Skip to main content

#bio_gas #گوبر_گیس



کچھ دہائیاں پہلے انڈیا کی دیہات میں
قدرتی گیس اور توانائی کی ضرورت کو پورا کرنے کے لئے ایک تکنیک استعمال ہوئی۔ اس تکنیک کو "گوبر گیس" کے نام سے کافی پذیرائی ملی۔ یہ تکنیک نئی تو نہیں تھی لیکن اس تکنیک سے باقاعدہ طور پر توانائی کی ضروریات پوری کرنا نیا تھا۔ سترہویں صدی میں بھی اس تکنیک کو (Anaerobic digestion)
کے نام سے جانا جاتا تھا۔ اب تو دنیا کے کئی ممالک میں اس تکنیک کو استعمال کیا جاتا ہے۔ خاص کر دیہات میں جہاں گرڈ سے توانائی کی ترسیل مشکل ہوتی ہے۔ وہاں حکومتی تعاون و ذاتی طور پر گوبر گیس پلانٹ لگائے جارہے ہیں۔
--------------------------
 سائنس کے شروعاتی اسباق میں ہمیں   (fermentation) کا پڑھایا جاتا ہے۔
"بیکٹیریا  ، خمیر وغیرہ کے ذریعے نامیاتی اشیاء کی کیمیائی توڑ پھوڑ کو فرمنٹیشن کہا جاتا ہے۔
جب اسی فرمنٹیشن کو آکسیجن کی غیر موجودگی میں انجام دیا جائے تب
یہ پراسس (Anaerobic digestion)
کہلائے گا۔
فرض کریں ،
گائے کے گوبر کو آکسیجن کی غیر موجودگی میں رکھ دیا گیا ہے ، آہستہ آہستہ وہ گوبر توڑ پھوڑ کا شکار ہوتا رہے گا۔ توڑ پھوڑ کے دوراں میتھین (قدرتی گیس) اور کاربن ڈائی آکسائیڈ کا اخراج ہوتا رہے گا۔ اور جب گوبر پوری طرح ٹوٹ جائے گا تو آپ کو ایک بہترین        (DAP) کھاد حاصل ہوگی۔ وہ کھاد فصلوں کے لئے انتہائی کارآمد ہوگی۔
اور اخراج کے نتیجے میں حاصل ہونے والی قدرتی گیس کو آپ بجلی بنانے کے لئے یا بطور گیس استعمال کرسکتے ہیں۔مائکروبز کو بہتر طریقہ سے کام کرنے کے
لئے گرم حالات کی ضرورت ہوتی ہے ، اس لئے بہتر ہوگا کہ درجہ حرارت 37° C تک ہو۔ البتہ کم ٹیمپریچر پر بھی گیس پیدا ہوسکتی ہے۔ یہاں پر آپ گوبر کی جگہ دیگر نامیاتی اشیاء یعنی بچی ہوئی خوراک یعنی ، سبزی کے ٹکڑے ، روٹیاں ، ڈبل روٹی وغیرہ بھی استعمال کرسکتے ہیں۔ اس سے آپ انہیں خوامخواہ ضایع کرنے سے بچ جائیں گے۔
گوبر گیس بنانے کا طریقہ کار اتنا مشکل یا وقت طلب نہیں ہے۔ بلکہ  آسان اور ہر کسی کے پہنچ میں آنے والا ہے۔ 
نیچے ملاحظہ کریں ایک چھوٹے اور تجرباتی گوبر گیس پلانٹ بنانے کا طریقہ کار۔۔۔👇
-----------------------------------
ایک درمیانی سائیز کا گڑھا کھودیں ، اس کے اندر سیمنٹ وغیرہ کردیں تاکہ
زمین پانی جذب نا کرسکے۔
گڑھا تیار ہونے کے بعد سوکھا ہوا گوبر اور برابر مقدار میں گرم  (گرم نہیں بھی ہوا تو بھی چلے گا) پانی گڑھے میں ڈالیں۔ یعنی کہ اگر گوبر کی مقدار ایک کلو ہے تو پانی بھی ایک کلو ڈالیں۔
اس طرح پانی اور گوبر ڈال کے گڑھا بند کریں اور بند کرنے کے دوران یہ گنجائش رکھیں کہ گڑھے کو دوبارہ کھولنا بھی ہے۔ گڑھے کے اوپر جو ڈھکن ہو وہ ایسا ہو کہ اندر سے کچھ لیک نا کرسکے۔
اس ڈھکن میں ایک مناسب اور پائپ کے قطر کا سوراخ ہونا چاہئے اور ایک سوراخ ایسا ہو جس میں سے گوبر اور پانی گڑھے میں داخل کیے جاسکیں۔ گوبر والے سوراخ کو کسی ایسے ڈھکن سے بند کیا جائے جو کچھ لیک نا کرسکے۔ یہ سب سامان چیک کرکے گڑھے کو کم از کم پانچ دنوں تک چھوڑ دیں۔
پانچ دنوں کے بعد گئس نکالیں اور استعمال کریں۔
یہ پراسس دہرا کر آپ گیس کو کافی عرصہ تک حاصل کرسکتے ہیں۔ اس کے بعد گڑھا کھول کر اندر سے فاضل مواد یعنی کھاد نکال لیں اور پھر وہی پراسس دہرا کر گیس حاصل کریں۔

------
اگر آپ بڑے پیمانے پر گیس حاصل کرنا چاہتے ہیں تو گڑھے ، پانی اور گوبر کی مقدار بڑھائیں۔
اگر آپ اسے اپنے گھر کی گیس کی ضرورت پوری کرنے کے لئے استعمال کرنا چاہتے ہیں تو باقاعدہ کسی ڈیلر سے رابطہ کریں اور مناسب قیمت میں ایک اچھا پلانٹ اور سسٹم لگوائیں۔۔۔۔😍


 ہالیپوٹہ آفتاب
#biogas
#natural_gas
#energy


Comments

Popular posts from this blog

کیا سائنسدانوں نے مصنوعی خلیہ بنا لیا ؟

کیا سائنس دانوں نے مصنوعی خلیہ بنا لیا؟ تحریر: ڈاکٹر نثار احمد پچھلے کچھ دنوں سے کچھ فورمز پر یہ بحث چھڑی ہوئی ہے کہ کچھ حیاتیات دانوں نے تجربہ گاہ میں مصنوعی خلیے تیار کر لئے ہیں۔ تفصیلات اس لنک میں۔ https://www.sciencemag.org/news/2018/11/biologists-create-most-lifelike-artificial-cells-yet اس تمام بحث سے پہلے آپ کو یہ جاننا ہوگا کہ خلیہ دراصل ہوتا کیا ہے۔ خلیے کی تعریف ہم یوں کرسکتے ہیں کہ یہ زندگی کی ساختی اور فعلیاتی اکائی ہے۔ ایک خلیے کے اندر سینکڑوں مختلف عضویے ہوتے ہیں جو مل جل کر فیکٹری کی طرح کام کرتے ہیں۔ اس کے علاوہ متعدد اینزائمز بھی موجود ہوتے ہیں جو کیمیائی تعاملات میں عمل انگیز کے طور پر کام کرتے ہیں۔ اس کے علاوہ یہ خلیہ تقسیم در تقسیم ہو کر اپنے جیسے مزید خلیے بنا سکتا ہے۔ کچھ جاندار ایسے بھی پائے جاتے ہیں جو صرف ایک خلیے پر مشتمل ہوتے ہیں۔ انہیں ہم یک خلوی جاندار بھی کہتے ہیں۔ اوپر دئیے گئے آرٹیکل میں جو کہ سائنس جریدے میں پبلش ہوا کوئی بہت زیادہ نیا کارنامہ نہیں کیا گیا۔ اس پیپر میں بتایا گیا کہ کہ تجربہ گاہ میں کچھ خلیوں سے ملتی جلتی ساختیں بنائی گئیں جن م...

سانڈے کا تیل میڈیکل سائنس کی نظر میں !

سانڈے کا تیل میڈیکل سائنس کی نظر میں ! جنسی و نفسیاتی بیماریاں اور جانوروں کا قتل عام ۔۔۔! (18+ تحریر) __________________ تحقیق و تحریر : حسن خلیل چیمہ ______________________________________________ نوٹ : ( یہ تحریر عوامی آگاہی اور معصوم جانوروں کے بے جا قتل عام کو روکنے کے لئے اور عوام تک جدید میڈیکل سائنس کی رخ سے درست معلومات پہنچانے کی ایک کوشش ہے سانڈے کے تیل کے بارے میں اپنی رائے اور تجربے کو ایک طرف رکھ کہ اس تحریر کا مکمل مطالعہ کرنے کے بعد ہی اختلاف کریں شکریہ ) (خواتین اس تحریر کو پڑھنے سے اجتناب کریں ) ہمیشہ سے یہ دیکھ کر دکھ ہوتا ہے کہ جہاں دنیا سائنس و ٹیکنالوجی میں ترقی کرتی جا رہی ہے وہی ہم پاکستانی آج بھی اسی زمانہ قدیم میں جی رہیں ہیں جس میں انسانی سائنسی انقلاب سے پہلے ہمارے اجداد نے زندگی  گزاری  آج بھی ہم اسی طریقہ کار پر چل رہیں ہیں جہاں بیمار ہونے پر  اندازے سے دوا دینے والا کوئی حکیم ہوتا تھا جو مختلف جڑی بوٹیوں کو ملا کر کوئی ایسی دوا دے دیتا تھا جو وقتی طور ریلیف فراہم کرتی تھی کیونکہ ان وقتوں میں لوگوں کی خوارک میں زیادہ ملاوٹ نہ تھ...

قرآن اور سرن لیبارٹری

سورة انبیاء کی آیت نمبر 30 اور سرن لیبارٹری ۔۔۔!!! ____________________ سورۃ الانبیاء آیت نمبر 30 میں ربِ کائنات فرماتا ہے کہ اَوَلَمۡ يَرَ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡۤا اَنَّ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضَ كَانَتَا رَتۡقًا فَفَتَقۡنٰهُمَا‌ؕ وَجَعَلۡنَا مِنَ الۡمَآءِ كُلَّ شَىۡءٍ حَىٍّ‌ؕ اَفَلَا يُؤۡمِنُوۡنَ‏ ﴿۳۰﴾ کیا کافروں نے نہیں دیکھا کہ آسمان اور زمین دونوں ملے ہوئے تھے تو ہم نے جدا جدا کردیا۔ اور تمام جاندار چیزیں ہم نے پانی سے بنائیں۔ پھر یہ لوگ ایمان کیوں نہیں لاتے؟  ﴿۳۰﴾ معزز قارئین علماء کے نزدیک یہ آیت بگ بینگ سے متعلق ہے کہ ایک عظیم الشان دھماکہ ہوا جس سے اربوں میل دور تک دھواں پھیل گیا پھر اس دھوئیں میں سے  ٹھوس اجسام ستارے ،سیارے اور کومینٹس وغیرہ بننے کا عمل شروع ہوا ایک اور جگہ  ارشاد ہے کہ ثُمَّ اسۡتَوٰىۤ اِلَى السَّمَآءِ وَهِىَ دُخَانٌ فَقَالَ لَهَا وَلِلۡاَرۡضِ ائۡتِيَا طَوۡعًا اَوۡ كَرۡهًاؕ قَالَتَاۤ اَتَيۡنَا طَآٮِٕعِيۡنَ‏ ﴿۱۱﴾ پھر آسمان کی طرف متوجہ ہوا اور وہ دھواں تھا تو اس نے اس سے اور زمین سے فرمایا کہ دونوں آؤ (خواہ) خوشی سے خواہ ناخوشی سے۔ انہوں...