاڈر فاسل ریکارڈ پہ ظاہر ہوئی۔ نہ کسی تدریجی ارتقاء کا ثبوت ہے اور نہ کسی درمیانی کڑی کا۔
"Remarkably, the basic topology of the bat tree of life was established very early in their evolutionary history as they underwent a nearly instantaneous adaptive radiation during the Eocene"
https://journals.plos.org/plosone/article?id=10.1371/journal.pone.0172621

مزید اس سائنسی پیپر میں چمگاڈر کے ایک فاسل کو رپورٹ کیا گیا جو Genus:Myotis سے تعلق رکھتا ہے اور کم از کم 33 ملین سال پرانا ہے۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ Myotis موجودہ دور کی ذندہ پائی جانے والی چمگادڑوں کی جینس ہے اور اسی جینس کی چمگاڈر 33 ملین سال پہلے بھی موجود تھی اور اپنی ہوبہو خصوصیات کے ساتھ آج بھی موجود ہے۔
اتنے لمبے عرصے بعد بھی کوئی ارتقائی تبدیلی نہیں۔ یہاں ایک دفعہ پھر نیو ڈارونین دعویٰ فالسیفائڈ ہوچکا ہے۔ پہلے دن سے چمگاڈر اپنی ساخت میں چمگاڈر ہی ہے۔ چمگاڈر Instantaneously یعنی لمحاتی تیزی سے فاسل ریکارڈ پہ ظہور پزیر ہوئیں اور تب سے لے کر آجتک اپنی ساخت میں ویسے کی ویسی ہیں بلکہ 33 ملین سال گزر جانے کے بعد چمگادڑوں کی Myotis جینس میں بھی کوئی ارتقائی تبدیلی دیکھنے کو نہیں ملی۔
"Morphological comparison and phylogenetic analysis confirms that the new, large form can be confidently assigned to the genus Myotis, making this record the earliest known for that taxon and extending the temporal range of this extant genus to over 33 million years."
https://journals.plos.org/plosone/article?id=10.1371/journal.pone.0172621

ایک اور سائنس پبلیکیشن میں یہ حقائق بیان کیے گئے کہ چمگادڑوں (Chiroptera) کے فاسل امریکہ، آسٹریلیا، یورپ اور افریقہ سے دریافت ہو چکے ہیں جو ابتدائی Eocene دور کے ہیں یعنی یہ 56 ملین سال سے لے کر 50 ملین سال تک پرانے ہیں۔ پھر اس پیپر میں بھی اس حقیقت کا اعتراف کیا گیا کہ چمگادڑ کے فاسلز "Suddenly and Simultaneously" ظہور پزیر ہوئے یعنی اچانک اور ایک ساتھ بہت سی چمگادڑ کی اقسام فاسل ریکارڈ میں ظاہر ہوئیں۔
کسی بھی تدریجی ارتقاء یا درمیانی کڑی کا کوئی ثبوت نہیں۔
"The earliest bats are recorded from the Early Eocene of North America, Europe, North Africa and Australia where they seem to appear suddenly and simultaneously."
https://www.ncbi.nlm.nih.gov/m/pubmed/17671774/
"In this paper, we report the discovery of the oldest bat fauna of Asia dating from the Early Eocene of the Cambay Formation at Vastan Lignite Mine in Western India."
https://www.ncbi.nlm.nih.gov/m/pubmed/17671774/

سائنس جریدے PLOS میں 2015 کو ایک پیپر پبلش ہوا اس میں زندہ چمگادڑوں کی موجودہ دور میں پائی جانے والی ایک اور Genus:Mystacina کے فاسل کو رپورٹ کیا گیا جو کم از کم 16 ملین سال پرانا ہے۔ آج سے 16 ملین سال پہلے بھی چمگادڑوں کی یہ نسل موجود تھی اور آج کے دور میں بھی موجود ہے۔ صرف ڈارونی ارتقاء کا کوئی ثبوت موجود نہیں!
"Here, a new mystacinid is described from the early Miocene (19–16 Ma) St Bathans Fauna of Central Otago, South Island, New Zealand. It is the first pre-Pleistocene record of the modern genus and it extends the evolutionary history of Mystacina back at least 16 million years."
https://journals.plos.org/plosone/article?id=10.1371/journal.pone.0128871

نیچے موجود سائنس پبلیکشن میں واضح طور پہ اس حقیقت کو بیان کیا گیا ہے کہ چمگادڑوں کا ارتقاء زمین کےکونسے حصے میں اور کس جاندار سے ہوا اس کے بارے کوئی معلومات موجود نہیں۔ صرف یہ پتہ ہے کہ چمگاڈر کے سب سے پرانے اور حتمی فاسلز 51 ملین سال پرانے ہیں۔ تب سے لے کر آجتک چمگاڈر اپنی اسی ساخت میں موجود ہیں۔
آپ کو بس مفروضاتی کہانیاں سننے کو ملیں گی لیکن ایسی کہانیوں سے سائنس نہیں چلتی بد قسمتی سے سائنس بننے کے لئے ثبوت چاہیے ہوتے ہیں!
"The phylogenetic and geographic origins of bats (Chiroptera) remain unknown. The earliest confirmed records of bats date from the early Eocene (approximately 51 Ma) in North America with other early Eocene bat taxa also being represented from Europe, Africa, and Australia."
https://link.springer.com/article/10.1007/s10914-005-6945-2

یہ سائنسی پیپر بہت دلچسپ ہے جن مفروضاتی کہانیوں کا ذکر میں نے اوپر کیا ان کا اعتراف اور وضاحت اس پیپر میں موجود ہے۔
اس آخری سائنس پبلیکیشن میں بھی یہی بات کہی گئی کہ چمگاڈر کے فاسلز 53 ملین سال پرانے ہیں اور پہلے دن سے چمگاڈر اپنی اڑنے کی صلاحیت اور ایکولوکیشن کی صلاحیت کے ساتھ موجود ہیں۔ اب چونکہ ان خصوصیات کے ارتقاء کی کوئی درمیانی کڑی موجود نہیں لہذا بہت سی تخیلاتی ارتقائی کہانیاں بنائیں گئیں کہ کیسے چمگادڑ کا ارتقاء ہوا ہوگا۔ انہی مفروضاتی کہانیوں سے چمگادڑوں کی ساخت اور ان کے پھیلاؤ کی وضاحت کرنے کی کوشش کی گئی جن میں سے بہت سے مفروضے فیل ہو چکے ہیں اور کوئی تسلی بخش وضاحت موجود نہیں۔
"The earliest known complete bats, from the Eocene (49–53 Mya), were already capable of flapping flight and echolocation. In the absence of direct fossil evidence there have been many speculative scenarios advanced to explain the evolution of these behaviours and their distributions in extant bats."
https://onlinelibrary.wiley.com/doi/abs/10.1046/j.1365-2907.2001.00082.x

اس مختصر پوسٹ میں دیے گئے پانچ سائنس پبلیکشنز کے حوالہ جات سے سائنسی طور پہ یہ ثابت ہوچکا ہے کہ چمگادڑ آج سے 53 ملین سال پہلے اچانک (Suddenly) فاسل ریکارڈ میں ظاہر ہوئے۔  بہت سی سپیشیز ایک ساتھ اپنی تمام تر اڑنے اور ایکولوکیش کی صلاحیتوں کے ساتھ ظہور پذیر ہوئیں۔ کسی بھی تدریجی ارتقاء یا درمیانی کڑی کا ایک زرہ برابر بھی ثبوت موجود نہیں۔
چمگاڈر (Chiroptera) کی ایسی نسلوں کے 33 ملین سال پرانے اور 16 ملین سال پرانے فاسلز بھی دریافت ہوچکے جو آج کے دور میں زندہ موجود ہیں۔ حالات یہ ہیں کہ 20 فیصد ممالیہ جاندار یعنی 1300 چمگادڑ کی اقسام یا سپیشیز کی کوئی بھی ارتقائی وضاحت موجود نہیں۔ نیو ڈارونین فریم ورک کو ایک دفعہ پھر زلت آمیز ناکامی کا سامنا ہے!

------------------------------------------------
Sohaib Zobair

Comments

Popular posts from this blog

کیا سائنسدانوں نے مصنوعی خلیہ بنا لیا ؟

کیا سائنس دانوں نے مصنوعی خلیہ بنا لیا؟ تحریر: ڈاکٹر نثار احمد پچھلے کچھ دنوں سے کچھ فورمز پر یہ بحث چھڑی ہوئی ہے کہ کچھ حیاتیات دانوں نے تجربہ گاہ میں مصنوعی خلیے تیار کر لئے ہیں۔ تفصیلات اس لنک میں۔ https://www.sciencemag.org/news/2018/11/biologists-create-most-lifelike-artificial-cells-yet اس تمام بحث سے پہلے آپ کو یہ جاننا ہوگا کہ خلیہ دراصل ہوتا کیا ہے۔ خلیے کی تعریف ہم یوں کرسکتے ہیں کہ یہ زندگی کی ساختی اور فعلیاتی اکائی ہے۔ ایک خلیے کے اندر سینکڑوں مختلف عضویے ہوتے ہیں جو مل جل کر فیکٹری کی طرح کام کرتے ہیں۔ اس کے علاوہ متعدد اینزائمز بھی موجود ہوتے ہیں جو کیمیائی تعاملات میں عمل انگیز کے طور پر کام کرتے ہیں۔ اس کے علاوہ یہ خلیہ تقسیم در تقسیم ہو کر اپنے جیسے مزید خلیے بنا سکتا ہے۔ کچھ جاندار ایسے بھی پائے جاتے ہیں جو صرف ایک خلیے پر مشتمل ہوتے ہیں۔ انہیں ہم یک خلوی جاندار بھی کہتے ہیں۔ اوپر دئیے گئے آرٹیکل میں جو کہ سائنس جریدے میں پبلش ہوا کوئی بہت زیادہ نیا کارنامہ نہیں کیا گیا۔ اس پیپر میں بتایا گیا کہ کہ تجربہ گاہ میں کچھ خلیوں سے ملتی جلتی ساختیں بنائی گئیں جن م...

سانڈے کا تیل میڈیکل سائنس کی نظر میں !

سانڈے کا تیل میڈیکل سائنس کی نظر میں ! جنسی و نفسیاتی بیماریاں اور جانوروں کا قتل عام ۔۔۔! (18+ تحریر) __________________ تحقیق و تحریر : حسن خلیل چیمہ ______________________________________________ نوٹ : ( یہ تحریر عوامی آگاہی اور معصوم جانوروں کے بے جا قتل عام کو روکنے کے لئے اور عوام تک جدید میڈیکل سائنس کی رخ سے درست معلومات پہنچانے کی ایک کوشش ہے سانڈے کے تیل کے بارے میں اپنی رائے اور تجربے کو ایک طرف رکھ کہ اس تحریر کا مکمل مطالعہ کرنے کے بعد ہی اختلاف کریں شکریہ ) (خواتین اس تحریر کو پڑھنے سے اجتناب کریں ) ہمیشہ سے یہ دیکھ کر دکھ ہوتا ہے کہ جہاں دنیا سائنس و ٹیکنالوجی میں ترقی کرتی جا رہی ہے وہی ہم پاکستانی آج بھی اسی زمانہ قدیم میں جی رہیں ہیں جس میں انسانی سائنسی انقلاب سے پہلے ہمارے اجداد نے زندگی  گزاری  آج بھی ہم اسی طریقہ کار پر چل رہیں ہیں جہاں بیمار ہونے پر  اندازے سے دوا دینے والا کوئی حکیم ہوتا تھا جو مختلف جڑی بوٹیوں کو ملا کر کوئی ایسی دوا دے دیتا تھا جو وقتی طور ریلیف فراہم کرتی تھی کیونکہ ان وقتوں میں لوگوں کی خوارک میں زیادہ ملاوٹ نہ تھ...

قرآن اور سرن لیبارٹری

سورة انبیاء کی آیت نمبر 30 اور سرن لیبارٹری ۔۔۔!!! ____________________ سورۃ الانبیاء آیت نمبر 30 میں ربِ کائنات فرماتا ہے کہ اَوَلَمۡ يَرَ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡۤا اَنَّ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضَ كَانَتَا رَتۡقًا فَفَتَقۡنٰهُمَا‌ؕ وَجَعَلۡنَا مِنَ الۡمَآءِ كُلَّ شَىۡءٍ حَىٍّ‌ؕ اَفَلَا يُؤۡمِنُوۡنَ‏ ﴿۳۰﴾ کیا کافروں نے نہیں دیکھا کہ آسمان اور زمین دونوں ملے ہوئے تھے تو ہم نے جدا جدا کردیا۔ اور تمام جاندار چیزیں ہم نے پانی سے بنائیں۔ پھر یہ لوگ ایمان کیوں نہیں لاتے؟  ﴿۳۰﴾ معزز قارئین علماء کے نزدیک یہ آیت بگ بینگ سے متعلق ہے کہ ایک عظیم الشان دھماکہ ہوا جس سے اربوں میل دور تک دھواں پھیل گیا پھر اس دھوئیں میں سے  ٹھوس اجسام ستارے ،سیارے اور کومینٹس وغیرہ بننے کا عمل شروع ہوا ایک اور جگہ  ارشاد ہے کہ ثُمَّ اسۡتَوٰىۤ اِلَى السَّمَآءِ وَهِىَ دُخَانٌ فَقَالَ لَهَا وَلِلۡاَرۡضِ ائۡتِيَا طَوۡعًا اَوۡ كَرۡهًاؕ قَالَتَاۤ اَتَيۡنَا طَآٮِٕعِيۡنَ‏ ﴿۱۱﴾ پھر آسمان کی طرف متوجہ ہوا اور وہ دھواں تھا تو اس نے اس سے اور زمین سے فرمایا کہ دونوں آؤ (خواہ) خوشی سے خواہ ناخوشی سے۔ انہوں...