Skip to main content

#Vitamins



(آخری حصہ)

•B6
وٹامن بی کمپلیکس گروپ میں  وٹامن B6 بھی شامل ہے۔ پروٹین ، چربی اور کاربوہائیڈریٹس کے میٹابولزم کے لئے وٹامن بی سکس کو ضروری سمجھا جاتا ہے۔ نیوروٹرانسمیٹرز اور خون کے لال خلیوں کے بننے کے لئے بھی اہم ہے۔
چونکہ انسانی جسم اس وٹامن کو اندرونی طور پر بنا نہیں پاتا۔ اس لئے مختلف غذائوں سے یہ وٹامن حاصل کی جاتی ہے۔
وٹامن بی سکس ، ڈپریشن و پریشانی کے حالات میں سکون بخشتی ہے۔ کیونکہ یہ نیوروٹرانسمیٹرز بناتی ہے ۔ اس کی وجہ سے جذبات و  ہارمون سسٹم  بہتر ہوتا ہے اور نفسیاتی مسائل میں آرام ملتا ہے۔
آنکھوں کی حفاظت اور بہتری کے لئے بھی اہم ہے۔ وٹامن بی سکس کو ، آلو ، جگر ، مچھلی ، گوشت اور دیگر نشاستہ کی حامل خوراک سے حاصل کی جاسکتی ہے۔
•B12
انسانی جسم کے ہر سیل کو تھوڑ پھوڑ کے عوامل کے لئے وٹامن B12 کی ضرورت ہوتی ہے۔ڈی این اے کی ترکیب( synthesis) ، فیٹس میٹابولزم اور چربی کی تیاری میں بھی اہم ہے۔
گوشت ، انڈے ، مچھلی ، مرغی اور ڈیری پراڈکٹس سے کثیر مقدار میں اس وٹامن کو حاصل کیا جاسکتا ہے۔
عام طور پر انسانی معاشرے میں وٹامن B12 کی کمی ایک عام بات ہے۔
اس وٹامن کی کمی ، چہرے کے پہلے پڑ جانے (jaundice) ، کمزوری اور زبان کا پکنے(glossitis ) وغیرہ کا باعث بنتی ہے۔
• b9(folic acid)
فولک ایسڈ ایک مستحکم اور وٹامن بی نائن کا مصنوعی فارم ہے۔ فولک ایسڈ قدرتی طور پر غذائوں میں موجود نہیں ہوتا بلکہ اسے مصنوعی طور پر مختلف غذاؤں میں ٹریٹمنٹ پلانٹس میں داخل کیا جاتا ہے۔
بچپن ، حمل اور نوجوانی  میں جب انسانی بافتوں اور اعضاء کی گروتھ چل رہی ہوتی ہے تب فولک ایسڈ کی اہمیت بڑھ جاتی ہے۔ حاملہ خواتین کو خاص کر فولک ایسڈ کی سمپلیمنٹس دی جاتی ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ انسان کے جینیاتی مواد کی تیاری بھی فولک ایسڈ کی محتاج ہے۔
یہ وٹامن بی سکس اور بی 12 کے ساتھ مل کر خون میں امائنوایسڈ (ہوموسسٹین) کی لیول کو توازن میں رکھتی ہے۔
اس وٹامن کی کمی ، گروتھ میں آہستگی ، زبان کے پکنے ، سانس کا چھوٹا پن (زیادہ لمبی سانس نا لے پانا) ، بھلکڑ ہوجانا اور ڈائریا کا باعث بنتی ہے۔۔۔۔
•b5(pantothenic acid)
پینٹوتھینک ایسڈ قدرتی طور پر کچھ غذاؤں میں پائی جاتی ہے اور اس کی سمپلیمنٹس بھی ملتی ہیں۔ اس کا سب سے اہم کام ، کو انزائمز اور (acyl carrier protein) کی تیاری ہے۔
مشرومز ، انڈے ، گوبی اور دودھ وغیرہ میں یہ وٹامن کثرت سے پائی جاتی ہے۔
سستی ، ہاتھوں کی جلن ، پیروں میں درد اور نیند کے مسائل کی وجہ پینٹوتھینک ایسڈ کی کمی کو سمجھا جاتا ہے۔
•biotin(vitamin H , or b8)
بی وٹامنز اور خاص طور بایوٹن آپ کے نروس سسٹم ، بالوں ، چمڑی اور آنکھوں کے لئے انتہائی اہم ہے۔
حمل (پریگننسی) کی دوراں اس کی ضرورت بڑھ جاتی ہے کیونکہ یہ ایمبریو کی نشونما کے لئے ضروری ہوتی ہے۔
حاملہ عورتیں اس کی قلت کا شکار بھی ہوسکتی ہیں ۔ بچے کی صحت اور نشونما کے لئے فولک ایسڈ اور بایوٹن خاصے اہم ہیں۔ مگر بایوٹن سمپلیمنٹس کی زیادتی متلی ، ہاضمہ کے مسائل اور حاملہ عورتوں کے بچے کی صحت کے لئے نقصاندہ ہوسکتی ہے۔
بایوٹن کے قدرتی ذرائع میں  انڈے کی زردی ، جیرانڈی کا گوشت ، خشک میوہ جات ، کیلے ، مشرومز اور گوبی شامل ہیں۔
اس وٹامن کی کمی ، بالوں کے گرنے ، گنجہ پن ، ناخنوں کی خرابی کا باعث ہے۔
-----------------------

وٹامنز کو دو اہم اقسام میں تقسیم کیا گیا ہے ، جن کے نام ترتیبوار( water soluble vitamins ) اور (fat soluble) ہیں۔
پانی میں حل پذیر وٹامنز کی اگر زیادہ مقدار لی جائے تو ، تو اس کی زیادہ مقدار پانی میں حل ہوکر پیشاب کے ذریعے خارج ہوجاتی ہے۔
اور اگر چربی میں حل پذیر وٹامنز کی زیادہ مقدار لی جائے  تو اس کی زیادہ مقدار چربی میں حل ہوکر جسم میں محفوظ ہوجاتی ہے۔ اور انسان ضرورت کے وقت خود بخود استعمال کرتا ہے۔

پانی میں حل ہو جانے والی وٹامنز میں ،
وٹامن سی ، B¹ ، B² ، B³ ، B5 B6 اور فولک ایسڈ (B9) شامل ہیں۔
جبکہ چربی میں حل ہو جانے والی وٹامنز میں ، وٹامن اے ، وٹامن ڈی ، وٹامن ای اور وٹامن کے شامل ہیں۔

ختم شدہ
: آفتاب ہالیپوٹہ

Comments

Popular posts from this blog

کیا سائنسدانوں نے مصنوعی خلیہ بنا لیا ؟

کیا سائنس دانوں نے مصنوعی خلیہ بنا لیا؟ تحریر: ڈاکٹر نثار احمد پچھلے کچھ دنوں سے کچھ فورمز پر یہ بحث چھڑی ہوئی ہے کہ کچھ حیاتیات دانوں نے تجربہ گاہ میں مصنوعی خلیے تیار کر لئے ہیں۔ تفصیلات اس لنک میں۔ https://www.sciencemag.org/news/2018/11/biologists-create-most-lifelike-artificial-cells-yet اس تمام بحث سے پہلے آپ کو یہ جاننا ہوگا کہ خلیہ دراصل ہوتا کیا ہے۔ خلیے کی تعریف ہم یوں کرسکتے ہیں کہ یہ زندگی کی ساختی اور فعلیاتی اکائی ہے۔ ایک خلیے کے اندر سینکڑوں مختلف عضویے ہوتے ہیں جو مل جل کر فیکٹری کی طرح کام کرتے ہیں۔ اس کے علاوہ متعدد اینزائمز بھی موجود ہوتے ہیں جو کیمیائی تعاملات میں عمل انگیز کے طور پر کام کرتے ہیں۔ اس کے علاوہ یہ خلیہ تقسیم در تقسیم ہو کر اپنے جیسے مزید خلیے بنا سکتا ہے۔ کچھ جاندار ایسے بھی پائے جاتے ہیں جو صرف ایک خلیے پر مشتمل ہوتے ہیں۔ انہیں ہم یک خلوی جاندار بھی کہتے ہیں۔ اوپر دئیے گئے آرٹیکل میں جو کہ سائنس جریدے میں پبلش ہوا کوئی بہت زیادہ نیا کارنامہ نہیں کیا گیا۔ اس پیپر میں بتایا گیا کہ کہ تجربہ گاہ میں کچھ خلیوں سے ملتی جلتی ساختیں بنائی گئیں جن م...

سانڈے کا تیل میڈیکل سائنس کی نظر میں !

سانڈے کا تیل میڈیکل سائنس کی نظر میں ! جنسی و نفسیاتی بیماریاں اور جانوروں کا قتل عام ۔۔۔! (18+ تحریر) __________________ تحقیق و تحریر : حسن خلیل چیمہ ______________________________________________ نوٹ : ( یہ تحریر عوامی آگاہی اور معصوم جانوروں کے بے جا قتل عام کو روکنے کے لئے اور عوام تک جدید میڈیکل سائنس کی رخ سے درست معلومات پہنچانے کی ایک کوشش ہے سانڈے کے تیل کے بارے میں اپنی رائے اور تجربے کو ایک طرف رکھ کہ اس تحریر کا مکمل مطالعہ کرنے کے بعد ہی اختلاف کریں شکریہ ) (خواتین اس تحریر کو پڑھنے سے اجتناب کریں ) ہمیشہ سے یہ دیکھ کر دکھ ہوتا ہے کہ جہاں دنیا سائنس و ٹیکنالوجی میں ترقی کرتی جا رہی ہے وہی ہم پاکستانی آج بھی اسی زمانہ قدیم میں جی رہیں ہیں جس میں انسانی سائنسی انقلاب سے پہلے ہمارے اجداد نے زندگی  گزاری  آج بھی ہم اسی طریقہ کار پر چل رہیں ہیں جہاں بیمار ہونے پر  اندازے سے دوا دینے والا کوئی حکیم ہوتا تھا جو مختلف جڑی بوٹیوں کو ملا کر کوئی ایسی دوا دے دیتا تھا جو وقتی طور ریلیف فراہم کرتی تھی کیونکہ ان وقتوں میں لوگوں کی خوارک میں زیادہ ملاوٹ نہ تھ...

قرآن اور سرن لیبارٹری

سورة انبیاء کی آیت نمبر 30 اور سرن لیبارٹری ۔۔۔!!! ____________________ سورۃ الانبیاء آیت نمبر 30 میں ربِ کائنات فرماتا ہے کہ اَوَلَمۡ يَرَ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡۤا اَنَّ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضَ كَانَتَا رَتۡقًا فَفَتَقۡنٰهُمَا‌ؕ وَجَعَلۡنَا مِنَ الۡمَآءِ كُلَّ شَىۡءٍ حَىٍّ‌ؕ اَفَلَا يُؤۡمِنُوۡنَ‏ ﴿۳۰﴾ کیا کافروں نے نہیں دیکھا کہ آسمان اور زمین دونوں ملے ہوئے تھے تو ہم نے جدا جدا کردیا۔ اور تمام جاندار چیزیں ہم نے پانی سے بنائیں۔ پھر یہ لوگ ایمان کیوں نہیں لاتے؟  ﴿۳۰﴾ معزز قارئین علماء کے نزدیک یہ آیت بگ بینگ سے متعلق ہے کہ ایک عظیم الشان دھماکہ ہوا جس سے اربوں میل دور تک دھواں پھیل گیا پھر اس دھوئیں میں سے  ٹھوس اجسام ستارے ،سیارے اور کومینٹس وغیرہ بننے کا عمل شروع ہوا ایک اور جگہ  ارشاد ہے کہ ثُمَّ اسۡتَوٰىۤ اِلَى السَّمَآءِ وَهِىَ دُخَانٌ فَقَالَ لَهَا وَلِلۡاَرۡضِ ائۡتِيَا طَوۡعًا اَوۡ كَرۡهًاؕ قَالَتَاۤ اَتَيۡنَا طَآٮِٕعِيۡنَ‏ ﴿۱۱﴾ پھر آسمان کی طرف متوجہ ہوا اور وہ دھواں تھا تو اس نے اس سے اور زمین سے فرمایا کہ دونوں آؤ (خواہ) خوشی سے خواہ ناخوشی سے۔ انہوں...