Skip to main content

قرآن اور سائنس کی مطابقت کی منطقی دلیل کیا ہے؟ کوئی ایسی دلیل جو منطقی وزن رکھتی ہو؟ (پہلا حصہ )


اس دلیل کی شروعات کرتے ہیں۔
بحثیت ایک مسلمان ہم سب اس حقیقت کو قبول کرتے ہیں کہ تمام ستارے، زمین، مادہ، انرجی، کوانٹم فزکس کے قوانین، بائیولوجی کی قوانین، کیمسٹری کے قوانین، تمام جاندار اور ان کے رہن سہن کا نظام ایک خدا کی تخلیق کا نتیجہ ہے۔ ڈی این اے کی انفرمیشن، خلیہ کا نظام، ستاروں میں سے فوٹونز کا نکلنا، زمین کی میگنیٹک تہ یہ سب ایک خدا کی تخلیق اور ارادے کا نتیجہ ہے جو لامتناہی قدرت اور ذہانت کا حامل ہے۔ منطقی طور پہ یہ واضح ہے کہ اس کائناتی نظام کو بنانے والا خدا خود اس نظام کے ہر قانون اور حقیقت سے بخوبی واقف ہے اور انسانوں سے بہتر جانتا ہے۔

اللہ پاک نے یہ تمام کائناتی نظام انسانی تخلیق سے پہلے ترتیب دیا۔ پھر اللہ پاک نے چاہا تو انسان کی تخلیق فرما دی وقت کے ساتھ ہمارے آخری نبی پاک کا ظہور ہوا اور قرآن پاک نازل کیا گیا۔ یہ قرآن پاک خدا کی طرف سے ہے۔ اسی ایک خدا کی طرف سے جس نے پوری کائنات کی تخلیق اور ترتیب ماضی میں کی۔ قرآن پاک میں کائنات، انسان، سمندر، آسمان، مشاہدات، سوچ و بچار، جاندار اور زمینی نظام بارے معلومات پہ مبنی سینکڑوں آیات ہیں۔ یہ معلومات دینے والا وہی ایک خدا ہے جس نے ماضی میں پوری کائنات کی تخلیق و ترتیب کی اور یہ خدا اپنی انہی تخلیقات کا زکر قرآن پاک میں کر رہا ہے۔

منطقی نتیجہ:
لہذا منطقی طور پہ یہ ناممکن ہے کہ قرآن پاک میں دی گئی معلومات جو سائنسی موضوع پہ مبنی ہیں۔ ان میں اور سائنسی علم میں مستقل تضاد نکل آئے۔ کیونکہ قرآن پاک کو نازل کرنے والا اور کائنات کو تخلیق کرنے والا خدا ایک ہی ہے جو لامتناہی قدرت اور ذہانت کا حامل ہے۔ قرآن پاک میں دی گئی سائنسی معلومات اس کائنات کو سائنسی قوانین کے ذریعے تخلیق کرنے والے خدا کی طرف سے ہی بھیجی گئیں ہیں۔

نوٹ:
یہ دلیل ایک ملحد کے لئے بھی کام کرے گی۔ چونکہ ملحد خدا کا انکاری ہے لہذا اس دلیل کو اپنی سہولت کے لئے ایک خیالی بات یا Thought Experiment تصور کر لے اور منطقی طور پہ چلے تو بھی نتیجہ یہی نکلے گا۔ فرق صرف اتنا ہوگا کہ ایک مسلمان ان باتوں کی حقیقت کو مانتا ہے جبکہ ملحد ان حقائق کا انکار کرتا ہے۔ لیکن ہر صورت میں منطقی طریقہ ایک جیسے نتائج دے گا۔

------------------------------------------------
Sohaib Zobair

Comments

Popular posts from this blog

کیا سائنسدانوں نے مصنوعی خلیہ بنا لیا ؟

کیا سائنس دانوں نے مصنوعی خلیہ بنا لیا؟ تحریر: ڈاکٹر نثار احمد پچھلے کچھ دنوں سے کچھ فورمز پر یہ بحث چھڑی ہوئی ہے کہ کچھ حیاتیات دانوں نے تجربہ گاہ میں مصنوعی خلیے تیار کر لئے ہیں۔ تفصیلات اس لنک میں۔ https://www.sciencemag.org/news/2018/11/biologists-create-most-lifelike-artificial-cells-yet اس تمام بحث سے پہلے آپ کو یہ جاننا ہوگا کہ خلیہ دراصل ہوتا کیا ہے۔ خلیے کی تعریف ہم یوں کرسکتے ہیں کہ یہ زندگی کی ساختی اور فعلیاتی اکائی ہے۔ ایک خلیے کے اندر سینکڑوں مختلف عضویے ہوتے ہیں جو مل جل کر فیکٹری کی طرح کام کرتے ہیں۔ اس کے علاوہ متعدد اینزائمز بھی موجود ہوتے ہیں جو کیمیائی تعاملات میں عمل انگیز کے طور پر کام کرتے ہیں۔ اس کے علاوہ یہ خلیہ تقسیم در تقسیم ہو کر اپنے جیسے مزید خلیے بنا سکتا ہے۔ کچھ جاندار ایسے بھی پائے جاتے ہیں جو صرف ایک خلیے پر مشتمل ہوتے ہیں۔ انہیں ہم یک خلوی جاندار بھی کہتے ہیں۔ اوپر دئیے گئے آرٹیکل میں جو کہ سائنس جریدے میں پبلش ہوا کوئی بہت زیادہ نیا کارنامہ نہیں کیا گیا۔ اس پیپر میں بتایا گیا کہ کہ تجربہ گاہ میں کچھ خلیوں سے ملتی جلتی ساختیں بنائی گئیں جن م...

سانڈے کا تیل میڈیکل سائنس کی نظر میں !

سانڈے کا تیل میڈیکل سائنس کی نظر میں ! جنسی و نفسیاتی بیماریاں اور جانوروں کا قتل عام ۔۔۔! (18+ تحریر) __________________ تحقیق و تحریر : حسن خلیل چیمہ ______________________________________________ نوٹ : ( یہ تحریر عوامی آگاہی اور معصوم جانوروں کے بے جا قتل عام کو روکنے کے لئے اور عوام تک جدید میڈیکل سائنس کی رخ سے درست معلومات پہنچانے کی ایک کوشش ہے سانڈے کے تیل کے بارے میں اپنی رائے اور تجربے کو ایک طرف رکھ کہ اس تحریر کا مکمل مطالعہ کرنے کے بعد ہی اختلاف کریں شکریہ ) (خواتین اس تحریر کو پڑھنے سے اجتناب کریں ) ہمیشہ سے یہ دیکھ کر دکھ ہوتا ہے کہ جہاں دنیا سائنس و ٹیکنالوجی میں ترقی کرتی جا رہی ہے وہی ہم پاکستانی آج بھی اسی زمانہ قدیم میں جی رہیں ہیں جس میں انسانی سائنسی انقلاب سے پہلے ہمارے اجداد نے زندگی  گزاری  آج بھی ہم اسی طریقہ کار پر چل رہیں ہیں جہاں بیمار ہونے پر  اندازے سے دوا دینے والا کوئی حکیم ہوتا تھا جو مختلف جڑی بوٹیوں کو ملا کر کوئی ایسی دوا دے دیتا تھا جو وقتی طور ریلیف فراہم کرتی تھی کیونکہ ان وقتوں میں لوگوں کی خوارک میں زیادہ ملاوٹ نہ تھ...

قرآن اور سرن لیبارٹری

سورة انبیاء کی آیت نمبر 30 اور سرن لیبارٹری ۔۔۔!!! ____________________ سورۃ الانبیاء آیت نمبر 30 میں ربِ کائنات فرماتا ہے کہ اَوَلَمۡ يَرَ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡۤا اَنَّ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضَ كَانَتَا رَتۡقًا فَفَتَقۡنٰهُمَا‌ؕ وَجَعَلۡنَا مِنَ الۡمَآءِ كُلَّ شَىۡءٍ حَىٍّ‌ؕ اَفَلَا يُؤۡمِنُوۡنَ‏ ﴿۳۰﴾ کیا کافروں نے نہیں دیکھا کہ آسمان اور زمین دونوں ملے ہوئے تھے تو ہم نے جدا جدا کردیا۔ اور تمام جاندار چیزیں ہم نے پانی سے بنائیں۔ پھر یہ لوگ ایمان کیوں نہیں لاتے؟  ﴿۳۰﴾ معزز قارئین علماء کے نزدیک یہ آیت بگ بینگ سے متعلق ہے کہ ایک عظیم الشان دھماکہ ہوا جس سے اربوں میل دور تک دھواں پھیل گیا پھر اس دھوئیں میں سے  ٹھوس اجسام ستارے ،سیارے اور کومینٹس وغیرہ بننے کا عمل شروع ہوا ایک اور جگہ  ارشاد ہے کہ ثُمَّ اسۡتَوٰىۤ اِلَى السَّمَآءِ وَهِىَ دُخَانٌ فَقَالَ لَهَا وَلِلۡاَرۡضِ ائۡتِيَا طَوۡعًا اَوۡ كَرۡهًاؕ قَالَتَاۤ اَتَيۡنَا طَآٮِٕعِيۡنَ‏ ﴿۱۱﴾ پھر آسمان کی طرف متوجہ ہوا اور وہ دھواں تھا تو اس نے اس سے اور زمین سے فرمایا کہ دونوں آؤ (خواہ) خوشی سے خواہ ناخوشی سے۔ انہوں...