Skip to main content
#پانی_کا_بے_قائدہ_پھیلاؤ
(Anomalous expansion of water)
۔ ایک عام سا سوال ہے کہ  جب قطب جنوبی اور قطب شمالی  پر انتہا کی ٹھنڈ ہوتی ہے تب آبی حیات کیسے زندہ رہ سکتی ہے۔۔۔ ؟
جب کہ وہاں کے سمندر ، تالاب اور جھیلیں جم جاتی ہیں۔۔۔۔

  ہمارا آج کا موضوع پانی کی ایک بے قائدہ خصوصیت کے متعلق ہے ، جو آبی حیات کے لئے قدرت  کا ایک تحفہ ہے ۔ اگر پانی اس خصوصیت کا حامل نا ہوتا تو ہماری آبی حیات ہمارے ساتھ نہیں رہتی۔۔۔
 ---------------------------------
پانی ضرورت زندگی ہونے  کے ساتھ ساتھ غیر معمولی خصوصیات کا حامل
بھی ہے ۔
آپ سب کو پتا ہوگا کہ مادے کی  تین حالات ہیں ان حالات  میں سے مائع کو جتنا گرم کیا جائے گا ، وہ پھیلتا ہی جائے گا ، اور آخر کار ابلنے کے بعد بخارات میں تبدیل ہو جائے گا۔
ایسے ہی گرم کرنے پر کثافت کم اور ٹھنڈا کرنے پر بڑھتی ہے۔
 مائع کو جتنا ٹھنڈا کیا جائے گا ، سکڑتا جائے گا ، اور آخرکار نقطئہ انجماد پر پہنچ کر جم جائے گا ۔زیادہ تر مائعات ایسے ہی کرتے ہیں کہ وہ گرم کرنے پر پھیلتے ہیں اور ٹھنڈا کرنے پہ سکڑتے ہیں۔ ( یہاں پھیلنے/سکڑنے سے مراد لمبائی ، چوڑائی اور موٹائی میں سکڑنا/پھیلنا ہے ، اس پھیلاؤ/سکڑنے کو مقدار میں پھیلاؤ/سکڑنا نہیں سمجھا جا سکتا)
                  ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دیگر مائعات کی طرح اگر پانی کو گرم کیا جائے گا ، وہ پھیلنا شروع کردے گا اور آخرکار ابلنے کے بعد بخارات میں تبدیل ہو جائے گا ۔
پانی کو ٹھنڈا کیا جائے گا ، وہ سکڑنے لگے گا لیکن جب پانی کو ٹھنڈا کرتے ہوئے درجہ حرارت 4 اور 0 سینٹی گریڈ کے درمیان  پہنچے گا تب پانی سکڑنے کے بجائے پھیلنا شروع کردے گا ، اور اس وقت پانی کی کثافت کم ہوجائے گی۔
0 سینٹی گریڈ پر یعنی نقطئہ انجماد پر پانی میں مالیکیولر حرکت بند ہو جاتی ہے ، اور پانی جم جاتا ہے۔۔۔
 پانی کی اس غیر معمولی خصوصیت کی وجہ پانی کے مختلف مالیکیولز میں ھائیڈروجن بائڈگ کا ہونا ہے ، کیونکہ آکسیجن کے ائٹمز مائنس چارج رکھتے ہیں اور ھائیڈروجن کے ائٹمز پلس چارج رکھتے ہیں۔۔۔
-------
برف پانی کے اوپر کیوں تیرتی ہے۔۔۔؟
جب پانی برف بنتا ہے تب ، پانی کے مالیکیولز کرسٹل لیٹس کی شکل میں اس طرح جڑتے ہیں کہ بنسبت مائع کے ان کے درمیان کا فاصلہ بڑھ جاتا ہے اور برف کی کثافت کم ہوجاتی ہے جس کی وجہ سے برف پانی پر تیرنے لگتی ہے۔۔۔
 سرد علاقوں میں آبی حیات کیسے زندہ رہتی ہے۔۔۔۔؟
-------------------------
پانی کا بے قائدہ پھیلاؤ آبی حیات  کے لئے قدرت کا ایک تحفہ ہے ۔
جب پانی کو ٹھنڈا کرتے ہیں تب وہ چار ڈگری سینٹی گریڈ تک سکڑتا ہے ۔ لیکن جب اس کو چار ڈگری سے نیچے ٹھنڈا کریں گے تو وہ سکڑنے کے بجائے پھیلنا شروع کردے گا ۔
جب پانی چار ڈگری سے نیچے ٹھنڈا ہوگا تب وہ پھیلے گا اور جو چیز پھیلتی ہے وہ ہلکی ہوجاتی ہے ۔ ہلکا ہونے کی وجہ یہ پانی کسی تالاب یا سمندر میں نیچے نہیں جائیگا بلکہ اوپر رہے گا اور زیرو ڈگری تک پہنچ کر جم جائے گا ۔
اب اوپر برف بن جائے گی اور برف ایک اچھا موصل (insulator) ہے اور وہ نیچے کے پانی کی حرارت کو باہر نہیں جانے دے گا ۔
نتیجتاً نیچے والا پانی نہیں جمے گا اور ایسے ہی آبی حیات اس پانی میں رہتی ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔

 ہالیپوٹہ آفتاب


Comments

Popular posts from this blog

کیا سائنسدانوں نے مصنوعی خلیہ بنا لیا ؟

کیا سائنس دانوں نے مصنوعی خلیہ بنا لیا؟ تحریر: ڈاکٹر نثار احمد پچھلے کچھ دنوں سے کچھ فورمز پر یہ بحث چھڑی ہوئی ہے کہ کچھ حیاتیات دانوں نے تجربہ گاہ میں مصنوعی خلیے تیار کر لئے ہیں۔ تفصیلات اس لنک میں۔ https://www.sciencemag.org/news/2018/11/biologists-create-most-lifelike-artificial-cells-yet اس تمام بحث سے پہلے آپ کو یہ جاننا ہوگا کہ خلیہ دراصل ہوتا کیا ہے۔ خلیے کی تعریف ہم یوں کرسکتے ہیں کہ یہ زندگی کی ساختی اور فعلیاتی اکائی ہے۔ ایک خلیے کے اندر سینکڑوں مختلف عضویے ہوتے ہیں جو مل جل کر فیکٹری کی طرح کام کرتے ہیں۔ اس کے علاوہ متعدد اینزائمز بھی موجود ہوتے ہیں جو کیمیائی تعاملات میں عمل انگیز کے طور پر کام کرتے ہیں۔ اس کے علاوہ یہ خلیہ تقسیم در تقسیم ہو کر اپنے جیسے مزید خلیے بنا سکتا ہے۔ کچھ جاندار ایسے بھی پائے جاتے ہیں جو صرف ایک خلیے پر مشتمل ہوتے ہیں۔ انہیں ہم یک خلوی جاندار بھی کہتے ہیں۔ اوپر دئیے گئے آرٹیکل میں جو کہ سائنس جریدے میں پبلش ہوا کوئی بہت زیادہ نیا کارنامہ نہیں کیا گیا۔ اس پیپر میں بتایا گیا کہ کہ تجربہ گاہ میں کچھ خلیوں سے ملتی جلتی ساختیں بنائی گئیں جن م...

سانڈے کا تیل میڈیکل سائنس کی نظر میں !

سانڈے کا تیل میڈیکل سائنس کی نظر میں ! جنسی و نفسیاتی بیماریاں اور جانوروں کا قتل عام ۔۔۔! (18+ تحریر) __________________ تحقیق و تحریر : حسن خلیل چیمہ ______________________________________________ نوٹ : ( یہ تحریر عوامی آگاہی اور معصوم جانوروں کے بے جا قتل عام کو روکنے کے لئے اور عوام تک جدید میڈیکل سائنس کی رخ سے درست معلومات پہنچانے کی ایک کوشش ہے سانڈے کے تیل کے بارے میں اپنی رائے اور تجربے کو ایک طرف رکھ کہ اس تحریر کا مکمل مطالعہ کرنے کے بعد ہی اختلاف کریں شکریہ ) (خواتین اس تحریر کو پڑھنے سے اجتناب کریں ) ہمیشہ سے یہ دیکھ کر دکھ ہوتا ہے کہ جہاں دنیا سائنس و ٹیکنالوجی میں ترقی کرتی جا رہی ہے وہی ہم پاکستانی آج بھی اسی زمانہ قدیم میں جی رہیں ہیں جس میں انسانی سائنسی انقلاب سے پہلے ہمارے اجداد نے زندگی  گزاری  آج بھی ہم اسی طریقہ کار پر چل رہیں ہیں جہاں بیمار ہونے پر  اندازے سے دوا دینے والا کوئی حکیم ہوتا تھا جو مختلف جڑی بوٹیوں کو ملا کر کوئی ایسی دوا دے دیتا تھا جو وقتی طور ریلیف فراہم کرتی تھی کیونکہ ان وقتوں میں لوگوں کی خوارک میں زیادہ ملاوٹ نہ تھ...

قرآن اور سرن لیبارٹری

سورة انبیاء کی آیت نمبر 30 اور سرن لیبارٹری ۔۔۔!!! ____________________ سورۃ الانبیاء آیت نمبر 30 میں ربِ کائنات فرماتا ہے کہ اَوَلَمۡ يَرَ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡۤا اَنَّ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضَ كَانَتَا رَتۡقًا فَفَتَقۡنٰهُمَا‌ؕ وَجَعَلۡنَا مِنَ الۡمَآءِ كُلَّ شَىۡءٍ حَىٍّ‌ؕ اَفَلَا يُؤۡمِنُوۡنَ‏ ﴿۳۰﴾ کیا کافروں نے نہیں دیکھا کہ آسمان اور زمین دونوں ملے ہوئے تھے تو ہم نے جدا جدا کردیا۔ اور تمام جاندار چیزیں ہم نے پانی سے بنائیں۔ پھر یہ لوگ ایمان کیوں نہیں لاتے؟  ﴿۳۰﴾ معزز قارئین علماء کے نزدیک یہ آیت بگ بینگ سے متعلق ہے کہ ایک عظیم الشان دھماکہ ہوا جس سے اربوں میل دور تک دھواں پھیل گیا پھر اس دھوئیں میں سے  ٹھوس اجسام ستارے ،سیارے اور کومینٹس وغیرہ بننے کا عمل شروع ہوا ایک اور جگہ  ارشاد ہے کہ ثُمَّ اسۡتَوٰىۤ اِلَى السَّمَآءِ وَهِىَ دُخَانٌ فَقَالَ لَهَا وَلِلۡاَرۡضِ ائۡتِيَا طَوۡعًا اَوۡ كَرۡهًاؕ قَالَتَاۤ اَتَيۡنَا طَآٮِٕعِيۡنَ‏ ﴿۱۱﴾ پھر آسمان کی طرف متوجہ ہوا اور وہ دھواں تھا تو اس نے اس سے اور زمین سے فرمایا کہ دونوں آؤ (خواہ) خوشی سے خواہ ناخوشی سے۔ انہوں...